Ahmad Ashraf
مبتدی
- شمولیت
- اپریل 30، 2026
- پیغامات
- 3
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 3
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہمارے بریلوی بھائیوں کا کہنا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں اور اسی طرح تمام انبیاء کرام علیہ السلام پر بھی ان کی امتوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں۔ اس اس حوالے سے وہ کچھ دلیل بھی دیتے ہیں تو ہم ان کی ایک ایک دلیل کو دیکھیں گے جو وہ پیش کرتے ہیں۔ اور ہم اس بات کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے دعوے میں کتنے مضبوط ہیں۔
دلیل نمبر: 1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنَ الْأَمْوَاتِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالُوا اللهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا
’’ تمہارے اعمال تمہارے عزیز و اقارب میں سے مرنے والوں پر پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر اعمال بہتر ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر بہتر نہ ہوں تو وہ کہتے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو ان کو اتنی دیر تک موت نہ دے جب تک انہیں ہماری طرح ہدایت نہ دے دے۔ “ [مسند احمد، حدیث نمبر 12683]
اس روایت کی سند میں سفیان اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے درمیان مجہول راوی ہے اس لئے یہ روایت ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد : 331، 332]
دلیل نمبر: 2
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ (بھی) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو“۔
[سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2916]
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے. امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو غریب اس وجہ سے کہا ہے کہ اس کی سند میں مطلب بن عبداللہ راوی ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرتا ہے، حالانکہ مطلب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ بلکہ کسی بھی صحابی سے سماع نہیں کیا. [بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 208]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو غریب اس وجہ سے کہا ہے کہ اس کی سند میں مطلب بن عبداللہ راوی ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرتا ہے، حالانکہ مطلب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ بلکہ کسی بھی صحابی سے سماع نہیں کیا۔
.اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں
.میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا
محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضرین میں موجود تھا
میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے
عبداللہ (دارمی یہ بھی) کہتے ہیں: علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2916]
دلیل نمبر: 3
حلية الاولياء : 6/ 179، كنزالعمال : 5/ 318 پر مروی روایت:
ان اعمال امتي تعرض علي في كل يوم جمعة واشتد غضب الله علي الزناة
’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر جمعہ کو مجھ پر میری امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ زنا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب بہت سخت ہوتا ہے۔‘‘
یہ روایت بھی انتہائی ضعیف ہے۔ اس کی سند میں دو راوی مجروع ہیں۔ احمد بن عیسیٰ بن ماہان الرازی، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں جھوٹی روایتیں بیان کرتا تھا اور عجیب و غریب روایات نقل کرتا تھا۔ محدثین نے اس پر کلام کیا ہے۔ [ميزبان الاعتدال : 1/ 128، لسان الميزان : 1/ 244]
اس روایت کا دوسرا راوی عباد بن کثیر بصری بھی متکلم فیہ ہے۔ لہٰذا یہ روایت بھی قابل حجت نہیں۔
اسی مضمون کی دو اور روایتیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہیں۔ ایک روایت کو امام ابن عدی رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے۔ [الكامل : 2/ 127]
اس کی سند میں فراش بن عبداللہ ساقط الاعتبار ہے اور دوسری روایت میں محمد بن عبدالملک بن زیاط ابوسلمہ انصاری ہے جو من گھڑت اور جھوٹی روایتیں بیان کرتا ہے۔ جسے امام ابن طاہر نے کذاب کہا ہے۔ [سلسلة الاحاديث الضعيفة : 975 : 2/ 404۔ 406]
دلیل نمبر: 4
عن عبداﷲبن مسعود… قال: وقال رسول اﷲ ﷺ حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ كَانَتْ وَفَاتِي خَيْرًا لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَإِنْ رَأَيْتُ خَيْرًا حَمِدْتُ اللَّهَ ، وَإِنْ رَأَيْتُ شَرًّا اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری زندگی تمہاری بھلائی کے لیے ہے اور میں تم سے بات کروں گا، اور میری موت تمہاری بھلائی کے لیے ہے۔ تیرے اعمال میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، تو میں نے جو بھی بھلائی دیکھی، اس پر اللہ کا شکر ادا کیا، اور جو برائی دیکھی، میں نے اللہ سے تیرے لیے معافی مانگی۔ ( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب علامات النبوّة، مایحصل لأمّتها من استغفاره بعد وفاته، (۹/۲۴) ط: دار الکتاب بیروت، ۱۹۷۸م)
محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ( 1435ھ)
اُصولِ حدیث کا مشہور و معروف مسئلہ ہے کہ مدلس راوی (یعنی جس کا مدلس ہونا ثابت ہو) کی عن والی روایت ناقابل حجت یعنی ضعیف ہوتی ہے.
اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
جیسا کہ اپ دیکھ سکتے ہیں کہ اوپر راویوں کی سند بتلائی نہیں جا رہی سیدھا یہ روایت عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے شروع ہو رہی ہے اس سے پہلے راوی کیا ہے وہ مجہول ہے۔
لہذا ہمارے بریلوی بھائی کا یہ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں یہ کہ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ یہ عقیدہ صحابہ کرام کا بھی نہیں اور کسی صحیح روایت سےبھی ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ صحابہ کرام کا یہ کہنا تھا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم پرامت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس ہمیں صحیح احادیث ملتی ہے کہ ہمارے اعمال اللہ کے ہاں پیش کیے جاتے ہیں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں اور اس کے حوالے سے ہمیں بہت سی مسند اور صحیح روایات ملتی ہیں۔
دلیل نمبر: 1
’’اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے میں جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر کسی دوسرے مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں رب العالمین کی طرف اعمال کو اُٹھایا جاتا ہے میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حالت میں اُٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہوں۔‘‘ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
دلیل نمبر: 2
’’اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس دن اللہ کے ہاں اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل پیش ہو تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔‘‘ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2436]
دلیل نمبر: 3
’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ”مرفوع“ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: ”ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) پیش کئے جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان دنوں میں ہر ایسے شخص کی مغفرت کر دیتا ہے، جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے اس شخص کے، جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی ہو، تو حکم ہوتا ہے ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔ ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1005] [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6544]
دلیل نمبر: 4
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کے وقت فرشتے یکے بعد دیگرے تمہارے پاس آتے رہتے ہیں اور وہ نماز فجر اور نماز عصر میں اکٹھے ہوتے ہیں، پھر وہ فرشتے، جنہوں نے تمہارے ہاں رات بسر کی ہوتی ہے، اوپر چڑھتے ہیں، ان کا رب ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کے متعلق بہتر جانتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حال (یعنی آخری عمل) پر چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں، جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور جب ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ “ متفق علیہ۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 626] قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
یہ حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے کہ صبح و شام ہمارے اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ اور ہمارے بریلوی بھائیوں کے اس عقیدے کی نفی بھی کرتا ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر روز صبح شام اپنی امت کے اعمال تفصیلا پیش ہوتے ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہمارے بریلوی بھائیوں کا کہنا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں اور اسی طرح تمام انبیاء کرام علیہ السلام پر بھی ان کی امتوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں۔ اس اس حوالے سے وہ کچھ دلیل بھی دیتے ہیں تو ہم ان کی ایک ایک دلیل کو دیکھیں گے جو وہ پیش کرتے ہیں۔ اور ہم اس بات کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے دعوے میں کتنے مضبوط ہیں۔
دلیل نمبر: 1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنَ الْأَمْوَاتِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالُوا اللهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا
’’ تمہارے اعمال تمہارے عزیز و اقارب میں سے مرنے والوں پر پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر اعمال بہتر ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر بہتر نہ ہوں تو وہ کہتے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو ان کو اتنی دیر تک موت نہ دے جب تک انہیں ہماری طرح ہدایت نہ دے دے۔ “ [مسند احمد، حدیث نمبر 12683]
اس روایت کی سند میں سفیان اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے درمیان مجہول راوی ہے اس لئے یہ روایت ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد : 331، 332]
دلیل نمبر: 2
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ (بھی) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو“۔
[سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2916]
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے. امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو غریب اس وجہ سے کہا ہے کہ اس کی سند میں مطلب بن عبداللہ راوی ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرتا ہے، حالانکہ مطلب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ بلکہ کسی بھی صحابی سے سماع نہیں کیا. [بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 208]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو غریب اس وجہ سے کہا ہے کہ اس کی سند میں مطلب بن عبداللہ راوی ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرتا ہے، حالانکہ مطلب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ بلکہ کسی بھی صحابی سے سماع نہیں کیا۔
.اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں
.میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا
محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضرین میں موجود تھا
میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے
