• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عمرؓ کے بعد کب ہوا عمرؓ پیدا

شمولیت
دسمبر 26، 2025
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
عمر رضی اللہ عنہ پر کروڑوں سلام......انکی جرات کو سلام....انکی خلافت کو سلام...انکے روشن کردار کو سلام....انکی غیرت کو سلام...ان کی سادگی کو سلام، ان کے تقویٰ کو سلام، ان کے ایثار کو سلام، ان کی حق گوئی کو سلام،ان کی بے مثال قیادت کو سلام۔اور انکے نام پر فدا ہونے والے ہر دل،ہر قلم کو بھی لاکھوں سلام......ہم غلامان عمرؓ، عمر رضی اللہ عنہ کے قدموں پر قربان.........جی ہاں ،آج میں اپنے قلم سے خلیفہ ثانی امام المجاہدین،مرادِ رسول ﷺ، امامُ العادلین،عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سلام عقیدت و محبت پیش کرنا چاہتی ہوں......اور کیوں کرنا چاہتی ہوں کیونکہ عمر وہ ہیں کہ تمام صحابہ ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرید ہیں اور عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہیں......عمؓر وہ ہیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا کہ اللہ مجھے عمر دین کی سربلندی کے لئے عطا فرما.....عمرؓ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی قبولیت ہیں.....عمر رضی اللہ عنه وہ مرد آہن کہ جب ایمان لایا تو مکہ خوشی کے نعروں اللہ اکبر سے گونج اٹھا تھا...فضا مسرت سے مسکرارہی تھی،ہر کوئی خوش و مسرور تھا....عمر وہ ہیں جس نے اعلان کر کے پہلی دفعہ کعبه میں نماز پڑھی اور اعلانیہ ہجرت کی...وہ عمرؓ جسکی جرات و ہیبت سے کفار لرز اٹھے تھے...تھر تھر کانپ اٹھے تھے....عمر تو وہ ہیں کہ شیطان بھی ان سے ڈرتا تو کفار پر تو وہ بجلی بن کر کڑکے تھے..مسلمان چھپ کر ہجرت کرتے تھے مگر عمر نے جب ہجرت کی تو اس ایمانی جرات کی شان سے کی کہ طواف کیا اسکے بعد تلوار ہاتھ میں اٹھاۓ شیر کی طرح گرجے:جس نے اپنی بیوی بیوہ اور بچے یتیم کرنے ہوں تو مجھے آکر وہ روکے!عمر رضی اللہ عنہ کی اس جرات و ایمانی غیرت پر لاکھوں سلام.....عمر رضی اللہ عنہ،وہ آدھی دنیا کا حکمران تھا مگر خود کو عوام کا خادم سمجھتا تھا،پیوند زدہ لباس پہنتا تھا،کھجور کی چٹائی پر سوتا تھا،فقر و فاقہ کرتا تھا،بیت المال سے ایک درہم لینا بھی اپنے لئے جائز نہیں سمجتا تھا........وہ ایسا بادشاہ تھا کہ قیصر و کسری کے خزانے اسکے قدموں میں ڈھیر تھے،دولت کی کنجیاں اسکے ہاتھوں میں تھی،مگر اس نے خود اپنی مرضی سے بادشاہی میں فقیری اختیار کی،وہ ایسا بادشاہ تھا کہ فقر جسکے لئے فخر تھا،درویشی جسکی ادا تھی،جسکے لباس پر سترہ پیوں تھے مگر زندگی پر کوئی داغ نہ تھا،عمر وہ تھا کہ ایک مرتبہ آپ کی صاحبزادی (حضرت حفصہؓ) نے روٹی کے ساتھ زیتون اور ٹھنڈا شوربہ ملا کر آپ کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ "ایک برتن میں دو سالن؟ میں اسے کبھی نہیں چکھوں گا" اور رونے لگے...........اس لیے میں نے کہا ایسی صفات رکھنے والے میرےعظیم عمرؓ پر لاکھوں سلام.... ایک مرتبہ میرےعمر رضی اللہ عنہ ایک جگہ پر موجود ہیں.... دیکھا ایک بچہ زور زور سے رورہا ہے،بار بار اسکی ماں کو فرمارہے اسے بہلاؤ،کافی دیر تک بھی بچہ چپ نہ ہوا تو جلال میں آگئے اور فرمایا بچہ رو رو کر ہلکان ہورہا ہے،تو کتنی بے رحم ماں ہے،اسے چپ نہیں کراتی بہلا کر،عورت اس مرد جواں کو پہچانتی نہیں تھی بولی،تو خواہ مخواہ مجھ کو جھڑک رہا ہے،بات یہ ہے کہ امیر المومنین نے حکم دیا ہے کہ بچے جب تک ماں کا دودھ پیتے رہیں بیت المال سے انکا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے،اسلیے میں اسکا دودھ چھڑاتی ہوں اور اسلیے یہ رورہا ہے،یہ سن کر عمر کا دل تڑپ اٹھا،آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا ہائے عمر!تو نے اس طرح کتنے بچوں کو دکھ دیا ہوگا....صبح ہوتے ہی اعلان کردیا جس دن بچہ پیدا ہو اس کو اسی دن وظیفہ دیا جائے گا،.....ہر کسی پر مہربان،شفیق میرے عمر پر لاکھوں سلام....اس مرد جواں پر لاکھوں سلام جس نےآدھی دنیا کا حکمران ہونے کے باوجود اپنے لئےاپنے گھر والوں کے لئے کچھ بھی نہ رکھا،اسکے اپنے گھر کی حالت یہ تھی کہ ١٨ ہجری میں جب قحط آیا تو وہ چاہتا تو اپنے گھر والوں کو ان دنوں بھی کھلا سکتا تھا ،مگر قربان جایئں اسکی خشیت الہی پر کہ اپنے اہل و عیال پر دودھ گھی وغیرہ پر پابندی لگادی،اور ان دنوں خود اسکا عجیب حال تھا،اکثر بھوکا رہتا،گوشت گھی وغیرہ بلکل چھوڑ دیا،اور پیاری سرخ و سفید رنگت بھوک اور امت کے غم سے سیاہ ہوگی تھی...قربان جائیں اس پاکیزہ روح پر جسکو معیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کندن بنا دیا تھا،سلام اس پر کہ لوگ کہتے تھے اگر قحط دور نہ ہوا تو امیر المومنین کو عوام کا غم ماردے گا....انہی دنوں ایک مرتبہ پیاس لگی تو ایک شخص سے پانی مانگا،اسکے پاس اتفاق سے شہد تھا وہی پیش کردیا مگر عمرؓ نے واپس کردیا اور فرمایا اگر قیامت کے دن مجھ سے پوچھ لیا گیا کہ لوگ روٹی کو ترس رہے تھے اور تو شہد کھا رہا تھا،تو میں کیا جواب دوں گا؟....... سلام عمر فاروقؓ کے قدموں پر کہ قحط کے دنوں میں ایک بچی کو دیکھا بھوک سے رورہی ہے ننھی بچی میں کھڑے ہونے کی سکت نہیں،ادھر ادھر گر رہی ہے،عمرؓ پوچھتے ہیں یہ کس کی بچی ہے جسکا بھوک سے ایسا حال ہوگیا ہے؟ تو جواب آتا ہےیہ آپکی اپنی پوتی ہے بھوک نے اسکی یہ حالت کردی ہے تو اسکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں......اللہ اللہ قربان جائیں اس پر.....عمر کا دل تڑپ اٹھا، کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ وہ بچی، جو پورے عالم کی عظیم سلطنت کے حکمران کی پوتی تھی، بھوک سے نڈھال زمین پر گر رہی تھی؛ کیونکہ عمرؓ نے اپنے گھر کو بھی عام مسلمانوں پر کوئی ترجیح نہ دی تھی....