• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا عبد السلام صلاح الین مدنی

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
52


پیام انسانیت کانفرنس و سیمینار٢٠٢٦- ٢٧ء​




شمار نمبر
مضامین​
صفحہ نمبر
۱
مقدمہ​
۳
پہلی فصل: تعارف شخصیتیہ فصل چار مباحث پر مشتمل ہے
۱مبحث اول: سلسلۂ نسب اور خاندانی پس منظر۶
۲مبحث ثانی: ولادت اور جائے ولادت۷
۳مبحث ثالث: ابتدائی تعلیم علاقی مدارس میں: ایک جائزہ۷
۴مبحث رابع: اعلیٰ تعلیم کے لئے چند علمی مراکز کا سفر (تعارف و تبصرہ)
۹
دوسری فصل: مدنی حفظہ اللہ کی قلمی وسلفی خدمات۔یہ چار مباحث کو شامل ہے
۱مبحث اول: مدنی موصوف کی بعض علمی و قلمی کاوشیں: ایک تجزیاتی مطالعہ۱۴
۲مبحث ثانی: مرکز آزاد التعلیمی الاسلامی گریڈیہہ کے قیام میں مدنی موصوف کا کردار۲۲
۳مبحث ثالث: شعبۂ جالیات سعودی عرب سے انسلاک: چند دعوتی سرگرمیاں(تجزیاتی نظر)۲۴
۴مبحثِ رابع: صاحبِ سوانح کی رفاہی خدمات (ایک مطالعہ:ایک تعارف)۲۵
تیسری فصل: مولانامدنی اور جامعہ محمدیہ: کردار وعمل۔دو مباحث پر محیط ہے
۱
مبحث اول: جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کے قیام کا تاریخی پس منظر​
۲۶
۲
مبحث ثانی: مدنی موصوف کے عہدِ صدارت میں جامعہ محمدیہ اور مستقبل کے عزائم​
۳۰
۱
خاتمہ
۳۲





مقدمہ


الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين وعلى آله وصحبه أجمعين، أشھد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله۔أما بعد:

تمام تعریفیں اور ہر طرح کی حمد و ثنا اس اللہ رب العزت کے لیے ہے جو تمام جہان کا مالک ہے اور سیدھے راستے کی رہنمائی فرماتا ہے اور درود و سلام ہو نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو خاتم الانبیاء اور امام الرسل ہیں، جن کے ذریعہ اللہ تعالٰی نے آسمانی پیغام ہم تک پہنچایا ۔ درود و سلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اصحاب اور ان علمائے عاملین پر جو آپ کے بعد آپ کے طریقے کے وارث ہوئے، جن کے ذریعہ اللہ نے بندوں کو ہدایت بخشی ، جن کے ہاتھ سے ملک فتح ہوئے ، جن کے عدل و انصاف سے روئے زمین کے کمزور اور بے سہارا لوگوں کو ظلم و استبداد کی بیڑیوں سے نجات ملی، اللہ تعالیٰ نے انہیں خلافت کے منصب عظیم سے سرفراز فرما کر اپنا وعدہ پورا کیا۔

سبب اختیار موضوع:

دور حاضر میں صحافت و خطابت کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر مرکزی ادارہ جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند جھارکھنڈ کی جانب سے ایک تاریخی و علمی پروگرام نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ ”پیام انسانیت کانفرنس و سیمینار“ کے نام سے بتاریخ ١٣-١٤فروری ٢٠٢٦ءکومنعقدہوناطےپایا ہے۔

پس اعیانِ جامعہ نے مجھ جیسے معمولی طالب علم کو" مولانا عبدالسلام صلاح الدین مدنی اور جامعہ محمدیہ: کردار و عمل“ کے موضوع پر مقالہ پیش کرنے کا مکلف بنایا ہیں۔



خاکۂ مبحث:

یہ بحث مقدمہ، تین فصول، خاتمہ اور فہرست مضامین پر مشتمل ہے .

مقدمہ: اس میں درج ذیل چیزیں ہیں

(١) سبباختیار موضوع(٢) خاکۂ بحث(٣) کلمۂ شکر وتقدیر

پہلی فصل: تعارف شخصیتیہ فصل چار مباحث پر مشتمل ہے۔

مبحث اول: سلسلۂ نسب اور خاندانی پس منظر

مبحث ثانی: ولادت اور جائے ولادت

مبحث ثالث: ابتدائی تعلیم علاقی مدارس میں:ایک جائزہ

مبحث رابع: اعلیٰ تعلیم کے لئے چند علمی مراکز کا سفر (تعارف وتبصرہ)

دوسری فصل: مدنی حفظہ اللہ کی قلمی وسلفی خدماتیہ چار مباحث کو شامل ہے

مبحث اول: مدنی موصوف کی بعض علمی و قلمی کاوشیں: ایک تجزیاتی مطالعہ

مبحث ثانی: مرکز آزاد التعلیمی الاسلامی گریڈیہ کے قیام میں مدنی موصوف کا کردار

مبحث ثالث: شعبۂ جالیات سعودی عرب سے انسلاک: چند دعوتی سرگرمیاں(تجزیاتی نظر)

مبحث رابع: صاحب سوانح کی رفاہی خدمات( ایک مطالعہ: ایک تعارف)

تیسری فصل: مولانا مدنی اور جامعہ محمدیہ: کردار و عملدو مباحث پر محیط ہے

مبحث اول: جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کے قیام کا تاریخی پس منظر

مبحث ثانی: مدنی موصوف کے عہدِ صدارت میں جامعہ محمدیہ اور مستقبل کے عزائم

خاتمہ:۔

فہرست مضامین:



کلمۂ تشکر وتقدیر:

اس پُرمسرت موقع پر میں سب سے پہلے اس وحدہ لاشریک رب العزت کا غایت درجہ شکر گزار ہوں۔ جس نے ہمیں علم جیسی بیش بہا نعمت سے نوازا اور اپنے لطف عنایت سے مجھ ناچیز کو اعداد مقالہ کے فریضہ بحسن و خوبی انجام دینے کی توفیق بخشی نیز ” من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ “ کے تحت اپنے ممدوح مکرم فضيلة الشيخ دكتور عبدالسلام صلاح الدین المدنی حفظہ اللہ کا بے حد ممنون و مشکور ہوں جن کی ہدایت ورہنمائی خاکسار کو اس مقالے کے تیار کرنے میں بڑی کارگر ثابت ہوئی۔ ہر موڑ پر شیخ محترم کی رہنمائی سے مستفید ہوتا رہا۔لہذا میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی محترم حفظہ اللہ کی نیک نیتی کو قبول فرما کر حسن عمل کی توفیق کے ساتھ اپنے انعام واکرام کا مستحق بنائے۔ اس کے بعد میں اعیان و ذمہ داران جامعہ محمدیہ کا بھی تہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس لائق سمجھا کہ میں منتخب کردہ موضوع پر خامہ فرسائی کروں۔

یہ بڑی نا انصافی ہوگی کہ اس مسرت موقع پر اپنے استاذ جلیل فضیلتہ الدکتور امیر الاسلام سلفی مدنی حفظہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہ کریں، جنہوں نے نہ صرف رہنمائی کی بلکہ حوصلہ کن الفاظ سے نوازے ساتھ ہی ساتھ ان احباب و اخوان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے کسی بھی طرح اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ہمارا تعاون کیا۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں عالم با عمل نیزدین اسلام کی خدمت کرنے والا بنائے اور جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کو مادی و معنوی ترقی عطا فرمائے آمین !










پہلی فصل: تعارف شخصیت

مبحث اول: سلسلۂ نسب اور خاندانی پس منظر

نام ونسب
: عبد السلام بن صلاح الدین(الفیضی المدنی) بن لودھو میاں بن شوفل میاں بن حسینی میاں بن فقیر میاں،

کنیت: ابو أسامہ،

مدنی حفظہ اللہ ایک انٹرویو میں اپنے آبائی وخاندانی منظر وپس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’شیخ الکل فی الکل محدث سید نذیر حسین دہلوی ۔رحمہ اللہ ۔کے شاگردان کا جال پورے ملک کے طول و عرض میں بچھا ہوا ہے‘یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ وہ وہ جہاں بھی گئے ‘علم و حکمت کی کرنیں منور کر گئے ‘وہ جہاں بھی پہنچے اپنے علمی فیوض و برکات سے سب کو روشن کرگئے ‘مغربی بنگال کے انبھا کے جناب مولانا عبد الرحیم انبھاوی کا شمار آپ کے شاگردوں میں ہوتا ہے ‘آپ نے بھی علامہ دہلوی سے کسب ِ فیض کرنے کے بعد کچھ وقت کے لئے جھارکھنڈ کےضلع جامتاڑا ایک معروف گاؤں (پوکھریا) کواپنا مسکن بنایا اور پورے سنتھال پرگنہ میں گھوم گھوم کر دعوت و تبلیغ کرنا شروع کیا اور سلفیت کی ترویج و اشاعت کا بھر پور کام کیا ‘کتاب و سنت کی تعلیم کو خوب خوب عام کیا ‘یہ بات ۱۹۳۳۔۱۹۳۲ کے پس و پیش کی ہوگی جب مولاناانبھاوی بیربھومی ۔رحمہ اللہ ۔ کی تحریک و تذکیر سے گاؤں کے گاؤں اہل حدیث ہوئے ‘انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ ضلع گریڈیہہ کے ایک گاؤں (بانکی خورد)کا ہے ‘جب آپ کے حرکت و عمل سے متاثر ہوکر لوگوں نے کتاب و سنت کو جانا ‘صحیح سمجھا‘اور ان پر عمل کرنا شروع کردیا ‘پھر کیا تھا (چونکہ بانکی خورد)میں سب حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ‘اس لئے کچھ جیالوں نے ایک الگ بستی بسانے کی سوچی جو خالص اہل حدیثوں کی ہو مگر بستی بسنا کھیل نہیں ہےبستے بستے بستی ہے،

