ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 838
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
بھینس کی قربانی سے احتیاط- حافظ زبير على زئی کے فتویٰ کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، أما بعد:
یہ بات اہل علم کے ہاں مسلم ہے کہ قربانی ایک عظیم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے، اور عبادات کے باب میں اصل توقیف ہے؛ یعنی عبادت اسی طرح ادا کی جائے گی جس طرح کتاب و سنت سے ثابت ہو۔ لہٰذا قربانی کے جانوروں میں بھی وہی اجناس معتبر ہوں گی جنہیں شارع نے مشروع قرار دیا ہے۔
حافظ زبير علی زئی نے بھینس کی قربانی کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے ابتداء ہی میں یہ ذکر فرمایا کہ "اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری کی قربانی کتاب وسنت سے ثابت ہے۔"
یہ اس مسئلہ کی بنیاد ہے؛ کیونکہ مشروع قربانی وہی ہے جو نصوص شرعیہ سے ثابت ہو۔ چنانچہ کسی جانور کو محض قیاس، عرف یا فقہی تخریج کی بنا پر قربانی میں داخل کرنا محتاج دلیل ہے۔
پھر حافظ صاحب نے یہ بھی نقل فرمایا کہ "یہ بات بالکل صحیح ہے کہ بھینس گائے کی ایک قسم ہے، اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے۔" اور اس پر امام ابن المنذر اور ابن قدامة کے اقوال ذکر کیے۔
لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ یہ اجماع "زکوٰۃ" کے باب میں منقول ہے، نہ کہ "قربانی" کے باب میں۔ اسی لیے حافظ صاحب نے خود وضاحت فرمائی کہ "زکوۃ کے سلسلے میں، اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کی جنس میں سے ہے۔"
یہاں ایک نہایت اہم اصولی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ ہر وہ چیز جو زکوٰۃ میں ایک جنس شمار ہو، ضروری نہیں کہ وہ قربانی میں بھی بلا دلیل مشروع ہو جائے۔ کیونکہ زکوٰۃ اور قربانی دونوں کے ابواب الگ الگ ہیں، اور ہر عبادت کے اپنے مستقل دلائل ہوتے ہیں۔
مثلاً فقہاء نے بہت سے مسائل میں زکوٰۃ، بیوع، نکاح اور اطعمة کے ابواب میں مختلف اعتبارات کو ملحوظ رکھا ہے۔ لہٰذا صرف زکوٰۃ کے حکم کو بنیاد بنا کر قربانی کے جواز پر قطعی حکم لگانا محل نظر ہے۔
اسی لیے حافظ زبير علی زئی نے باوجود اس اجماع کے، آخر میں نہایت محتاط اور قابل غور فتویٰ دیا:
"تاہم چونکہ رسول اللہ صلی السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے صراحتاً بھینس کی قربانی کا کوئی ثبوت نہیں، لہذا بہتر یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے۔"
[فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام، جلد: ٢، صفحہ: ١٨١-١٨٢]
قربانی محض ایک مالی معاملہ نہیں بلکہ شعیرہ دینیہ اور عبادت محضہ ہے، اور عبادات میں اصل اتباع ہے، نہ کہ قیاس مجرد۔ لہٰذا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام سے بھینس کی قربانی کا صریح اور واضح ثبوت موجود نہیں، تو احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ انہی جانوروں پر اکتفا کیا جائے جن کا ثبوت قطعی نصوص سے موجود ہے۔
پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ عرف اور مشاہدے میں بھینس اور گائے دو الگ حیوانات سمجھے جاتے ہیں، ان کی شکل، طبیعت، آواز، رنگت اور استعمالات میں نمایاں فرق ہے۔ اسی لیے بہت سے فقہاء نے قسم اور دیگر مسائل میں دونوں کے احکام الگ ذکر کیے ہیں۔ لہٰذا صرف نوع من البقر کہہ دینا کافی نہیں جب تک قربانی کے باب میں مستقل شرعی دلیل موجود نہ ہو۔
اسی بنا پر اہل علم کی ایک جماعت نے احتیاط اور اتباع سنت کے پیش نظر بھینس کی قربانی سے اجتناب کو راجح قرار دیا ہے، اور یہی قول شبہات سے زیادہ دور اور نصوص کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے۔
والله تعالى أعلم بالصواب۔