- شمولیت
- اگست 28، 2019
- پیغامات
- 75
- ری ایکشن اسکور
- 12
- پوائنٹ
- 56
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قیامت کے دن لوگوں کی امیدیں
عرضیاں اور پیش کش
قیامت کے دن لوگوں کی امیدیں
عرضیاں اور پیش کش
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:
محترم قارئین!
بحیثیت مسلمان ہمارا اس بات پرکامل یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن قیامت قائم ہوگی اور سب جن وانس کو اپنے رب کے حضور کھڑا ہوکر اپنے کئے کا حساب وکتاب دینا ہے،مگربہت افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑرہاہے کہ ہمارا قیامت کے دن پر پختہ ایمان ویقین توہے مگر ہم اس کے لئے تیاری نہیں کرتے ہیں،ہم زبان سے کہتے توہیں کہ ایک نہ ایک دن قیامت ضرور قائم ہوگی مگر نہ تو ہم نماز پڑھتے ہیں اور نہ ہی دیگر نیکیوں کو انجام دیتے ہیں:
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم دنیاوی معاملات میں بہت چالاک اور بہت ہوشیار ہیں مگر اخروی معاملے میں ہم بہت ہی نادان اور بیوقوف ہیں۔
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنی دنیوی ضرورتوں کو کل پر نہیں ڈالتے ہیں بلکہ فوراً اپنی ضرورتوں کو یہ کہتے ہوئے پوری کرلیتے ہیں کہ بھائی کل کس نے دیکھاہے،اسی کے برعکس جب آخرت کے لیے نیکیاں جمع کرنے کی بات آتی ہے یاپھر نماز پڑھنے کی بات آتی ہےتو ہم ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ابھی میں کون سا مرا جارہاہوں،ابھی تو میں جوان ہوں،صحت مند ہوں، اگلے جمعہ سے نماز پڑھوں گا۔
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے لئے بہت کچھ روپیہ پیسہ ،بینک بیلنس یہ کہتے ہوئے جمع کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں، برے وقتوں میں یہ سب میرے کام آئیں گے ،مگر اسی کے برعکس موت کے بعدوالی زندگی کے لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ جوہوگا دیکھاجائے گا۔
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم وقت سے پہلے ہی ،صرف پہلے نہیں بلکہ بہت پہلے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے لاکھوں روپیہ یہ کہہ کرجمع کرلیتے ہیں کہ آج کل کے دور میں کو ن کس کا ہوتاہے،اگر آج یہ پیسہ جمع نہیں کروں گا تو کل کیا کروں گا مگر اسی کے برعکس جب آخرت کے لئے نیکیاں جمع کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ وہاں کا وہاں دیکھیں گے پہلے یہاں کا دیکھو،پہلے زمین کے نیچے کا نہیں بلکہ پہلے زمین کے اوپر کا دیکھو۔
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اس گھرکو بنانے میں بڑی محنت ومشقت سے روپیہ پیسہ جمع کرتے ہیں جس گھر میں ہمیں 60/سال یا پھر 70/سال رہناہےمگر جس گھر میں ہمیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا اس گھر کی بالکل بھی فکر نہیں ہے۔
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ جب جہنم کے عذاب وسزا کا تذکرہ ہوتاہے تو ہم بڑے ہی یقین سے کہتے ہیں کہ اللہ ہے نہ،اللہ غفور رحیم ہے ،اللہ ہمیں معاف کردے گا،مگر اسی کے برعکس جب دنیا کی بات ہوتی ہے تو ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ اللہ ہے نہ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اگرکمائیں گے نہیں تو کھائیں گے کیا؟
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ جب اذانیں ہوتی ہیں اور مؤذن صاحب کہتے ہیں حی علی الصلاۃ او رحی علی الفلاح کہ آؤ نماز کی طرف ،آؤ کامیابی کی طرف تو ہم مست ومگن اور بے فکر ہوکراپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بھائی ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے ،ابھی بہت سارا کام باقی ہےاور ابھی تو میں بہت مصروف ہوں مگر اسی کے برعکس اگر بازاروں میں ٹائم پاس کرنے ،شادی وبیاہ میں شامل ہونےیا پھرموبائل میں ریلس دیکھنےکے لئے ہمارے پاس بہت وقت ہوتاہے۔افسوس صد افسوس ہم نماز کے لئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے مگر ہم اپنی دنیاوی معاملات کے بارے میں کبھی یہ نہیں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ اگرکوئی ہمیں نماز کے لئے دعوت دے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ بھائی میرے کپڑے بہت گندے ہیں مگر اسی کے برعکس اگر کوئی ہمیں یہ کہتا ہے کہ چلو دعوت میں جائیں گے تو ہم فوراً یہ کہتے ہیں کہ ذرا رک بھائی ! میں دومنٹ میں تیار ہوکر اور کپڑے بدل کرآتا ہوں۔استغفراللہ۔
- آج ہماری حالت یہ ہے کہ اذان ہوتے ہی ہمیں نیند آنے لگتی ہے یاپھر ہمیں کوئی ضرورت یاد آجاتی ہے مگر اسی کے برعکس دنیا کمانے میں نہ تو ہمیں نیند آتی ہے او ر نہ ہی ہمیں تھکاوٹ محسوس ہوتی ہےغرضیکہ آخرت کے لئے جہاں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے اس کے لئےہمارے پاس ہزاروں حیلے و بہانے ہیں مگر دنیا !جہاں ہماری زندگی بہت ہی مختصر ہے اس کے لئےہمارے پاس کوئی حیلہ وبہانہ نہیں ہوتاہے،تو جولوگ بھی آج طرح طرح کے حیلوں وبہانوں سے نیکیوں سے جی چراتے ہیں تو ایسے لوگ کل بروزقیامت کیا کیا آرزو کریں گے اور کیسی کیسی تمنائیں کریں گےاور رب کے حضور کیسی کیسی عرضیاں پیش کریں گےیہی بتانے کے لئے آج کے خطبۂ جمعہ کے لئے میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ ہے ’’ قیامت کے دن لوگوں کی امیدیں،عرضیاں اور پیش کش ‘‘۔
میرے دوستو!آج ہم نیکیوں سے جی چراتے ہیں ،نماز وروزہ اور صدقہ وخیرات سے دور بھاگتے ہیں مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن مجید کےاندر ایک جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات پر باری تعالی نے یہ اعلان کیا ہے کہ ایک انسان بروزقیامت یہی آرزو وتمناکرے گا کہ کاش!میں دنیا میں نیکوکار ہوتا،بروزقیامت انسانوں کی اسی آرزووتمنا کا تذکرہ کرتے ہوئےباری تعالی نے سورہ زمرکے اندر یہ واضح الفاظ میں اعلان کردیا ہے کہ اے لوگو!عذاب کے دن کے آنے سے پہلے پہلے خوب خوب نیکیاں کرلو کہیں ایسا نہ ہو کہ ’’ أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَاحَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ ‘‘ کوئی شخص کہے:ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی،بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا،’’ أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ‘‘ یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتاتومیں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا،’’ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ‘‘یا عذاب دیکھ کرکہے کہ کاش!کسی طرح میرا لوٹ جانا ہوجاتا تو میں نیکوکاروں میں ہوجاتا۔(الزمر:56-58)سنا آپ نے کہ آج انسان کے پاس زندگی ہے،چانس ہے، موقع ہے،وقت ہے،صحت ہے تو انسان نیکیوں کو انجام دینے میں کوتاہی برتتے ہوئے نیکیوں سے جی چراتاہے مگر یہی انسان کل بروزقیامت نیک بننے اورنیکیاں کرنے کی آرزو وتمناکرے گا ،اسی سلسلے میں اللہ رب العزت نے اپنے کلام پاک کے اندر ایک دوسری جگہ پر کچھ یوں بیان کیا کہ ’’ وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ ‘‘ کاش ! آپ دیکھتے جب کہ گناہ گار لوگ اپنے رب کے سامنے سرجھکائے ہوئے ہوں گے،کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹادے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں۔(السجدہ:12)اور ایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ لوگ جب جہنم کی آگ میں جلیں گے تو’’ وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ ‘‘ اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار!ہم کو نکال لے،ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے،(اللہ کہے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمرنہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا،سومزہ چکھو کہ (ایسے) ظالموں کاکوئی مددگار نہیں۔(فاطر:37)سنا آپ نے آج انسان کو نیکیوں کی دعوت دی جاتی ہے تو طرح طرح کے حیلے وبہانے کرتاہے مگر آخرت کے دن یہی انسان آرزوکرے گا اور اللہ سے درخواست کرے گا کہ اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج دے تاکہ ہم نیکیاں کریں،مگر یہ صرف ایک آرزو ہوگی جو کبھی بھی پوری نہیں کی جائے گی،اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!آج موقع ہےاپنی آخرت کے لئے کچھ نیکیاں جمع کرلوورنہ بہت پچھتاؤگےاور افسوس کروگے مگر تب تک بہت تاخیر ہوچکی ہوگی،آج دنیا میں انسان کو باربارنصیحت کی جاتی ہے کہ نیک اعمال کرلو،اپنی آخرت کی فکر کرو مگر یہ انسان نصیحتوں سے جی چراتاہے اور نصیحت کرنے والوں سےہی بغض وعداوت رکھتاہے اورآخرت ،قبروحشر کی باتیں اسے سمجھ میں نہیں آتی ہیں مگر یہی انسان وہاں پر نصیحتوں کو یادکرکے پچھتائے گااور افسوس کرتے ہوئے کہے گا کہ کاش میں نے اس زندگی کے لئے کچھ نیکیاں کی ہوتیں،باری تعالی نے انسان کی اس آرزو کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’ وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى ، يَقُولُ يَالَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي ‘‘اورجس دن جہنم بھی لائی جائے گی،کیسے اورکس طرح سےجہنم کو لائی جائے گی سننا چاہتے ہیں تو سنئے حدیث،سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا ‘‘ کہ قیامت کے دن جہنم کو اس حال میں حاضر کیا جائے گا کہ جہنم ستر ہزارلگاموں کے ساتھ جکڑی ہوئی ہوگی اورہرلگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے،(مسلم:2842،ترمذی:2573)اللہ اکبر کبیرا۔70/ہزار لگام اور ہرلگام کے ساتھ 70/ہزار فرشتے یعنی(4،900،000،000) چارارب نوے کروڑ فرشتے جہنم کو کھینچ کرلائیں گے )تو جب جہنم لائی جائے گی تو اس دن انسان کی سمجھ میں آئے گا مگر آج اس کے سمجھنے کا فائدہ کہاں؟وہ کہے گا کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔(الفجر:23-24)سنا آپ نے ، اللہ یہ خود گواہی دے رہاہے کہ انسان وہاں پراپنے آپ سب کچھ سمجھ جائے گا،کتنا بڑا ظالم ہے یہ انسان آج جیتے جی اسے باربار سمجھائی جاتی ہیں،اللہ کا ڈر وخوف دلایاجاتاہے،جہنم سے بچنے کی تاکید کی جاتی ہے مگر یہ انسان ان سب باتوں پر کان دھرنے تیار نہیں ہے مگر جیسے ہی قیامت قائم ہوجائے گی انسان اپنے آپ ہی سب کچھ سمجھ جائے گا مگر تب تک بہت تاخیر ہوچکی ہوگی، اورمیرے دوستو!ایک اور حیران کردینے والی بات تو سنئے!!ابھی آپ نے کیا سنا کہ انسان وہاں آرزو کرے گااور اللہ سے یہ درخواست کرے گا کہ اے اللہ!تو ہمیں بھیج دے تاکہ ہم نیکیاں کریں مگر آپ کو یہ سن کر اور جان کربڑی حیرانی ہوگی انسان وہاں پر بھی جھوٹ بول رہاہوگا،اللہ اکبر!اور یہ میرا دعوی نہیں ہے بلکہ اللہ رب العزت نے خود یہ اعلان کردیا ہے کہ اس بدبخت انسان کو اگربالفرض دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو بھی وہ نیکیاں نہیں کرے گا۔اللہ کی پناہ۔جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ‘‘ اوراگر وہ لوگ پھر واپس بھیج دئے جائیں ،تب بھی وہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقیناً وہ بالکل جھوٹےہیں۔(الانعام:28)
(2)ہائےکاش!میری یہ برائیاں!