چنانچہ ۱۹۳۳ء کے پس و پیش بانکی خورد سے الگ ہوکر ایک اہل حدیث بستی بسائی گئی جسےماتھاسیرکے نام سے موسوم کیا گیا‘اور وہ لوگ جو مولانا انبھاوی کے تعلیم و تذکیر اور وعظ و نصیحت سے متاثر تھے‘ وہیں جا آباد ہوئے ‘ان میں میرے دادا جان (جناب لودھو )میاں۔رحمہ اللہ۔ بھی تھے دادا جان کے بارے میں یہ تو پتہ نہ چل سکا کہ انہوں نے تعلیم کہاں تک پائی تھی ‘مگر اتنی بات تو مسلم ہے کہ دینی تعلیم کی بہترین شد بد رکھتے تھے‘ کتاب و سنت کی تعلیم جہاں اور جس سے ملتی ‘حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ‘اس کے لئے دور دراز کا سفر بھی کرتےتھے ‘دور دور تک جلسے جلوس میں شرکت بھی فرماتے تھے ‘علمائے کرام سے بھر پور استفادہ فرماتے ‘اور جسے حق سمجھتے فورا عمل کرتے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ جن لوگوں نے بانکی خورد سے الگ ہوکر ماتھاسیر کی بستی بسائی ‘ان میں دادا جان بھی تھے۔

جب آپ لوگ ماتھاسیر آئے تھے ‘اس وقت لوگوں کی تعداد انتہائی قلیل تھی ‘پھر ایسا ہوا کہ ؎

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب ِ منزل مگرلوگ آتے گئے اور کارواں ‘بنتا گیا

لوگ آتے گئے ‘بستی بنتی گئی ‘اس طرح حاملین ِ کتاب و سنت کی ایک مستقل بستی بن گئی اور اس بستی میں کتاب و سنت کی تعلیمات گونجنے لگی ‘اور اب یہ بستی بھری پری ہوگئی ہے “۔([1])

مبحث ثانی: ولادت اور جائے ولادت

مولانا موصوف کی ولادت سرکاری وغیر سرکاری کاغذات و دستاویزات کے مطابق ٧مارچ١٩٧٦ءکوصوبۂ جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے ایک گاؤں ماتھاسیر میں ہوئی۔([2])

مبحث ثالث: ابتدائی تعلیم علاقی مدارس میں: ایک جائزہ

ممدوح مکرم کی ابتدائی تعلیم وتربیت پر واقفیت وجانکاری حاصل کرنے کے لیے ان ہی کتاب "ورق ورق زندگی" کے چند اوراق وصفحات ملاحظہ ہوں۔

  • ابتدائی تعلیم : جامعہ اسلامیہ یوسفیہ منکڈ یہا ( پربت پور گریڈیہہ ) میں شروع کی گئی‘ جہاںمولانا محمد قربان اثری‘ مولانا محمد عطاء اللہ محمدی‘ مولانا عبد الخالق اثری‘ حافظ طالب حسین اصلاحی جیسے اساتدہ سے کسب فیض کیا۔پھر متوسطہ و ثانویہ ( فارسی کی دوسری کتاب سے لے کر جماعت ثالثہ تک) کے لئے والد گرامی نے قاری محمد یونس اثری ۔ حفظہ اللہ کے ایماء واشارہ پر جامعہ محمد یہ ڈابھا کیند میں داخل کردیا‘ جامعہ محمدیہ اس وقت علاقہ کا مرکزی ادارہ تھا‘ جہاں ایک سے بڑھ کر ایک اجلہ اساتذہ علم و فن تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے تھے' جامعہ کا اس وقت طوطی بولتا تھا‘ اس کی شہرت عروج کو تھی' وہاں داخل ہوا اور پھر وہاں مولانا شفاء اللہ فیضی ( ناظم مرحوم )' مولانا عبد الخالق جامعی‘ قاری جمال الدین مظاہری‘ استاد القلم مولانا محمد خالد فیضی‘ مولانا عبد الستار اثری‘ قاری محمد یونس اثری‘ مسعود عالم فیضی‘ مولانا عبد الرشید شائقی' مولانا عبد اللہ مدنی‘ مولانا محمد جرجیس سلفی، مولانا عبد العلیم مدنی‘ جیسے اجلہ اساتذۂ علم و فن سے علمی تشنگی بجھائی۔
جامعہ محمدیہ میں گزرے ایام :

جامعہ محمدیہ میں جب بھی جاتا ہوں دل ودماغ ایک عجب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، ہماری بے خبری و بچپن کی رخصتی اور لڑکپن کی آمد کے سنہرے کہہ لیں یا شریر ایام یہیں گزرے ہیں، یہاں سے بے شمار یادیں اور واقعات وابستہ ہیں،

دامان باغباں سے کف گل فروش تک٭ بکھرے پڑے ہیں سینکڑوں عنواں مرے لئے۔

جامعہ محمدیہ ڈابھا کیند چونکہ خالص دیہات میں واقع ہے، اس لیے بازار کی چمک دھمک تک طلبہ کی رسائی نہیں تھی، تب موبائل فون تھا بھی نہیں، نیٹ تو خواب وخیال کی چیز بھی نہیں تھا، سو ہمیں سارے نظارے اصلی ہی تلاشنے ہوتے تھے، اس وقت وہ کافی دستیاب بھی تھے ۔

جامعہ محمد یہ میں جو ایام گزرے وہ بھلائے نہیں بھول سکتا ؛ تعلیم و تعلم ؛ اخذ و استفادہ اور تربیت و حصول علم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی؛ عربی اول میں پورے جامعہ میں بحمدہ تعالی پہلی پوزیشن حاصل کی اور یوں جامعہ کے اساتذہ کی نظروں کا تارا ہو گیا جب بھی کوئی پرو گرام ہوتا تقریر ضرور کرتا،جامعہ کے اجلاس ہائے عام میں عربی تقریر کے لئے پابند کیا جانے لگا؛ نعت خوانی کے لئے منتخب ہوا کرتا تھا؛ صوبۂ جھارکھنڈ کے سلطان القلم حضرت مولانا محمد خالد فیضی بھی مجھے بہت ہی قریب رکھتے تھے، نعت و نظم کے لئے آپ ہی مکلف فرماتے تھے ، جامعہ کے ناظم اعلی سے یک گونہ محبت ہو گئی تھی اس کی دو وجہیں تھیں

(۱)پہلی یہ کہ اللہ تعالی نے ذکاوت و ذہانت کا جو حصہ وافر عنایت فرمایا تھا اس کا استعمال خاکسار نے پڑھنے لکھنے اور آگے کے مراحل طے کرنے میں لگا دیا

(۲) دوسری وجہ یہ تھی کہ ناظم مرحوم ماتھا سیر والد محترم کے بچپن کے ساتھی ہوا کرتے تھے دونوں بزرگوں نے ایک ساتھ صفر سنی میں لال چنڈیہہ کے ریگستانوں میں بکریاں چرائی تھیں؛ اس کا ہلکا سا عکس ہم لوگ اس وقت دیکھا کرتے جب ناظم مرحوم ماتھا میر کی بستی میں وارد ہوا کرتے تھے''۔([3])

'' آپ محترم حفظہ اللہ جامعہ اسلامیہ یوسفیہ منکڈیھا میں اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ایک بار مدرسہ یوسفیہ منکڈیہا میں تعلیم کے دوران منہاج العربیہ ٹھیک سے یاد نہیں کر سکا؛جس پر استاد محترم مولانا عبد الخالق اثری صاحب نے سرزنش کی,اور میں نے ترکِ تعلیم کا فیصلہ کر لیا مگر والدہ نے خوب ڈانٹ پلائی اور بہ شدتِ تمام اس بات پر زور دیا کہ تمہیں پڑھنا پڑے گا اور ان کے اصرار پر میں نے تعلیم جاری رکھی ؛پھر کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی؛استاد محترم اثری صاحب کی سرزنش سے مجھے بے تحاشا فائدہ ہوا “۔([4])

مبحث رابع: اعلیٰ تعلیم کے لیے چند علمی مراکز کا سفر (تعارف وتبصرہ)

ہمارے مخدومی ومربی صاحب نے دراسات علیا کے حصول اور علمی تشنگی بجھانے اور اپنی علمی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ جیسی عالمی شہرت یافتہ کئی عظیم علمی درسگاہوں و یونیورسٹیوں کی طرف رخت سفر باندھے۔ مزید وضاحت وصراحت کے لیے ”ورق ورق زندگی“ کے چند اقتباسات نقل کئے جارہے ہیں:



  • پھر اعلی تعلیم کے لئے:
جامعہ عالیہ عربیہ مئوناتھ بھنجن میں جا داخل ہوا اوروہاں شیخ مظہر سلفی، شیخ شریف اللہ سلفی ، شیخ اسلم مدنی، شفیق احمد ندوی ' جیسے اساطین علم و فضل سے علمی گرسنگی اور تعلیمی تشنگی بجھائی پھرجامعہ فیض عام مئو میں چوتھی جماعت میں داخلہ لیا اور درج ذیل اساتذہ سے کسب فیض کیا :

اساتنده : شیخ عبد الغنی فیضی، شیخ نسیم اختر فیضی، شیخ زین العابدین سلفی فیضی، شیخ حماد الرحمن سلفی فیضی۔اس کے بعد شیخ مختار عالم ریاضی ( بابوڈیہہ ) کی معیت میںجامعہ ریاض العلوم دہلی کے لئے رخت سفر باندھا اور وہاں عالمیت (عربی کی پانچویں و چھٹی جماعت) کی تعلیم مکمل کی اور علامہ شیخ شبیر ازہر میرٹھی،شیخ و مفتی عبید الرحمن مدنی، شیخ جمیل احمد مدنی، شيخ عبد الأحد بن عبد اللطیف مدنی، شیخ عبد التواب مدنی جیسے اجلہ اساتذہ علم و فن سے اکتسابِ فیض کا شرف حاصل ہوا ، شیخ عبد الأحد مدنی سے کافی متاثر ہوا اور آپ حفظہ اللہ خاکسار سے بھی کافی متاثر ہوئے دہلی کا یہ سفر اپنے دو عزیزوں ( شیخ عبد المتین فیضی اور شیخ ہلال الدین ریاضی) کے ساتھ ہوا تھا جو دو سال (جب تک ریاض العلوم میں رہے) تک میرے ساتھ رہے، پھر ساتھ ہی دونوں عزیزان فیض عام بھی آئے البتہ عزیزم ہلال نے دوبارہ دہلی کا رخ کیا اور ریاض العلوم سے فراغت حاصل کی) ''۔([5])

