ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 804
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
مرجئۂ عصر کے فکری انحراف کی تردید شیخ ابن باز کے فتاویٰ کی روشنی میں
الحمد لله رب العالمين، والعاقبة للمتقين، ولا عدوان إلا على الظالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين، أما بعد:
اس دور میں مرجئہ، جمہوریت پرستوں اور طواغیت کے درباری مدخلیوں نے امت کے عقیدہ توحید کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے توحید کو صرف چند ظاہری مظاہر تک محدود کر دیا، مگر جب اللہ تعالیٰ کے حقِ حاکمیت اور حقِ تشریع پر کھلا ڈاکہ ڈالا گیا، جب پارلیمنٹوں اور اسمبلیوں میں بیٹھ کر اللہ کے مقابلے میں قوانین بنائے گئے، جب کفریہ دستوروں کو قرآن و سنت پر مقدم کیا گیا، تو یہی لوگ خاموش رہے بلکہ ان طاغوتی نظاموں کے محافظ اور ترجمان بن گئے۔
ان مداخلہ کا اصل اصول یہی ہے کہ جب تک انسان زبان سے اسلام کا انکار نہ کرے، تب تک وہ کافر نہیں ہوتا، خواہ وہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مقابلے میں قانون سازی کرے، کفریہ آئین نافذ کرے، یا جاہلی نظاموں کو اختیار کرے۔
حالانکہ قرآن مجید نے فیصلہ پہلے ہی سنا دیا: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ مگر مدخلیوں نے اس صریح آیت کو بھی اپنی خواہشات کے تابع بنانے کی کوشش کی، تاکہ طاغوتی حکمرانوں، سیکولر حکومتوں اور جمہوری پارلیمنٹوں کے لیے دینی جواز پیدا کیا جا سکے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران شریعت کو ہی بہتر سمجھتے ہیں اس لئے وہ کفریہ آئین نافذ کرنے پر بھی کافر نہیں۔
مگر شیخ عبد العزيز بن باز نے اسی شبہے کو جڑ سے اکھاڑ دیا، اور طاغوتی نظاموں کے پجاریوں پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے جس سے ان کے تمام باطل تاویلاتی قلعے زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ شیخ بن باز نے صاف، دو ٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں یہ فیصلہ بیان کیا کہ:
من اعتقد جواز حكم بغير ما أنزل الله ولو قال: إن الشريعة أفضل، أو قال: إنه مماثل لحكم الله، أو قال: إنه أفضل من حكم الله، ففي هذه الأحوال الثلاث يكون كافرا، نسأل الله العافية
جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ کسی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو جائز سمجھے، اگرچہ وہ یہ کہے کہ شریعت ہی افضل ہے، یا یہ کہے کہ وہ قانون اللہ کے حکم سے مماثلت رکھتا ہے، یا یہ کہے کہ وہ اللہ کے حکم سے بہتر ہے، تو ان تینوں صورتوں میں وہ کافر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے ہم عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
[فتاوى نور على الدرب لابن باز، ج : ٤، ص : ١٢٨]
جو پارلیمنٹیں اللہ کے حکم کے مقابلے میں قانون سازی کرتی ہیں، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے حقِ تشریع میں مداخلت کرتی ہیں۔ اور جو لوگ ان ایوانوں میں بیٹھ کر حلال و حرام کے فیصلے کرتے ہیں، وہ اپنے آپ کو اللہ کے مقابلے میں "مشرّع" بنا رہے ہوتے ہیں۔
مدخلیوں کی سب سے خطرناک گمراہی یہ ہے کہ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص طاغوتی آئین کا محافظ ہو، کفریہ قوانین نافذ کرے، جمہوریت کو اختیار کرے، پھر بھی وہ مسلمان ہی رہتا ہے! یہی مدخلیوں کی وہ گمراہ فکر ہے جس نے امت میں طاغوتوں کی جڑیں مضبوط کیں، اور اہلِ توحید کو "خوارج" کہہ کر بدنام کیا، جبکہ اللہ کے دین کو بدلنے والوں کو "ولی الامر" اور "مسلم حکمران" کہا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ﴾ یعنی کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں وہ چیزیں مقرر کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
پس جو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور کو قانون سازی کا حق دے، یا ایسے نظام کو جائز سمجھے، وہ توحید کی بنیاد کو منہدم کرتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے مداخلہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کی وفاداریاں قرآن و سنت کے بجائے طاغوتی ایوانوں، سرکاری منصبوں اور جمہوری نظاموں کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہیں۔
یہ لوگ اہل توحید پر شدت پسندی کے فتوے لگاتے ہیں، مگر ان اسمبلیوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتے جہاں اللہ کے دین کو ووٹوں کے ذریعے بدلا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک سودی معیشت، سیکولر آئین، کفریہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر، اور جاہلی قوانین تو قابلِ قبول ہیں، مگر حاکمیت میں اللہ کی توحید کی بات کرنا "انتہاپسندی" بن جاتی ہے۔
پس مسلمان پر واجب ہے کہ وہ توحید کو اس کی کامل حقیقت کے ساتھ سمجھے، اور یہ جان لے کہ جس طرح سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے، اسی طرح قانون سازی اور حلال و حرام کا اختیار بھی صرف اسی کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مدخلیوں کے گمراہ افکار، طاغوتی نظاموں کے فتنوں، اور جمہوریت کے شرک سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں خالص توحید، سلف کے عقیدے، اور حق پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