ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 806
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
حکم بغیر ما أنزل اللہ کا شرعی حکم شیخ ابو مالک التمیمی رحمہ اللہ کے کلام کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد:
حکم بغیر ما أنزل اللہ کا کفر اکبر اور ناقض الاسلام ہونا دین کے عظیم اور قطعی اصولوں میں سے ہے، جسے کتاب و سنت اور ائمہ اہل سنت کے اقوال نے واضح ترین انداز میں بیان کیا ہے۔ مگر اس دور میں بہت سے اہل باطل نے طاغوتی قوانین، جاہلی دستوروں اور انسانی تشریعات کو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ ثابت کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بعض نے اللہ کی شریعت کو پسِ پشت ڈال کر وضعی قوانین کے نفاذ کو محض "معصیت" قرار دیا، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور حق تشریع پر کھلا تعدی ہے۔
شیخ ابو مالک التمیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والحكم بغير ما أنزل الله كفر وردة، سواء اعتقد أن حكم الله أحسن من غيره أو أقل أو مماثل، وقد نقل الاجماع على ذلك الحافظ عماد الدين ابن كثير له كما نقله في البداية والنهاية [۱۳ / ۱۱۹] عندما ذكر واقعة التتار، وأنهم كانوا يحكمون بالياسق، وهذا الياسق مجموع من شرائع متعددة، أنه نقل إجماع أهل العلم على أن هذا كفر بالله، وخروج عن ملة الإسلام.
اللہ کے نازل کردہ شریعت کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلہ کرنا کفر اور ارتداد ہے، خواہ کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ کا حکم دوسروں سے بہتر ہے، یا کم تر ہے، یا ان کے برابر ہے۔ اس پر حافظ عماد الدين ابن كثير رحمہ اللہ نے اجماع نقل کیا ہے، جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب البداية والنهاية (١١٩/١٣) میں تاتاریوں کے واقعہ کے ذکر میں بیان کیا، کہ وہ یاسق کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ اور یاسق مختلف شریعتوں اور قوانین کا مجموعہ تھا۔ پس ابن کثیر رحمہ اللہ نے اہل علم کا اس بات پر اجماع نقل کیا کہ یہ اللہ کے ساتھ کفر اور ملت اسلامیہ سے خروج ہے۔
وأما ما جاء عن ابن عباس انه من قوله : (كفر دون كفر) فلا يثبت عنه فقد رواه الحاكم في مستدركه (۲/ ۳۱۳) من طريق هشام بن حجير عن طاوس عن ابن عباس به وهشام ضعفه أحمد وضعفه ابن معين جدا وقال ابن عيينة: لم نكن نأخذ عن هشام بن حجير ما لا نجده عند غيره، وقال أبو حاتم: يكتب حديثه، وذكره العقيلي في الضعفاء.
رہا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول یہ قول کہ: "کفر دون کفر" تو یہ ان سے ثابت نہیں۔ اسے حاکم نے اپنی المستدرك على الصحيحين (٣١٣/٢) میں ہشام بن حجیر عن طاؤس عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ جبکہ ہشام بن حجیر کو امام أحمد بن حنبل نے ضعیف کہا، اور يحيى بن معين نے سخت ضعیف قرار دیا۔ نیز سفيان بن عيينة فرماتے تھے: ہم ہشام بن حجیر کی وہ روایت نہیں لیتے تھے جو کسی اور کے پاس نہ ملے۔ اور أبو حاتم الرازي نے کہا: اس کی حدیث لکھی جاتی ہے، اور العقيلي نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔
[إيجاز الكلام في شرح نواقض الإسلام، ص : ٣٢]
شیخ ابو مالک التمیمی رحمہ اللہ کی یہ عبارت اس عظیم اصل کو واضح کرتی ہے کہ حکم و قانون سازی خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ تشریع اور قانون سازی میں اللہ کے سوا کسی اور کو حق دینا بھی ربوبیت و الوہیت میں شرک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ اور جو اللہ کے نازل کردہ شریعت مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی کافر ہیں۔ ( سورۃ المائدہ: ٤٤)
شیخ ابو مالک التمیمی رحمہ اللہ نے یہاں واضح کر دیا کہ جو شخص اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر انسانی قوانین، وضعی دستوروں یا طاغوتی نظاموں کے مطابق فیصلے کرتا ہے، تو یہ محض عملی گناہ نہیں بلکہ اصل میں اللہ کی الوہیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا ہے جو ان قوانین کو جائز سمجھے، ان کو نافذ کرے، یا انہیں شریعت کے مساوی یا بہتر قرار دے وہ کافر و مرتد ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اسی لیے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے تاتاریوں کے یاسق کے بارے میں فرمایا کہ ان کا اس کے مطابق حکم کرنا اسلام سے خروج اور کفر اکبر ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہو۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر انسان کے وضعی قوانین کو حاکم بنایا۔
یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے ائمہ نے تشریع اور قانون سازی کو صرف اللہ کا حق قرار دیا ہے۔ جو شخص یا حکومت اللہ کی نازل کردہ شریعت کو چھوڑ کر قانون سازی کرے اور لوگوں کو اس کا پابند بنائے، تو شخص یا حکومت طاغوت ہے۔
رہا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی جانب منسوب "کفر دون کفر" والا اثر تو اس کی صحت میں اہل علم نے کلام کیا ہے جیسا کہ شیخ ابو مالک التمیمی رحمہ اللہ نے ذکر کیا۔ اور اگر بالفرض اسے صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی اہل علم نے واضح کیا ہے کہ اس کا محل وہ صورت ہے جہاں کوئی قاضی یا فرد کسی خاص معاملے میں خواہش یا رشوت کی وجہ سے خلاف شرع فیصلہ کرے، جبکہ وہاں قانون اللہ کا ہی نافذ ہو اور وہ اللہ کے حکم کو حق مانتا ہو۔
لیکن جو شخص یا نظام اللہ کی شریعت کے مقابلے انسانی قوانین نافذ کرے، انہیں جائز سمجھے، یا ان کی طرف دعوت دے، تو یہ صریح کفر اکبر ہے جس پر قرآن، سنت اور ائمہ کے کلام دلالت کرتے ہیں۔ پس کامل، عادل اور واجب الاتباع قانون صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے اور اس کے سوا ہر قانون ناقص، جاہلی، مردود اور کفریہ ہے۔
وما علینا إلا البلاغ۔