ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 824
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
عہدِ صحابہ میں بھینس کی زکاۃ دی گئی، قربانی نہیں۔
تحریر: کفایت اللہ سنابلی
صحابہ وتابعین واتباع تابعین یہی اصل سلف ہیں جن کا فہم حجت ہے اور بعد کے آنے والے تمام فقہاء و ائمہ کے فہم پر مقدم ہے۔ بلکہ ان سلف میں بھی صحابہ کا فہم بعد کے تابعین واتباع تابعین کے فہم پر مقدم ہے۔
صحابہ کے دور میں اس بات کا تو ثبوت ملتا ہے کہ بھینس کی زکاۃ دی گئی، لیکن اس بات کا قطعا ثبوت نہیں ملتا کہ بھینس کی قربانی بھی کی گئی ۔ لہٰذا بھینس کی قربانی جو خالص عبادت ہے اس کا ثبوت نہ تو قرآن وحدیث میں ہے اور نہ ہی عہد صحابہ (اصل سلف ) سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ لہٰذا ایسا کرنے والے نہ تو قرآن و حدیث پر ہیں اور نہ ہی منہجِ سلف پر ہیں۔
✿ ”تابعین“ کے اقوال ✿
① تابعی عمر بن عبد العزيز (المتوفی 101) کا قول:
أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ «أَنْ تُؤْخَذَ، صَدَقَةُ الْجَوَامِيسِ كَمَا تُؤْخَذُ صَدَقَةُ الْبَقَرِ»[ الأموال لابن زنجويه 2/ 851 الأموال لأبي عبيد ص476 وإسناده صحيح ، ابن زنجويه وأبو عبيد من الحفاظ]
اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمان صادر کیا کہ: ”بھینسوں میں بھی ویسے ہی زکاۃ لی جائے جیسے گایوں میں لی جاتی ہے“
فضل الرحيم الودود کے مؤلف نے اس سند کو صحیح قرار دیتے ہوئے لکھا:
«وهذا مقطوع على الخليفة عمر بن عبد العزيز بسند صحيح.»
”یہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا فرمان ہے اس کی سند صحیح ہے“
[فضل الرحيم الودود تخريج سنن أبي داود 19/ 463 ]
② تابعی امام حسن بصری (المتوفی 110) کا قول:
حَدَّثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يقول: الجواميس بمنزلة البقر[ مصنف ابن أبي شيبة : -كتاب الزكاة: باب في الجواميس تعد في الصدقة ، 6/ 406 وإسناده صحيح ، أشعث هو ابن عبدالملك وهو ثقة]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: « الجواميس بمنزلة البقر» ، ”بھینسیں گائےکے درجے میں ہیں“
نوٹ :- تابعی عمر بن عبد العزيز اور حسن بصری رحمہما اللہ کی وفات تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔
تنبیہ: ”مسائل الإمام أحمد وإسحاق“ میں بے سند وبے حوالہ لکھا ہوا ہے: «قال الحسن: تذبح عن سبعة »
”حسن فرماتے ہیں کہ سات کی طرف سے اس (بھینس ) کی قربانی ہوگی“
[ مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راهويه 8/ 4027]
عرض ہے کہ: امام اسحاق رحمہ اللہ (المولود بعد 170) اور امام احمد رحمہ اللہ (المولود 164) دونوں میں سے کسی کی بھی ملاقات حسن بصری(المتوفی110) سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ حسن بصری کی وفات کے کئی سالوں بعد ان دونوں ائمہ کی پیدائش ہوئی ہے ۔ لہٰذا یہ قول بے سند و بے حوالہ ہونے کے سبب مردود ہے ۔
اس کتاب کے محقق نے حاشیہ میں لکھا ہے:
«لم أعثر على قول الحسن البصري رحمه الله فيما رجعت إليه من مراجع، إلا أن ابن قدامة نقل عنه قوله: إن البدنة تجزئ عن سبعة، وكذلك البقرة»
”میں نے جن مراجع (کتابوں) کی طرف رجوع کیا، ان میں مجھے حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ قول نہیں ملا، سوائے اس کے کہ ابن قدامہ نے ان سے نقل کیا ہے کہ: اونٹ سات لوگوں کی طرف سے کافی ہوتا ہے، اور اسی طرح گائے بھی۔“
[ مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راهويه 8/ 4027 ]
ممکن ہے کہ حسن بصری رحمہ اللہ کے قول ”گائے میں سات حصے ہو سکتے ہیں“ سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہو کہ بھینس میں بھی ان کا یہی موقف ہے۔ تاہم یہ قول کسی بھی طرح ثابت نہیں، لہٰذا یہ مردود ہے۔
③ تابعی عکرمہ بن خالد بن العاص المخزومي رحمہ اللہ (المتوفی بعد 115) کا قول:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: ”اسْتُعْمِلْتُ عَلَى صَدَقَاتِ عَكٍّ، فَلَقِيتُ أَشْيَاخًا مِمَّنْ صَدَّقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلْتُهُمْ، فَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: اجْعَلْهَا مِثْلَ صَدَقَةِ الْإِبِلِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: فِي ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: فِي أَرْبَعِينَ بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، وَالْجَوَامِيسُ تُعَدُّ فِي الصَّدَقَةِ كَالْأَبَاقِيرِ“[مصنف ابن أبي شيبة، ت الحوت: 2/ 433 رقم 10748 وإسناده صحيح إلي عكرمة بن خالد وقال الحافظ ابن حجر في الدراية (1/ 252 ) : وإسناده صحيح]
