• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صلح حسن کی شرائط اور مرزا جہلمی کی مکاری

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
855
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
صلح حسن کی شرائط اور مرزا جہلمی کی مکاری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

حق کی تلاش کا تقاضا یہ ہے کہ دلائل کو مکمل دیانت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اہل علم کا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ کسی بھی روایت یا تاریخی واقعہ سے استدلال کرتے وقت نہ صرف اس کی سند کی تحقیق کی جائے بلکہ اس کے تمام الفاظ کو بھی امانت داری کے ساتھ نقل کیا جائے۔ افسوس کہ مرزا جہلمی اور اس کے پیروکار صلح سیدنا حسن بن علي رضي الله عنهما کے حوالے سے اس اصول کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔

وہ صلح حسن رضي الله عنه کی جن شرائط کو دلیل بناتے ہیں، ان کی صحت سند پر کوئی مضبوط اور معتبر تحقیق پیش نہیں کرتے، بلکہ انہیں مسلم حقیقت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اہل حدیث اور محدثین کے نزدیک کسی روایت سے استدلال کرنے سے پہلے اس کی سند کا صحیح ہونا بنیادی شرط ہے۔

اگر بالفرض انہی منقولہ شرائط کو استدلال کے طور پر قبول کر لیا جائے، تب بھی مرزا جہلمی اور اس کے اندھے مقلدین ان میں سے صرف وہ حصے نقل کرتے ہیں جو ان کے موقف کے موافق ہوں، جبکہ انہی شرائط کے وہ الفاظ چھپا لیتے ہیں جو ان کے نظریے کی نفی کرتے ہیں۔

چنانچہ متعدد تاریخی مصادر میں ان الفاظ کا ذکر موجود ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی، اور کہا ہے کہ آپکے بعد یہ خلافت مجھے دوبارہ ملے گی۔ یعنی حسن رضی اللہ عنہ خلافت کو مان بھی رہے، بعد میں میری طرف جو لوٹے گی کہہ کر بتا بھی رہے ابتداء سے انتہاء تک خلافت ہی ہے اور حسن حوالے بھی خلافت ہی کر رہے ہیں یعنی ان شرائط میں خلافت کے الفاظ ہیں۔

«ولا خلاف بين العلماء أن الحسن إنما سلم الخلافة لمعاوية حياته لا غير، ثم تكون له من بعده.» [الاستيعاب في معرفة الأصحاب]

9965.jpg

سیدنا حسن بن علي رضي الله عنهما نے فرمایا: «إني اشترطت على معاوية لنفسي الخلافة بعده.» [فتح الباري]

9966.jpg

9967.jpg

«وسلم إليه الحسن الخلافة.» [أسد الغابة]

9968.jpg

اب سوال یہ ہے کہ جب انہی شرائط اور انہی روایات میں بار بار "الخلافة" کا لفظ موجود ہے، اور ان کے مطابق سیدنا حسن بن علي رضي الله عنهما سیدنا معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما کے سپرد خلافت کر رہے ہیں، تو پھر یہی الفاظ مرزا جہلمی و اس کے پیروکاروں اپنی ویڈیو اور تحریروں میں کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں؟

اگر یہ شرائط ان کے نزدیک قابل احتجاج ہیں تو انہیں مکمل طور پر قبول کرنا چاہیے، نہ کہ صرف وہ حصہ نقل کیا جائے جو ان کے موقف کے موافق ہو اور باقی الفاظ کو چھپا دیا جائے۔

لہٰذا آئندہ جب کوئی شخص انہی شرائط سے استدلال کرے تو اس سے پہلے یہی مطالبہ کیا جائے کہ وہ انہی عبارات سے سیدنا معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه کا خلیفہ ہونا اور سیدنا حسن بن علي رضي الله عنهما کی جانب سے خلافت ان کے سپرد کیے جانے کا ذکر بھی مکمل پڑھ کر سنائے، پھر اس کے بعد ان روایات کی سند اور دلالت پر علمی گفتگو کی جائے۔

یہی علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ دلیل کو پورا نقل کیا جائے، اس کی سند کی تحقیق کی جائے، اور اس کے کسی حصے کو اپنے موقف کے خلاف ہونے کی وجہ سے مخفی نہ رکھا جائے۔ یہی اہل سنت والجماعت اور محدثین کا منہج ہے، اور اسی پر قائم رہنا انصاف اور امانتِ علمی کی علامت ہے۔

والله تعالى أعلم، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top