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ ایک انسان حشرکے میدان میں نیکیاں کرنے کی آرزو وتمناکرے گاتوجہاں ایک طرف ایک انسان وہاں پر نیکیاں کرنے کی آرزووتمناکرے گا تو وہیں دوسری طرف ایک انسان اپنی تمام برائیوں کو دیکھ کر اپنی ہلاکت وبربادی کی دہائی دے کر یہ کہہ رہاہوگا کہ بھائی !میں تومرگیا!میں تو لٹ گیا !میں تو پِٹ گیا،میں تو ہلاک وبرباد ہوگیا !میرے کتاب کو کیا ہوگیاہے کہ اس نے میرا سب کچا چٹھا نکال کرکےرکھ دیا ہے ،لوگوں کی انہیں باتوں اورانہیں آرزوؤں کی پیشگی اطلاع دیتے ہوئے رب نے فرمایا کہ ’’ وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَاوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا ‘‘اورنامۂ اعمال سامنے رکھ دئے جائیں گے،پس تومجرموں کو دیکھے گا کہ وہ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہورہے ہوں گے اورکہہ رہے ہوں گے:ہائے ہماری کم بختی!یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا عمل شمارکئے بغیرنہیں چھوڑا اورجو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اورتیرارب کسی پر ظلم وستم نہیں کرے گا۔(الکہف:49)سنا آپ نے کہ وہاں ایک انسان اپنی برائیوں کی لسٹ اوراپنے کرتوتوں کی فہرست کو دیکھ کرکیاکہے گا ، اورصرف یہی نہیں کہ کہے گا بلکہ یہ بھی آرزو کرے گاکہ کاش!میں نے یہ یہ برائیاں کی ہی نہیں ہوتی،کاش !میری ان برائیوں کو مجھ سے دورکردیاجاتا،جیساکہ فرمان باری تعالی ہے ’’ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ‘‘کہ جس دن ہرنفس اپنی کی ہوئی نیکیوں اوراپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا،آرزوکرے گا کہ کاش!اس کے اوربرائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی،اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈرارہاہے اوراللہ اپنے بندوں پر بڑاہی مہربان ہے۔(آل عمران:30)سنا آپ نے اورذرا سوچئے کہ اللہ نے کتنا واضح اعلان کردیا ہے کہ اے انسانو!نیکیوں کو انجام دو اوربرائیوں سے بچومگر یہ انسان آج جیتے جی اللہ اوراس کے رسول کے فرمانوں پر کان دھرنے کے لئے تیارنہیں ہے مگر یہی انسان قیامت کے دن حشرکے میدان میں برائیوں سے دوری اختیارکرنے کی آرزو اورتمنا کرے گا،مگر تب تک تو بہت تاخیرہوچکی ہوگی اوراس وقت افسوس کرنے،چیخنے وچلانے اوررونے دھونےسے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا،اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو!اگراپنی بھلاچاہتے ہو توپھر برائیوں سے باز آجاؤ ورنہ بہت پچھتاؤگے۔
(3)میرا سب کچھ لے لیاجائے اور مجھے چھوڑ دیاجائے!
میرے دوستو!اب میں میدان محشر میں انسان کی جس آرزو کا تذکرہ کرنے جارہاہوں اس کو ذرا غور سے سنئے،بحیثیت انسان ہم اورآپ اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہیں کہ آج دنیا میں ایک شوہر کو اپنی بیوی سے اورایک بیوی کو اپنے شوہر سے،ایک باپ کو اپنی اولاد سےاور ایک اولاد کو اپنے باپ سے،ایک ماں کو اپنی اولاد سےاورایک اولاد کو اپنی ماں سے،ایک بھائی بہن کو اپنے بھائی بہن سےاور ایک انسان کو اپنے خاندان اوراپنے کنبہ وقبیلہ سے کتنی شدید محبت ہوتی ہے،لیکن جب حشرکا میدان ہوگا تو یہی انسان خود غرض بن جائے گا اور اللہ سے کہے گا کہ اے میرے رب! تو میری اولاد،میرے والدین،میری بیوی اور میرے بھائیوں اوربہنوں کہ بلکہ تو میرے پورے خاندان والوں کو میرے بدلے میں لے لے اور ان سب کو جہنم میں ڈال کرمجھے جنت میں ڈال دے،صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی کہیں گی کہ اے میرے خدا!تو میرے بدلے میں میرے شوہرکواورمیری اولاد کولے لے اوران سب کوجہنم میں ڈال دے اوربس مجھے جنت میں ڈال دے،اللہ اکبر کبیرا۔سوچئے!اورذراغورکیجئےکہ انسان وہاں پراپنے آپ کو بچانے کے لئے کتنا خودغرض بن جائے گاکہ اپنی محبوب سے محبوب چیزکو بھی دے کر اپنے آپ کو بچانا چاہے گا،انسان کی اس آرزو کا تذکرہ کرتے ہوئے رب العالمین نے سورہ المعارج کے اندر فرمایا کہ کل قیامت کے دن کوئی دوست کسی دوست کونہ پوچھے گا’’ يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ،وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ،وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ،وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنْجِيهِ ‘‘حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھادئے جائیں گے،گناہ گار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو،اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتاتھا اور روئےزمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا ،پھر یہ اسے نجات دلا دے،مگر یہ آرزو بھی بس ایک آرزو ہوگی اللہ نے آگے فرمایا کہ ’’ كَلَّا إِنَّهَا لَظَى،نَزَّاعَةً لِلشَّوَى ‘‘ (مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا،یقیناً وہ شعلے والی آگ ہے جو منہ اور سرکی کھال کھینچ لانے والی ہے۔(المعارج:11-16)
میرے دوستو!آپ کو یہ سن کربڑی حیرانی ہوگی کہ فساق وفجارلوگ صرف اپنی بیوی اوراپنےبچوں اوراپنے کنبے وقبیلے کےلوگوں کواپنے بدلے میں دینے کی آرزو وتمنا نہیں کریں گےبلکہ بسااوقات اللہ کے نافرمان لوگ یہ بھی آرزو وتمناکریں گے کہ زمین وآسمان بھرکے مال ودولت اور سونا وچاندی لے لیا جائے اوران کو چھوڑدیا جائے جیسا کہ صحیح بخاری کے اندریہ حدیث موجود ہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ ‘‘ کہ اللہ تعالی قیامت کے دن جہنم میں سب سے کم عذاب پانے والے انسان سے پوچھے گا کہ ’’ لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ ‘‘اگر تمہیں روئے زمین کی ساری چیزیں میسر ہوں تو کیا تم اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کے لئے ان کوفدیہ میں دےدوگے،اورمسلم شريف كے الفاظ ہیں کہ اللہ اس سے کہے گا کہ ’’ لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا ‘‘اگر تیرے پاس دنیا ومافیہا ہوتوکیا تو اس کوبطورفدیہ جہنم سے بچنے کے لئے دے دے گا،تو وہ انسان کہے گا کہ ’’ نَعَمْ ‘‘ کیوں نہیں!ضرور!تو جب اللہ رب العالمین اسے یہ کہے گا کہ ’’ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي ‘‘میں نےتو تجھ سے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ اس وقت کیا تھا جب تو آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا،لیکن تم نے توحید کا انکارکیا اورشرک کو اختیار کیا۔(بخاری:6557،مسلم:2805)اسی بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ’’ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ‘‘ہاں،جو لوگ کفرکریں اورمرتے دم تک کافررہیں،ان میں سے کوئی اگرزمین بھرسونا دے،گوفدیے میں ہی ہوتوبھی ہرگز قبول نہ کیاجائے گا،یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے والا عذاب ہے اورجن کا کوئی مددگار نہیں۔(آل عمران:91)بھلاسوچئے کہ انسان زمین بھرکرمال ودولت اورسوناوچاندی کہاں سے لائے گا!یہ تو ناممکن اورمحال ہے مگر توحید کو اپنانا اورشرک وکفر سے اپنے آپ کو دور رکھناتو بہت آسان ہے مگر انسان جوآسان ہے وہ تو نہیں کرتاہے مگر جومشکل اورناممکن ہےاس کو پوری کرنے کی بات کرے گا۔