  • '' پھر دوبارہ فضیلت کے لئے جامعہ فیض عام مئو آگیا اور فضیلت مکمل کی،اورجنوری ۱۹۹۵، (بروز جمعرات ) فراغت کی سند حاصل کی اور دستارِ فضیلت عطا کی گئی، آخری درسِ حدیث کے لئے جامعہ سلفیہ کے مایۂ ناز شیخ الحدیث' مناظر اسلام در جنوں کتابوں کے مؤلف و مترجم علامہ رئیس الاحرار ندوی مدعو کئے گئے اور آپ سے ہی آخری حدیث لی گئی، دستاری بندی کی مناسبت سے خطاب کے لئے قاری زبیر فیضی مدعو تھے، جبکہ بخاری شریف کی پہلی حدیث کے لئے شیخ الجامعہ علامہ محفوظ الرحمن فیضی ۔ حفظہ اللہ نے اپنے استاذ گرامی قدر مفتی حبیب الرحمن فیضی کو منتخب فرمایا اور آں رحمہ اللہ نے بخاری کی پہلی حدیث کا درس دیا ،فالحمد للہ اس طرح مفتی حبیب الرحمن فیضی رحمہ اللہ بھی ہمارے اساتذہ کی فہرست میں شامل ہیں۔
الحمد للہ دستار بندی حضرت قاری و حافظ نثار احمد فیضی کے بدست انجام پزیر ہوئی، قاری صاحب سے دستار بندھوانے کے لئے فارغین ترستے تھے، قاری صاحب نے دستار باندھتے ہوئے فرمایا تھا : ،، بیٹے اس دستار کا ہمیشہ خیال رکھنا“ آپ کے وہ جملے آج بھی میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں، اور خوب خوب زندہ ہیں۔

دستار بندی کے موقعے پر استاذ گرامی حضرت مولانا قاری محمد یونس اثری، برادرِ گرامی سفیر الدین صاحبان مئو تشریف لائے اور حوصلہ بڑھا، فراغت کی دوسری صبح جمعہ کا دن تھا، خطبۂ جمعہ کے لئے استاذ گرامی شیخ نسیم اختر فیضی کی مسجد کے لئے منتخب کیا گیا، اور وہیں پر خطبہ دیا، اپنے زمیلِ درس شیخ عشرت پرویز فیضی کے یہاں کھانے پر مدعو کئے گئے، ہمارے ساتھ برادر گرامی سفیر الدین (ابو خورشید) اور قاری محمد یونس اثری صاحبان بھی مدعو تھے۔

جامعہ فیض عام میں جن اساتذۂ علم و فن اور اساطینِ فقہ وحدیث سے اخذ و استفادہ کا شرف حاصل ہوا ان میں : شیخ الحدیث شیخ محفوظ الرحمن فیضی، حافظ و قاری شار احمد فیضی، شیخ ابو القاسم عبد العظیم مدنی، شیخ عبد الحمید فیضی، خاص طور پر قابل ذکر ہیں، شیخ محفوظ الرحمن فیضی سے خاص قربت رہی، آپ مجھ خاکسار کو کافی اہمیت دیا کرتے تھے اور تا ہنوز علمی استفادہ کرنے کا شرف حاصل ہےشیخ محفوظ الرحمن فیضی ۔ حفظہ اللہ بخاری کا درس دیتے تھے تو عبارت خوانی کی ذمہ داری اکثر میرے اوپر ڈالا کرتے تھے میرے ہم سبق ڈاکٹر امتیاز فیضی، شیخ نصر اللہ فیضی، شیخ ابراہیم بن عبد الشکور فیضی اور شیخ عبد المعید ازہر فیضی بھی ہمارے معاون ہوا کرتے تھےایک بار کا ذکر ہے کہ بہار اکزام بورڈ کا امتحان ہو رہا تھا سارے لڑکے ۔ جنہیں امتحان دینا تھا۔ گھر جا رہے تھے، میں بھی چھٹی لے کر چلا گیا، جب واپس ہوا تو صدر صاحب ( شیخ محفوظ الرحمن فیضی ) نے انتہائی والہانہ انداز میں مسکراتے ہوئے فرمایا : کہاں چلے گئے تھے جی ! تمہارے بغیر درس میں اچھا ہی نہیں لگتا ہے"ہمارے ایک ساتھی فیاض فیضی از راہِ مذاق کہتے تھے کہ : صدر صاحب سے آپ کا کیا تعلق ہے کہ اتنا بیقرار ہورہے تھے ''؟۔([6])

  • '' پھر ۱۹۹۵ء میں جب جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دے رہا تھا اسی اثناء عالم اسلام کی مشہور یونیوسیٹی (جامعہ اسلامیہ مدینہ ) کی طرف سے دورہ تدریبیہ دہلی میں شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ کے عظیم ادارے (مرکز ابو الکلام آزاد للتوعية ) کے زیر انتظام منعقد ہوا، جامعہ فیض عام کی طرف سے خاکسار کی ترشیح ہوئی، دورہ تدریبیہ میں شریک ہوا اور بحمدہ تعالی دس ممتاز لڑکوں میں شامل ہوا، سعودی مشایخ کے ہاتھوں تکریم کی گئی، اور کاغذات لئے گئے۔
دورۂ تدریبیہ (جو ۲۱ دنوں پر محیط تھا) میں جن اساتذہ سے کسبِ فیض کیا، ان میں ڈاکٹر محمد بن ربیع المدخلی، ڈاکٹر یوسف المغیربی، ڈاکٹر عبد الخالق الشمرانی جیسے اجلہ علمائے عرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں، پھر تدریس کے لئے کشمیر لوٹ گیا اور مرکز تعالیم القرآن والسنہ ناچلانہ کشمیر کے زمانۂ تدریس میں جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سے داخلے کی نوید آئی، اور ١٩٩٦ءمیں مدینہ طیبہ جا وارد ہوا اور وہاں جامعہ کے ایک مشہور فیکلٹیكلية الدعوة واصول الدینسے ٢٠٠١-٢٠٠٠ءمیں بی اے کی تعلیم مکمل کی، جہاں پرڈاکٹر محمد بن صالح العقیل، ڈاکٹر صالح سندی، ڈاکٹر احمد بن عبد اللہ بن محمد الغنیمان، ڈاکٹر محمد بن محمد الشنقیطی، ڈاکٹر محمد بن صالح البراک، ڈاکٹر علی بن عبد العزیز الشبل، ڈاکٹر عبد الخالق الشمرانی، ڈاکٹر احمد بن عبد اللہ الحمدان، ڈاکٹر خلیف بن مبطی السہلی، ڈاکٹر محمد نور ولی، ڈاکٹر خوجہ، ڈاکٹر عبدالرحیم المغدوی، ڈاکٹر سعود الدعجان، وغیرہ جیسے دکاترۂ علم و فضل سے علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

پھر جامعہ میں ماجستیر کے لئے داخلہ امتحان میں شریک ہوا، الحمد للہ کامیاب بھی ہو گیا نام بھی آگیا لیکن بعض امور کی وجہ سے دراسات علیا کی تعلیم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے مکمل نہ کر سکا، وللہ فی خلقه شؤون۔ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسی میں کوئی عظیم مصلحت رکھی ہو، جہاں تک ہماری رسائی نہ ہو، والحمد للہ علی كل حال '' ۔([7])

  • مسجد نبوی میں قائم دروس کے اساتذہ:
جامعہ میں پڑھنے کے زمانے میں مسجد نبوی میں بالخصوص قائم تمام ہی دروس میں شرکت کرتا رہا، اور وقت کے محدثین، فقہائے عظام اور مفسرین سے اخذ و استفادہ کرتا رہا، جن میں :

محدث المدینه و فقیها علامه عبد المحسن بن حمد العباد البدر، شیخ عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر، شیخ ابو بكر جابر الجزائری، شیخ صالح العبود ( مدير الجامعة الإسلاميه بالمدينه )، فقیہ وقت: شیخ محمد بن محمد المختار الشنقیطی، شیخ حمود الوائلی، شیخ عمر فلاتہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ( یہ وہ اساتذہ ہیں، جن سے باستمرار دروس حاصل کئے ہیں الحمد لله )

علامہ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر ۔ حفظہ اللہ سے مسجد نبوی میں مستقل چار سال تک سنن ابو داؤد کا درس حاصل کیا، والحمد للہ ، جس سے حدیث کی طرف خوب شغف رہا، اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوا اور تاہنوز ہو رہا ہے''۔([8])

  • ''پھر جب کورونا جیسے مہلک وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، ساری دنیا خانہ بند ہو گئی تھی، خاکسار نے (2019) میں ایم اے (ماجستير) جامعہ اسلامیہ منیسوتا امریکہ (فرع الیمن)( قسم السنة النبوية وعلومها ) (آن لائن) مکمل کیا، درج ذیل اساتذہ سے بھر پور استفادہ کیا : ڈاکٹر فلاح کرکولی، ڈاکٹر محمد الشیخ، ڈاکٹر عبدالرحمن سیدبلح، ڈاکٹر یحییٰ جابر، ڈاکٹر نضال ثلجی وغیرہ۔موضوع مقالہ تھا : الشيخ محفوظ الرحمن الفيضى و جهوده في خدمة السنة النبوية
پھر پی ایچ ڈی بھی جامعہ اسلامیہ منیسوتا امریکہ (فرع الیمن ) ( قسم السنة النبوية وعلومها) سے کرنے کا شرف حاصل رہا، اور درج ذیل اساتذہ سے اکتساب فیض کرتا رہا۔

اساتذہ : ڈاکٹر فیصل العطائی، ڈاکٹر نضال الثلجی، ڈاکٹر فلاح کرکولی، ڈاکٹر عبد المعین اکرام شامل استفاده رہے ''۔([9])





دوسری فصل: مدنی حفظہ اللہ کی قلمی وسلفی خدمات

مبحث اول: مدنی موصوف کی بعض علمی و قلمی کاوشیں: ایک تجزیاتی مطالعہ

مولانا عبدالسلام صلاح الدین مدنیؔ حفظہ اللہ نے تصنیفی میدان میں بھی کارہائے نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف و مؤلف اور مترجم ہیں،طوالت و ضخامت کی بنا پر محض پانچ کتب پر تبصرہ کرنے کی سعی کی گئی ہیں۔

جن کی تفصیلات بالترتیب درج ذیل ہیں۔

(١) جھودعلماءجارکند:

