علی محمد
رکن
- شمولیت
- مارچ 03، 2023
- پیغامات
- 63
- ری ایکشن اسکور
- 2
- پوائنٹ
- 40
سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک حدیثی و تحقیقی جائزہ
کلمۂ شہادت کے مسنون الفاظ
اسلام میں ایمان کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی پر قائم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے بنیادی ارکان بیان کرتے ہوئے سب سے پہلے شہادتین کا ذکر فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ...»
یعنی:
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"
یہ حدیث صحیح بخاری (8) اور صحیح مسلم (16) میں موجود ہے۔
اس سے بنیادی حقیقت واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد ﷺ کی رسالت، دونوں اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔
شہادتین کے الفاظ جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں
رسول اللہ ﷺ سے شہادتین کے مختلف الفاظ صحیح احادیث میں ثابت ہیں۔
1۔
أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله
یعنی:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"
2۔
تشہد میں یہ الفاظ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہیں:
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں:
«عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ»
یعنی:
"رسول اللہ ﷺ نے مجھے تشہد اس طرح سکھایا جیسے آپ مجھے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔"
یہ روایت صحیح بخاری (6265) اور صحیح مسلم (402) میں موجود ہے۔
3۔
وفدِ عبدالقیس کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
«شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»
یہ روایت صحیح مسلم (17) میں موجود ہے۔
اسی طرح حضرت جریر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی:
«عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ...»
یہ صحیح بخاری (2157) میں موجود ہے۔
لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ توحید اور رسالت دونوں کی شہادت سنتِ نبوی ﷺ سے مضبوط اور صحیح احادیث کے ذریعے ثابت ہے۔
شہادتین کے الفاظ میں توقیف کا اصول
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ کسی شرعی عبادت، ذکر یا مقررہ شرعی شعار کے الفاظ خود سکھاتے ہیں تو ان الفاظ کے معاملے میں اصل اتباع اور توقیف ہے۔
یعنی انسان اپنی طرف سے کوئی نیا صیغہ بنا کر اسے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ سنت ہے۔
تشہد کے بارے میں حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان اس اصول کو بہت واضح کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں تشہد کے الفاظ "جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے" سکھائے تھے۔
اس لیے شہادتین کے معاملے میں بھی سنت سے ثابت شدہ الفاظ کو اختیار کرنا ہی اصل اور محفوظ طریقہ ہے۔
یہی اصول اذان جیسے مقررہ شرعی شعار میں بھی نظر آتا ہے: اذان کے ثابت شدہ الفاظ کو اپنی طرف سے تبدیل کرکے کسی نئے صیغے کو سنتِ نبوی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لہٰذا اصول یہ ہے:
