ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 860
- ری ایکشن اسکور
- 228
- پوائنٹ
- 111
حوالہ بخاری کا، الفاظ اپنی طرف سے؛ اسحاق جھالوی کی مکّاری اور بنو امیہ پر بے بنیاد الزام
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
اسلامی تاریخ کے بیان میں سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ آدمی اپنی پسندیدہ رائے کو ثابت کرنے کے لیے مستند نصوص میں اپنی طرف سے ایسے الفاظ اور واقعات داخل کر دے جو اصل ماخذ میں موجود ہی نہ ہوں، پھر اسی ماخذ کا حوالہ دے کر اپنے بیان کو معتبر ظاہر کرے۔ اہل علم کے نزدیک یہ طرز عمل علمی تحقیق نہیں بلکہ نقل میں خیانت اور حقائق کی تحریف ہے۔
رافضی زندیق اسحاق جھالوی نے صحیح بخاری کا حوالہ دیکر سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ کی طرف ایسا جھوٹ منسوب کیا کہ جس کا مذکورہ روایت میں کوئی ثبوت ہی نہیں۔ بلکہ وہ جھالوی کا اپنی طرف سے کیا گیا اضافہ و تحریف ہے۔
اسحاق جھالوی اپنی کتاب مقصد حسینؓ میں لکھتا ہے:
ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو نہیں چاہتے تھے کہ خلافت و نبوت بنو ہاشم میں اکٹھی ہو جائے۔ صحیح بخاری میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ہے کہ ایک سال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نکسیر پھوٹی اور لوگ ان کی زندگی سے مایوس ہو گئے۔ اس وقت مروان اور بنو امیہ کے دیگر افراد نے حضرت عثمان سے کہا اپنے بعد زبیر رضی اللہ عنہ بن عوام کو خلیفہ نامزد کر دیں تاکہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا امکان نہ رہے۔
[مقصد حسینؓ صفہ 166]
اس مقام پر اسحاق جھالوی کی عبارت کا صحیح بخاری کی اصل روایت کے ساتھ تقابلی مطالعہ انتہائی ضروری ہے، تاکہ اس مکار رافضی اسحاق جھالوی کا جھوٹ اور صحیح البخاری کی نص کے ساتھ خیانت و تحریف کا پردہ فاش ہو سکے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے واقعے کو یوں روایت کیا ہے:
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ:" اسْتَخْلِفْ، قَالَ: وَقَالُوهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: عُثْمَانُ وَقَالُوا، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، قَالَ: فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی وبا پھیلی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اس قدر نکسیر پھوٹی کہ انہیں حج سے اس مرض نے روک دیا، انہوں نے وصیت کر دی۔ ان کی خدمت میں ایک قریشی صاحب آئے اور عرض کیا: ”آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا لوگوں کی یہ خواہش ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے پوچھا: ”میں کس کو خلیفہ نامزد کروں؟“ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد کوئی دوسرے صاحب آئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ ”آپ کسی کو خلیفہ نامزد کریں۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا یہ سب لوگوں کی رائے ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ نے پوچھا: ”وہ کون ہو سکتا ہے؟“ اس پر وہ خاموش ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”غالباً لوگوں کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف رجحان ہو گا؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے علم کے مطابق بھی وہ ان سب سے بہتر ہیں، بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سب سے زیادہ محبوب تھے۔“
[صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، حدیث: 3717]
اسحاق جھالوی نے اس واقعے کو اس مفہوم کے ساتھ بیان کیا کہ سیدنا مروان رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اپنا خلیفہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو نامزد کر دیں، تاکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا امکان نہ رہے، اور اس پر صحیح بخاری کا حوالہ دیا۔
یہاں اس رافضی اسحاق جھالوی کی خیانت اور مکاری واضح ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کی روایت میں "مروان اور بنو امیہ" کے یہ الفاظ کہاں ہیں؟ کہاں یہ مذکور ہے کہ سیدنا مروان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ مشورہ دیا؟ کہاں یہ مذکور ہے کہ بنو امیہ نے یہ منصوبہ بنایا؟ اور کہاں یہ مذکور ہے کہ مقصد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت سے روکنا تھا؟
صحیح بخاری 3717 میں ان میں سے ایک بات بھی موجود نہیں۔ بلکہ وہاں صاف الفاظ ہیں: «فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ» یعنی قریش میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا۔ لہٰذا ایک غیر متعین "رجل من قريش" کو اپنی طرف سے مروان رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ بنا دینا، پھر اس اضافے کو صحیح بخاری کے حوالے سے پیش کرنا، انتہائی سنگین خیانت و تحریف ہے۔
یہاں یہ بات بھی انصاف کے ساتھ واضح کر دینا چاہیے کہ صحیح بخاری کی سند میں مروان بن حکم رضی اللہ عنہ اس روایت کے راوی ہیں لیکن راوی کا کسی واقعے کو روایت کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ خود اس واقعے میں مشورہ دینے والے شخص تھے۔ مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کو واقعے کے اندر موجود مشورہ دینے والا شخص بنا دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
بلکہ صحیح بخاری کی اگلی روایت 3718 میں سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں: «كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ، أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ» یعنی میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی آپ کسی کو اپنا خلیفہ نامزد کریں۔ پھر اس شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ کا نام لیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ وہ تم میں سب سے بہتر ہیں۔
غور کیجیے! خود بخاری کی دوسری روایت بھی سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کو مشورہ دینے والا نہیں بلکہ اس واقعے کا راوی اور موجود شخص بتاتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسحاق جھالوی نے صحیح بخاری کا حوالہ دیا ٹارگٹ کر کے بنو امیہ کے خلاف پروپیگنڈہ کیا اور صحیح بخاری کی حدیث چھپا لی اپنا جھوٹ سنا دیا، جبکہ جھالوی کے دعوے کے بنیادی الفاظ ہی صحیح بخاری کی اس روایت میں موجود نہیں۔
لہذا اسحاق جھالوی اور مرزا جہلمی جیسے جھوٹے، مکار و فریبی روافض کے دعووں سے مرعوب ہونے کے بجائے اصل مصادر کی طرف رجوع کریں، روایت کو خود پڑھیں اور پھر فیصلہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے، باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں عدل و انصاف کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
Last edited: