ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 845
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
بچت کرنے والے کیوں نقصان اٹھاتے ہیں؟
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
جدید مالیاتی نظام میں ایک ایسا تصور عام کیا گیا ہے کہ بینک میں رقم جمع کرنا ہی مالی تحفظ اور دانشمندی کی علامت ہے۔ لوگوں کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ جو شخص زیادہ بچت کرے گا، وہ مستقبل میں زیادہ محفوظ اور خوشحال ہوگا۔ لیکن جب موجودہ مالیاتی نظام کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ محض نقد رقم کی صورت میں بچت کرنا ہمیشہ دولت میں اضافے کا ذریعہ نہیں بنتا، بلکہ افراط زر (Inflation) اور مالیاتی پالیسیوں کے باعث اس کی حقیقی قدر وقت کے ساتھ کم بھی ہو سکتی ہے۔
جب کوئی شخص اپنی رقم بینک میں جمع کراتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی رقم اسی کی ملکیت میں محفوظ ہے، حالانکہ جدید بینکاری نظام میں یہ رقم بینک کی ذمہ داری (Liability) بن جاتی ہے، جبکہ بینک اس رقم کو مختلف مالی سرگرمیوں، قرضوں اور سرمایہ کاری میں استعمال کرتا ہے اور ان سے منافع حاصل کرتا ہے۔
دوسری طرف جمع کنندہ کی جمع شدہ رقم کی حقیقی قوت خرید مسلسل کم ہوتی رہتی ہے۔ کیونکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں 6 یا 7 فیصد بڑھ جائیں، تو بظاہر اس کے اکاؤنٹ میں رقم موجود رہتی ہے، مگر حقیقت میں اس کی خریدنے کی طاقت کم ہو چکی ہوتی ہے۔
اسی لیے ماہرین معاشیات اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ صرف نقد رقم کو جمع کرتے رہنا ہر معاشی ماحول میں دانشمندانہ حکمت عملی نہیں، خصوصا اس وقت جب افراط زر مسلسل بلند ہو۔
اکثر سرمایہ کار اور صاحب ثروت افراد اپنی تمام دولت نقد رقم کی صورت میں محفوظ نہیں رکھتے، بلکہ اسے مختلف حقیقی اثاثوں میں منتقل کرتے ہیں، جیسے: جائیداد (Real Estate)، سونا اور چاندی، منافع بخش کاروبار، ایسے اثاثے جو مستقل آمدنی (Cash Flow) پیدا کرتے ہوں یا دیگر حقیقی سرمایہ جات جن کی قدر وقت کے ساتھ برقرار رہنے یا بڑھنے کا امکان ہو۔
ان کا مقصد صرف رقم محفوظ رکھنا نہیں بلکہ اس کی حقیقی قدر کو برقرار رکھنا اور اس میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ بعض ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ موجودہ مالیاتی نظام میں دولت کا بہاؤ عموما ان لوگوں کی طرف ہوتا ہے جو سرمایہ کو پیداواری سرگرمیوں اور حقیقی اثاثوں میں استعمال کرتے ہیں، نہ کہ صرف نقد رقم کی صورت میں محفوظ رکھتے ہیں۔
اسی لیے وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو محض بچت پر اکتفا کرنے کے بجائے جائز اور مفید سرمایہ کاری کے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں تاکہ افراط زر کے اثرات سے اپنی دولت کا تحفظ کر سکے۔
البتہ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے میں شریعت اسلامیہ کو مقدم رکھے۔ اسلام سودی نظام کو حرام قرار دیتا ہے، لہٰذا دولت میں اضافہ ایسے ذرائع سے ہونا چاہیے جو شرعا جائز ہوں، مثلا تجارت، مشارکت، مضاربت اور دیگر حلال سرمایہ کاری کے طریقے۔
اس لیے نقد بچت ضرورت کے مطابق کی جائے، اور باقی مال کو جائز اور نفع بخش سرمایہ کاری میں استعمال کیا جائے تاکہ اس کی حقیقی قدر محفوظ رہے۔ محض نقد رقم جمع کرتے رہنا، خصوصا افراط زر والے ماحول میں، انسان کی حقیقی قوت خرید کو کم کر سکتا ہے۔ اسی لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے دولت کے تحفظ اور اس کی افزائش کے جائز ذرائع اختیار کیے جائیں، جبکہ سودی لین دین اور حرام سرمایہ کاری سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