عبد السلام مدنی
رکن
- شمولیت
- جنوری 23، 2018
- پیغامات
- 30
- ری ایکشن اسکور
- 6
- پوائنٹ
- 52
گروپ گروپ گروپ
از :۔عبد السلام بن صلاح الدین مدنی
(داعی اسلامک دعوہ سینٹر,میسان )
الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین و من تبعھم بإحسان إلی یوم الدین و بعد
اس بات پر اب تقریبا اجماع قائم ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا سے دوری اور مہجوری اس دور کے ناممکنات میں سے ہوگیا ہے ,کیوں کہ دیکھا گیا ہے کہ 10 منٹ اگر واٹس ایپ بند ہوجائے,یا نیٹ کام کرنا بند کردے تو لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ,قلق و اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں ,پریشان ہوجاتے ہیں اور دنیا تاریک سی ہوجاتی ہے ؛آپ سب نے ایک سال ایسا منظر بھی دیکھا ہوگا کہ صرف 5 منٹ کے لیے واٹس ایپ کا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے کام کرنا بند ہوگیا ,لوگوں نے موبائل کھولا,بند کیا ,پھر کھولا پھر بند کیا ,دوسرےسے رابطہ کیا ,واٹس ایپ ڈلیٹ کیا پھر کھولا مگر لا حاصل ؛بعد میں پتہ چلا کہ بعض تکنیکی خرابی کی وجہ سے یہ دقت آئی ہے ۔
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ “اس بات پر اب تقریبا اجماع قائم ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا سے دوری ,مہجوری اس دور کے ناممکنات میں سے ہوگیا ہے”
سوشل میڈیا کے اگر کچھ مثبت اور کار آمد و فائدہ مند اثرات مرتب ہوے ہیں ,تو دوسری طرف اس نے بیشمار منفی پہلو بھی معاشرہ کو پروسے ہیں ,ان میں سے چند کا تذکرہ فائدے سے خالی نہ ہوگا :۔
(1) وقت کا بے جا ضیاع
گروپس میں آنے والے سینکڑوں پیغامات، غیر ضروری ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھنے میں روزانہ کئی گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ کام کے دوران بھی بار بار اپنا موبائل چیک کرتے ہیں جس سے ان کی توجہ (Focus) بری طرح متاثر ہوتی ہے,حد تو یہ ہے کہ بعض لوگوں کو یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد امام کے سلام پھیرتے ہی سب سے پہلے اپنا موبائل چیک کرتے ہیں ؛گروپوں کے احوال پر گہری نظر ڈالنے سے ایک بات یہ واضح اور ظاہر ہوتی ہے کہ اکثر (جس میں اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی ہوتی ہے)لوگ اپنے دن رات کا بیشتر حصہ ان گروپوں میں ضائع کرتے ہیں,لگتا ایسا ہے کہ ان کے پاس بیجا تبصرہ جات,لا یعنی کمنٹس ,بیہودہ تنقیدیں ,لا اساس معلومات کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں اور نہ ہی ان کے پاس دوسرا کوئی کام ہے ؟
یہ لوگ اپنا وقت تو ضائع کرتے ہی ہیں ،دوسرے مشغول اور بے تحاشا مصروف لوگوں کے اوقات بھی کھاجاتے ہیں بلکہ چبا جاتے ہیں ،حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں جو وقت کی قدر و قیمت نہیں جانتے ہیں اور نہ کرنا چاہتے ہیں ۔
(2) ذہنی تناؤ اور کوفت
گروپ میں ہونے والی بحث و تکرار، بعض دفعہ جنگ و جدال ،سبّ و شتم ،لعن طعن اور گالم گلوج تک پہنچ جاتی ہے،کتنے تعلقات انہی گروپوں میں اٹھا پٹخ کی وجہ سے بگڑے ہیں،کتنی طلاقیں اسی سوشل میڈیا کی دین اور مرہونِ منت ہیں ،ہم نے گروپوں میں اکثر دیکھا ہے کہ جب بحث و مباحثہ شروع ہوتا ہے تو صرف مباحثہ تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ اٹھا پٹخ کا اکھاڑا بن جاتا ہے ,گالم گلوج کا مرکز اور طعن و تعریض کا سینٹر اور حقیقی جہاں تصور کیا جانے لگتا ہے ۔