عبداللہ (دارمی یہ بھی) کہتے ہیں: علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2916]
دلیل نمبر: 3
حلية الاولياء : 6/ 179، كنزالعمال : 5/ 318 پر مروی روایت:
ان اعمال امتي تعرض علي في كل يوم جمعة واشتد غضب الله علي الزناة
’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر جمعہ کو مجھ پر میری امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ زنا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب بہت سخت ہوتا ہے۔‘‘
یہ روایت بھی انتہائی ضعیف ہے۔ اس کی سند میں دو راوی مجروع ہیں۔ احمد بن عیسیٰ بن ماہان الرازی، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں جھوٹی روایتیں بیان کرتا تھا اور عجیب و غریب روایات نقل کرتا تھا۔ محدثین نے اس پر کلام کیا ہے۔ [ميزبان الاعتدال : 1/ 128، لسان الميزان : 1/ 244]
اس روایت کا دوسرا راوی عباد بن کثیر بصری بھی متکلم فیہ ہے۔ لہٰذا یہ روایت بھی قابل حجت نہیں۔
اسی مضمون کی دو اور روایتیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہیں۔ ایک روایت کو امام ابن عدی رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے۔ [الكامل : 2/ 127]
اس کی سند میں فراش بن عبداللہ ساقط الاعتبار ہے اور دوسری روایت میں محمد بن عبدالملک بن زیاط ابوسلمہ انصاری ہے جو من گھڑت اور جھوٹی روایتیں بیان کرتا ہے۔ جسے امام ابن طاہر نے کذاب کہا ہے۔ [سلسلة الاحاديث الضعيفة : 975 : 2/ 404۔ 406]
دلیل نمبر: 4
عن عبداﷲبن مسعود… قال: وقال رسول اﷲ ﷺ حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ كَانَتْ وَفَاتِي خَيْرًا لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَإِنْ رَأَيْتُ خَيْرًا حَمِدْتُ اللَّهَ ، وَإِنْ رَأَيْتُ شَرًّا اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری زندگی تمہاری بھلائی کے لیے ہے اور میں تم سے بات کروں گا، اور میری موت تمہاری بھلائی کے لیے ہے۔ تیرے اعمال میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، تو میں نے جو بھی بھلائی دیکھی، اس پر اللہ کا شکر ادا کیا، اور جو برائی دیکھی، میں نے اللہ سے تیرے لیے معافی مانگی۔ ( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب علامات النبوّة، مایحصل لأمّتها من استغفاره بعد وفاته، (۹/۲۴) ط: دار الکتاب بیروت، ۱۹۷۸م)
محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ( 1435ھ)
اُصولِ حدیث کا مشہور و معروف مسئلہ ہے کہ مدلس راوی (یعنی جس کا مدلس ہونا ثابت ہو) کی عن والی روایت ناقابل حجت یعنی ضعیف ہوتی ہے.
اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
جیسا کہ اپ دیکھ سکتے ہیں کہ اوپر راویوں کی سند بتلائی نہیں جا رہی سیدھا یہ روایت عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے شروع ہو رہی ہے اس سے پہلے راوی کیا ہے وہ مجہول ہے۔
لہذا ہمارے بریلوی بھائی کا یہ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں یہ کہ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ یہ عقیدہ صحابہ کرام کا بھی نہیں اور کسی صحیح روایت سےبھی ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ صحابہ کرام کا یہ کہنا تھا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم پرامت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس ہمیں صحیح احادیث ملتی ہے کہ ہمارے اعمال اللہ کے ہاں پیش کیے جاتے ہیں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں اور اس کے حوالے سے ہمیں بہت سی مسند اور صحیح روایات ملتی ہیں۔
دلیل نمبر: 1
’’اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے میں جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر کسی دوسرے مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں رب العالمین کی طرف اعمال کو اُٹھایا جاتا ہے میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حالت میں اُٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہوں۔‘‘ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
دلیل نمبر: 2
’’اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس دن اللہ کے ہاں اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل پیش ہو تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔‘‘ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2436]
دلیل نمبر: 3
’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ”مرفوع“ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: ”ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) پیش کئے جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان دنوں میں ہر ایسے شخص کی مغفرت کر دیتا ہے، جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے اس شخص کے، جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی ہو، تو حکم ہوتا ہے ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔ ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1005] [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6544]
دلیل نمبر: 4
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کے وقت فرشتے یکے بعد دیگرے تمہارے پاس آتے رہتے ہیں اور وہ نماز فجر اور نماز عصر میں اکٹھے ہوتے ہیں، پھر وہ فرشتے، جنہوں نے تمہارے ہاں رات بسر کی ہوتی ہے، اوپر چڑھتے ہیں، ان کا رب ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کے متعلق بہتر جانتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حال (یعنی آخری عمل) پر چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں، جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور جب ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ “ متفق علیہ۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 626] قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
یہ حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے کہ صبح و شام ہمارے اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ اور ہمارے بریلوی بھائیوں کے اس عقیدے کی نفی بھی کرتا ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر روز صبح شام اپنی امت کے اعمال تفصیلا پیش ہوتے ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
اٹیچمنٹس
-
86.8 KB مناظر: 14
-
62 KB مناظر: 10