جو صیغہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، اسے سنت سمجھ کر اختیار کیا جائے؛ اور جو صیغہ آپ ﷺ سے ثابت نہیں، اسے آپ ﷺ کی مقرر کردہ سنت قرار نہ دیا جائے۔
اگر کوئی غیر ثابت صیغہ بطورِ مقررہ دینی طریقہ اور سنت اختیار کیا جائے تو یہ بدعت کے مفہوم میں داخل ہوتا ہے؛ البتہ کسی شخص کے ایمان یا اسلام کا حکم صرف اس بنیاد پر لگانا الگ اور نہایت حساس فقہی مسئلہ ہے، جسے اس مختصر مضمون کا موضوع نہیں بنایا جا رہا۔
"کلمۂ طیبہ"، "پہلا کلمہ" اور "کلمۂ شہادت" کے نام
برصغیر میں عام طور پر:
- کلمۂ طیبہ
- پہلا کلمہ
- کلمۂ شہادت
جیسے نام استعمال ہوتے ہیں۔
یہ نام اپنی جگہ رائج تعارفی اصطلاحات ہیں، لیکن انہیں براہِ راست قرآن یا حدیث میں مقرر کردہ نام قرار دینا درست نہیں۔
اصل توجہ عنوان پر نہیں بلکہ ان الفاظ کے شرعی ثبوت پر ہونی چاہیے۔
کسی عبارت کو "پہلا کلمہ" کہہ دینے سے وہ خود بخود حدیث میں ثابت شدہ مخصوص صیغہ نہیں بن جاتی، اور کسی عبارت کو "کلمۂ طیبہ" کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی مکمل عبارت کو اسی نام اور اسی ترتیب سے مقرر فرمایا ہو۔
دین میں اصل حجت قرآن اور صحیح سنت ہے؛ محض رائج یا درسی اصطلاح حجت نہیں۔
مخصوص عبارت: «لا إله إلا الله محمد رسول الله»
برصغیر میں ایک نہایت معروف عبارت یہ ہے:
لا إله إلا الله محمد رسول الله
اس عبارت کے معنی درست ہیں۔
لا إله إلا الله اللہ تعالیٰ کی توحید کا بنیادی اقرار ہے۔
محمد رسول الله رسالتِ محمدی ﷺ کا بنیادی اقرار ہے۔
لہٰذا یہاں بحث اس جملے کے معنی کے بارے میں نہیں ہے۔
اصل حدیثی سوال یہ ہے:
اس سوال کا جواب دینے کے لیے اس مخصوص روایت کے اصل متن، مختلف طرق اور اسانید کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔کیا یہی مکمل عبارت، اسی ترتیب کے ساتھ، رسول اللہ ﷺ نے ایک مقررہ مسنون صیغے کے طور پر سکھائی تھی؟
زیرِ بحث اصل روایت
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ»
یعنی:
"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا إله إلا الله نہ کہیں۔ پس جو شخص لا إله إلا الله کہہ دے، اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال محفوظ کرلیا، سوائے کسی شرعی حق کے، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔"
یہ اصل حدیث صحیح بخاری (2946) اور صحیح مسلم (21) میں موجود ہے۔
اس روایت کے بعض طرق میں اس کے بعد قرآن کی آیات کا ذکر آتا ہے، پھر یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
«وَهِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ»
یعنی:
"اور وہ کلمۂ تقویٰ: لا إله إلا الله محمد رسول الله ہے۔"
یہی وہ حصہ ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنے پر محدثین نے تفصیلی تحقیق کی ہے۔
اس روایت کے اہم طرق اور اسانید
اس روایت کی اہمیت سمجھنے کے لیے صرف ایک سند دیکھنا کافی نہیں۔ محدثین نے اس کے مختلف طرق اور متن کے اختلافات کو سامنے رکھا ہے۔
طریق اول: شعیب بن ابی حمزہ کے ذریعے
صحیح ابن حبان (218) میں سند ہے:
محمد بن عبید الله بن الفضل الكلاعي
→ عمرو بن عثمان
→ عثمان بن سعيد؟ / والدِ عمرو
→ شعيب بن أبي حمزة
→ محمد بن مسلم بن شهاب الزهري