(3) غلط معلومات کی تشہیر (Fake News)
واٹس ایپ گروپس "افواہ سازی" کا سب سے بڑا مرکز بن چکے ہیں۔ بغیر تصدیق کے دینی معلومات ،طبی مشورے، سیاسی افواہیں اور مذہبی پیغامات آگے بڑھانے سے معاشرے میں گمراہی اور بے چینی پھیلتی ہے؛حد تو یہ ہوتی ہے کہ بعض عام باتوں کو نبیٔ کریمﷺ کی حدیث بناکر اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کا حوالہ دے کر بھی پیش کیا جاتا ہے اور بعض لوگ دھڑلے سے اسے شیئر(SHARE )بھی کرتے ہیں اور شیئرکرنے کی عام دعوت بھی دیتے ہیں حالانکہ نبیٔ کریمﷺ کا واضح پیغام اور مؤکد تعلیم ہے,چناں چہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ۔رضی اللہ عنہ۔ کہتے کہ:( سَمِعتُ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يقولُ: إنَّ كَذِبًا عليَّ ليس كَكَذِبٍ على أحَدٍ، مَن كَذَبَ عليَّ مُتَعَمِّدًا فليَتَبَوَّأْ مَقعَدَه مِنَ النَّارِ)[صحیح بخاری :1291][ میں نے نبی کریم ﷺسے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے]،اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی طرف جو بات منسوب کی جاتی ہے،وہ دین وشریعت بن جاتی ہے ،لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی،اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا،اتنا ہلکا ا,سہل ور آسان نہیں ہے،جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے،کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا،جو آپ ﷺ کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
(4) پرائیوسی (نجی معلومات) کا خطرہ
کسی بھی گروپ میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا موبائل نمبر گروپ کے تمام اراکین (جنہیں آپ شاید جانتے بھی نہ ہوں) کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس سے نمبر کے غلط استعمال اور غیر متعلقہ کالز یا پیغامات کا خطرہ بڑھ جاتا ہےْجس سے کبھی کبھار بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
(5) غیر ضروری ڈیٹا اور اسٹوریج کا بوجھ
گروپس میں آنے والی تصاویر اور ویڈیوز موبائل کی میموری (Storage) کو بہت جلد بھر دیتی ہیں۔ اس سے نہ صرف فون سست ہو جاتا ہے بلکہ انٹرنیٹ ڈیٹا بھی تیزی سے ختم ہوتا ہے۔
(6) سماجی دوری اور بدتہذیبی
گروپس میں اکثر لوگ ایک دوسرے کی بات کا غلط مطلب نکال لیتے ہیں، جس سے برسوں پرانے اور حسین و خوبصورت تعلقات میں دراڑ پیدا ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ، آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کا رواج کم ہوتا جا تاہے، افہام و تفہیم کا مادہ زیرو (صفر)ہوتا جا رہا ہے ,جس سے حقیقی سماجی تعلقات اور روابط کمزور پڑ رہے ہیں,باہمی دوستیاں خاک میں مل رہی ہیں,تعلقات خراب ہو رہے ہیں,مراسم میں سوراخ پیدا ہوتا جا رہا ہے ،نفرتیں عام ہوتی جارہی ہیں،عداوتیں جڑ پکڑ رہی ہیں ،اوردشمنیاں عروج پر ہیں ،فااللہ المستعان ۔
(7)حکومت کا شکنجہ :ہم میں سے اکثر لوگوں کو سوشل میڈیا نے محرّر ,قلمکار ,انشاء پرداز بنا دیا ہے اور کج مج جیسے ہو،لکھنا ضرور سکھا دیا ،اس سے قطع نظر کہ لکھنے کے بعدنتائج کیا برآمد ہوں گے ؟اس کے اثرات کیا ہوں گے ؟اس کے کیا خطرناک اور بھیانک انجام کیا ہو سکتے ہیں؟اس سے کوئی مطلب نہیں ۔
حالانکہ کبھی کبھار اس کے بڑے برے نتائج اور عبرتناک انجام سامنے ہوتے ہیں ,عید الفطر کے بعد 31/ 3/ 2026 کومیں نے ایک تحریر لکھی تھی جس کا عنوان :“پہلے تول پھر منہ سے بول“تھا ,جسے میرے فیس بک پیج سے آپ پڑھ سکتے ہیں ۔