اپنی اولاد کے آنسوؤں کو امت کے آنسوؤں پر قربان کردیا تھا......عمرؓ نے حکومت نہیں کی تھی بلکہ امت کے درد کو اپنے سینے میں بسا لیا.....یہ وہی غم تھا جسکی وجہ سے عمرؓ اور بادشاہوں کی طرح محلات میں نہیں رہتے تھے بلکہ راتوں کو بھی یہ درد انکو تڑپا کر اٹھا دیتا تھا اور وہ عظیم سلطنت کے حاکم بے چین ہو کر گلیوں میں نکل جاتے اور گلیوں میں گشت کر کے رعیت کے حالات معلوم کرتے....عمرؓ تاریخ کے ایسے بادشاہ تھے کہ وہ خود ضرورت مندوں کے دروازے پر جاتے.....اور پھر بھی اس کی خشیت الہی کا کیا عالم تھا اللہ اللہ کہ لرزاں و ترساں ہوکر تڑپتے روتے اور ہاتھ اٹھا کہتے قحط کے دنوں میں کہ یا اللہ امت محمدیہ کو عمر کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہ کرنا...... عمرؓ ایسے بادشاہ تھے کہ جس نے نہ کوئی محل بنوایا،نہ گھر سجایا،نہ دروازے پر دربان محافظ مقرر کیے ،جو آنا چاہتا بے خوف و خطر آتا،جو کہنا چاہتا کہہ دیتا......ایک ایسا واقعہ کہ تاریخ کے صفحے پر پھر ایسی کوئی مثال نہ آئی....بیت المقدس فتح کرنے عمرؓ جارہے ہیں.....نہ جسم پر زرق برق لباس ہے نہ فوج ہے نہ دستے نہ جھنڈے.....بلکہ مسلمانوں کا خلیفہ ایک گھوڑے پر سوار ہے..دو تھیلے لٹک رہے ہیں،ایک مین کھجوریں اور ستو اور ایک پانی کا مشکیزہ......اور اپنی منزل میں اس حال میں پہنچتے ہیں کہ دھوپ سر پرپر رہی ہے،سر ننگا ہے،پاؤں بغیر رکاب کے لٹکے ہوئے،موٹے کھدر کی قمیض جو پرانی ہوکر پھٹ چکی ہے.....ایک موقع ایسا بھی آتا ہےکہ اس سفر میں کہ غلام اسلم سے فرماتے ہیں گھوڑا روکو غلام سمجھتا ہے کہ قضائے حاجت کرنا چاہتے ہیں مگر جب غلام روکتا ہے تو آدھی دنیا کا حکمران،عظیم سلطنت کا مالک خود نیچے اتر کر گھوڑے کی مہار پکڑ لیتا ہے اور غلام کو کہتا ہے سوار ہوجا،اب تو سوار ہوگا اور عمر گھوڑے کی مہار پکڑ کر پیدل چلے گا...اللہ اکبر!یہ وہ عمرؓ ہیں جس کے نام سے نصف دنیا کے ایوان لرزتے تھے، مگر جس کے دل میں تکبر کا ذرہ تک نہ تھا.....یہ ہیں میرے پیارے عمرفاروق رضی اللہ عنہ..... طاقت کے عروج پر بھی ایسی عاجزی سے بھرا دل...سلام ہو اسکی عاجزی پر سلام ہو میرے عمرؓ پر.....جب بیت القدس پہنچتے ہیں تو سفر کے درمیاں جوتا ٹوٹ گیا اور جوتا ایک ہاتھ میں دوسرے ہاتھ میں مہار،اسلم کہتا ہے اللہ کے واسطے امیر المومنین آپ سوار ہوجایے یہ لوگ کیا سوچیں گے،عمرؓ فرماتے ہیں نہیں ابھی تیری باری سوار ہونے کی ہے عمرؓ کی پیدل چلنے کی ہے.....اور پھر آپکو پتا ہے کیا ہوا؟عمرؓ کے ہاتھوں میں بیت المقدس کی چابیاں پکڑادی گئی بغیر لڑائی کے،ایسی فتح اللہ نے عطا کی............سلام ہو میرے عمرؓ کی سادگی اور عاجزی پر.............. ایک اور منظر آپکو دکھادوں..مدینہ کی گلیاں ہیں..دھوپ شدت سے پڑ رہی ہے....سورج پوری آب و تاب کے ساتھ سر پر کھڑا ہے....