عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,577
- ری ایکشن اسکور
- 9,999
- پوائنٹ
- 667
نام کتاب
حدیث قرطاس اور مسلک اہلحدیث
نام مصنف
عبد المنان راسخ
نام ناشر
ادارہ کتاب و حکمت فیصل آباد
رسول اللہ ﷺ کے آخری ایام کا واقعہ ہے جب آپ شدید بیمار تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پاس موجود تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کچھ لکھنے کے لیے لائیں، تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد آپ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔‘‘اس موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خیال آیا کہ رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ تکلیف میں ہیں، لہٰذا ایسی حالت میں آپ کو یہ زحمت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار دیگر صحابہ سے کیا اور کہا کہ ’’آپ ﷺ پر تکلیف کا غلبہ ہے، اور ہمارے پاس قرآن مجید موجود ہے، جو ہمارے لیے کافی ہے۔‘‘سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات پر حاضرین میں اختلاف ہو جاتا ہے، بعض صحابہ آپ کی موافقت کرتے ہیں ، بعض مخالفت ،کاغذ قلم دے دیا جائے ،رہنے دیجئے، دے دیا جائے ،رہنے دیجئے تکرار کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ تو صحابہ کرام اختلاف اور تکرار کی صورت حال میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کاغذ اور قلم رہنے دیں اور صحابہ سے کہا: ’’آپ یہاں سے چلے جائیں، مجھے تنہائی چاہیے۔‘‘ یہ حدیث ’’حدیث قرطاس‘‘کے نام سے معروف ہے۔ لیکن یار لوگوں نے اس کو ایسا رنگ دیا بلکہ دشمنی کا ایسا زہر بھرا کہ اسلام اور اصحاب رسول ﷺ کے ایک عظیم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہ جانے کیا کیا بنا دیا ۔ وطن عزیز کی معروف علمی و مصلح شخصیت مولانا عبد المنان راسخ حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ ) نے زیر نظر تحریر بعنوان ’’ حدیث قرطاس اور مسلکِ اہل حدیث ‘‘ میں حدیث قرطاس کے متعلق اپنی عادلانہ و محققانہ تحقیق کا نچوڑ پیش کیا ہے۔(م۔ا)حدیث قرطاس اور مسلک اہلحدیث
نام مصنف
عبد المنان راسخ
نام ناشر
ادارہ کتاب و حکمت فیصل آباد
تبصرہ
لنک کتاب