ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 825
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
حاکمیت اور تشریع کے باب میں مدخلیوں کی تحریفات پر شیخ محمد بن سعید اندلسی کی تنبیہات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد:
مرجئہ عصر اور مدخلیوں نے حاکمیت اور تشریع جیسے عظیم باب میں شدید انحراف پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو چھوڑ کر انسانوں کے وضع کردہ قوانین سے فیصلے کرنے والے طاغوتی نظاموں کو محض فسق یا کفر دون کفر قرار دے کر ان کے لیے شرعی جواز تراشنے کی کوشش کی۔ پھر انہی فاسد تاویلات کی بنیاد پر عوام کو ان طاغوتی حکومتوں کی اطاعت، وفاداری اور دفاع کی دعوت دی گئی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾»
معاصر مرجئہ خصوصا مدخلی فکر کے لوگ ایمان کو صرف قلبی اعتقاد تک محدود کرتے ہیں، جبکہ اعمال ظاہرہ، نظام حکم اور تشریع کو ایمان کے لوازم سے خارج کر دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی حکومت اللہ کی شریعت کو معطل کر کے پارلیمنٹ، آئین یا انسانی عقل کو مصدر قانون سازی بنا دے، تب بھی وہ مسلمان ہے جب تک زبان سے استحلال نہ کرے۔ یہی وہ ارجائی اصول ہے جس نے پہلے جہمیہ کو گمراہ کیا اور آج اسی نے مدخلیوں کو طاغوتی نظاموں کا محافظ بنا دیا۔
اسی حقیقت کو شیخ محمد بن سعید اندلسی نے واضح کرتے ہوئے فرمایا:
«المدخلية التقليدية وأفراخهم من النسخة المحدثة يتفقون أن الأصل في الحكم بالقانون الوضعي المبدل هو كفر دون كفر ولا يكون كفرا أكبر إلا بالاستحلال» یعنی تقلیدی مدخلیوں اور ان کے پیروکاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تبدیل شدہ وضعی قوانین کے ذریعے فیصلہ کرنا اصل میں کفر دون کفر ہے، اور صرف استحلال کی صورت میں وہ کفر اکبر بنتا ہے۔
پھر شیخ نے اس عقیدے کی اصل بنیاد بیان کرتے ہوئے فرمایا: «وهذا القول يجري على أصول الجهمية حذو القذة بالقذة» یعنی مدخلیوں کی یہ بات دراصل جہمیہ کے اصولوں کی بعینہ پیروی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حاکمیت اور تشریع کو اپنی الوہیت و ربوبیت کے خاص حقوق میں شمار کیا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں بار بار یہ اصل بیان کی گئی کہ حکم صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾» اور فرمایا: «﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾»
اسی اصل عظیم میں مدخلیوں نے انحراف پیدا کیا۔ انہوں نے طاغوتی و وضعی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے والے حکمرانوں کے بارے میں یہ اصول گھڑ لیا کہ یہ کفر دون کفر ہے، اور صرف استحلال سے کفر اکبر بنتا ہے۔ شیخ اندلسی نے اسی فاسد تفریق پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا:
«أما التفصيل بين المعصية والمباح فهو سفسطة أو تلفيق متناقض لا يجري على أصل مطرد بل هو إلى الخرافة العلمية أمثل» یعنی معصیت اور مباح کرنے کے درمیان جو تفصیل یہ لوگ کرتے ہیں، یہ محض بے معنی فلسفہ اور متناقض جوڑ توڑ ہے جو کسی مضبوط اور مستقل اصول پر قائم نہیں بلکہ علمی خرافات سے زیادہ مشابہ ہے۔
پھر شیخ نے سوال اٹھایا: «إذا: ما هو مستمسك هؤلاء في جعل الحكم والتحاكم معصية؟» آخر ان لوگوں کے نزدیک طاغوتی عدالتوں کا حکم اور ان میں فیصلے کروانا اگر صرف معصیت ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟
پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: «نقول أن مستمسكهم الآثار الواردة عن التابعين في آية المائدة وليس لهم إلا ذلك» یعنی ان کا سہارا صرف وہ آثار ہیں جو تابعین سے سورہ مائدہ کی آیت کے متعلق منقول ہیں، اور حقیقت میں ان کے پاس انہی آثار کے علاوہ کچھ نہیں۔
اس کے بعد شیخ اندلسی نے ان آثار کے غلط استعمال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: «حيث عمد الجهمية إلى تنزيل الآثار الواردة على بعض ولاة الجور من أمراء بني أمية في الطواغيت المبدلين للشريعة في هذا الزمان» یعنی جہمیہ نے ان آثار کو، جو بعض ظالم اموی حکمرانوں کے بارے میں وارد ہوئے تھے، آج کے ان طواغیت پر منطبق کر دیا جنہوں نے شریعت کو ہی بدل ڈالا ہے۔