۔آپ سب جانتے ہیں ,ابھی کچھ دنوں پہلے ایک مشہور خطیب و مقرر کا واقعہ پوری دنیا نے دیکھا اور سنا کہ انہوں نے ایک حاکم کے خلاف تقریبا دو سال قبل لب کشائی کی تھی ،اور حکومت کی تلوار ایک مدت مدید کے بعد لٹکی اور انتہائی غیر قانونی منظم انداز سے گرفتاری عمل میں آئی , پھر کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا ،پوری تفصیلات سے ہم سب آشنا ہیں ،جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ،یہ تو بھلا ہوا کہ کسی صاحبِ شبِ زندہ دار کی دعا کام آگئی اور دس بارہ دن میں ہی ۔الحمد للہ۔ ضمانت پر رہا کر دیے گئے ورنہ ایسے معاملات میں لمبی تحقیق ہوتی ہے ۔
۔ایک شیخ کے بارے میں پتہ چلا کہ ایک حاکم کے خلاف غیر مناسب تبصرہ پر دو سال کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔
(8)کتابوں سے دوری :
سچ پوچھئے تو جب سے سوشل میڈیا نے اپنے پاؤں پسارے اور ہمارے ذہن و دماغ پر اپنا مضبوط قبضہ جمایا ہے,کتابوں سے دور بہت دور جا چکے ہیں,اب نہ مطالعہ کا وقت ہے نہ پڑھنے کی فرصت اور نہ ضرورت ۔
سب کچھ ہم سوشل میڈیا کو ہی سمجھ لیا ہے ،کون کتابوں کی طرف مراجعت کرنے جائے ،کیوں اور کیسے جائے ؟وقت ملے تو مراجعت کرے نا!
حد تو یہ ہے کہ اب طلبہ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں اور کئی کئی گروپوں میں شامل ہیں ۔
خلاصہ ٔ کلام اینکہ ہم گروپ گروپ ضرور کھیلیں ,تبصرے ضرور کریں لکھیں اور خوب لکھیں مگر گروپ گروپ کھیلنے اور تبصرے کرنے پہلے تھوڑا انجام اور نتائج پر بھی غور کر لیں کہ تبصرہ کہیں بھاری نہ پڑ جائے
اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور حق و سچ کہنے کی توفیق دے ،آمین یا رب العالمین
از :۔عبد السلام بن صلاح الدین مدنی
(داعی اسلامک دعوہ سینٹر,میسان )
الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین و من تبعھم بإحسان إلی یوم الدین و بعد
اس بات پر اب تقریبا اجماع قائم ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا سے دوری اور مہجوری اس دور کے ناممکنات میں سے ہوگیا ہے ,کیوں کہ دیکھا گیا ہے کہ 10 منٹ اگر واٹس ایپ بند ہوجائے,یا نیٹ کام کرنا بند کردے تو لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ,قلق و اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں ,پریشان ہوجاتے ہیں اور دنیا تاریک سی ہوجاتی ہے ؛آپ سب نے ایک سال ایسا منظر بھی دیکھا ہوگا کہ صرف 5 منٹ کے لیے واٹس ایپ کا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے کام کرنا بند ہوگیا ,لوگوں نے موبائل کھولا,بند کیا ,پھر کھولا پھر بند کیا ,دوسرےسے رابطہ کیا ,واٹس ایپ ڈلیٹ کیا پھر کھولا مگر لا حاصل ؛بعد میں پتہ چلا کہ بعض تکنیکی خرابی کی وجہ سے یہ دقت آئی ہے ۔
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ “اس بات پر اب تقریبا اجماع قائم ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا سے دوری ,مہجوری اس دور کے ناممکنات میں سے ہوگیا ہے”
سوشل میڈیا کے اگر کچھ مثبت اور کار آمد و فائدہ مند اثرات مرتب ہوے ہیں ,تو دوسری طرف اس نے بیشمار منفی پہلو بھی معاشرہ کو پروسے ہیں ,ان میں سے چند کا تذکرہ فائدے سے خالی نہ ہوگا :۔
(1) وقت کا بے جا ضیاع