میرے دوستو!ان تمام دلائل سےجہاں ایک طرف یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مشرک کی نہ تو مغفرت ہوگی اور نہ ہی اس کی کوئی آرزو وامیدیں پوری کی جائیں گی ،وہیں دوسری طرف سب سے قیمتی بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ توحید یہ سوناچاندی،مال ودولت غرض کہ دنیاومافیہا سے زیادہ قیمتی ہےگویا کہ اس کائنات میں سب سے زیادہ مہنگی دولت اگر کوئی چیز ہے تو وہ یہی توحیدہے ،یہ ایک ایسی دولت ہے جس کی کوئی قیمت ہی نہیں لگا ئی جاسکتی ہے،جس کا اندازہ ہرایک انسان کو مرنے کے بعدحشرکے میدان میں بخوبی ہوجائے گا تبھی تو وہ یہ آرزو اورتمنا کرے گا کہ وہ دنیاومافیہا دے کر توحید خریدکرجنت میں داخل ہوجائے ،اس لئے میرے بھائیواوربہنو!اللہ کا شکر بجالاؤ کہ اس ذات باری تعالی نے ہمیں دنیا ومافیہا کی سب سےزیادہ قیمتی دولت یعنی توحیدسے نوازا ہے۔اللہ سے دعاکرلیں کہ اے بارالہ تو ہم سب کو تادم حیات توحید پر استقامت کے ساتھ قائم ودائم رکھ۔آمین۔
(4)اے ہمارے رب تو ہمارے بڑوں کو ڈبل عذاب دینا:
میرے دوستو!سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ جب لوگوں کو غیرشرعی رسم ورواج اورباپ داداؤں کے طوروطریقوں کوچھوڑنے کے لئےقرآن وحدیث کی باتیں سنائی جاتی ہیں تولوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکموں اورفرامین کے مقابلے میں یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کیا کرتے تھے اس لئے ہم بھی ایسا ہی کریں گے،اورآپ کو یہ سن کر بڑی حیرانی ہوگی کہ ایسا صرف دین کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا جیسا کئے تھے ہم بھی ویسا ہی کریں گے مگریہی بات اپنے دنیاوی معاملات میں نہیں کہتے ہیں،بلکہ دنیوی امورکے بارے میں تو کہتے ہیں کہ بھائی زمانہ کہاں سے کہاں ترقی کرگیا ہےاگرہم باپ دادا کے طوروطریقے پر چلیں گے توبھوکیں مرجائیں گے،اگرآپ کو میری باتوں پریقین نہ آرہاہوتو کسی کو یہ کہہ کے دیکھئے کہ بھائی آپ کے باپ دادا تو بغیربجلی وکرنٹ اوربغیر پنکھے وغیرہ کے صرف چراغ ولالٹین میں رہاکرتے تھےتو آپ بجلی سے فائدہ کیوں اٹھاتے ہیں؟ تو اتنا سنتے ہی وہ فورا ًکہے گا کہ کیا ہم بیوقوف ہیں جو اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے،مگر اسی کے برعکس اگر آپ اسی کو یہ کہہ کر دیکھیں کہ بھائی فلاں فلاں رسم ورواج چھوڑ دو،یہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے تو وہ شخص فوراً یہ کہے گا کہ نہیں !نہیں!ہمارے باپ دادا ایسا ہی کیا کرتے تھے اس لئے ہم بھی ایسا ہی کریں گے!کیا تم ہمارے باپ دادا سے زیادہ جانتے ہو؟کیاہمارے باپ دادا بیوقوف تھے؟اللہ رب العالمین نے کیا ہی خوب نقشہ کھینچا کہ’’ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ‘‘اوران سے جب کبھی کہاجاتاہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کروتو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا،گوان کے باپ دادے بے عقل اورگم کردہ راہ ہوں۔(البقرۃ:170)اسی بارے میں ایک دوسری جگہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ’’ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ‘‘اورجب ان سے کہاجاتاہے کہ اللہ نے جواحکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اوررسول کی طرف رجوع کرو توکہتے ہیں کہ ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو دیکھا اگرچہ ان کہ بڑے نہ کچھ سمجھ بوجھ رکھتے ہوں اورنہ ہدایت رکھتے ہوں۔(المائدۃ:104)دیکھا اورسنا آپ نے کہ آج دنیا میں انسان اللہ اوراس کے رسولﷺ کے حکموں کے مقابلے میں اپنے باپ دادااوراپنے بڑوں،پیروں اورفقیروں اوراپنے اماموں کے قول وعمل کو پیش کرتاہے اورکہتاہے کہ ہمارے پیر وفقیر اورہمارے امام نے ہمیں ایسا ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو ہم اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ لوگ قرآنی آیتوں کا انکار کردیں گے،فرمان مصطفیﷺ کو ٹھکرادیں گے مگر اپنے امام اوراپنے پیروں وفقیروں کی باتوں کو نہیں چھوڑیں گے،آج لوگ بڑے ہی زور وشور سے ،سینہ ٹھوک کر یہ تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے پیروفقیر اوراپنے امام کا راستہ نہیں چھوڑیں گے مگر جب قیامت قائم ہوگی تو یہی لوگ کیا کہیں گےاور کیا کیا آرزو اورکیاکیا تمناکریں گے ذرا قرآن کے اس اعلان کو غور سے سنئے،فرمان باری تعالی ہے ’’ يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ ‘‘اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔اللہ کی پناہ!جس طرح سے ایک روٹی کو توے پر الٹ پلٹ کیاجاتاہےٹھیک اسی طرح سے ایک انسان کے چہرے کو جہنم کی آگ میں الٹ پلٹ کیا جائے گا،اس وقت ایک انسان کیا کہے گا رب گواہی دے رہاہے کہ اس وقت انسان حسرت وافسوس سے کہے گا کہ ’’ يَقُولُونَ يَالَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا ‘‘ کاش!ہم اللہ اوررسول کی اطاعت کرتے،پھرکہیں گے’’ وَقالُوا رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا وَكُبَراءَنا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلا ‘‘اے ہمارے رب!ہم نے اپنے سرداروں اوراپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکادیا،اب آگے وہ لوگ کیا کہیں گے اس کو تو سنئے وہ کہیں گے کہ ’’ رَبَّنا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْناً كَبِيراً ‘‘اے ہمارے رب!توانہیں دگنا عذاب دے اوران پر بہت بڑی لعنت نازل فرما۔(الاحزاب:66-68)اورتو اورہے صرف ڈبل عذاب دینے کی درخواست ہی نہیں کریں گے بلکہ کچھ اوربھی اللہ کے حضوردرخواست کریں گے،وہ کہیں گے کہ اے اللہ ذرا جن وانس میں تو ان لوگوں کو ہمارے حوالے کردے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں سے کچلیں اورروندیں ،جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے ’’ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ الْأَسْفَلِينَ ‘‘اورکافرلوگ کہیں گے:اے ہمارے رب!ہمیں جنوں انسانوں (کے وہ دونوں فریق)دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا (تاکہ)ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وہ جہنم میں سب سے نیچے ہوجائیں۔ (فصلت:29)دیکھا اورسناآپ نے کہ جو لوگ آج دنیا میں اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت وفرمانبرداری چھوڑکر اپنے باپ داداؤں کے طوروطریقے پرچلیں گے تووہ خود ہی اپنے باپ داداؤں کے بارے میں کیا کہیں گے،اس لئے اے مسلمانوں!آج بھی تمہارے پاس موقع ہے اپنے پیروفقیر اوراپنے باپ داداؤں کے طوروطریقے کو چھوڑ کر اللہ اوراس کے رسول کی طرف آجاؤ ورنہ بہت پچھتاؤگے اورخون کے آنسوروؤگے مگر تب تک بہت تاخیر ہوچکی ہوگی۔
(5)کاش ہم نے رسولﷺ کی اطاعت کی ہوتی!