برصغیر کے علمائے اہل حدیث کی دعوتی و تصنیفی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے بہت ساری کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جارہی ہیں؛ لیکن تاریخِ علمائے جھارکھنڈ پر بہت ہی کم قلم کاروں نے قلم فرسائی کی سعادت حاصل کی ہے, انہی معدود چند میں ایک علمی شخصیت فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالسلام صلاح الدین مدنیؔ حفظہ اللہ ہیں جنہوں نے 485 صفحات میں مشتمل ایک شاندار ومنفرد عربی کتاب "جھود علماء جارکند" کے نام سے تصنیف فرمائی ہے جن کی کچھ جھلکیاں قارئین کرام کی خدمت میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں ۔ریاست جھارکھنڈ ٢٤اضلاعپرمشتملہےاورصاحبگنج،پاکوڑ،گڈا،گریڈیہ، دھنباد، جامتاڑا، رانچی، دیوگھر، دمکا جیسے اضلاع میں مسلم آبادی کی اکثریت پائی جاتی ہیں۔

ریاست جھارکھنڈ میں آدی واسیوں کے اکثریت ہے اور دیگر مذاہب والے اقلیت میں ہیں نیز سیکھ دھرم، بدھ دھرم، عیسائی مذہب، جین دھرم، اور مذہب اسلام کا جامع تعارف پیش کیا گیا ہے۔

مؤلف حفظہ اللہ مذہبِ اسلام کا سرزمین برصغیر میں پھیلنے کا مئورخانہ نقشہ کھینچنے کے بعد لکھتے ہیں کہ صوبۂ جھارکھنڈ میں ١٤.٥٪مسلمانمختلفجماعتوںاورمسلکوںمیں منقسم ہیں اور تبلیغی جماعت، دیوبندیت اور جماعت اسلامی کی خدوخال پر روشنی ڈالے ہیں۔

اس کے بعد سلفی تحریک کا پہلی صدی سے لے کر بیسویں صدی تک کے مدو جزر کو بیان کیا گیا ہے۔

خیر القرون اور اس کے قریب زمانے میں موجود بہت سے مدارس کی تاریخ پر گفتگوں کی گئی ہے اور صنم کدہ ہندوستان میں صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین اور ان کی راہ پر چلنے والے محدثین فقہاء کی جماعت کا ورود مسعود ہوا ۔

مدرسہ احمدیہ آرہ، دارالحدیث رحمانیہ دہلی، جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم) بنارس، اور جامعہ دار السلام عمر آباد جیسے سلفی مراکز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔صاحب کتاب نے جامعہ شمس الہدی سلفیہ دلال پور، جامعہ اصلاح المومنین برہیٹ، کلیہ ابوبکر صدیق گمانی، جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند، مدرسہ دار الفلاح ٹوپاٹانڑ، جامعہ امام ابن باز ستلا، جامعہ یوسفیہ منکڈیہا جیسے پینسٹھ قدیم و جدید مدارس و جامعات کے بابت دستاویزاتی معلومات یکجا کر دئیے ہیں۔

نیز طالبات کی مشہور درسگاہوں کو بھی ذکر کر دیا گیا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کورانچی کے جیل خانہ میں بند کر دیا گیا تو مولانا آزاد نے دوران قیام بہت سے تربیتی و دعوتی کام کیےاور علامہ مصلح الدین اعظمی نے صاحب گنج میں تدریسی، تصنیفی اور فرقِ ضالہ کی تردید پر اپنی زندگی کے تیس برس سے زائد عرصے کو لگا دیا۔

مولانا عبدالمنان اثریؔ شنکر نگری نے جھارکھنڈ میں بہت سے اصلاحی کام انجام دئیے انہی میں سے ١٩٧١ءمیں "مدرسہ رشاد" قائم کیا جن کی شہرت بعد میں جامعہ رحمانیہ کے نام سے ہوئی۔

راجدھانی رانچی میں جمیعت اہل حدیث کی تاسیس اور جامع مسجد کے قیام میں محمد رضا علی کا اہم رول رہا ہے۔

ضلع صاحب گنج کے عبدالرحمن ملیح آبادی ثم دلال پوری، عبدالحنان دلال پوری، اشرف الحق رحمانی، عبدالعزیز حقانی، محمد سعود سلفی، جیسے دس علمائے دین کی خدماتِ جلیلہ پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔

جامتاڑا سے تعلق رکھنے والے کئی علمائے عظام مثلاً شیخ ابو الفلاح عابد حسین گنگوہی، شفاء اللہ فیضی، یاسین عادل ریاضی، عبدالعلیم مدنی، الیاس مدنی کی مصلحانہ کارناموں کا بالتفصیل جائزہ لیا گیا ہے۔

علمائے گڈا :شیخ مقبول احمد، شیخ محمد علی قاسمی، شیخ ابراہیم قاسمی اور داعی جلیل عبدالسلام سلفی کی آپ بیتی کو ذکر کیا گیا ہے۔

فاضل محترم نے ضلع گریڈیہ کے دس کبار علمائے حق کے سوانحِ عمری پر روشنی ڈالی جن میں سے مولانا محمد یوسف شمسی، مولانا جمال الدین مظاہری، مولانا عبدالستار اثری، مولانا محمد عطا اللہ محمدی، ابو الحسن کاظمی، مولانا عبدالرشید شائقی، مولانا محمد قربان اثری رحمہم اللہ ہو چکے ہیں اور قاری و مولانا محمد یونس اثری، مولانا محمد قاسم اثری، مولانا عبدالحمید اثری پربت پوری باحیات ہیں

پھر اس کے بعد دیوگھر کے سات ممتاز مشائخِ کرام کی احوالِ زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔

شیخ عبدالحق رحمانی پاکوڑی کے تعلیمی اسفار، تدریسی مراحل، اساتذہ اور مستفدین وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مولانا ابو عمیر عبدالرحمن فیضی پاکوڑی ایک قابل مدرس اور کامیاب مناظر تھے۔

آخر میں راقم آثم کا تراجمِ علمائے اہل حدیث پر واقفیت حاصل کرنے والے متوالوں سے عاجزانہ التماس ہیں کہ مراجع و مصادر کی حیثیت رکھنے والی اس طرح کی معیاری کتب سے ضرور شغف رکھیں۔

(٢)صحابۂ کرام کے فضائل و مناقب

مدنی حفظہ اللہ نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت و عقیدت میں ڈوب کر ”صحابۂ کرام کے فضائل و مناقب“ کے نام سے ایک شاندار کتاب تصنیف فرمائی ہے جس کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے۔

آغاز کتاب خطبۂ حاجہ سے کیا گیا ہے پھر صحابی کی شرعی تعریف میں سب سے جامع و مانع تعریف کی رعایت کی گئی ہے۔

تعدادِ صحابہ کے سلسلے میں متعدد مستند و معتبر کتب کے حوالہ جات نقل کرنے کے بعد یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ صحابہ کی تعداد کسی خاص عددِ معین میں محصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا شمار واحصا محال ہے،صحابی کی معرفت تواتر، بطریق مشہور، خود کی شہادت، ثقات تابعین کا قول وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے۔

ابن سعد نے صحابہ کو مجموعی طور پر پانچ طبقات میں تقسیم کیے ہیں اور امام حاکم نیشاپوری نے بارہ طبقات ذکر کیے ہیں لیکن انفرادی طور پر سب سے افضل بالترتیب خلفائے اربعہ پھر بقیہ عشرہ مبشرہ پھر غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے پھر غزوۂ احد میں شرکت کرنے والے پھر بیعت رضوان میں شامل ہونے والے پھر بیعت عقبہ اولی وثانیہ میں حاضر ہونے والے ہیں۔

زمانۂ صحابہ کی ابتدا بعثت نبوی سے پہلی صدی کے آخر تک ممتد ہے اور سب سے آخری صحابی ابو الطفیل عمرو بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے ١٠٠ہجری میں وفات پائی۔

لائق مصنف نے صحابہ کرام کی بعض اہم خصوصیات و ممیزات کو نہایت ہی نفیس وہ مترادفات الفاظ و جملے میں بیان کیے ہیں۔

پھر اس کے بعد ان صنادید صادقین رضی اللہ عنہم کی عظیم اوصاف و کمالات مثلاً ایمان و یقین، طمع و ترغیب سے برگشتہ، خلوص و للہیت، صعوبتیں جھیلنا، اللہ سے رضامندی، خوف الہی، رفاقت نبوت میں مسابقت، اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا، نصرت و تائید، جہاد فی سبیل اللہ، انفاق فی سبیل اللہ، صاف گوئی، ایثار و ہمدردی، سخاوت و فیاضی، قربانی، علم و عمل سے لیس ہونا، مومنوں کے لیے رحمدل، دشمنان دین پر سخت، حکم الہی وامر نبوی کی تعمیل میں لپک پڑنا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اٹوٹ محبت کرنا، صبر و ثبات قدمی، جرأت و شجاعت، پابندی عہد وفا، مہمان نوازی، فقر و فاقہ، زہد و تقوی، طہارت و نفاست کو نادر وانمول واقعات و سیرت کی روشنی میں نہایت ہی رقت آمیزی و دل گدازی کیفیت میں ثبت کر دیا گیا ہےاور صحابۂ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عمومی فضیلت و منقبت کو متعدد آیات قرآن ربانیہ کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے اور جابجا اقوال سلف کو بھی بطور استنباط و استدلال ذکر کر دیا گیا ہے۔ان ستودہ صفات صحابۂ اجلہ کی عظمت و مرتبت کے لیے سات احادیث صحیحہ کو لایا گیا ہے اور صحیحین کے علاوہ احادیث میں حکم صحت کا اہتمام کیا گیا ہے۔نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تربیت یافتہ و منتخب کردہ جماعت کی ثقاہت و دیانت اور راست بازی کی مزید صراحت کے لیے بہتیرے اقوال ائمہ کو بھی احاطۂ تحریر میں لایا گیا ہے۔

پھر اس کے بعد فاضل مؤلف نے عشرہ مبشرہ، اہل بیعت، مہاجرین، انصار، اہل قبا، بیعت عقبہ اولی وثانیہ، اہل بدر، اہل احد اور بیعت رضوان کے فضائل و محامد کو ادلہ وبراہین قاطعہ کی روشنی میں ترتیب کے ساتھ بالتفصیل ذکر کئے ہیں۔

اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی صحابیت و اعلیٰ صفات پر حرف گیری و انگشت نمائی اور رکیک حملہ کرنے والےiاتہام باز گروہوں کے ڈھکوسلوں اور بے سروپا باتوں کا بخیہ اُدھیڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔نیز صحابۂ کرام کے مابین باہمی نزاعات و رسہ کشی کے سلسلے میں سلفی ائمہ کے آراء ومواقف کو انتہائی منہجی اور شاندار میں پیش کیا گیا ہے۔

