• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمع مؤنث سالم کا اعراب

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
837
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
جمع مؤنث سالم کا اعراب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جمع مؤنث سالم عربی زبان کی ایک آسان قسم کی جمع ہے۔ اور اس کا قاعدہ نہایت سادہ ہے۔ جمع مؤنث سالم اس جمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ مؤنث (عورتوں یا مؤنث چیزوں) پر دلالت کرے اور جس کے آخر میں "ات" کا اضافہ کیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر مسلمة کی جمع مسلمات، طالبة کی جمع طالبات اور مؤمنة کی جمع مؤمنات بنتی ہے۔ ان مثالوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اصل لفظ اپنی جگہ باقی ہے، صرف آخر میں "ات" لگا دیا گیا ہے، اسی لیے اسے "سالم" یعنی محفوظ رہنے والی جمع کہا جاتا ہے۔

جمع مؤنث سالم کا اعراب یاد رکھنے کے لیے صرف ایک چھوٹا سا قاعدہ ذہن میں رکھیں وہ یہ کہ جمع مؤنث سالم رفع میں ضمہ کے ساتھ آتی ہے، جبکہ نصب اور جر دونوں میں کسرہ کے ساتھ آتی ہے۔ یعنی مرفوع ہوگی تو آخر میں ضمہ ہوگا، منصوب ہوگی تو آخر میں کسرہ ہوگا اور مجرور ہوگی تو بھی آخر میں کسرہ ہوگا۔


قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُجب آپ کے پاس مؤمن عورتیں آئیں۔

اس آیت میں المؤمناتُ فاعل ہے۔ چونکہ فاعل مرفوع ہوتا ہے، اس لیے آخر میں ضمہ آیا ہے۔ لہٰذا ہم کہیں گے: المؤمناتُ: فاعل مرفوع، وعلامة رفعه الضمة۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِجب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو۔

یہاں المؤمناتِ مفعول بہ ہے۔ مفعول بہ منصوب ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ جمع مؤنث سالم ہے، اس لیے نصب کی علامت فتحہ نہیں بلکہ کسرہ ہے۔ اس لیے ہم کہیں گے: المؤمناتِ: مفعول به منصوب، وعلامة نصبه الكسرة۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّاور مؤمن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

یہاں المؤمناتِ حرف جر "لام" کے بعد آئی ہے، اس لیے مجرور ہے۔ چونکہ جمع مؤنث سالم ہے، اس لیے جر کی علامت بھی کسرہ ہے۔ لہٰذا ہم کہیں گے: المؤمناتِ: اسم مجرور باللام، وعلامة جره الكسرة۔

ان تینوں مثالوں سے ایک بات اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ:
  • المؤمناتُ = مرفوع (ضمہ)
  • المؤمناتِ = منصوب (کسرہ)
  • المؤمناتِ = مجرور (کسرہ)
لہٰذا یاد رکھنے کے لیے یہ مختصر جملہ کافی ہے: جمع مؤنث سالم رفع میں ضمہ لیتی ہے اور نصب و جر میں کسرہ لیتی ہے۔

اب ایک اہم بات سمجھ لیجیے۔ ہر وہ لفظ جس کے آخر میں "ات" آتی ہو، ضروری نہیں کہ وہ جمع مؤنث سالم ہی ہو۔ مثلا: أبيات، أصوات، أوقات، أموات، أقوات یہ الفاظ بظاہر جمع مؤنث سالم معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ جمع مؤنث سالم نہیں بلکہ جمع تكسير ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جمع مؤنث سالم میں "ات" جمع بنانے کے لیے زائد طور پر آتی ہے، جبکہ ان الفاظ میں تاء اصل لفظ کا حصہ ہے۔ مثلا: أبيات کا واحد بيت ہے، أصوات کا واحد صوت ہے، أوقات کا واحد وقت ہے اور أموات کا واحد ميت ہے۔ لہٰذا یہ جمع تكسير ہیں، جمع مؤنث سالم نہیں۔

7919.jpg

اس پورے سبق کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی مؤنث لفظ کے آخر میں "ات" لگا کر جمع بنائی جائے، جیسے: مسلمات، مؤمنات، طالبات، تو اسے جمع مؤنث سالم کہتے ہیں۔ اس کا اعراب یہ ہے کہ رفع میں ضمہ اور نصب و جر میں کسرہ آتا ہے۔ البتہ ہر "ات" والا لفظ جمع مؤنث سالم نہیں ہوتا، بلکہ بعض الفاظ جمع تكسير بھی ہوتے ہیں، اس لیے ان میں فرق کرنا ضروری ہے۔ یہی جمع مؤنث سالم کا نہایت آسان اور بنیادی قاعدہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
 
Top