→ سعيد بن المسيب
→ أبو هريرةؓ
→ رسول الله ﷺ
صحیح ابن حبان کی مطبوع روایت میں یہی سند موجود ہے اور اس طریق میں «وهي لا إله إلا الله ومحمد رسول الله» کے الفاظ بھی موجود ہیں۔
یہاں اہم راوی شعیب بن ابی حمزہ → امام زہریؒ → سعید بن المسیبؒ → ابو ہریرہؓ ہیں۔
طریق دوم: یحییٰ بن سعید کے ذریعے
دوسرا اہم طریق یہ ہے:
إسماعيل بن أبي أويس
→ أخوه
→ سليمان بن بلال
→ يحيى بن سعيد الأنصاري
→ محمد بن مسلم بن شهاب الزهري
→ سعيد بن المسيب
→ أبو هريرةؓ
→ رسول الله ﷺ
یہی بنیادی طریق المعجم الأوسط للطبرانی (1272) اور الأسماء والصفات للبیہقی (196) میں موجود ہے، البتہ دونوں کے متن میں ایک نہایت اہم فرق ہے۔
طریق سوم: امام طبری کی روایت
تفسیر طبری (22/252) میں بھی یہی بنیادی طریق موجود ہے:
عمرو بن محمد العثماني
→ إسماعيل بن أبي أويس
→ أخوه
→ سليمان بن بلال
→ يحيى بن سعيد
→ ابن شهاب الزهري
→ سعيد بن المسيب
→ أبو هريرةؓ
→ رسول الله ﷺ
اس طریق میں بھی آگے آیت «وألزمهم كلمة التقوى» کی تفسیر کے ضمن میں:
«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
کے الفاظ موجود ہیں۔
اہم نکتہ: ایک ہی بنیادی سند، مگر متن میں اختلاف
یہاں اس تحقیق کا سب سے اہم حصہ سامنے آتا ہے۔
ایک طرف طبرانی، المعجم الأوسط (1272) کی روایت میں یہی واقعہ نقل ہوا ہے، لیکن آخر میں الفاظ ہیں:
«وَهِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»
یعنی:
"اور وہ کلمۂ تقویٰ لا إله إلا الله ہے۔"
اس میں «محمد رسول الله» نہیں ہے۔
دوسری طرف بیہقی، الأسماء والصفات (196) کے طریق میں یہی تفسیری حصہ یوں ہے:
«وَهِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ»
یعنی اس میں «محمد رسول الله» کا اضافہ موجود ہے۔
اسی طرح صحیح ابن حبان (218) کے طریق میں بھی یہ اضافہ موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ محدثین نے متن کے اس حصے کو الگ سے جانچا۔
المعجم الأوسط للطبرانی کی روایت کیوں اہم ہے؟
امام طبرانی کی روایت اس بحث میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
اس میں:
«وألزمهم كلمة التقوى وكانوا أحق بها وأهلها، وهي لا إله إلا الله»
کے الفاظ ہیں۔
یعنی طبرانی کے اس طریق میں کلمۂ تقویٰ کی تفسیر صرف «لا إله إلا الله» سے کی گئی ہے۔
«محمد رسول الله» کا اضافہ یہاں موجود نہیں۔
یہ اختلاف اس لیے اہم ہے کہ اسی واقعے اور اسی صحابی سے مروی دوسرے طرق میں اضافی عبارت ملتی ہے، جبکہ ایک اہم طریق میں وہ موجود نہیں۔
یہی اختلافِ متن محدثین کو اس اضافے کی اصل نسبت پر غور کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔
الأسماء والصفات للبیہقی (196): اسی طریق میں اضافہ
امام بیہقی کی الأسماء والصفات (196) میں سند:
إسماعيل بن أبي أويس
→ عن أخيه
→ سليمان بن بلال
→ يحيى بن سعيد
→ ابن شهاب
→ سعيد بن المسيب
→ أبو هريرةؓ
ہے۔
لیکن یہاں متن میں:
«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
آیا ہے۔
یہی مقام اس تحقیق کو مزید دلچسپ بناتا ہے، کیونکہ اسی بنیادی سند کے طریق میں طبرانی کے ہاں «محمد رسول الله» نہیں، جبکہ بیہقی کے ہاں موجود ہے۔