اختتام میں ان پاکباز نفوس قدسیہ کے تئیں امت مسلمہ پر عائد چند اہم حقوق و واجبات کو نہایت ہی عمدہ انداز میں ذکر کر دیا گیا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں کتاب و سنت کو منہج صحابہ کے مطابق سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے آمین۔

(٣)فتنۂ ارتداد اور ہماری ذمہ داریاں

دور حاضر میں جس تیزی و برق رفتاری کے ساتھ شدت پسند عناصر کی جانب سے مسلم لڑکیوں کو دین اسلام سے برگشتہ کر کے مرتد کرنے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہیں اور مسلم تنظیموں،رفاہی اداروں و دانشوران اور وکلا کی سستی و تکاسلی کو محسوس کرتے ہوئے مدنی حفظہ اللہ نے قوم ملت کی مستورات کی دبیز عصمت و حشمت کو تار تار ہونے سے بچانے اور ارباب بست و کشاد کو مفید تجاویز سے نوازنے کے لیے ایک بسیط کتاب ”فتنۂ ارتداد اور ہماری ذمہ داریاں“ تالیف فرمائی ہے جن کی تلخیص ولب لباب زیر خدمت ہے۔

مؤلف حفظہ اللہ نے ارتداد کی چار شکلوں کو مع مثال بیان فرمایا ہے اور” دروس فی شرح نواقض الاسلام“ جیسی اہم کتب پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔

فاضلِِ گرامی نے فتنۂ ارتداد کی خطرناکی اور اس کی سزا کو آیات قرآنیہ و احادیث رسول، آثار صحابہ کی روشنی میں توضیح فرمایا ہے اور مستزاد ملکِ عزیز میں بہتیرے دھرم پریورتن کے واقعات و حقائق کو باحوالۂ معتبر و موثوق رپورٹوں کے ذکرکیا گیا ہے۔

پھر اس کے بعد مصنف محترم نے مسلم لڑکیوں کا غیروں کے دام عشق و محبت میں گرفتار ہو کر مرتد ہونے سے روک تھام کے لیے دینی تعلیم سے دوری، اخلاقی تربیت کا فقدان، بے جا آزادی، مخلوط تعلیمی سسٹم، نکاح میں تاخیر، اور سج دھج کر کے گھر سے نکلنا جیسے اہم اسباب وجوہات پر دقیقانہ بحث کئے ہیں۔

اور فتنۂ ارتداد کو فرو کرنے کے لئے تقریبا بیالیس نکات پر مختلف تقسیمات کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔

مدنی حفظہ اللہ نے بنات حوا کی عفت و عصمت کی صیانت کے لیے عمومی طور پر عقیدہ و منہج پر مشتمل محاضرات کا انعقاد، مساجد جانے کی اجازت،موبائل پر پابندی، وقت پر شادیاں،آسان نکاح، معلمات کا کردار، مدرسۃ البنات کو موثر بنانے، مسلم لڑکیوں کے لیے فعال کالج و یونیورسٹیوں کا قیام ،نوکریوں کا بندوبست، رفاہی اداروں کا ایکٹیو رہنا، جہیز کا خاتمہ، دوسری شادی کا رواج جیسے امور پر مفصل گفتگو کی ہےاور ارتداد کے سد باب میں اہل علم کی اہم ذمہ داریوں مثلا موضوعِ ارتداد پر خطبہ جمعہ، اسلامی پروگرام، اسکول و کالج میں محاضرات کا انعقاد، کتب عقائد کے دروس کا اہتمام، مختصر پمفلٹ کی اشاعت، تقریری کلپ، انبیاء صحابہ و صحابیات کے صحیح واقعات سنانا، زنا کی شناعت و قباحت سے آگاہی، ہر قریہ میں مکاتب کے قیام اور انتظام انصرام پر توجہ، کو بھی علمی وناصحانہ انداز میں سپرد قرطاس کئے ہیں۔

مدنی حفظہ اللہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ داعیات و معلمات اپنے اندر اخلاص عمل اور حسن قدوہ کا جذبہ پیدا کریں اور سوشل میڈیا کو غنیمت تصور کرتی ہوئی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم میں گروپوں کو تشکیل دیں اور مسلم طالبات کو ان سے جوڑیں تاکہ ان کی اعتقادی معلومات میں اضافہ ہو وغیرہ۔اور والدین کو بھی چاہیے کہ اپنی بچیوں کو مخلوط تعلیم اور موبائل سے دور رکھیں، جلدی انہیں حبالۂ عقد میں مربوط کر دیں، بچپن ہی سے اسلامی تربیت سے آراستہ کریں، گھر میں اسلامی ماحول فراہم کریں، اور شروع ہی سے پردہ و نقاب کا خوگر بنائے تاکہ اغیار کے مکروہ فریب ان کے پایۂ ثبات کو متزلزل نہ کر سکے۔

نیز ملکِ عزیز ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلم تنظیمیں موجود ہیں اور یہ تنظیمیں ارتداد کی روک تھام میں عظیم کردار ادا کر سکتی ہے لہذا یہ مسلم وومین کالج کا قیام، مسلم طلبہ کی تعلیم پر اقتصادی توجہ، ملازمت کے مواقع کا انتظام، ارتداد کی خطرناکی پر کانفرنس کا انعقاد، مسلم وکلا کی بحالی وغیرہ کی جانب پیش قدمی کریں تاکہ ملت اسلامیہ کی بیٹیوں کی زندگی تخت و تاراج ہونے سے بچ سکے۔

آخر میں مدنی حفظہ اللہ نے فتنۂ ارتداد پر بند باندھنے اور اس روزن نامسعود کو بند کرنے کے لیے طالبات کو چند قیمتی نصیحتیں کی ہیں کہ یہ بذات خود اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کریں، دروس میں شرکت کریں، مساجد میں نماز کا اہتمام کریں، گھر سے بلا ضرورت نکلنے سے گریز کریں اور موبائل کے استعمال میں شدید احتیاط برتیں-یقینا!!

مؤلف حفظہ اللہ نے کتاب کو عرق ریزی سے تصنیف کرنے کی بنا پر شکر و سپاس کے مستحق ہیں، لہذا طلبہ و دعاۃ اس کتاب کو حرز جاں بنا لیں کیونکہ اس مخدوش حالات میں فتنۂ ارتداد سے نمٹنے و سد باب کے لیے بہت ہی معاون و ممد ثابت ہوگی ان شاءاللہ ۔۔

(٤)کوروناوائرسایک تجزیاتی مطالعہ

مدنی حفظہ اللہ نے بنام ”کورونا وائرس ایک تجزیاتی مطالعہ“ جامع وسہل انداز میں کتابچہ مرتب فرمایا ہے،جس میں بہت ہی اہم مباحث پر قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں گفتگو فرمائی ہے۔

مدنی حفظہ اللہ نے بلاؤں اور امراض کے پھیلنے کے سات اسباب کو نہایت ہی مدلل انداز میں ذکر کیا ہے:

پھر ”کورونا وائرس کی حقیقت و ماہیت“ کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں :کہ کورونا اصلا چین سے پھیلی اور یہ ٢٠٠٣ءمیں نمودار ہوئی تھی لیکن اس وقت پھیلنے میں ناکام رہی تاہم ٢٠٢٠ءمیں ١١٧ممالککواپنی چپیٹ میں لے لی اور مزید وضاحت کے لیے یونیسیف کی رپورٹ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔شیخ محترم نے کورونا وائرس کی شناخت کے لیے تیز بخار،کھانسی، سانس کی بیماری یا اس وبا میں مبتلا مریض کے ساتھ مختلط رہنے وغیرہ نشانیوں کو ذکر بھی فرمایا ہے۔

مدنی حفظہ اللہ علمائے لغت و اسلام کے معتبر و مستند اقوال اور فتاویں کی روشنی میں یہ رجحان ظاہر کرتے ہیں کہ کورونا دراصل طاعون کی ایک نئی شکل ہے، اور طاعون سے مرنے والے کو شہید ہونے کے سلسلے میں صحیح احادیث اور تاریخ کے متعدد واقعات بھی بیان کیے ہیں،پھر اس کے بعد مرتب حفظہ اللہ نے فقیہ عصر علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے قول کی رُو سے اس طرح کے وبا سے جاں بحق ہونے والے کو شہید قرار دیا ہے،اس کتابچہ میں کورونا سے بچاؤ کے لیے نظافت و نفاست اور مسنون دعاؤں کو بنیادی سبب بتایا گیا ہے اسی طریقے سے کورونا کے لیے قنوت نازلہ پڑھنے کے بابت اقوال ائمہ کو آپس میں مقارنہ کر کے جواز کے پہلو کو بیان کیا گیا ہے۔

قوت مدافعت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چند اہم اصول مثلاً گہری نیند، صحت بخش غذا، چہل قدمی اور قوت ایمانی و ربانی وغیرہ پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے،فاضل گرامی نے بیماریوں کے متعدی وغیر متعدی ہونے کے سلسلے میں نہایت ہی عالمانہ و محققانہ گفتگوں فرمائی ہے اور بعض امراض واوجاع مشیت الٰہی کے ساتھ پھیلنے کو درست و راجح قراردیا ہے،ایک مقام پر فاضل حفظہ اللہ آب زمزم کی افادیت و تاثیر پر اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ”مدینہ میں داخلے کی نیت کی اور پانی پیا، اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے میرا داخلہ مدینہ یونیورسٹی میں کروا دیا،“

یہ کتابچہ علمی انداز میں ترتیب دی گئی ہے جو فائدے سے خالی نہیں ہے,اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

(٥) عظمتِصلاۃ

دینِ اسلام کے اساسیاتِ خمسہ میں سے دوسرا اساس و رکن نماز کی اہمیت و فضیلت پر متقدمین سے تاہنوز سینکڑوں ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں اسی سلسلۂ تصنیف کی ایک کڑی ڈاکٹر مسند بن محسن القحطانی کا عربی رسالہ ”تعظیم قدر الصلاة“ کو بنام ”عظمت صلوۃ“ اردو زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے،اس مختصر کتابچہ میں سلیس ترجمہ، احادیث کی تخریج، مؤلف سے(بعض مقامات پر بہ ادب ) اختلاف کی وضاحت جیسے امور کا خیال کیا گیا ہے۔اس رسالہ میں نماز کی چالیس خصوصیات و ممیزات کو صحیح دلائل کی روشنی میں ذکر کر دیا گیا ہے،اور نماز کے تعلق سے قلوب و اذہان میں پیدا ہونے والے چند شبہات و تشکیک کو احادیث صحیحہ کے ذریعے ازالہ کرنے کی حتی المقدور سعی کی گئی ہے نیز نماز سے حاصل ہونے والے بعض دنیاوی فوائد کو بھی بطورِ اختصار تذکرہ کیا گیا ہے۔موصوف مترجم کے اس پمفلٹ کو تارکینِ صلاۃ نونہالوں کے بیچ تقسیم و توزیع کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ ترک نماز کا ارتکاب کرنے سے خوف محسوس کریں اور نمازوں کو پابندی کے ساتھ قائم کریں۔







