ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 838
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
عاشوراء کے ماتمی مراسم اور یوم غدیر کو عید بنانا دونوں روافض کی خود ساختہ بدعات ہیں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه ومن والاه، أما بعد:
دین اسلام کتاب و سنت اور فہم صحابہ رضی اللہ عنہم پر قائم ہے۔ اس میں کسی شخص، جماعت یا فرقے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق نئے دینی شعائر، تہوار یا رسوم ایجاد کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اسلام نے ہر اس بدعت کا رد کیا ہے جو سلف صالحین کے طریقے کے خلاف ہو۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ روافض کی بعض مشہور بدعات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«أقامت الرافضة رسم يوم عاشوراء من النوح واللطم والبكاء وتعليق المسوح وغلق الأسواق» یعنی روافض نے یوم عاشوراء کے موقع پر نوحہ، سینہ کوبی، رونا پیٹنا، سوگ کی علامات ظاہر کرنا اور بازار بند کرنے کی رسم قائم کر رکھی ہے۔
پھر فرماتے ہیں: «وعملوا العيد والفرح يوم الغدير، وهو ثامن عشر ذي الحجة» اور انہوں نے غدیر کے دن، جو اٹھارہ ذوالحجہ ہے، عید اور خوشی کا تہوار بنا رکھا ہے۔
[تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج : ٨، ص : ٢٦]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے واضح کیا کہ روافض نے دین میں دو متضاد مگر یکساں طور پر باطل راستے ایجاد کیے ایک طرف عاشوراء کو ماتم، نوحہ اور سینہ کوبی کا دن بنا دیا، اور دوسری طرف یوم غدیر کو عید اور جشن کا دن قرار دے دیا۔ حالانکہ دونوں امور شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب دی، اسے فضیلت والا دن قرار دیا اور اس دن اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار کرنے کی تعلیم دی۔ لیکن روافض نے اسی دن کو نوحہ، چیخ و پکار، گریہ و زاری، سینہ کوبی اور جسم کو زخمی کرنے کی رسومات کا مرکز بنا دیا۔
اسی طرح روافض نے اٹھارہ ذوالحجہ کو "عید غدیر" کے نام سے ایک تہوار گھڑ لیا۔ حالانکہ اگر غدیر خم کا دن واقعی ایسا عظیم دن تھا جسے ہر سال بطور عید منانا مطلوب تھا تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی وضاحت فرماتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس دن کی عید منانے کا حکم دیتے اور اس کی فضیلت و احکام بیان فرماتے۔
لیکن ایک بھی مستند ثبوت ایسا موجود نہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ "غدیر کا دن میری امت کی عید ہے" یا ہر سال اس دن جشن منانے کا حکم دیا ہو۔ مزید یہ کہ خود اہل بیت سے بھی اس دن کو عید قرار دینا ثابت نہیں۔ اگر یہ دن واقعی دینی عید ہوتا تو سب سے بڑھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد اس کا اہتمام کرتے، حالانکہ تاریخ اس سے خالی ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا یہ فرمان «وعملوا العيد والفرح يوم الغدير» اس بات کی دلیل ہے کہ یوم غدیر کو عید بنانا روافض کا ایجاد کردہ عمل ہے، نہ کہ اسلام کی تعلیم۔
اسلام میں عیدیں توقیفی ہیں، یعنی ان کا ثبوت وحی سے ہونا ضروری ہے۔ جس دن کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عید قرار نہ دیا ہو، اسے عید بنانا دین میں نئی بدعت ایجاد کرنا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی مندرجہ بالا عبارت اس حقیقت کو آشکارا کرتی ہے کہ عاشوراء کے ماتمی مراسم اور عید غدیر دونوں روافض کے خود ساختہ بدعات ہیں۔ ان کا تعلق نہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، نہ عمل صحابہ سے۔
لہٰذا مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامے اور اہل بیت سے محبت کے نام پر دین میں بدعات اور رسومات گھڑنے سے اجتناب کرے جن کی کوئی شرعی اصل موجود نہیں۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