ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 808
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
الشیخ المحدث احمد شاکر رحمہ اللہ کی نظر میں وضعی قوانین کے نفاذ کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله العزيز الحكيم، الذي له الحكم وإليه ترجعون، والصلاة والسلام على نبينا محمد خاتم النبيين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
یہ زمانہ فتنوں، جاہلی افکار اور طاغوتی نظاموں کے غلبے کا زمانہ ہے، جہاں بہت سے مسلم ممالک میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کو پسِ پشت ڈال کر مغرب کے وضعی اور سیکولر قوانین نافذ کیے گئے، اور پھر انہیں ترقی، تمدن اور عصری ضرورت کے خوشنما نعروں سے مزین کیا گیا۔ یہاں تک کہ بعض لوگ ان قوانین کے دفاع میں اس حد تک آگے بڑھے کہ شریعتِ الٰہیہ کی برتری ہی مشکوک بنانے لگے۔
ایسے ہی باطل افکار کے رد اور حاکمیتِ الٰہیہ کے اثبات میں محدث العصر شیخ احمد شاكر رحمہ اللہ نے نہایت واضح، جری اور اصولی کلام فرمایا، جس میں انہوں نے وضعی قوانین کی حقیقت، ان کے نافذ کرنے والوں کے جرم، اور ان کے باطل اصولوں کو بے نقاب کیا۔
چنانچہ محدث العصر شیخ احمد محمد شاکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
نرى في بعض بلاد المسلمين قوانين ضربت عليها ، نقلت عن أوربة الوثنية الملحدة ، وهي قوانين تخالف الإسلام مخالفة جوهرية في كثير من أصولها وفروعها ، بل إن في بعضها ما ينقض الإسلام ويهدمه ، وذلك أمر واضح بديهى ، لا يخالف فيه إلا من يغالط نفسه ، ويجهل دينه أو يعاديه من حيث لا يشعر ، وهي في كثير من أحكامها أيضاً توافق التشريع الإسلامي ، أو لا تنافيه على الأقل .
ہم بعض مسلم ممالک میں ایسے قوانین دیکھتے ہیں جو وہاں نافذ کیے گئے ہیں، اور یہ قوانین مشرک و ملحد یورپ سے نقل کیے گئے ہیں۔ یہ قوانین اسلام کے بہت سے اصولوں اور فروع میں بنیادی طور پر اس کے مخالف ہیں، بلکہ ان میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اسلام کو توڑ دیتی اور اسے منہدم کر دیتی ہیں۔ اور یہ بات بالکل واضح اور بدیہی ہے، اس میں صرف وہی شخص اختلاف کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہو، یا اپنے دین سے جاہل ہو، یا بے شعوری میں اس سے دشمنی رکھتا ہو۔ البتہ ان قوانین کے بہت سے احکام ایسے بھی ہیں جو اسلامی شریعت کے موافق ہیں، یا کم از کم اس کے مخالف نہیں۔
وإن العمل بها في بلاد المسلمين غير جائز ، حتى فيما وافق التشريع الإسلامي ، لأن من وضعها حين وضعها لم ينظر إلى موافقتها للإسلام أو مخالفتها ، إنما نظر إلى موافقتها لقوانين أوربة أو لمبادئها وقواعدها ، وجعلها هي الأصل الذى يرجع إليه ، فهو آثم مرتد بهذا ، سواء أوضع حكماً موافقاً للإسلام أم مخالفاً .
پھر بھی مسلم ممالک میں ان قوانین کے مطابق عمل کرنا جائز نہیں، حتیٰ کہ ان امور میں بھی نہیں جو اسلامی شریعت کے موافق ہوں؛ کیونکہ جن لوگوں نے یہ قوانین وضع کیے، انہوں نے انہیں بناتے وقت نہ اسلام کی موافقت کو دیکھا اور نہ مخالفت کو، بلکہ انہوں نے یورپ کے قوانین، ان کے اصولوں اور قواعد کو بنیاد بنایا، اور انہی کو اصل مرجع قرار دیا۔ لہٰذا وہ گناہ گار شخص اس بنا پر مرتد ہے، خواہ اس نے کوئی ایسا قانون بنایا ہو جو اسلام کے موافق ہو یا مخالف۔
[كلمة الحق احمد شاكر، ص : ٨٩]
محدث احمد شاكر رحمہ اللہ کا یہ کلام اس دور کی ان تمام حکومتوں و حکمرانوں پر ایک زبردست رد ہے جو وضعی قوانین، سیکولر دستوروں اور مغربی نظاموں کو معاشروں میں نافذ کرکے بھی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔
شیخ احمد شاكر رحمہ اللہ نے سب سے پہلے ان قوانین کی حقیقت واضح کرتے ہوئے فرمایا: "قوانين نقلت عن أوربة الوثنية الملحدة" یعنی یہ قوانین ملحد اور مشرک یورپ سے لیے گئے ہیں۔ یہ قوانین وحیِ الٰہی یا شریعت محمدیہ سے ماخوذ نہیں، بلکہ کفریہ تہذیبوں، جاہلی فلسفوں اور انسانی خواہشات کا نتیجہ ہیں۔ پس جو لوگ انہیں مسلم ممالک پر نافذ کرتے ہیں، وہ دراصل امت مسلمہ کو قرآن و سنت کی حاکمیت سے نکال کر مغربی جاہلیت کی غلامی میں دھکیلتے ہیں۔
