عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,561
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سے متعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کے جواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کے اندر بصیرت رکھنے والا شخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کا سلسلہ رسول ﷺ کے مبارک دور سے چلا آ رہا ہے برصغیر پاک و ہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی و تراجم کے ساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل حدیث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’فتاوی ستاریہ‘‘برصغیر پاک و ہند کے نامور اہل حدیث عالم، محدثِ دہلی مولانا امام عبد الستار محدث دہلوی رحمہ اللہ(1884ء - 29 اگست 1966ء) کے فتاوی کا مستند مجموعہ ہے۔ یہ فتاوی چار جلدوں اور آٹھ صد سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں تقریبا سات سو فتاوی ہیں۔اس فتاوی کو امام عبد الستار محدث دہلوی رحمہ اللہ کے صاحبزادے جماعت غرباء اہل حدیث کے سابق امام و مفتی مولانا امام عبد الغفار سلفی (وفات ٢۰اکتوبر١٩٧٧ء)نے مرتب کیا تھا۔ اس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق متفرق فتاوی موجود ہیں ۔ فتاوی ستاریہ کی ضمیمہ جدیدہ فتاوی ستاریہ کے نام سے مزید تین جلدیں طبع ہو چکی ہیں۔یہ تین جلدیں بھی میسر ہونے پر ان شاء اللہ پبلش کر دی جائیں گی ۔ ان شاء اللہ (م۔ا)
لنک کتاب جلد اول
لنک کتاب جلد دوم
لنک کتاب جلد سوم
لنک کتاب جلد اول
لنک کتاب جلد دوم
لنک کتاب جلد سوم