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ ایک روایت بیان کرنے کے بعد آخر میں کہتے ہیں : «وَالْجَوَامِيسُ تُعَدُّ فِي الصَّدَقَةِ كَالْأَبَاقِيرِ» یعنی ”بھینسیں صدقے میں گایوں کی طرح شمار کی جاتی ہیں“
✿ ”اتباع تابعین“ کے اقوال ✿
① امام سفيان ثوری رحمہ الله (المتوفى 161) کا قول:
عبد الرزاق، عَنِ الثَّوْريِّ قَالَ:…وَتُحْسَبُ الْجَوَامِيسُ مَعَ الْبَقَرِ …[مصنف عبد الرزاق:-کتاب الزکاۃ : باب البقر ، 4/ 337 وإسناده صحيح]
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”(زکاۃ میں) بھینسوں کا حساب گائے کے ساتھ ہوگا“
تنبیہ: ”مسائل الإمام أحمد وإسحاق“ میں بے سند وبے حوالہ لکھا ہوا ہے: قال سفيان :… «والجواميس تجزئ عن سبعة » ”سفیان ثوری نے کہا: بھینسیں سات افراد کی طرف سے کافی ہیں“
[مسائل أحمد وإبن راهويه، ن دار الهجرة: 2/ 374]
عرض ہے کہ: امام اسحاق رحمہ اللہ (المولود بعد 170) اور امام احمد رحمہ اللہ (المولود 164) دونوں میں سے کسی کی بھی ملاقات سفیان ثوری (المتوفي161) سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ سفیان ثوری کی وفات کے کئی سال بعد ان دونوں ائمہ کی پیدائش ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ قول بے سند و بے حوالہ ہونے کے سبب مردود ہے ۔
② امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ (المتوفی 150) کا قول:
آپ کے حوالے سے آپ کے شاگرد ابویوسف نقل کرتے ہیں :
« والجواميس والبخت بمنزلة الإبل والبقر» [الخراج لأبي يوسف :- فصل: في الصدقات،ص: 90]
یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا کہ:”بھینسیں اور بخاتی (دو کوہان والے) اونٹ، گائے اور اونٹوں کے درجے میں ہیں۔“
تنبیہ:- احناف بھینس کی قربانی کے قائل ہیں، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایسا کوئی قول ثابت نہیں ہے ۔
③ امام مالك رحمہ الله (المتوفى179) کا قول:
«وكذلك البقر والجواميس، تجمع في الصدقة على ربها. وقال: إنما هي بقر كلها » [موطأ مالك ت عبد الباقي: 1/ 260]
”اور اسی طرح گائے اور بھینسیں ہیں، ان کے مالک پر زکوٰۃ (کے حساب) میں ان دونوں کو ایک ساتھ اکٹھا کیا جائے گا۔ اور انہوں نے فرمایا: یہ سب گائے ہیں“
تنبیہ:- مالکیہ بھینس کی قربانی کے قائل ہیں لیکن امام مالک رحمہ اللہ سے ایسا کوئی قول ثابت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ سے بھینس کی قربانی کا قول ثابت ہے لیکن یہ دونوں اہل علم نہ صحابہ ہیں، نہ تابعین ہیں اور نہ اتباع تابعین میں سے ہیں ۔
بعض اہل علم نے امام شافعی رحمہ اللہ کو « اتباع تابعین » میں شمار کیا لیکن اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ایسی کوئی روایت نہیں پائی جاتی جس سے ثابت ہو کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کسی تابعی سے ملاقات کی ہے یا کسی تابعی سے کوئی روایت بیان کی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کو ”اتباع اتباع التابعین“ کے طبقہ میں رکھا ہے دیکھیں: [الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 9/ 30]
قارئین کرام ! مذکورہ تمام حوالوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سلف نے زکاۃ کے مسئلہ میں تو ”بقر“ میں جاموس (بھینس ) کو شامل کیا ہے ۔ لیکن سلف نے قربانی کے مسئلہ میں بھی بھینس کو ”بقر“ میں شامل کیا ہو اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس لئے بھینس کی قربانی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
جو حضرات ”بقر“ کے عموم میں بھینس کو شامل مان کر قربانی کی بات کرتے ہیں، وہ اس نص کا ایسا فہم پیش کررہے ہیں جو سلف کے فہم کے خلاف ہے۔ اس لیے قرآن و حدیث اور سلف کے منہج و فہم کی روشنی میں بھینس کی قربانی درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