یہ نہایت اہم فرق ہے، کیونکہ سلف کے بعض آثار ان مسلمان حکمرانوں کے متعلق تھے جو اصل میں شریعت ہی سے حکومت کرتے تھے لیکن بعض مواقع پر ظلم یا گناہ کا ارتکاب کرتے تھے۔ جبکہ معاصر طاغوتی حکمران تو سرے سے شریعت کو معطل کر کے انسانی قوانین کو اصل مرجع بنا دیتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں کو ایک قرار دینا حقیقت میں نصوص کی تحریف ہے۔
اسی لیے شیخ اندلسی نے فرمایا: «بل حكموا بإسلام - بهذه الآثار - الطواغيت وأمروا بطاعتهم ونهوا عن الخروج عليهم» یعنی انہی آثار کی بنیاد پر انہوں نے طاغوتوں پر اسلام کا حکم لگایا، لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کے خلاف خروج سے منع کیا۔
نیز فرمایا: «فجعلوا هذه الآثار التي قيلت في واقع معين وأمراء معينين حاكمة على الأصول في باب الحكم بغير ما شرع الله» انہوں نے ان آثار کو، جو ایک خاص واقعہ اور مخصوص حکمرانوں کے متعلق تھے، اللہ کی شریعت کے علاوہ دوسرے قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کے باب میں اصول شرعیہ پر حاکم بنا دیا۔
حالانکہ اہل سنت کا اصول یہ ہے کہ محکم نصوص کو اصل بنایا جائے اور جزوی آثار کو انہی کے تابع رکھا جائے، نہ کہ بعض احتمالی آثار کی بنیاد پر قرآن و سنت کے واضح اصولوں کو معطل کر دیا جائے۔
اسی لیے شیخ اندلسی نے فرماتے ہیں: «وبالتالي جعلوا الأصل في الحكم بغير شرع الله كفر دون كفر ولاشك أن هذا من التحريف الممنهج لهذه القضية العظيمة» یعنی نتیجتا انہوں نے غیر اللہ کے قانون کے مطابق حکم کرنے کی اصل حقیقت کو کفر دون کفر قرار دے دیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اس عظیم مسئلے میں منظم تحریف ہے۔
پھر شیخ نے اصل نزاع کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: «إذ كيف يتم التسوية بين حاكم مسلم استمداد حكمه من الكتاب والسنة ، وبين طاغوت استمداد حكمه من الأرباب المشرعين» یعنی ایک ایسے مسلمان حاکم جو کتاب و سنت سے حکم لیتا اس کی ایسے طاغوت سے برابری کیسے کی جا سکتی ہے جو اپنے قوانین انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں اور قانون سازوں سے لیتا ہو؟
یہی اصل فرق ہے کہ ایک مسلمان قاضی اگر کسی معاملے میں ظلم یا خواہش نفس سے غلط فیصلہ کرے تو وہ گناہگار ہو سکتا ہے، مگر وہ شریعت ہی کو اصل مصدر مانتا ہے۔ جبکہ وہ حکمران یا نظام جو پارلیمنٹ، آئین، جمہوریت یا انسانی عقل کو مصدر تشریع بنا دے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے حق حاکمیت میں شرکت کرتا ہے۔
اسی لیے شیخ اندلسی نے فرمایا: «وقد سبق معنا التفريق بينهما - ومن ثم تحكيم تلك الصور على الأصل المحكم في كتاب الله تعالى ...» اور اس سے پہلے ہم دونوں کے درمیان فرق بیان کر چکے ہیں، پھر یہ لوگ انہی مخصوص صورتوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے محکم اصل پر حاکم بنا دیتے ہیں…
اس کے بعد شیخ اندلسی نے عصر حاضر کے عدالتی نظاموں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: «ونحن في مثل هذا الزمان الذي خلا من قاض مسلم مستند حكمه الكتاب والسنة، إذ كل القضاة الممكنين دون استثناء مستند حكمهم المواد التي شرعها لهم الأرباب والشركاء سواء وافقت حكم الله أو خالفت ولا اعتبار لهم للموافقة أو المخالفة»
یعنی ہم ایسے زمانے میں ہیں جہاں کوئی ایسا مسلمان قاضی موجود نہیں جس کے فیصلوں کا مصدر کتاب و سنت ہو، بلکہ تمام موجودہ قاضی بلا استثناء انہی دفعات اور قوانین پر فیصلے کرتے ہیں جو ان کے لیے ان کے خود ساختہ قانون سازوں اور شریک ٹھہرائے گئے معبودوں نے مقرر کیے ہیں، خواہ وہ اللہ کے حکم کے موافق ہوں یا مخالف۔ اور ان کے نزدیک موافقت یا مخالفت کی کوئی حیثیت نہیں۔
[أضواء أثرية على نوازل الحاكمية، ص : ١٤٥]
لہٰذا اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ مدخلیوں کے ان شبہات سے ہوشیار رہیں، اور کتاب و سنت کے محکم اصولوں کو مضبوطی سے تھامیں کیونکہ توحید کا تقاضا یہ ہے کہ حکم، تشریع، تحلیل اور تحریم کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص مانا جائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