پھر شیخ رحمہ اللہ ان قوانین کی حقیقت مزید کھولتے ہوئے فرماتے ہیں: "وهي قوانين تخالف الإسلام مخالفة جوهرية" یعنی یہ قوانین اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ یہ کوئی معمولی مخالفت نہیں، بلکہ مخالفة جوهرية ہے؛ یعنی اصولی، بنیادی اور عقدی تصادم۔ کیونکہ اسلام میں حقِ تشریع صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، جبکہ وضعی قوانین انسان کو قانون ساز بنا دیتے ہیں۔ اور یہی طاغوت کی حقیقت ہے کہ بندوں کو اللہ کے بجائے انسانوں کے احکام و قوانین کا پابند بنایا جائے۔
اسی لیے شیخ احمد شاكر رحمہ اللہ نے مزید فرمایا: "بل إن في بعضها ما ينقض الإسلام ويهدمه" یعنی ان قوانین میں بعض ایسے امور بھی ہیں جو اسلام کو منہدم اور باطل کر دیتے ہیں۔ یہ الفاظ نہایت شدید ہیں، اور اس شخص کے لیے لمحہ فکریہ ہیں جو وضعی قوانین کو صرف انتظامی مسئلہ یا سیاسی ضرورت کہہ کر ان کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ محدث احمد شاکر رحمہ اللہ واضح کر رہے ہیں کہ ان قوانین میں ایسے امور ہوتے ہیں جو ناقضِ اسلام ہیں۔
پھر شیخ رحمہ اللہ ان لوگوں پر سخت رد کرتے ہیں جو اس حقیقت کے باوجود ان قوانین کا دفاع کرتے ہیں: "لا يخالف فيه إلا من يغالط نفسه، ويجهل دينه أو يعاديه" یعنی اس حقیقت میں صرف وہی شخص اختلاف کرے گا جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہو، اپنے دین سے جاہل ہو، یا لاشعوری طور پر اس سے دشمنی رکھتا ہو۔
یہ ان نام نہاد دانشوروں، سیکولر مفکرین اور حکومت کے درباری مدخلیوں پر کاری ضرب ہے جو وضعی قوانین کو ترقی، مصلحت یا عصری ضرورت کا نام دے کر ان کا جواز پیش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ شریعتِ الٰہیہ کی تحقیر اور کفریہ نظاموں کی تعظیم کر رہے ہوتے ہیں۔
پھر شیخ رحمہ اللہ ایک عظیم شبہے کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "وإن العمل بها في بلاد المسلمين غير جائز، حتى فيما وافق التشريع الإسلامي" یعنی مسلم ممالک میں ان قوانین کے مطابق عمل کرنا جائز نہیں، اگرچہ ان میں بعض چیزیں شریعت کے موافق ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اصل مسئلہ صرف چند دفعات کا نہیں، بلکہ مرجعیت اور حاکمیت کا ہے۔
شریعت میں اصل مرجع قرآن و سنت ہیں، جبکہ وضعی قوانین میں اصل مرجع یورپ، انسانی عقل اور پارلیمنٹیں ہیں۔ اسی لیے شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: "جعلها هي الأصل الذى يرجع إليه" یعنی ان قانون سازوں نے یورپی قوانین کو اصل مرجع بنا لیا۔ پس یہی اصل جرم ہے؛ کہ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر کفار کے قوانین کو بنیاد بنایا جائے، خواہ ان میں بعض دفعات اتفاقاً شریعت سے ملتی ہوں۔
آخر میں شیخ رحمہ اللہ نے دوٹوک الفاظ میں فرماتے ہیں: "فهو آثم مرتد بهذا" یعنی ایسا شخص گناہ گار اور مرتد ہے۔ یہ ان حکمران، اسمبلیاں اور قانون ساز ادارے جو اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں ان کی حقیقت ہے۔ محدث احمد شاکر رحمہ اللہ نے یہاں کسی تاویل، سیاسی مصلحت یا جمہوری نعرے کو خاطر میں نہیں لایا، بلکہ مسئلے کو خالص توحید کے اصول پر پرکھا اور ان پر مرتد ہونے کا حکم لگایا۔
لہٰذا اہل اسلام پر واجب ہے کہ وہ وضعی قوانین کی حقیقت کو پہچانیں، شریعت الٰہیہ کی عظمت کو سمجھیں، اور ہر اس نظام، قانون اور دستور سے براءت اختیار کریں جو اللہ کے حکم کے مقابل کھڑا کیا گیا ہو۔ اور جو نظام اس کے مقابل کھڑا کیا جائے، وہ جاہلیت، طاغوت اور گمراہی کا نظام ہے، خواہ اسے جدید قانون، جمہوریت یا آئینی نظام کا نام دیا جائے۔
وما علینا إلا البلاغ۔