ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 839
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
کیا کوئی مؤمن یزید سے محبت کر سکتا ہے ؟ امام احمد رحمہ اللہ کی طرف منسوب جھوٹا قول
تحریر: کفایت اللہ سنابلی
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے کہ آپ نے فرمایا : ”کیا کوئی مؤمن یزید سے محبت کرسکتا ہے“ ۔ عرض ہے کہ یہ بات سراسر جھوٹ ہے ۔ کسی بھی صحیح روایت میں امام احمد رحمہ اللہ کا ایسا قول ثابت نہیں ہے۔ اس سلسلے کی جو روایت پیش کی جاتی ہے اس کا جائزہ پیش خدمت ہے:
امام أبو يعلى بن الفراء (المتوفى458) نے کہا:
«رأيت بخط أبى حفص العكبرى على ظهر جزء فيه ’’فصل‘‘ کتب إلى أبو القاسم فرج بن السوادي قال: حدثنا أبو على الحسين ابن الجندى قال: حدثنا أبو طالب العكبرى قال: سمعت أبا بكر محمد بن العباس قال: سمعت صالح بن أحمد بن حنبل يقول: قلت لأبى: إن قوما ينسبونا إلى توالى يزيد. فقال: يا بنى وهل يتولى يزيد أحد يؤمن باللّه. فقلت: فلم لا تلعنه. فقال: ومتى رأيتنى ألعن شيئا . لم لا تلعن من لعنه اللّه فى كتابه.فقلت: وأين لعن اللّه يزيد فى كتابه فقرأ: فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وتُقَطِّعُوا أَرْحامَكُمْ أُولئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وأَعْمى أَبْصارَهُمْ»
[المسائل العقدية من كتاب الروايتين والوجهين لابی یعلی :ص 94 واخرجہ ایضا ابن الجوزی فی الرد على المتعصب العنيد ص: 28 ]۔
اردو ترجمہ: ”امام صالح کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا کہ لوگ ہماری طرف منسوب کرتے ہیں کہ ہم یزید سے محبت کرتے ہیں ، تو انہوں نے کہا: بیٹا ! کیا کوئی ایسا شخص یزید سے محبت کرسکتا ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو! تو میں نے کہا کہ: پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے ؟ تو انہوں نے کہا : تم نے مجھے کسی پر لعنت کرتے ہوئے کب دیکھا ہے ؟ اور تم اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے جس پر اللہ نے اپنی کتاب میں لعنت کی ہے؟ تو میں نے کہا: اللہ نے کہاں اپنی کتاب میں یزید پر لعنت کی ہے ؟ تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی :’’ اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے ‘‘۔“
[المسائل العقدية من كتاب الروايتين والوجهين لابی یعلی :ص 94 واخرجہ ایضا ابن الجوزی فی الرد على المتعصب العنيد ص: 28 ]۔
عرض ہے کہ یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں یکے بعد دیگر مسلسل چار رواۃ مجہول ہیں اور وہ یہ ہیں:
① أبو القاسم فرج بن السوادي ۔
② أبو طالب العكبرى ۔
③ أبا بكر محمد بن العباس۔
④ أبو على الحسين ابن الجندى ۔
”كتاب الروايتين“ کے محقق کو بھی ان رواۃ کے تراجم نہیں ملے ، البتہ محقق نے ”أبو القاسم فرج بن السوادي“ کے بارے میں یہ گمان ظاہر کیا ہے کہ یہ ”عبیداللہ بن عثمان الفرج ابوالقاسم“ ہوسکتے ہیں لیکن اس کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی ہے۔
معلوم ہوا کہ اس کی سند سخت ضعیف و مردود ہے ، کیونکہ پے درپے چار رواۃ مجہول و نامعلوم ہیں گویا کہ آدھی سند ہی کالعدم ہے، اسی وجہ سے شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو غیر ثابت کہنے کے ساتھ ساتھ منقطع بھی کہا ہے ، چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ونقلت عنه رواية في لعنة يزيد وأنه قال ألا ألعن من لعنه الله واستدل بالاية لكنها رواية منقطعة ليست ثابته عنه والاية لا تدل على لعن المعين »
”امام احمد رحمہ اللہ سے یزید پر لعنت کرنے سے متعلق ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: کیا میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور مذکورہ آیت سے استدلال کیا ، لیکن یہ روایت منقطع اور غیر ثابت ہے ، نیز آیت میں بھی فرد معین پر لعنت کرنے کی دلیل نہیں ہے۔“ [منهاج السنة النبوية 4/ 573]۔
غور فرمائیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو منقطع کہا ہے جب کہ اس روایت کی جو سند ہم نے اوپر نقل کی ہے وہ مسلسل بالتحدیث ہے اور ابن الجوزی نے بھی یہ سند اسی طرح نقل کی ہے ۔
دراصل ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لغوی معنی میں اس سند کو منقطع کہا ہے کیونکہ اس سند میں مسلسل چار رواۃ مجہول ہیں گویا کہ نصف سند ہی کالعدم ہے یعنی منقطع ہے ۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے قبل بھی متقدمین سے ایسی مثال ملتی ہے کہ انہوں نے لغوی اعتبار سے کسی روایت کو منقطع قرار دیا مثلا امام علی ابن المدینی رحمہ اللہ ایک روایت سے متعلق فرماتے ہیں:
«فَرَوَاهُ مَنْصُورٌ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَفِي إِسْنَاده انقطاع مِنْ قِبَلِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ خَيْثَمَةُ »
”اسے منصور نے عن خيثمة عن رجل عن عبد الله کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے اس رجل کی وجہ سے جس کا نام خیثمہ نے نہیں لیا ہے۔“ [العلل لابن المديني: ص: 101]۔
الغرض یہ ہے کہ مذکورہ قول کی سند میں مسلسل چار رواۃ مجہول ہیں لہٰذا یہ قول امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ثابت ہی نہیں اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس قول سے بری ہیں ۔