اس لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "ایک کتاب میں الفاظ آگئے ہیں، لہٰذا وہ نبی ﷺ کے الفاظ ہیں"۔
محدثین کا طریقہ اس سے زیادہ دقیق ہے: تمام طرق، تمام راویوں اور تمام متون کو ایک ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
امام زہریؒ کا مقام: بحث جرح کی نہیں، نسبتِ متن کی ہے
یہاں ایک انتہائی اہم علمی وضاحت ضروری ہے۔
زیرِ بحث راوی:
محمد بن مسلم بن عبید الله بن شهاب الزهريؒ
ہیں۔
وہ بڑے ائمۂ حدیث میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی ثقاہت پر یہ بحث قائم نہیں کی جارہی۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ:
"زہریؒ ضعیف تھے، اس لیے روایت ضعیف ہے۔"
ایسا نہیں ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
یہ دونوں باتیں بالکل مختلف ہیں۔زہریؒ سے منقول روایت کے اندر «وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله» والا تفسیری جملہ نبی ﷺ کا مرفوع کلام ہے یا خود زہریؒ کی تشریح؟
اسی لیے امام ابن مندهؒ نے راوی کو مجروح نہیں کیا، بلکہ اضافے کی نسبت پر گفتگو کی۔
امام ابن مندهؒ کی فیصلہ کن تنبیہ
امام ابن مندهؒ نے اسی روایت کے طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
«رواه يحيى بن سعيد عن الزهري بهذه الزيادة، وأرى هذه الزيادة من قول الزهري»
یعنی:
"اسے یحییٰ بن سعید نے زہریؒ سے اس اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے، اور میرے نزدیک یہ اضافہ زہریؒ کا قول ہے۔"
یہ عبارت اس مسئلے کی اصل بنیاد ہے۔
امام ابن مندهؒ نے یہ نہیں کہا کہ:
"زہری ضعیف ہیں"
بلکہ انہوں نے کہا:
یہ اضافہ زہریؒ کا قول معلوم ہوتا ہے۔
اور الدرر السنیہ میں اس کی وضاحت یوں نقل ہوئی ہے:
«قوله: (وهي: لا إله إلا الله محمد رسول الله...) من قول الزهري ولا تصح عن النبي صلى الله عليه وسلم»
یعنی:
"یہ عبارت زہریؒ کا قول ہے اور نبی ﷺ سے صحیح طور پر ثابت نہیں۔"
محدثین نے اسے مدرج کیوں سمجھا؟
اب اصل سوال یہ ہے کہ محدثین نے یہ نتیجہ کیسے نکالا؟
اس کے لیے چند اہم شواہد سامنے رکھنا ضروری ہیں۔
1۔ صحیح بخاری و مسلم کا اصل متن
صحیح بخاری (2946) اور صحیح مسلم (21) میں اصل حدیث:
«حتى يقولوا لا إله إلا الله»
تک ہے۔
اس بنیادی حدیث میں زیرِ بحث تفسیری اضافہ موجود نہیں۔
2۔ طبرانی کا طریق
المعجم الأوسط (1272) میں آیت «وألزمهم كلمة التقوى» کے بعد:
«وهي لا إله إلا الله»
ہے۔
وہاں «محمد رسول الله» موجود نہیں۔
3۔ اسی روایت کے دوسرے طریق میں اضافہ
بیہقی، ابن حبان اور طبری کے بعض طرق میں:
«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
کا اضافہ موجود ہے۔
4۔ امام ابن مندهؒ نے نسبت متعین کی
امام ابن مندهؒ نے تمام متعلقہ طرق کا جائزہ لینے کے بعد صاف فرمایا:
«وأرى هذه الزيادة من قول الزهري»
یعنی:
"میرے نزدیک یہ اضافہ زہریؒ کا قول ہے۔"
5۔ شعیب الأرناؤوطؒ کی جدید حدیثی تحقیق
شعیب الأرناؤوطؒ نے بھی اس روایت کے بارے میں لکھا:
«إسناده صحيح لكن زيادة التفسير فيه يظهر أنها مدرجة من كلام الزهري»
یعنی:
"اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں موجود تفسیری اضافہ بظاہر زہریؒ کے کلام سے مدرج ہے۔"