مبحث ثانی: مرکز آزاد التعلیمی الاسلامی گریڈیہ کے قیام میں مدنی موصوف کا کردار

ہر زمانے میں علمائے ربانیین نے مسلمانوں کو بدعات و خرافات سے بچانے اور ان کے سینوں میں سلفی عقائد وافکار کو راسخ وپیوست کرنے کے لیے مکاتب ومدارس کی جال بچھانے میں کلیدی رول ادا کیا ہے،اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بعض مشاہیر علم ودانش نے بدعات و انحرافات اور اہل قبوریوں کی آماجگاہ ضلع گریڈیہ میں ایک سلفی ادارہ ”مرکز آزاد التعلیمی الاسلامی“ کے نام سے ٢٧جولائی ١٩٩٧ءمیں خشت بنیاد رکھی،جن کے مؤسسین وبانیان میں ہمارے ممدوحِ محترم سر فہرست ہیں۔

ہیچمدان راقم الحروف کو مدرسہ ہذا میں بفضلہ تعالی طالبِ علمی کی پانچ سالہ ایک طویل مدت گزارنے کا سنہرا موقع ملا،یہاں کے کئی قدآور ابناءو مستفدین دعوتی وصحافتی میدان میں کارہائے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں جو ان مخلصین بانیان کے لیے صدقۂ جاریہ کا باعث بنے آمین!

ممدوح مولانا عبدالسلام مدنی کی ایک تحریر ملاحظہ ہوں:

'' مرکز آزاد التعلیمی الإسلامی ,بلاقی روڈ,گریڈیہہ :تاسیس و قیام َمنظر ,پس ِ منظر''

مرکز کی تاسیس کے لیے سب سےپہلی میٹنگ ستلا(گریڈیہہ) میں ہوئی؛جس میں شہر گریڈیہہ سے بدر الحسن کاظمی صاحب ؛میں اور قاری صاحب ؛اور ستلا سے شیخ کلیم انور مدنی ؛ماسٹر مختار وغیرہ شریک ہوے ؛پھر دوسری میٹنگ ڈاکٹر ارشد رضا کاظمی کے گھر شہر گریڈیہہ میں ہوئی؛جس میں :قاری ایوب سلفی؛عبد السلام ؛شیخ کلیم ؛بدر الحسن؛عین الحسن ؛ڈاکٹر ارشد رضا کاظمی شریک ہوے ؛مجھے یاد پڑتا ہے کہ ماسٹر یونس تکمیلی بھی تھے؛اور اسی میٹنگ میں عہدے تقسیم ہوے؛میرے نام کے ساتھ صدر جڑ گیا؛کلیم صاحب نے نام پیش کیا؛انکار کیا مگر لوگوں نے نہیں مانا ؛کلیم انور مدنی صاحب نائب صدر ؛قاری صاحب ناظم اعلی اور ماسٹر تکمیلی صاحب نائب ناظم مقرر ہوے؛بدر الحسن سرپرست اور عین الحسن کاظمی خزانچی اور ڈاکٹر ارشد محاسب ہوے ۔

سنگ بنیاد کی تاریخ وہیں طے ہوئی اور 27 جولائی 1997 ء کو سنگ بنیاد کے لیے اجلاس عام منعقد ہوا ؛جس کی نظامت میں نے کی تھی،واضح رہے کہ گریڈیہہ,ضلع گریڈیہہ کا صدر مقام ہے ,یہاں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے , یہاں دیوبندیوں اور بریلیویوں کی اپنی مسجدیں ہیں,مگر افسوس اب تک (1998)سلفیوں کے سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی,سلفیان ِ شہر دیوبندی مسجد میں نماز پڑھتے تھے ,جمعہ ادا کرتے تھے,جبکہ شہر گریڈیہہ کے معروف و مشہور تاجر الحاج جناب ابو الحسن نے بہت پہلے للہ فی اللہ مسجد کے لیے زمین وقف کر رکھی تھی ۔

اللہ کی توفیق سے مذکورۃ الصدر تین افراد کو اللہ نے اس سلفی مشن کے لیے منتخب فرمایا ,اور قلب ِ شہر میں ایک ادارہ بنام (مرکز آزاد التعلیمی الإسلامی )اور ایک مسجد بنام (جامع عمر بن خطاب )بلاقی روڈ کا قیام عمل میں آیا,جہاں سے سلفیت خوب خوب پھلی پھولی اور اب بحمدہ تعالی ایک تناور درخت بن چکا ہے ,اس مرکز و مسجد کے قیام میں خاکسار ہیچمداں کا بھی اچھار ول و کردار رہا ,اللہ قبول فرمائے''۔([10])















مبحث ثالث: شعبۂ جالیات سعودی عرب سے انسلاک: چند دعوتی سرگرمیاں (تجزیاتی نظر)

فضیلتہ الشیخ حفظ اللہ ورعاہ مملکتِ توحید سعودی عرب کے مختلف شعبۂ جالیات میں مدت مدید سے تاہنوز مربوط ومنسلک ہو کر دینی و دعوتی کاموں میں مصروفِ عمل ہیں۔

اور بعنوان ”شعبۂ جالیات سے انسلاک“ لکھتے ہیں۔

  • (۱) ''شعبہ ٔ جالیات الرین ,الریاض : (6)ماہ (محافظۃ الرین سعودی عرب کی راجدھانی ریاض سے تقریبا ایک سو بیس (120)کیلو میٹر کے فاصلے پر محافظہ (ضلع)ہے ,فراغت کے بعد میں سب سے پہلے اسی جگہ میں جا وارد ہوا ,پھر بعض وجوہات کی بنیاد پر مستعفی ہوکر اپنے ملکِ عزیز میں جا وارد ہوا اور ضلع گریڈیہہ میں واقع مرکز آزاد التعلیمی الإسلامی میں تعلیمی و دعوتی خدمات کے لیے مامور ہوا۔
(۲) شعبہ ٔ جالیات شعف جارمہ : (یہ ضلع احد رفیدہ کی ایک تحصیل ہے ,جہاں 2005ء میں دعوتی سرگرمیوں کے لیے جا وارد ہوا۔

(3)شعبہ جالیات سراۃ عبیدہ : یہ ایک ضلع ہے جو عسیر زون کا ایک ضلع ہے ,شعف جارمہ میں خفیف مشغولیات کی بنیاد پر سراۃ عبیدہ کے اصحاب ِ علم و فضل کی طلب پر وہاں کے شعبہ سے منسلک ہوا اور کوئی دس سال خدمات کی اور پھر

(4)شعبہ ٔ جالیات میسان (طائف):ضلع میسان مکہ مکرمہ سے کوئی 180 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک سیاحتی مقام ہے,جہاں دور دور سے لوگ سیاحت و تفریح کے لیے آتے ہیں ،یہاں 1435ھ سے تا دمِ تحریر شعبہ ٔ دعوت سے منسلک ہیں اور دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں '' ۔([11])



محبت رابع: صاحب سوانح کی رفاہی خدمات(ایک مطالعہ: ایک تعارف)

ممدوحِ مکرم کی بعض رفاہی و سماجی سرگرمیوں و کارکردگیوں کا جائزہ لینے کے لیے چند نقوش و جھلکیاں درج ذیل ہیں:

  • (۱) ''جمیعتہ الحرمین التعلیمیہ والخیریہ رانچی کا قیامیہ ادارہ بھی چار اشخاص( مولانا وقاری ایوب سلفی، مولانا کلیم انور تیمی، مولانا نصیر الدین فیضی اور خاکسار) کی محنت سے وجود میں آیا مگر کسی کی نظر بد لگ گئی اور پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا(فاللہ المستعان)
(٢)لائفانٹرنیشنل انگلش میڈیم (رانی ٹانڑ) کا قیام۔لائف انٹرنیشنل اسکول رانی ٹانڑ کا قیام بھی ناچیز کے اہم انجازات میں شامل کیا جاسکتا ہے ١٤فروری ٢٠٢١ءکوعلماء،زعماءاورمختلفعظیم شخصیات کی موجودگی میں جس کا افتتاح کیا گیا، اللہ قبول فرمائے آمین یا رب العالمین،واضح ہو کہ اس کے لیے ایک لانگ پلاننگ (طویل المیعاد منصوبہ بندی) کی گئی تھی، مگر تاہنوز (کرونا کی وجہ سے) تعلیم کا آغاز نہیں ہوسکا،بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس اسکول کے افتتاح کے موقعے پر علماء نے کچھ نے کھل کر تو کچھ نہیں پسِ پردہ مخالفت کی، اور خوب خوب مخالفت کی، اس کی بھی ایک دردناک بلکہ عبرتناک کہانی ہے، جسے بعد کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔

(٣) اللہتعالی نے ناچیز کے ہاتھوں کئی مساجد کی تعمیر بھی کروائی، جس میں :جامع الفاروق گریڈیہ (جو قلب شہر میں واقع ہے اور بدعات و خرافات کے قلع قمع اور سنت و توحید کے احیاء میں اہم رول ادا کیا ہے،فاللہ والمنہ، اسی طرح جامع التوبہ ماتھاسیر گریڈیہ کی تعمیر میں بھی بھرپور کردار رہا، اللہ قبول فرمائے

(٤)خاکسارکےہاتھوںعلاقےکےمختلفگاؤںمیں مختلف مساجد میں چاپاکل (بورویل ) کا کام بھی انجام پایا اللہ قبول فرمائے۔

(٥) ماہرمضانمیں افطار پارٹی کا بھی انتظام خاکسار کی طرف سے مختلف مساجد وقریہ جات میں ہوتا ہے۔

(٦)عید کے موقعے پر فقراء و مساکین کے درمیان عیدی بھی باستمرار تقسیم کا عمل بھی خاکسار کے توسط سے انجام پاتا ہے''([12])