محترم سامعین!ابھی آپ نے یہ سنا کہ جولوگ اللہ اوراس کے رسولﷺ کی اطاعت چھوڑکراپنے باپ داداؤں کے راستے پر چلیں گے تو وہ لوگ کیسی کیسی آرزویں اورکیسی کیسی درخواستیں رب کے حضورپیش کریں گے،صرف درخواست ہی نہیں کریں گے بلکہ ایسے لوگ تو اپنےاپنے انگلیوں کو اپنے منہ میں رکھ کرچبائیں گے اورکتریں گےاورافسوس کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہوں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی،ہم تو لٹ گئے !ہم تو پِٹ گئے!ہم تو برباد ہوگئے!ہم کو توفلاں فلاں نے گمراہ کردیا!ہم کو تو فلاں فلاں نے برباد کردیا،لوگوں کی اس حالت کی خبردیتے ہوئے رب العالمین نے فرمایا ’’ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَالَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ‘‘اوراس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چباچباکرکہے گا:ہائے!کاش کہ میں نے رسول کی راہ اختیار کی ہوتی،’’ يَاوَيْلَتَا لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ‘‘ہائے افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہواہوتا،’’ لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا ‘‘اس نے تومجھے اس کے بعد گمراہ کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اورشیطان تو انسان کو دغادینے والا ہے۔(الفرقان:27-29)سنا آپ نے کہ جولوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت نہیں کریں گے تو وہ کیسی بری حرکت پاگلوں کی طرح کریں گے،آج جب ہم قرآن وحدیث کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کو اطاعت رسولﷺ کی دعوت دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بھائی تم مدینے والے کا کلمہ پڑھتے ہو تو مدینے والے کے ہی حکموں پر چلوتو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں،برابھلا کہتے ہیں ،ہمارا مذاق اڑایا جاتاہے،ہمارا تو چھوڑئیے لوگ اپنے امام اور پیروفقیر کی محبت میں قرآن وحدیث ہی کا مذاق اڑاتے ہیں ،توجولوگ بھی ایسی حرکت کرتے ہیں عنقریب انہیں قیامت کے دن پتہ چل جائے گا کہ کس نے مدینے والے کا راستہ اپنایا تھا اور کس نے ٹھکرادیا تھا؟ظاہرسی بات ہے کہ جومدینے والے کے حکموں پر نہیں چلے گا وہی تو پاگلوں کی طرح اپنی انگلیوں کو چباچباکر کہے گا کہ کاش!! ہم نے دنیا میں مدینے والے کی بات مانی ہوتی!اس لئے اے میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اور بہنو!ایسی نوبت آنے سے پہلے پہلے آج ہی سے اپنی عادتوں کو بدل لو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف آجاؤ،دنیا وآخرت میں کامیاب ہوجاؤگے ورنہ پھر ایسی نوبت کے لئے تیار رہو!
(6) کاش کہ ہم مسلمان ہوتے!!