زمین گرم ہورہی ہے....ہر کوئی گرمی سے گھبرا کر گھر میں موجود ہے.....،مگر ایسے میں ان گلیوں میں امیر المومنین پریشان و بے قرار بھاگے جارہے ہیں......حضرت عمرؓ پر جان چھڑکنے والے او اپنی بیٹی سے عمرؓ کا نکاح کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں امیر المومنین خیریت ہے اس دھوپ میں آپ کہاں بھگے جارہے ہیں تو عمر جواب دیتے ہیں بیت المال کا ایک اونٹ کھوگیا ہے وہ تلاش کر رہا ہوں...علی ؓآبدیدہ ہو کر فرماتے ہیں امیر المومنین آپ نے اپنے بعد آنےوالوں کو تھکادیا.....یہ ہے شان میرے عمرؓ کی....اس لیے میں نے کہا تھا میرے عمر پر لاکھوں سلام..... عمرؓ وہ تھے جنکو امت کی فکر بے چین رکھتی تھی،جو امت کے غم میں گھلتے رہتے تھے .....عمرؓ،درد مندوں کا ملجا تھا،غریبوں کا ماوی تھا،یتیموں اور بیواؤں کا سہارا تھا،دردمندوں کے دکھوں کا مدوا کرنے والا،زخموں پر مرہم رکھنے والا،وہ بظاہر سخت تھا مگر اندر سے اتنا ہی نرم ور حساس.....لوگوں کا غم تنہا اپنی ناتواں جان پر کھانے والا...............ایک مرتبہ عمرؓ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص الٹے ہاتھ سے کھارہا ہے....جا کر کہا دائیں ہاتھ سے کھاؤ...اس نے کہا امیر المومنین میرا دایاں ہاتھ موتہ کی لڑائی میں شہید ہوگیا تھا،،یہ سن کر میرے عمر رونے لگے .اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور دکھ بھرے لہجے میں فرمارہے تھے افسوس تم کو وضو کون کراتا ہوگا،سر کون دھلاتا ہوگا،کپڑے کون پہناتا ہوگا..ی....پھر اسکی خدمت کے لئے نوکر مقرر کردیا،اور اسکی ضرورت کی تمام چیزیں اسکے گھر بھجوادیں......عمرؓ وہ تھے جو اپنی کمر پر بیوہ عورتوں کےلئے مشک بھر کرلے جارہے ہوتے تھے اور لوگ حیران سا دیکھ رہے ہوتا تھے....عمرؓ وہ تھےکہ راتوں کو گشت کرتے،گلیوں میں گھوم کر لوگوں کے حالات معلوم کرتے،لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتے اور خوف خدا کا یہ عالم تھا کہتے تھے اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ قیامت کے دن عمرؓ سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔...............حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ عمر کا تہبند دیکھا اس پر بائیس پیوند تھے.....کئی بار ایسا ہوتا کہ آدھی دنیا کے حکمران کے پاس صرف ایک ہی جوڑا ہوتا اسی کو دھوتے اور پہن لیتے،سر مبارک پر پھٹا پرانا عمامہ،کبھی ایک لمبی ٹوپی اور کبھی چادر ہوتی....پاؤں میں پھٹی پرانی تسمے جوتیاں تھیں،کبھی کبھی صرف تہبند پہنے ہی بازار گلیوں میں گشت کے لئے نکل جاتے،اسی حالت میں مدینہ میں گھوم رہے ہوتے،پھرتے پھراتے تھک جاتے تو مسجد کے ایک گوشے میں جاکر لیٹ جاتے.....کبھی سفر پر جاتے تو سواری کے جانور،ستوں کے تھیلے اور پانی کی چھاگل کے سوا کوئی سامان نہ ہوتا.....