یہ عبارت بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں دونوں چیزوں کو الگ کیا گیا ہے:
سند صحیح ہے
لیکن
تفسیری اضافہ مدرج ہے۔
اسناد اور متون میں اختلاف کو ایک نظر میں دیکھیںمحدثین نے اختلافِ متن اور طرق کے تقابل سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ «محمد رسول الله» والا تفسیری اضافہ نبی ﷺ کے مرفوع متن کا حصہ نہیں بلکہ زہریؒ کی تشریح ہے۔
| ماخذ | اہم سند/طریق | «محمد رسول الله» کا اضافہ |
|---|---|---|
| صحیح بخاری (2946) | ابو ہریرہؓ کی اصل روایت | |
| صحیح مسلم (21) | ابو ہریرہؓ کی اصل روایت | |
| المعجم الأوسط للطبرانی (1272) | إسماعيل بن أبي أويس → أخوه → سليمان بن بلال → يحيى بن سعيد → الزهري → سعيد بن المسيب → أبو هريرةؓ | |
| الأسماء والصفات للبیہقی (196) | تقریباً یہی یحییٰ بن سعید والا طریق | |
| صحیح ابن حبان (218) | شعیب بن ابی حمزہ → زہری → سعید بن المسیب → ابو ہریرہؓ | |
| تفسیر طبری (22/252) | إسماعيل بن أبي أويس → أخوه → سليمان بن بلال → يحيى بن سعيد → الزهري → سعيد بن المسيب → أبو هريرةؓ | |
| الإيمان لابن منده (199–200) | مختلف طرق، جن میں شعیب اور یحییٰ بن سعید دونوں کے طرق کا ذکر | ابن مندهؒ نے اضافے کو زہریؒ کا قول قرار دیا |
اس تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل حدیث کا مرکزی حصہ تمام طرق میں محفوظ ہے، جبکہ زیرِ بحث تفسیری جملے میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔
متن میں اصل اختلاف کہاں ہے؟
اس روایت کے متن کو دو حصوں میں تقسیم کرنا زیادہ واضح ہے۔
پہلا حصہ: متفق علیہ اصل
«أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله...»
یہ حصہ صحیح بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے۔
دوسرا حصہ: بعد کا تفسیری بیان
«وأنزل الله في كتابه... وألزمهم كلمة التقوى...»
یہ تفسیری حصہ بعض طرق میں آگے موجود ہے۔
پھر اختلاف یہاں پیدا ہوتا ہے:
ایک طریق:
«وهي لا إله إلا الله»
دوسرا طریق:
«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
اسی اضافی حصے پر محدثین نے تحقیق کی اور اسے زہریؒ کی طرف منسوب کیا۔
یہاں "ادراج" سے کیا مراد ہے؟
ادراج کا مطلب یہ ہے کہ راوی یا کسی راوی سے اوپر کی شخصیت کی توضیح، تشریح یا اپنا کلام حدیث کے متن کے ساتھ اس طرح نقل ہوجائے کہ وہ بظاہر حدیث کا حصہ محسوس ہونے لگے۔
اس روایت کے بارے میں محدثین کی تحقیق یہ ہے کہ:
«محمد رسول الله»
والا حصہ نبی ﷺ کے اصل مرفوع فرمان کا حصہ نہیں، بلکہ آیت «وألزمهم كلمة التقوى» کی تشریح کے طور پر زہریؒ کا کلام معلوم ہوتا ہے۔
اسی لیے شعیب الأرناؤوطؒ نے اسے:
«زيادة التفسير»
کہا اور پھر:
«مدرجة من كلام الزهري»
قرار دیا۔
سنت اور غیر ثابت صیغوں کا تقابلی خلاصہ
| عبارت | حیثیت |
|---|---|
| أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله | |
| اشہد أن لا إله إلا الله واشہد ان محمدًا رسول الله | |
| أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله | |
| لا إله إلا الله | |
| لا إله إلا الله محمد رسول الله بطور مخصوص مسنون صیغہ | |
| «وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله» | |