محترم سامعین!آج ساری دنیا ہم مسلمانوں کے خلاف ہے،ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے ہرآئے دن طرح طرح کے قوانین بنائے جارہے ہیں،آج پوری دنیا میں سب سے سستا خون اگر کسی کا ہے تو وہ مسلمان کا خون ہے،ہرکوئی مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانا اپنا حق اوراپنا فریضہ سمجھ رہاہے،اورہرکس وناکس مسلمانوں کو حقیروذلیل سمجھ رہاہےمگرآپ یہ جان لیں کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس دن یہ کفارومشرکین آرزو اورتمنا کریں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے۔اللہ اکبر کبیرا۔سنئے اللہ کا یہ فرمان ’’ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كانُوا مُسْلِمِينَ ‘‘ وہ بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے۔(الحجر:2)اس آیت کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسفؒ لکھتے ہیں کہ یہ آرزو کب کریں گے؟موت کے وقت،جب فرشتے انہیں جہنم کی آگ دکھاتے ہیں یا جب جہنم میں چلے جائیں گے یا اس وقت جب گناہ گارایمانداروں کو کچھ عرصہ بطورسزا جہنم میں رکھنے کے بعد جہنم سے نکالا جائے گا یا میدان محشر میں جہاں حساب کتاب ہورہاہوگا اورکافردیکھیں گے کہ مسلمان جنت میں جارہے ہیں تو آرزو کریں گے کہ کاش!وہ بھی مسلمان ہوتے۔(احسن البیان:ص590) میرے دوستو!ذراسوچئے کہ یہ ایمان واسلام کتنی بڑی دولت ہےکہ لوگ وہاں پر مسلمان بننے کی کوشش کریں گےمگر آج ہمیں اس دولت کی بالکل بھی فکر نہیں ہے، میرے بھائیو اور بہنو!اپنے ایمان واسلام کی فکر کرواور رب کا شکر بجالاؤ کہ اس ذات باری تعالی نے ہمیں ایمان واسلام سے نوازا ہے،اور ہاں سن لو یہ ایمان واسلام اللہ سب کو نہیں دیتاہےبلکہ صرف اور صرف اسے دیتاہے جسے پسند کرتاہے جیسا کہ تاجدارمکہ ومدینہ ،احمدمجتبی ومصطفیﷺ نے فرمایا کہ ’’ وَإِنَّ اللَّهَ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ‘‘اوربے شک اللہ تعالی دنیا اسے بھی عطاکرتاہے جسے پسند کرتاہے اور اسے بھی عطاکرتاہے جسے ناپسند کرتاہے،’’ وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ‘‘اور دین اور ایمان تو اللہ صرف اسے عطاکرتاہے جسے پسندکرتاہے۔(الصحیحۃ:2714)سنا آپ نے کہ یہ دین وایمان اور اسلام رب کی کتنی بڑی نوازش ہے اس لئے میرے بھائیو اور بہنو !وقت وحالات سے نہ گھبرانا،یہ دنیا ہے ہی آزمائش کی جگہ اور جب ہم مسلمان ہیں تو تادم حیات ہماری آزمائشیں ہوتی ہی رہیں گے ،مگر یہ بات اچھی طرح سے اپنے ذہن ودماغ میں بیٹھالیں کہ یہ آزمائشیں آج نہیں تو کل ضروربالضرور ختم ہوجائے گی کیونکہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کی ہرچیز آنی جانی ہے مگر آخرت یہ تو ہمیشہ باقی رہنے والی جگہ ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى ‘‘ اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے۔(الاعلی:17)سنا آپ نے کہ اللہ رب العزت نےکیا کہا ؟مگر افسوس صد افسوس! ہم سب توہمیشہ اس کا الٹا ہی کرتے ہیں اور اپنی آخرت کو چھوڑکر اسی فانی دنیا کو ہی ترجیح دیتے ہیں،ارے میرے دوستو!دنیاتو جیسے تیسے گذرجائے گی مگر آخرت یہ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوگی،اور اس ختم نہ ہونے والی جگہ کی جوسب سے قیمتی سرمایہ ہے وہ ہے ایمان واسلام ،اس لئے اے میرے بھائیو اور بہنو!اپنے دین وایمان اور اسلام کی ہمیشہ حفاظت کرتے رہنااورمرتے دم تک ہرحال میں مسلمان بن کر ہی رہنا اور يهي همارے لئے اللہ تعالی کا حکم بھی ہے کہ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ‘‘اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔(آل عمران:102)
(7) کاش ہمیں بھی مٹی بنادیا جاتا یا پھر زمین میں دھنسا دیا جاتا:
برادران اسلام!ابھی آپ نے یہ سنا کہ قیامت کے دن جب کفارومشرکین یہ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کو جنت میں داخل کیا جارہاہے تو یہ آرزو اور یہ تمناکریں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو یہ کفارومشرکین صرف مسلمان ہونے کی آرزو وتمنا ہی نہیں کریں گے بلکہ حساب وکتاب کی سختیوں اورجہنم کی ہولناکیوں اور سزاؤں کو دیکھ کر یہ بھی تمنا کریں گے کہ کاش انہیں بھی مٹی بنادیاجاتاہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَالَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا ‘‘کہ ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے ،جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا،اورکافر کہے گا کہ کاش !میں مٹی ہوتا۔(النبا:40)جی ہاں میرے دوستو!یہ کفارومشرکین مٹی ہونے کی آرزو کریں گےاوریہ آرزو اس وقت کریں گے جب اللہ رب العالمین جانورں کے مابین انصاف کرکے ان کو یہ حکم دے گا اب تم سب مٹی بن جاؤ تو اس وقت یہ منظر دیکھ کر کفارومشرکین یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہمیں بھی مٹی بنا دیا جاتا جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ يَقْضِي اللهُ بَيْنَ خَلْقِهِ الْجِنِّ وَالإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَإِنَّهُ لَيَقِيدُ يَوْمَئِذٍ الْجَمَّاءَ مِنَ الْقَرْنَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ تَبِعَةً عِنْدَ وَاحِدَةٍ لأُخْرَى ‘‘ کہ اللہ تعالی قیامت کے دن اپنی مخلوقات یعنی جن وانس اورچوپائیوں کے مابین فیصلہ فرمائے گا ،یہاں تک کہ اللہ رب العالمین بے سینگ والے جانورکو بھی سینگ والے جانورسےقصاص دلائے گا ،صرف جانور ہی نہیں بلکہ ایک دوسری روایت کے اندر ہے کہ اللہ رب العالمین قیامت کے دن ایک چیونٹی کو بھی دوسری چیونٹی سے انصاف دلائے گا۔(الصحیحۃ:1967))سبحان اللہ۔تو جب اللہ رب العالمین تمام مخلوق کے درمیان انصاف کردے گا اور کسی کا کسی پر کوئی حق باقی نہ رہے گا تو اللہ رب العالمین ان جانوروں سے کہے گا کہ ’’ كُونُوا تُرَابًا ‘‘ اب تم سب مٹی بن جاؤ تو یہ منظر دیکھ کر کفارومشرکین یہ آرزو اوریہ تمنا کریں گے کہ’’ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا ‘‘ کاش ہمیں بھی ان جانوروں کی طرح مٹی بنادیا جاتا۔(الصحیحۃ:1966)
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ کفارومشرکین یہ آرزو رکریں گے کہ کاش وہ بھی مٹی بنادئے جاتےتو صرف یہی ایک آرزو نہیں کریں گے بلکہ بسا اوقات یہ بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں زمین میں دھنسا دیاجاتا جیسا کہ فرمان بار ی تعالی ہے ’’ يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا ‘‘جس روز کافراوررسول کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش! انہیں زمین کے ساتھ ہموار کردیا جاتا اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے۔(النساء:42)
(8)کاش!میرا رزلٹ مجھے نہ دیا جاتا:
میرے دوستو! قیامت کے دن جب حساب وکتاب ہوگا تو جن لوگوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں اچھائیاں اورنیکیاں کی ہوں گی ،وہ لوگ تو بڑے خوش وخرم ہورہے ہوں گے اورایک دوسرے کو اپنی کامیابی کی سرٹیفیکیٹ دکھلارہے ہوں گے مگر اسی کے برعکس جن لوگوں نے اپنی اس دنیاوی زندگی میں برائیاں کی ہوں گی تو ایسے لوگ اپنے رزلٹ اوراپنے نامۂ اعمال کو دیکھ کرکیا کہیں گے اورکیا کیا آرزو کریں گے آئیے فرمان باری تعالی کی روشنی میں سنتے ہیں،فرمان باری تعالی ہےکہ ’’ وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ بِشِمالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتابِيَهْ ‘‘لیکن جسے اس (کے اعمال)کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی،تووہ کہے گا کہ کاش!مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی،پھر وہ کہے گا کہ ’’ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ ‘‘ اورمیں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے،پھرآرزووتمناکرتے ہوئے کہے گا کہ ’’ يَالَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ ‘‘ کاش کہ موت میرا کام ہی تمام کردیتی،پھرکہے گا کہ ’’ مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ ، هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ ‘‘میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا ،مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی،سنا آپ نے کہ ایک انسان اپنے رزلٹ کو دیکھ کرکیاکیا آروزو اور کیا کیاتمنا کرے گا اورکیا کیا بکے گا مگر اس کا یہ بکنا اوراس کی یہ آرزو کسی کام کی نہیں ہوگی!اللہ حکم دے گا کہ ’’ خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ‘‘ اسے پکڑلوپھر اسے طوق پہنادو،پھراسے دوزخ میں ڈال دو۔(الحاقۃ:25-31)اس لئے میرے دوستو!آج ہی اپنی آخرت کے لئے کچھ نیکیاں جمع کرلوکیونکہ ’’ فَإِنَّ اليَوْمَ عَمَلٌ وَلاَ حِسَابَ وَغَدًا حِسَابٌ وَلاَ عَمَلٌ ‘‘ آج عمل کرنے کا موقع اوروقت ہے اورابھی حساب کا وقت نہیں آیا ہے مگر کل حساب کا وقت ہوگا اورعمل کرنے کا موقع نہیں ہوگا۔
(9)تھوڑا ہمیں بھی کھاناپانی دے دو نہ بھائی:
میرے بھائیو اور بہنو!قیامت کے دن جب لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو جن لوگوں نے نیکیاں کی ہوں گی وہ توجنت میں بڑے مزے سے عیش وآرام میں ہوں گے مگرجن لوگوں نے برائیاں کی ہوں گی وہ توجہنم کی آگ میں جھلس رہے ہوں گے،جل بھن رہے ہوں گے،جہنمی جب یہ منظر دیکھیں گے کہ جنتی لوگ توبڑے ہی عیش وآرام میں ہیں اورعمدہ سے عمدہ قسما قسم کے ماکولات ومشروبات سے مستفید ہورہے ہیں تویہ جہنمی لوگ اہل جنت سے یہ درخواست کریں گے کہ بھائی ذرا ہمیں بھی پانی پلاؤ نہ ،اب جب اہل جہنم پانی مانگیں گے تو اہل جنت کیا جواب دیں گے،قرآن گواہی دے رہا ہے،فرمان باری تعالی ہے’’ وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ ‘‘ اوردوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ ہمارے اوپرتھوڑا سا پانی ہی ڈال دو یا اورہی کچھ دے دو،جو اللہ نے تم دے رکھا ہے،جنت والے کہیں گے کہ اللہ نے دونوں چیزیں کافروں کے لئے حرام کردی ہیں۔(الاعراف:50)
میرے دوستو!صرف یہی نہیں کہ اہل جہنم ،جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے بلکہ اہل جہنم تو جہنم کی سختیوں اورعذابوں کی تاب نہ لاکرکے وہاں موت کو بھی پکاریں گے مگر وہاں تو خود موت کو موت کے گھاٹ اتاردیاجا ئے گا،اورموت کوبھی موت آجائے گی،جہنم کی سختیوں اورہولناکیوں کی تاب نہ لاکرکے جہنمی فرشتے سے اپیل کریں گے کہ اے جہنم کے داروغے! ذرا رب سے یہ کہو نہ کہ ہمیں اس طرح سے تڑپاتڑپاکر عذاب نہ دے بلکہ ہماراایک ہی مرتبہ میں کام تمام کردے ،جہنمیوں کے اس اپیل اوراس درخواست کا ذکر کرتے ہوئے رب العالمین نے فرمایا کہ ’’ وَنادَوْا يَا مالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنا رَبُّكَ قالَ إِنَّكُمْ ماكِثُونَ ‘‘اورپکارپکار کرکہیں گے کہ اے مالک!(یہ مالک،جہنم کے داروغے کا نام ہے) تیرارب ہمارا کام ہی تمام کردے،وہ کہےگا کہ تمہیں تو ہمیشہ رہنا ہے۔(الزخرف:77)اللہ کی پناہ! اللہ ہم سب کو جہنم سے محفوظ رکھے۔آمین
(10) کاش ہمارے چمڑوں کو قینچیوں سے کاٹ دیا جاتا:
میرے دوستو!قیامت کے دن لوگوں کی امیدیں،عرضیاں وپیش کش اس عنوان کے تحت اب آخر میں،میں جو بتانے جارہاہوں وہ تو بہت ہی زہادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ حشرکے میدان میں ایک لمحہ ایسابھی آئے گا کہ لوگ یہ آرزو اوریہ تمناکریں گے کہ کاش ان کے چمڑوں کو بھی قینچیوں سے کاٹ دیاجاتا۔سبحان اللہ۔یہ کیسی آرزو اورکیسی تمنا ہے؟اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ لوگ یہ آرزو کب اور کیوں کریں گے تو سنئے حدیث،سیدناجابرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نےفرمایا’’ يَوَدُّ أَهْلُ العَافِيَةِ يَوْمَ القِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ البَلَاءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالمَقَارِيضِ ‘‘کہ قیامت کے دن جب تکلیفوں میں مبتلاہونے والے لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو اہل عافیت( یعنی وہ لوگ جو دنیا میں تکلیفوں،پریشانیوں اور آزمائشوں سے محفوظ رہے ہوں گے )یہ آرزو اوریہ خواہش کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹ دیا گیاہوتا۔(ترمذی:2402،صحیح الجامع للألبانی:3251،اسنادہ حسن)سنا آپ نے کہ مصیبتوں اورپریشانیوں کا اجروثواب کتنا عظیم ہوگا کہ لوگ آرزو اورتمنا کرنے لگیں گے کہ کاش دنیا میں ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹ دئے گئے ہوتے تو انہیں بھی یہ اجروثواب ملتا،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!