گروپس میں آنے والے سینکڑوں پیغامات، غیر ضروری ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھنے میں روزانہ کئی گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ کام کے دوران بھی بار بار اپنا موبائل چیک کرتے ہیں جس سے ان کی توجہ (Focus) بری طرح متاثر ہوتی ہے,حد تو یہ ہے کہ بعض لوگوں کو یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد امام کے سلام پھیرتے ہی سب سے پہلے اپنا موبائل چیک کرتے ہیں ؛گروپوں کے احوال پر گہری نظر ڈالنے سے ایک بات یہ واضح اور ظاہر ہوتی ہے کہ اکثر (جس میں اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی ہوتی ہے)لوگ اپنے دن رات کا بیشتر حصہ ان گروپوں میں ضائع کرتے ہیں,لگتا ایسا ہے کہ ان کے پاس بیجا تبصرہ جات,لا یعنی کمنٹس ,بیہودہ تنقیدیں ,لا اساس معلومات کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں اور نہ ہی ان کے پاس دوسرا کوئی کام ہے ؟
یہ لوگ اپنا وقت تو ضائع کرتے ہی ہیں ،دوسرے مشغول اور بے تحاشا مصروف لوگوں کے اوقات بھی کھاجاتے ہیں بلکہ چبا جاتے ہیں ،حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں جو وقت کی قدر و قیمت نہیں جانتے ہیں اور نہ کرنا چاہتے ہیں ۔
(2) ذہنی تناؤ اور کوفت
گروپ میں ہونے والی بحث و تکرار، بعض دفعہ جنگ و جدال ،سبّ و شتم ،لعن طعن اور گالم گلوج تک پہنچ جاتی ہے،کتنے تعلقات انہی گروپوں میں اٹھا پٹخ کی وجہ سے بگڑے ہیں،کتنی طلاقیں اسی سوشل میڈیا کی دین اور مرہونِ منت ہیں ،ہم نے گروپوں میں اکثر دیکھا ہے کہ جب بحث و مباحثہ شروع ہوتا ہے تو صرف مباحثہ تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ اٹھا پٹخ کا اکھاڑا بن جاتا ہے ,گالم گلوج کا مرکز اور طعن و تعریض کا سینٹر اور حقیقی جہاں تصور کیا جانے لگتا ہے ۔
(3) غلط معلومات کی تشہیر (Fake News)
واٹس ایپ گروپس "افواہ سازی" کا سب سے بڑا مرکز بن چکے ہیں۔ بغیر تصدیق کے دینی معلومات ،طبی مشورے، سیاسی افواہیں اور مذہبی پیغامات آگے بڑھانے سے معاشرے میں گمراہی اور بے چینی پھیلتی ہے؛حد تو یہ ہوتی ہے کہ بعض عام باتوں کو نبیٔ کریمﷺ کی حدیث بناکر اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کا حوالہ دے کر بھی پیش کیا جاتا ہے اور بعض لوگ دھڑلے سے اسے شیئر(SHARE )بھی کرتے ہیں اور شیئرکرنے کی عام دعوت بھی دیتے ہیں حالانکہ نبیٔ کریمﷺ کا واضح پیغام اور مؤکد تعلیم ہے,چناں چہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ۔رضی اللہ عنہ۔ کہتے کہ:( سَمِعتُ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يقولُ: إنَّ كَذِبًا عليَّ ليس كَكَذِبٍ على أحَدٍ، مَن كَذَبَ عليَّ مُتَعَمِّدًا فليَتَبَوَّأْ مَقعَدَه مِنَ النَّارِ)[صحیح بخاری :1291][ میں نے نبی کریم ﷺسے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے]،اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی طرف جو بات منسوب کی جاتی ہے،وہ دین وشریعت بن جاتی ہے ،لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی،اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا،اتنا ہلکا ا,سہل ور آسان نہیں ہے،جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے،کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا،جو آپ ﷺ کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
(4) پرائیوسی (نجی معلومات) کا خطرہ
کسی بھی گروپ میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا موبائل نمبر گروپ کے تمام اراکین (جنہیں آپ شاید جانتے بھی نہ ہوں) کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس سے نمبر کے غلط استعمال اور غیر متعلقہ کالز یا پیغامات کا خطرہ بڑھ جاتا ہےْجس سے کبھی کبھار بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
