• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابن القيم الجوزیہ کی کتاب الروح کے بارے میں شیخ بن باز کی رائے

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
813
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
ابن القيم الجوزیہ کی کتاب الروح کے بارے میں شیخ بن باز کی رائے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه أجمعين۔

ابن القيم الجوزیہ بلاشبہ بڑے معروف علماء میں سے ہیں اور ان کی بہت سی کتابیں علم و حکمت سے بھرپور ہیں۔ لیکن اہل سنت کا طریقہ یہ نہیں کہ کسی شخصیت کو معصوم سمجھ لیا جائے۔ کسی عالم کی کتاب خواہ کتنی ہی مشہور اور مفید کیوں نہ ہو، وہ قرآن و سنت سے بالاتر نہیں ہوتی، اور نہ ہی ان کی ہر لکھی ہوئی بات بلا تحقیق قبول کی جا سکتی ہے۔

شیخ ابن باز نے کتاب الروح کے متعلق فرمایا :

كتاب الروح لابن القيم كتاب عظيم، كتاب عظيم الفائدة، ولكن وقع فيه بعض التساهل في حكايات المرائي المنامية، وبعض التساهل في بعض الأحكام، ولعله كان من أول كتبه رحمه الله، ومن ذلك ما ذكر من إهداء القرب إهداء القرآن للموتى، قراءة القرآن هذا فيه نظر.

ابن القیم کی کتاب الروح ایک عظیم کتاب ہے، نہایت فائدہ مند اور علمی فوائد سے بھرپور کتاب ہے۔ لیکن اس میں بعض مقامات پر خوابوں اور منامی حکایات نقل کرنے میں کچھ تساہل پایا جاتا ہے، اور بعض فقہی مسائل میں بھی کچھ نرمی و تسامح واقع ہوا ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے، رحمہ اللہ۔ انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جس میں انہوں نے نیک اعمال کا ثواب، خصوصاً قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب، مردوں کو ہدیہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ مردوں کے لیے قرآن پڑھ کر ثواب پہنچانے کے مسئلے میں نظر اور کلام ہے۔

فالمقصود: أنه كتاب عظيم ومفيد، ولكن فيه بعض الأشياء التي تلاحظ عليه، فالواجب أن توزن بالأدلة الشرعية، الواجب أن توزن بالأدلة الشرعية، والمرائي المنامية لا يعتمد عليها في الأحكام، نعم.

مقصود یہ ہے کہ یہ ایک عظیم اور مفید کتاب ہے، لیکن اس میں بعض ایسی باتیں موجود ہیں جن پر علمی تنبیہ کی جاتی ہے۔ لہٰذا واجب یہ ہے کہ ان امور کو شرعی دلائل کی روشنی میں پرکھا جائے۔ اور خوابوں اور منامی واقعات پر شرعی احکام کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ جی ہاں۔


[تقييم كتاب الروح لابن القيم]

6779.jpg

شیخ بن باز نے دو بڑے امور کی نشاندہی فرمائی خوابوں و منامی حکایات پر زیادہ اعتماد اور بعض فقہی مسائل میں تساہل، خصوصاً مردوں کو قرآن کا ثواب پہنچانے کے مسئلے میں، کیونکہ کتاب الروح کو بہت سے لوگ ایسی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں گویا اس کی ہر روایت اور ہر حکایت قطعی حق ہو، حالانکہ اس میں ایسی متعدد حکایات موجود ہیں جن کی بنیاد خوابوں، کشف و کرامات یا غیر ثابت آثار پر ہے۔ اور اہل سنت کا متفقہ اصول یہ ہے کہ یہ شرعی دلیل نہیں ہوتے۔

شریعت قرآن، سنت صحیحہ، اجماع اور معتبر دلائل سے ثابت ہوتی ہے، نہ کہ کسی کے خواب، کشف، الہام یا مردوں سے متعلق حکایات سے۔ اسی طرح بعض لوگ کتاب الروح کی حکایات سے قبروں، مردوں اور ارواح کے متعلق غلو پر مبنی عقائد اخذ کرنے لگتے ہیں، حالانکہ عقیدہ توقیفی باب ہے؛ یعنی اس میں صرف وہی بات قبول ہوگی جو صحیح دلیل سے ثابت ہو۔

لہٰذا عوام الناس کو چاہیے کہ کتاب الروح کو عقیدہ کی اصل کتاب نہ سمجھیں، اس کی ہر روایت اور ہر حکایت کو تحقیق کے بغیر قبول نہ کریں، خوابوں، کشف، کرامت و الہام پر دین کی بنیاد نہ رکھیں اور محققین علماء کی شرح اور تنبیہات کے ساتھ ہی ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں۔

اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ علماء کے احترام کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ہر بات کو بلا دلیل قبول کر لیا جائے۔ بلکہ حقیقی اتباع یہ ہے کہ حق کو دلیل کے ساتھ پہچانا جائے، اور جہاں خطا ہو وہاں تنبیہ کی جائے۔ میزان ہمیشہ کتاب و سنت ہوگی، نہ کہ خواب، حکایات یا شخصیات۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
 
Top