تیسری فصل: مولانا مدنی اور جامعہ محمدیہ: کردار و عمل

مبحث اول: جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کے قیام کا تاریخی پس منظر

مرکزی ادارہ جامعہ محمدیہ کی بنیاد کن دگرگوں حالات میں پڑی، اس کے قیام کے اسباب محرکات کیا تھے، اور کن کن عظیم عبقری اشخاص اس کے قیام کی تحریک میں پیش پیش تھے،چنانچہ جامعہ ہذا کے قیام کا تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالنے کے لیے علاقے کے دو قدیم علمائےبزرگان کی وقیع تحاریر کو بطور تائید ذکر کیا جا رہا ہے۔

  • فضیلتہ الشیخ قاری محمد یونس اثری حفظہ اللہ امیر صوبائی جمیعت اہل حدیث جھارکھنڈ وناظم جامعہ اسلامیہ یوسفیہ منکڈیہا، ایک موقر عالم دین مولانا محمد یاسین عادل ریاضی رحمہ اللہ کی سرگزشت کو بیان کرتے ہوئے جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کی تاسیس کا پس منظر کے سلسلے میں رقمطراز ہیں:
''١٩٧٧ءسےقبلجماعتاہلحدیث کا کوئی ادارہ نہیں تھا، جس کی وجہ سے جماعتی علماء کو بڑی کوفت ہوتی تھی، اور دوسرے مکاتب فکر کے لوگ جماعت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور یکسر طعنے دیا کرتے تھے کہ اہل حدیثوں کا اس علاقے میں کوئی ادارہ نہیں ہے، چونکہ جماعت کے اکابرین علماء مختلف علاقوں میں درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ میں مشغول ومنہمک تھے مثلاً مولانا عبدالرشید شائقی سابق امیر صوبۂ جھارکھنڈ، اور استاذ جلیل قاری محمد جمال الدین مظاہری مدرسہ جامجوری میں تھے، مولانا محمد جرجیس سلفی اور مولانا عبدالخالق جامعی مدرسہ جامع العلوم پوکھریا اور راقم الحروف (قاری محمد یونس اثری )اور مولانا عبدالستار اثری(رحمہ اللہ) مدرسہ اسلامیہ یوسفیہ منکڈیہا میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے، اس لیے مذکورہ علمائے کرام نے احساس کیا کہ علاقے میں اہل حدیث کا ایک معیاری ادارہ ہونا چاہیے، الحمدللہ یہ سارے لوگ ایک پلیٹ فارم میں آئے اور جماعت کے علاقے کا مرکزی ادارہ قائم کرنے کا عزم کیا بقول شاعر؂

اولوالعزمان ہمت جب کرنے پر آتے ہیں۔سمندر پھاڑتے ہیں اور کوہ میں دریا بہاتے ہیں۔

اس سلسلے میں علاقے کے مشہور مقامات پر میٹنگ اور مشورے کیے۔

مورخہ ١٨اکتوبر١٩٧٧ءکوجامعہکےآخری میٹنگ سرزمین سمرگڈھا میں ہوئی، کھانے کے پورے اخراجات الحاج عبدالعزیز صاحب اور ان کے ابنا مولوی عبدالرزاق اور حاجی انور صاحب نے برداشت کیے، اللہ تعالی اس خدمت کو قبول کرے، اسی میٹنگ میں ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرشید شائقی اور صدر الحاج عبدالعزیز صاحب ہوئے اور درس و تدریس کے لیے مولانا محمد یاسین عادل ریاضی اور مولانا محمد جرجیس سلفی نیز راقم الحروف محمد یونس اثری، مولانا عبدالستار اثری، قاری محمد جمال الدین مظاہری، عبدالخالق جامعی منتخب ہوئے، مولانا محمد یاسین عادل ریاضی اور مولانا محمد جرجیس سلفی نے کچھ اپنی مجبوریاں ظاہر کیں، اور جامعہ سے بروقت منسلک نہ ہو سکے، معلوم ہونا چاہیے کہ تعلیمی و تدریسی کام کو آگے بڑھانے کی بات جب سامنے آئی تو جامعہ کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی البتہ پردھان محمد حسین غلام کی ایک وقف شدہ زمین تھی جس پر مولانا عادل نے مکتب قائم کیا تھا، ابتدائی تعلیم کی شروعات جامع مسجد ڈابھاکیند میں کی گئی، سال بھر کے بعد جامعہ کو اسٹاف کی ضرورت پڑی تو شیخ شفاءاللہ فیضی، مولانا محمد خالد فیضی، مولانا مسعود فیضی اور عابد حسین اثری (بانکی کلاں) کی بحالی عمل میں آئی آخر الذکر حافظ عابد حسین اثری کو دیوبندیوں نے اغوا کر لیا اور جامعہ میں حاضر ہونے سے قاصر رہے پھر الحمدللہ تمام علماء اور دانشوروں کی مشوروں سے جامعہ کا کام آگے بڑھا، موجودہ ناظم شیخ عبدالرشید شائقی کی مجبوریوں کی بنا پر شیخ شفاء اللہ فیضی ناظم منتخب ہوئے، شیخ شفاءاللہ فیضی سیدھے سادھے اور کم گو انسان تھے، اور بڑے بڑے ہمدردان قوم ملت سے بات کرنے سے شرماتے تھے، اللہ تعالی غریق رحمت کرے، شیخ عبدالستار اثری رحمہ اللہ کو اپنے ہمراہ ہندوستان کے مشہور و معروف شہروں۔ مثلاً مئو، بنارس،بھدوہی، کانپور، دہلی اور ممبئی وغیرہ کا دورہ کرایا“۔([13])





  • نانائے محترم، گمنام زمانہ مولانا عبدالحمید اثریؔ حفظہ اللہ رئیس جامعہ اسلامیہ یوسفیہ منکڈیہا کی ایک معلوماتی تحریر ملاحظہ ہوں:
” ہر ادارہ اور جامعہ کو وجود میں لانے کے لیے عظیم شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ شخصیت بہت حساس اور ذہن و دماغ رکھنے والے اور عالمی پیمانے پر دانشور ہوتے ہیں اور دانشمندی وہ تفکرات میں اعلیٰ وارفع ہوتے ہیں اور اس قدر ہوتے ہوئے پرخار راہوں سے گزرتے ہوئے منازل و مراحل طے کرتے ہیں اور بفضلہ تعالی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔

وضاحت کی طرف آئیے جیسے مئو ناتھ بھنجن میں جامعہ فیض عام کے بہت بڑے دانشور اپنے وقت کے عظیم مفکر محترم جناب علامہ محمد احمد صاحب اپنے کدوکاوش سے جامعہ فیض عام کو قلیل مدت میں بڑا علمی مرکز بنا دیئے،اور جامعہ فیض عام سے عظیم شخصیتیں پیدا ہوئی ہیں اور تشنگان علوم کے طلبہ زیادہ تر اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ، بنگال کے رہتے ہیں اور قلیل طلبہ آسام، اڑیشہ،کشمیر کے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ ناظم اعلی صاحب کے زمانہ سے چلتا آرہا ہے اور جامعہ فیض عام میں ہمیشہ سے طلبہ کا ہجوم رہا ہے ۔اسی مئو ناتھ بھنجن میں ایک عظیم ہستی محترم جناب علامہ عبداللہ صاحب شائقی بہت بڑے دانشور اور مفکر تھے اور اپنی دانشمندی اور بہتر منصوبہ بندی سے جامعہ دارالحدیث کو قلیل مدت میں وجود پذیری دیئے اور اللہ کا فضل و کرم رہا ہے کہ جامعہ اثریہ ہمیشہ ترقی کی طرف گامزن رہا ہے اور اس وقت جامعہ اثریہ کے تحت کئی ادارے رواں دواں ہیں اور بام عروج پر ہیں۔جامعہ اثریہ دارالحدیث کا قیام ١٩٥٤ءمیں ہوا ہے اور جامعہ اثریہ بھی نشیب و فراز کے دور سے گزرا ہے۔

اب ریاست جھارکھنڈ پر ایک نظر:

انیسویں صدی سے قبل ضلع گریڈیہ اور جامتاڑا میں کوئی مکتب اور درسگاہ نہیں تھا، انیسویں صدی کے درمیانی دور میں گاؤں کے اندر مکتب قائم کرنے لگے، اور ابتدائی تعلیم ہونے لگی، ١٩٦٢ءسےکئی سال قبل موضع منکڈیہا میں ایک شاندار مکتب چل رہا تھا، اور اس مکتب میں ایک لائق وفاق معلم محترم جناب مولانا محمد عطاء اللہ صاحب محمدیؔ تھے اور ابتدائی تعلیم بہتر انداز میں دیتے تھے اور اس مکتب کو ١٩٦٤ءمیں جامعہ یوسفیہ میں تبدیل کر دیا گیا۔

بہرحال گریڈیہ اور جامتاڑا کے مسلم حضرات کی زندگی لاشعوری کی زندگی تھی، اور اس وقت انگریزوں کی حکومت ختم ہونے والی تھی کہ محترم جناب حافظ محمد عابد حسین صاحب پنجاب علاقہ کے گنگوہ سے جامتاڑا تشریف لائے، اور گشت کرتے ہوئے ٹوپاٹانڑ میں قیام پزیر ہو گئے، اور اس کے بعد گریڈیہ اور جامتاڑا کے حضرات کے درپیش مسائل حل کرتے تھے اور آخری سانس تک ٹوپاٹانڑ میں قیام پذیر رہے اور اس دار فانی دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔

جامعہ محمدیہ کے قیام کے حالات نظرِ نواز کرائے جارہے ہیں:

