• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ائمہ سلف کا دوٹوک منہجِ تکفیر اور مرجئہ کی مداہنت

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
857
ری ایکشن اسکور
228
پوائنٹ
111
ائمہ سلف کا دوٹوک منہجِ تکفیر اور مرجئہ کی مداہنت

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

حق و باطل کی تمییز، اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان شرعی تفریق، اور عقائد و نواقض الاسلام کے باب میں واضح اور بے لاگ مؤقف اختیار کرنا اہل سنت والجماعت، بالخصوص ائمہ سلف رحمہم اللہ کا امتیازی وصف رہا ہے۔ انہوں نے کبھی باطل نظریات رکھنے والوں کی رعایت نہیں کی اور نہ ہی باطل کو رواداری یا اعتدال کے نام پر چھپایا۔

بلکہ جب کسی کے قول، فعل یا عقیدے سے کفر وشرک ظاہر ہوتا تو وہ پوری صراحت کے ساتھ اس کی تکفیر کرتے تھے، نہ انہیں لوگوں کی ناراضی کا خوف ہوتا تھا اور نہ ہی وہ حق کو مبہم الفاظ میں چھپاتے تھے۔

چنانچہ امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب خلق أفعال العباد میں نقل کرتے ہیں:

وقال محمد بن يوسف : من قال إن الله ليس على عرشه فهو كافر، ومن زعم أن الله لم يكلم موسى فهو كافر.

محمد بن یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر نہیں ہے، وہ کافر ہے، اور جو یہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں کیا، وہ بھی کافر ہے۔

وقيل لأحمد بن يونس : أدركت الناس، فهل سمعت أحداً يقول : القرآن مخلوق ؟ فقال : الشيطان تكلم بهذا! مَنْ تكلم بهذا فهو جهمي ، والجهمي كافر.

اور احمد بن یونس رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے زمانے کے بہت سے لوگوں کو پایا، کیا آپ نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قرآن مخلوق ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ بات تو شیطان نے گھڑی ہے! جو شخص یہ بات کہے وہ جہمی ہے اور جہمی کافر ہے۔


[خلق أفعال العباد والرد على الجهمية وأصحاب التعطيل
للإمام البخاري رحمه الله، ص : ٥٤٣]

IMG_20260803_193056_773.jpg

10148.jpg

ان آثار سے ہر صاحب انصاف پر واضح ہو جاتا ہے کہ ائمہ سلف رحمہم اللہ کا منہج یہ تھا کہ وہ کتاب و سنت کی روشنی میں بلا تردد حق کو حق اور باطل کو باطل کہتے تھے، اور کسی کے قول، فعل یا عقیدے سے کفر ظاہر ہوتا تو وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر تکفیر کرتے تھے۔

لہٰذا جو لوگ آج سلف کے نام لیوا ہونے کے باوجود کفر اکبر اور شرک اکبر کے مرتکبین کی تکفیر سے گریز کرتے ہیں، بلکہ ان کے دفاع میں اہل حق پر تکفیری اور خارجی کی تہمتیں لگاتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے منہج کا موازنہ ائمہ سلف کے منہج سے کریں۔

نجات اسی میں ہے کہ کتاب و سنت اور فہم سلف کو مضبوطی سے تھاما جائے، نہ کہ مرجئہ کی نرمی اور مداہنت کو حکمت اور اعتدال کا نام دے کر امت کے سامنے پیش کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر ثابت قدم رہنے، باطل کو باطل پہچاننے اور اس سے مکمل اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں کتاب و سنت اور فہم سلف صالحین کے منہج پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top