(5) غیر ضروری ڈیٹا اور اسٹوریج کا بوجھ
گروپس میں آنے والی تصاویر اور ویڈیوز موبائل کی میموری (Storage) کو بہت جلد بھر دیتی ہیں۔ اس سے نہ صرف فون سست ہو جاتا ہے بلکہ انٹرنیٹ ڈیٹا بھی تیزی سے ختم ہوتا ہے۔
(6) سماجی دوری اور بدتہذیبی
گروپس میں اکثر لوگ ایک دوسرے کی بات کا غلط مطلب نکال لیتے ہیں، جس سے برسوں پرانے اور حسین و خوبصورت تعلقات میں دراڑ پیدا ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ، آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کا رواج کم ہوتا جا تاہے، افہام و تفہیم کا مادہ زیرو (صفر)ہوتا جا رہا ہے ,جس سے حقیقی سماجی تعلقات اور روابط کمزور پڑ رہے ہیں,باہمی دوستیاں خاک میں مل رہی ہیں,تعلقات خراب ہو رہے ہیں,مراسم میں سوراخ پیدا ہوتا جا رہا ہے ،نفرتیں عام ہوتی جارہی ہیں،عداوتیں جڑ پکڑ رہی ہیں ،اوردشمنیاں عروج پر ہیں ،فااللہ المستعان ۔
(7)حکومت کا شکنجہ :ہم میں سے اکثر لوگوں کو سوشل میڈیا نے محرّر ,قلمکار ,انشاء پرداز بنا دیا ہے اور کج مج جیسے ہو،لکھنا ضرور سکھا دیا ،اس سے قطع نظر کہ لکھنے کے بعدنتائج کیا برآمد ہوں گے ؟اس کے اثرات کیا ہوں گے ؟اس کے کیا خطرناک اور بھیانک انجام کیا ہو سکتے ہیں؟اس سے کوئی مطلب نہیں ۔
حالانکہ کبھی کبھار اس کے بڑے برے نتائج اور عبرتناک انجام سامنے ہوتے ہیں ,عید الفطر کے بعد 31/ 3/ 2026 کومیں نے ایک تحریر لکھی تھی جس کا عنوان :“پہلے تول پھر منہ سے بول“تھا ,جسے میرے فیس بک پیج سے آپ پڑھ سکتے ہیں ۔
۔آپ سب جانتے ہیں ,ابھی کچھ دنوں پہلے ایک مشہور خطیب و مقرر کا واقعہ پوری دنیا نے دیکھا اور سنا کہ انہوں نے ایک حاکم کے خلاف تقریبا دو سال قبل لب کشائی کی تھی ،اور حکومت کی تلوار ایک مدت مدید کے بعد لٹکی اور انتہائی غیر قانونی منظم انداز سے گرفتاری عمل میں آئی , پھر کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا ،پوری تفصیلات سے ہم سب آشنا ہیں ،جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ،یہ تو بھلا ہوا کہ کسی صاحبِ شبِ زندہ دار کی دعا کام آگئی اور دس بارہ دن میں ہی ۔الحمد للہ۔ ضمانت پر رہا کر دیے گئے ورنہ ایسے معاملات میں لمبی تحقیق ہوتی ہے ۔
۔ایک شیخ کے بارے میں پتہ چلا کہ ایک حاکم کے خلاف غیر مناسب تبصرہ پر دو سال کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔
(8)کتابوں سے دوری :
سچ پوچھئے تو جب سے سوشل میڈیا نے اپنے پاؤں پسارے اور ہمارے ذہن و دماغ پر اپنا مضبوط قبضہ جمایا ہے,کتابوں سے دور بہت دور جا چکے ہیں,اب نہ مطالعہ کا وقت ہے نہ پڑھنے کی فرصت اور نہ ضرورت ۔
سب کچھ ہم سوشل میڈیا کو ہی سمجھ لیا ہے ،کون کتابوں کی طرف مراجعت کرنے جائے ،کیوں اور کیسے جائے ؟وقت ملے تو مراجعت کرے نا!
حد تو یہ ہے کہ اب طلبہ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں اور کئی کئی گروپوں میں شامل ہیں ۔
خلاصہ ٔ کلام اینکہ ہم گروپ گروپ ضرور کھیلیں ,تبصرے ضرور کریں لکھیں اور خوب لکھیں مگر گروپ گروپ کھیلنے اور تبصرے کرنے پہلے تھوڑا انجام اور نتائج پر بھی غور کر لیں کہ تبصرہ کہیں بھاری نہ پڑ جائے
اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور حق و سچ کہنے کی توفیق دے ،آمین یا رب العالمین
اٹیچمنٹس
-
204.9 KB مناظر: 5