جامعہ محمدیہ کے قیام کے دانشور محرک محترم جناب مولانا عبدالرشید صاحب شائقی ہیں اور جامعہ محمدیہ کے قیام سے چند سال قبل مرکزی ادارہ کے لیے ایک میٹنگ نرائن پور مویشی بازار کے خالی میدان کے قریب کیے اور اس میٹنگ میں معدود چند کی شرکت تھی اور خاص طور پر دھرم پور کے کوئی وکیل صاحب تھے اور گریڈیہ سے جناب مولانا محمد شفیق ریاضیؔ اور خاکسار عبدالحمید اثریؔ تھے شائقی صاحب ادارہ کے تعلق سے گفت و شنید کیے اور میٹنگ بہت جلد ختم ہوگئی اور آئندہ کچھ نہیں ہوا۔ بہرحال جناب مولانا عبدالرشید صاحب شائقیؔ کی اور قاری و مولانا محمد جمال الدین صاحب مظاہریؔ اور حافظ نور محمد صاحب یہ تینوں جامجوری میں ایک چھوٹا سا مدرسہ چلانے لگے اور مدرسہ میں بیرونی طلبہ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ شائقیؔ کی اور مظاہریؔ صاحبان علاقے کے گاؤں میں اثر ورسوخ رکھتے تھے اس لئے فصلی موسم میں کچھ اصولی ہو جاتی تھی اور اس وقت عوام الناس چندہ دینے سے بہت کتراتے تھے کچھ ہی حضرات چندہ دینے میں پیش پیش رہتے تھے۔

بہرحال خاکسار عبدالحمید اثریؔ کی تعلیمی مشغولیت ١٩٧٦ءمیں ڈابھاکیند میں تھی اور اصولی کے موسم میں محترم جناب مولانا عبدالرشید صاحب شائقیؔ ڈابھاکیند پہنچے اور دھان وصول کرنے لگے اس درمیان خاکسار عبدالحمید اثریؔ سے ملاقات ہوئی اور بات چیت ہونے لگی اور اصولی کے بارے میں معلوم کیا تو شائقیؔ صاحب بتائے کہ دو چار پیلہ دیتے ہیں اس وقت خاکسار عبدالحمید اثریؔ یہ یہ کہے کہ دو چار پیلہ دھان چھوڑئیے اور کوئی مرکزی ادارہ بنائیے جو سب سے بہتر رہے گا اور اس وقت غسل کرنے کے لیے شمال جانب بہتا ہوا نالا کی طرف چلے اور غسل کرنے کے بعد شائقیؔ صاحب ٹونگوڈیہ گاؤں کی طرف چل گئے اور خاکسار اپنی جگہ پر آگئے اور کچھ وقت گزرنے کے بعد شائقیؔ صاحب تحریک چلانے لگے اور ایک میٹنگ کرنے کی تاریخ تعین کی گئی اور میٹنگ کی تاریخ ١٨اکتوبر١٩٧٧ءہےاورسرزمین سمرگڈھا میں منعقد ہوئی اور اس میٹنگ میں گفت و شنید کے بعد اس مرکزی ادارہ کا نام جامعہ محمدیہ رکھا گیا اور معزز شخص الحاج عبدالعزیز صاحب و عبدالرزاق صاحب اور الحاج محمد انور صاحبان وغیرہم کل اخراجات برداشت کیے“۔([14])

مبحث ثانی: مدنی موصوف کے عہدِ صدارت میں جامعہ محمدیہ اور مستقبل کے عزائم

اس مبحث کی وضاحت کے لیے صدرِ جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کی ایک قیمتی تحریر ملاحظہ ہوں:

'' اتوار کا دن تھا,12 جون 2025 کی صبحِ حسین تھی؛جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند میں نشست عمومی (جنرل میٹنگ)تھی,لوگوں کا بہت زیادہ اژدحام تو نہ تھا,مگر جو تھے,خاص الخاص تھے ,متعدد لوگوں نے جامعہ کی مناسبت سے اپنے قیمتی تاثرات پیش کیے ,پھر موجودہ صدر عالی جناب فرقان انصاری صاحب (سابق ایم پی حلقہ ٔ گڈا)نے اپنے تاثرات پیش کیے اور اپنا استعفی پیش کر دیا,اور نئی کمیٹی کی تشکیل کی مانگ کردی،اس درمیان لوگوں میں ہنگامہ برپا ہوگیا ,سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے ,ایک طرف صدر کا استعفی ,دوسری طرف نئی کمیٹی کی تشکیل ،پھر بڑی کشمکش ,ہائے ہوا,چیخ و پکار کے درمیان کسی نے میرا نام پیش کر دیا ,اور پورا مجمع (تائید کرتے ہیں) کی صدائے فلک بام سے گونج اٹھا ,ہزار انکار کے باوجود احباب و جماعت کا اصرار غالب آگیا اور (مختصرا) میں جامعہ محمدیہ کا صدر ہوگیا

عزائم :

(۱)جامعہ کو مختلف الجہات سے بلندیوں تک لے جانا

(۲)جامعہ کا سعودی و ہندوستانی جامعات سے معادلہ جروانا

(۳)جھارکھنڈ کی تمام یونی ورسیٹیز سے معادلہ کروانا

(۴)باؤنڈری کی تکمیل

(۵)جامعہ میں فضیلت تک کی تعلیم کا انتظام کرنا

(۶)مدنی و با صلاحیت اساتذہ کی بحالی

(۷)جامعہ سے ایک مجلہ کا اجراء

(۸)جامعہ میں بنات کے لیے مستقل تعلیم کا انتظام کرنا

(۹)جامعہ کو ہر قریہ و گاؤں سے جوڑنا

(۱۰)ہر گاؤں سے تین ۔چار ممبران کی تشکیل

(۱۱)جمعیت ابنائے قدیم جامعہ محمدیہ کی تشکیل

(۱۲)طلبائے جامعہ کا ماہانہ مجلہ کے اجراء کی کوشش

(۱۳)دعوتی پلیٹ فارم کی توسیع

(۱۴)جامعہ کو مستفیدین ِ جامعہ سے جوڑنا

(۱۵)جامعہ کی طرف سے تکریمِ علماء (جامعہ ایوارڈ)

(۱۶)توسیعی و علمی محاضرات میں توسیع

(۱۷)مقامی علماء کی باہر سے آمد کی مناسبت سے ان کا جامعہ میں استقبال''۔([15])











خاتمہ

نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم و على آله وصحبه اجمعين امابعد!

اللہ رب العالمین کا شکرو احساس اور انعام واکرام ہے کہ اس نے مجھ ناچیز کو مقالہ لکھنے کی توفیق بخشی اور اسی کے فضل و کرم سے میرا مقالہ اختتام کو پہنچا۔ اور اس مقالہ کے اہم اہم نقاط درج ذیل ہیں:

(١)١٩٣٣ءکےلگبھگ "بانکی خورد" سے علیحدہ ہوکر ایک اہل حدیث گاؤں آباد کی گئی جسے ماتھاسیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

(٢)مولاناحفظہاللہکی پیدائش ١٩٧٦ءمیں ہوئی۔

(٣)ممدوحمحترمنےابتدائی تعلیم جامعہ یوسفیہ منکڈیہا سے مولانا عطاء اللہ محمدی، قاری یونس اثری، عبدالخالق اثری جیسے اجلۂ اساتذہ سے کسبِ فیض کیا نیز متوسطہ و ثانویہ کی پڑھائی جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند میں تکمیل کی۔

(٤)مولاناعبدالسلاممدنی نے مزید تعلیم کے لیے جامعہ عالیہ عربیہ مئو، جامعہ ریاض العلوم دہلی، جامعہ فیض عام مئو جیسے بڑی درسگاہوں میں داخلہ لیے۔ اور فیض عام مئو سے ١٩٩٥ءمیں فضیلت کی سند حاصل کی۔

(٥)ممدوحمحترمنے١٩٩٦ءمیں دراسات علیا کے لیے عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے لیے روانگی اختیار کی اور کلیۃ الدعوہ واصول الدین سے ٢٠٠١ -٢٠٠٠ءمیں بی اے مکمل کی اور بذریعہ آن لائن ماجیستیر اور دکتوراہ کی اعلیٰ ڈگری بھی حاصل کرلی۔

(٦)مدنی حفظہ اللہ نے دو درجن سے زائد کتابوں کی تصنیف وتالیف فرمائی ہے ان میں سے طوالت کے خوف سے صرف پانچ کتب پر تعارف وتبصرہ کرنے کی حتی المقدور سعی کی گئی ہے۔

(٧)مدنی حفظہ اللہ نے دیگر مخلصین سرکرداں حضرات کے ساتھ "مرکز آزاد التعلیمی الاسلامی" کے نام سے ایک سلفی ادارہ شہرِ گریڈیہ میں ١٩٩٧ءکوقائمکئے۔

(٨) مدنی حفظہ اللہ سعودی عرب کے مختلف شعبۂ جالیات میں کئی برسوں سے تاہنوز دعوتی کاموں میں سرگرم ہیں۔

(٩)صاحبِسوانحنےمسجدفاروقگریڈیہ، جامع التوبہ ماتھاسیر اور دیگر مساجد وغیرہ تعمیر کروایا ہے۔

(١٠)١٨اکتوبر١٩٧٧ءکوسمرگڈھاکی میٹنگ میں جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کا قیام عمل میں آیا جس کے محرک اول مولانا عبدالرشید شائقیؔ رحمہ اللہ تھے۔

(١١)١٢جون٢٠٢٥ءبروزاتوارکوباتفاقرائےفضیلۃ الدکتور مولانا عبدالسلام صلاح الدین مدنیؔ حفظہ اللہ کو جامعہ محمدیہ ڈابھاکیند کا صدر منتخب کیا گیا۔





آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری اس ادنی کوشش کوشرف قبولیت سے نوازے۔

آمین ثم آمین یارب العالمین​













(1)صاحب سوانح سے مقالہ نگار کا بذریعہ واٹس ایپ رابطہ
(2)صاحب سوانح سے مقالہ نگار کا بذریعہ واٹس ایپ رابطہ
(۱)ورق ورق زندگی: ص٧- ٨
(۲)صاحب سوانح سے مقالہ نگار کا بذریعہ واٹس ایپ رابطہ
(۱)ورق ورق زندگی:ص ٩
(۱)ورق ورق زندگی: ص١٠-١١
(۱)ورق ورق زندگی:ص١١
(۱)ورق ورق زندگی:ص١٢
(۲)ایضا :ص١۳
(۱)صاحب سوانح سے مقالہ نگار کا بذریعہ واٹس ایپ رابطہ
(۱)صاحب سوانح سے مقالہ نگار کا بذریعہ واٹس ایپ رابطہ
(۱)ورق ورق زندگی: ص١٤۔١٥
(۱)مولانا محمد یاسین عادل ریاضی رحمہ حیات وخدمات: ص۔١١٣-١١٤۔١١٥
(۱)نانائے بزرگوار مولانا عبدالحمید اثریؔ حفظہ اللہ سے ایک علمی ملاقات
(۱)صاحب سوانح سے مقالہ نگار کا بذریعہ واٹس ایپ رابطہ​
 
Top