• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا واجب ہے؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,058
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
میت کو غسل دینے سے غسل کرنا افضل اور بہتر ہے، لازمی نہیں ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ غَسَّلَ الْمَيِّتَ فَلْيَغْتَسِلْ، وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ (سنن أبي داود، الجنائز: 3161) (صحیح)
”جو شخص کسی میت کو نہلائے وہ غسل کرے اور جو اسے اٹھائے وہ وضو کرے۔“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي غَسْلِ مَيِّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَّلْتُمُوهُ، فَإِنَّ مَيِّتَكُمْ لَيْسَ بِنَجَسٍ فَحَسْبُكُمْ أَنْ تَغْسِلُوا أَيْدِيَكُم (السلسلة الضعيفة: 6304)
’’جب تم میت کو غسل دو تو تم پر غسل کرنا واجب نہیں ہوجاتاکیونکہ میت نجس نہیں ہے صرف ہاتھ دھونا کافی ہے۔ ‘‘

سيدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كُنَّا نُغَسِّلُ الْمَيِّتَ فَمِنَّا مَنْ يَغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لَا يَغْتَسِلُ (سنن دارقطنی: 1820)
’’ہم میت کو غسل دیا کرتے تھے، ہم میں سے بعض غسل کر لیتے تھے اور بعض نہیں کرتے تھے۔‘‘

والله أعلم بالصواب.
 
Top