ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 826
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
مردوں سے دستگیری اور قبر سے روزانہ دو آنے کا وظیفہ!
دیوبندی اکابرین کی جانب سے کرامت کے نام پر شرکیہ عقائد کی ترویج
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه وصحبه أجمعين، أما بعد:
اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کو توحید کی دعوت دے کر مبعوث فرمایا اور توحید کا تقاضا ہے کہ عبادت، دعا، استعانت، استغاثہ، خوف، امید اور توکل صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے خاص کیے جائیں۔ لیکن دیوبندی اکابرین نے اپنی کتابوں میں ایسی حکایات نقل کی ہیں جو عوام الناس کے اندر قبروں سے استعانت اور مردوں سے فریاد کے عقائد کو تقویت دیتی ہیں۔
چنانچہ اشرف علی تھانوی نے "امداد المشتاق" میں لکھا ہے :
جب اثر مزار شریف کا بیان آیا تو فرمایا کہ میرے حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا۔ بعد انتقال حضرت کے مزار شریف پر عرض کیا کہ حضرت میں بہت پریشان اور روٹیوں کا محتاج ہوں، کچھ دستگیری فرمائیے۔ حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنے یا آدھ آنہ روز ملا کرے گا۔ ایک مرتبہ میں زیارت مزار کو گیا وہ شخص بھی حاضر تھا، اس نے کل کیفیت بیان کر کے کہا کہ مجھے ہر روز وظیفہ مقررہ پائین قبر سے ملا کرتا ہے۔ (حاشیہ) قولہ وظیفہ مقرر، اقول یہ منجملہ کرامات کے ہے۔
[امداد المشتاق الی اشرف الاخلاق، صفحہ: ١١٥]
غور کیجیے! اس حکایت میں ایک محتاج شخص اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر قبر میں دفن مردے سے فریاد کر رہا ہے، اس سے رزق اور دستگیری طلب کر رہا ہے، اور پھر اس پورے عمل کو تھانوی نے کرامت قرار دیا ہے۔
اگر محتاجی اور پریشانی کے وقت قبروں کو پکارنا جائز ہوتا تو انبیاء علیہم السلام سب سے پہلے اس کی تعلیم دیتے، لیکن قرآن مجید کی ہر دعوت بندے کو براہ راست اپنے رب کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾ پس اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ [سورۃ الجن: ١٨] اور فرمایا: ﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسے کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہ دے سکے۔ [سورۃ الأحقاف: ٥]
مذکورہ حکایت میں "حضرت! کچھ دستگیری فرمائیے" کہنا درحقیقت غیر اللہ سے فریاد اور استعانت کی تعلیم ہے، جبکہ قرآن ایسی پکار کو گمراہی قرار دیتا ہے۔ اس قصے میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک مردہ شخص اپنی قبر سے روزانہ وظیفہ جاری کرتا تھا۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ بے شک اللہ ہی رزق دینے والا، بڑی قوت والا اور مضبوط ہے۔ [سورۃ الذاریات: ٥٨] اور فرمایا: ﴿أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ﴾ اگر اللہ اپنا رزق روک لے تو کون ہے جو تمہیں رزق دے سکے؟ [سورۃ الملک: ٢١]
قرآن کہتا ہے کہ رزق صرف اللہ دیتا ہے، جبکہ یہ حکایت عوام کے ذہن میں یہ تصور پیدا کرتی ہے کہ قبروں میں مدفون مردے سنتے اور جواب دیتے ہیں! رزق تقسیم کرتے ہیں!
جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ [سورۃ النمل: ٨٠] اور فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُم﴾ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کسی چیز کے مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری فریاد رسی نہیں کر سکتے۔ [سورۃ فاطر: ١٣-١٤]
لہٰذا قبر سے جواب آنے اور وہاں سے وظیفہ جاری ہونے کے دعوے قرآن کی واضح نصوص سے متصادم ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسی قسم کے اعمال کے بارے میں واضح طور پر فرماتے ہیں:
«أن يسأل الميت حاجة، أو يستغيث به فيها، كما يفعله كثير من الناس بكثير من الأموات، وهو من جنس عبادة الأصنام، ولهذا تتمثل لهم الشياطين على صورة الميت أو الغائب كما كانت تتمثل لعبادة الأصنام، بل أصل عبادة الأصنام إنما كانت من القبور، كما قال ابن عباس وغيره، وقد يرى أحدهم القبر قد انشق وخرج منه الميت، فعانقه أو صافحه أو كلمه، ويكون ذلك شيطانا تمثل على صورته ليضله»
مردے سے اپنی حاجت طلب کرنا یا اپنی مصیبت و پریشانی میں اس سے فریاد رسی چاہنا، جیسا کہ بہت سے لوگ بہت سے مردوں کے ساتھ کرتے ہیں، درحقیقت بتوں کی عبادت ہی کی ایک قسم ہے۔ اسی وجہ سے شیاطین ان لوگوں کے سامنے کبھی مردہ شخص اور کبھی کسی غائب انسان کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس طرح وہ بتوں کے پجاریوں کے سامنے ظاہر ہوتے تھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بت پرستی کی ابتدا ہی قبروں سے ہوئی تھی، جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر اہل علم نے بیان کیا ہے۔ بسا اوقات ان میں سے کوئی شخص یہ بھی دیکھتا ہے کہ قبر پھٹ گئی ہے اور مردہ اس میں سے نکل آیا ہے، پھر اس نے اس سے معانقہ کیا، مصافحہ کیا یا گفتگو کی۔ حالانکہ دراصل وہ مردہ نہیں ہوتا بلکہ ایک شیطان ہوتا ہے جو اس کی شکل اختیار کرکے اسے گمراہ کرنے کے لیے ظاہر ہوا ہوتا ہے۔
[الاستغاثة في الرد على البكري، ص : ١١٣]
جو حکایت لوگوں کو یہ سکھائے کہ فقر میں قبر پر جاؤ، محتاجی میں مردوں کو پکارو، رزق کے لیے مزارات سے امید رکھو، مشکلات میں اللہ کے بجائے قبروں سے دستگیری طلب کرو، تو ایسی حکایت شرک اور غلو کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
پس ایک مسلمان کے لیے یہی شایان شان ہے کہ وہ اپنی تمام حاجات، امیدیں، دعائیں اور فریادیں صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سامنے پیش کرے، کیونکہ رزق دینے والا، فریاد سننے والا، مشکل کشا اور حاجت روا صرف اللہ رب العالمین ہے، نہ کہ قبروں میں مدفون مردے۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توحید خالص پر ثابت قدم رکھے اور ہر قسم کے شرک، بدعت اور غلو سے محفوظ فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين۔