اگر کبھی کوئی مصیبت وپریشانی،دکھ ودرد،غم والم پہنچے تو اس پرجزع وفزع نہ کرتے ہوئے صبر سے کام لیاکرو کیونکہ ہرآفت ومصیبت پر ایک مومن کو اجروثواب ملے گا مگر شرط یہ ہے کہ وہ اس پر صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ سے اچھا گمان رکھے،اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اورآپ اب دنیا میں ہی آرزو اورتمناکرنے لگیں کہ اے اللہ تو ہمیں بھی بیماری ومصیبت سے دوچارکردے،نہیں !نہیں!ہرگز نہیں!نہ تو اس حدیث کا یہ مطلب ہے اورنہ ہی ہمیں کبھی ایساسوچنا ہے،بلکہ ہمیں تو ہمیشہ اپنے رب سے ہرطرح کی آفت ومصیبت اورہرطرح کی بیماری سے بچائے رکھنے کی دعائیں کرنی ہے اوراپنے لئےاچھی صحت وتندرستی ہی مانگنی ہے،کیونکہ ایمان کے بعد اگر سب سے بڑی دولت کوئی چیز ہے تو وہ صحت وتندرستی ہے جیساکہ جناب محمدعربیﷺنے یہ فرمایا’’ اسْأَلُوا اللَّهَ العَفْوَ وَالعَافِيَةَ، فَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُعْطَ بَعْدَ اليَقِينِ خَيْرًا مِنَ العَافِيَةِ ‘‘ کہ الله تعالی سے عفودرگزر اورعافیت وصحت وتندرستی کا سوال ہمیشہ کرتے رہا کرو کیونکہ کسی کو بھی ایمان کے بعد عافیت وتندرستی سے بہتر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔(ترمذی:3558،صحیح الجامع للألبانیؒ:3632)اس لئے ہم کو اورآپ کو ہمیشہ اللہ سے اچھی صحت وتندرستی مانگنی ہے تو اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان اگر خدانخواستہ کسی مصیبت وپریشانی اوردکھ ودرد سے دوچارہوجائے تو اس پر صبر سے کام لے تو اس کے لئے بہت بڑا اجروثواب ہے جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا’’مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ لَهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ‘‘جس مسلمان كو بھی کوئی بیماری یا اس کے علاوہ کوئی اورتکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالی اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو اس طرح گرادیتاہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرادیتاہے۔ (بخاری:5267،مسلم:2571)اورایک دوسری روایت کے اندرہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَا يُصِيبُ المُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ وَلاَ هَمٍّ وَلاَ حُزْنٍ وَلاَ أَذًى وَلاَ غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ ‘‘جس مسلمان کو کوئی تھکاوٹ،درد،فکروغم،تکلیف اورپریشانی لاحق ہوتی ہے یہاں تک کہ اگراس کو کانٹابھی چبھتاہے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو مٹادیتاہے۔(بخاری:5641)سبحان اللہ۔اللہ کی مہربانی اوراس کالطف وکرم دیکھئے کہ ہماری بیماریاں بھی ہمارے گناہوں کو مٹادیتی ہیں اوربیماریوں سے صرف گناہ ہی نہیں مٹتے ہیں بلکہ اس سے جنت میں درجے بھی بلند ہوتے ہیں۔سبحان اللہ۔ جیسا کہ اماں عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ‘‘ جس مسلمان كو کانٹاچبھایاپھر اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچی تو اس کے لئے اس کے بدلے میں (جنت کے اندر) ایک درجہ لکھ دیا جاتاہےاور اس سے ایک گناہ مٹادیاجاتاہے۔(مسلم:2572)تو انہیں اجروثواب کو دیکھ کر اہل عافیت کل قیامت کے دن یہ آرزو اوریہ تمناکرنے لگیں گے کہ کاش!ان کے چمڑوں کو بھی قینچیوں سے کاٹ دیاگیا ہوتا۔
میرے دوستو! آخر میں آپ یہ بات اچھی طرح سے سن لیں اورجان لیں کہ یہ جتنی بھی ساری باتیں آپ نے سنی ہیں بس یہ ایک ایسی آرزوئیں اور تمنائیں ہیں جو کبھی بھی پوری نہیں ہوسکے گی،بس لوگ آرزو اورتمناکرتے رہیں گے اورجہنم کی آگ میں جھلستے اورجلتے رہیں گے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے ’’ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‘‘ یقین مانوکہ کافروں کےلئے اگر وہ سب کچھ ہو جو ساری زمین میں ہے بلکہ اسی کے مثل اوربھی ہو اوروہ اس سب کو قیامت کے دن عذابوں کے بدلے فدیے میں دینا چاہیں تو بھی ناممکن ہے کہ ان کا فدیہ قبول کرلیا جائے،ان کے لئے تو دردناک عذاب ہی ہے،پھر آگے اللہ نے فرمایا کہ ’’ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِيمٌ ‘‘ وہ چاہیں گے کہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن ہرگز اس میں سے نہ نکل سکیں گے،ان کے لئے تو دائمی عذاب ہے۔(المائدۃ:36-37) اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!آج ہی وقت رہتے اپنی آخرت کے لئے کچھ توشہ جمع کرلو ،ذرا غورکیجئے کہ اللہ رب العالمین نے کس طرح سے ایک ایک کرکے ہمارے سامنے میں کل بروز قیامت ہونے والے تمام حالتوں کو کتنا واضح کرکے بیان کردیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اللہ رب العالمین نے قیامت کے دن کا پورا فلیش بیک دنیا میں ہی ہمارے آنکھوں کے سامنے رکھ دیا ہے تاکہ ہم وقت رہتے عبرت ونصیحت حاصل کرلیں مگر پھر بھی ہم ان باتوں پر کان دھرتے نہیں ہیں،تو سن لیجئے!اس میں صرف اورصرف ہمارا نقصان ہوگااور اس کے ذمے دار ہم اورآپ خود ہوں گے،آج اگرہم اچھا کریں گے تو اس کا فائدہ خود ہماری ذات کو ہوگا اوراگر براکریں گے تو اس کا نقصان بھی خود ہم ہی اٹھائیں گے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ‘‘اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائدہ کے لئے اوراگرتم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے۔(الاسراء:7)اورایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ‘‘جونیکی کرے گا وہ اپنے ذاتی بھلے کے لئے اورجوبرائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے،پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤگے۔(الجاثیہ:15)اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہےکہ ہم نیکیاں کرکے اپنے آپ کو جنت میں داخل کروا لیں یاپھر برائیوں کو انجام دے کرکے اپنے آپ کو ہلاک وبرباد کرلیں۔
اب آخر میں رب العالمین سے دعاگوہوں کہ اے بارالہ تو ہم سب کو قیامت کے دن کی ہرآفت ومصیبت اورہرپریشانی سے محفوظ رکھ۔آمین۔ثم آمین یارب العالمین۔
کتبہ
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
اٹیچمنٹس
-
1,014.3 KB مناظر: 9