نہ خیمہ نہ بستر نہ شامیانہ،تھک جاتے تو درخت کے سائے میں آرام کرلیتے اور رات کو زمین پر ہی سو جاتے..ایک مرتبہ روم کے بادشاہ کا سفیر آیا،اسکا خیال تھا کہ بڑا سے عالی شان محل ہوگا،بے شمار پہرے دار اور وزیر ہونگے....مگر جب پہنچا تو حیران رہ گیا،پوچھتے پوچھتے انکے پاس پہنچا تو دیکھا درخت کے سائے میں لیٹے ہیں،کھدر کا لباس،ایک اینٹ پر سر رکھے سورہے ہیں....یہ دیکھ کر اسکا جسم کانپنے لگا عجیب حالت ہوگئی اور اسکے منہ سے نکلا:اے عمرؓ تم اپنی رعایا کے سچے خیر خواہ ہو.....تو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہو...... یہی وہ بات تھی کہ جب عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو رعایا خوش نہیں ہوئی کہ جان چھٹی،بلکہ عجیب حال تھا مدینہ کا،ہر آنکھ اشک بار تھی، ہر دل غم سے چور تھا،مسلمان جوق در جوق روتے ہوئے انکو دیکھنے آرہے تھے.....اپنے اس خلیفہ کو جس نے ہمیشہ ان کے دکھوں کو اپنا دکھ، ان کی بھوک کو اپنی بھوک اور ان کے آنسوؤں کو اپنے آنسو سمجھا تھا۔ آج وہی سایۂ شفقت، وہی باپ جیسا حکمران زخموں سے چور،موت کے لبے پر تھا،اس سے بڑا غم کیا تھا.....جب لوگ رورہے تھے تو اس وقت عمر کہہ رہا تھا کیا تم نہیں جانتے ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے،آنسو نہ بہاؤ اور رونے والے ادھر سے چلے جائیں.......ایک نوجوان کو اس حالت میں دیکھا کہ تہبند زمین کو چھو رہا ہے تو فرمایا بھتیجے!اپنا تہبند اونچا باندھو رب کے نزدیخ یہ پرہیزگاری کی بات ہے.....اللہ اکبر!قربان جائیں کہ اس نازک حالت میں بھی انکو سنت و شریعت کا کتنا خیال تھا........تین دن بعد یکم محرم کو یہ چاند ڈوب گیا....انا]للہ و انا الیہ راجعون......جب جنازہ چارپائی پر رکھا گیا تو علیؓ اپنے پیارے داماد کے جنازے پر کھڑے ہوکر فرمانے لگے:اللہ آپ پر رحم کرے.....خدا کی قسم مجھے امید تھی کہ اللہ آپکو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا کیونکہ اکثر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح فرماتے سنا میں گیا اور ابوبکر و عمر گئے میں داخل ہوا اور ابو بکر و عمر داخل ہوئے..........یوں اس عظیم مرد مومن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اکبر کا ساتھ نصیب ہوگیا.....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی خود ایک اعلان ہے دشمن اصحاب کے لئے کہ جن سے اللہ اور اس کے رسول محبت کریں، دنیا کی کوئی زبان انہیں کافر یا منافق قرار دے کر ان کی عظمت کو مٹا نہیں سکتی۔......اتنی عظمتوں اور رفعتوں والے عمرؓکے لئے پھر یہ مجھے کہنے دیجیے کہ عمرؓ پر لاکھوں کروڑوں سلام ہوں،ہم غلامان عمرؓ کی طرف سے عمرؓ کو لاکھوں سلام پہنچیں! متاع عام نہیں ہے خسرو درویشی
کب ایک شخص میں ہوتے ہیں یہ ہنر پیدا
جلال کا پیکر بنا قبا کا ہر پیوند
عمرؓ کے بعد کب ہوا عمرؓ پیدا
 
Top