| لا إله إلا الله محمد رسول الله علي ولي الله کو شہادتِ اسلام کا حصہ قرار دینا |
خلاصۂ تحقیق
اس پوری بحث کا خلاصہ چند بنیادی نکات میں کیا جاسکتا ہے:
اولاً: توحید اور رسالت کی شہادت
اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد ﷺ کی رسالت کی شہادت اسلام کی بنیادی تعلیم ہے اور صحیح احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے۔
ثانیاً: شہادتین کے ثابت شدہ صیغے
شہادتین کے مختلف صیغے صحیح احادیث میں موجود ہیں، مثلاً:
أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله
اور:
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله
ثالثاً: شرعی اذکار میں توقیف کا اصول
مقررہ شرعی اذکار کے الفاظ میں اصل اتباع اور توقیف ہے۔ اس لیے کسی غیر ثابت عبارت کو نبی ﷺ کی مقرر کردہ سنت قرار دینا درست نہیں۔
رابعاً: رائج تعارفی ناموں کی حیثیت
"کلمۂ طیبہ"، "پہلا کلمہ" اور اسی طرح کے دیگر عنوانات رائج تعارفی نام ہیں؛ انہیں بذاتِ خود وحی کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اصل معیار یہ ہے کہ جو الفاظ جس حیثیت سے نبی ﷺ سے ثابت ہیں، انہیں اسی حیثیت سے قبول کیا جائے۔
خامساً: «لا إله إلا الله محمد رسول الله» کی حیثیت
«لا إله إلا الله محمد رسول الله» کے معنی درست ہیں، لیکن یہ سنت سے ثابت نہیں ہے کیونکہ اس مکمل عبارت کو ایک مخصوص مسنون صیغہ قرار دینے کے لیے پیش کی جانے والی روایت کے تفسیری اضافے پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
سادہ الفاظ میں
جب کسی مخصوص جملے کو "سنت کا مقرر کردہ صیغہ" کہا جائے تو اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے صحیح ثبوت ضروری ہے۔
اختتامی کلمات
دین کے بنیادی شعائر میں:
مشہور ہونا دلیل نہیں؛ ثابت ہونا دلیل ہے۔
ہمیں نہ معاشرتی رواج کو وحی کا درجہ دینا چاہیے اور نہ کسی درست معنی والے جملے کو بلا دلیل رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ سنت قرار دینا چاہیے۔
جو الفاظ رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہیں، انہیں اسی حیثیت سے قبول کرنا اور سکھانا سنت کی پیروی ہے۔
اور جو الفاظ کسی مخصوص صیغے کے طور پر آپ ﷺ سے ثابت نہیں، انہیں آپ ﷺ کی مقرر کردہ سنت قرار دینا درست نہیں۔
اس پوری تحقیق کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ:
معیار الفاظ کی شہرت نہیں، رسول اللہ ﷺ سے ان کا ثبوت ہے۔کسی عبارت کا معنی درست ہونا ایک بات ہے، اور اس مخصوص عبارت کو رسول اللہ ﷺ کا مقرر کردہ مسنون صیغہ ثابت کرنا دوسری بات۔
حدیثی تخریج و تحقیق
1۔ صحیح البخاری — حدیث 2946
حضرت ابو ہریرہؓ سے اصل حدیث:
«أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله...»
یہاں زیرِ بحث تفسیری اضافہ موجود نہیں۔
2۔ صحیح مسلم — حدیث 21
اسی مضمون کی اصل روایت صحیح مسلم میں بھی موجود ہے اور یہاں بھی بنیادی متن «لا إله إلا الله» تک ہے۔
3۔ صحیح ابن حبان — حدیث 218
سند:
محمد بن عبيد الله بن الفضل الكلاعي → عمرو بن عثمان → أبيه → شعيب بن أبي حمزة → الزهري → سعيد بن المسيب → أبو هريرةؓ
اور اس طریق میں:
«وهي لا إله إلا الله ومحمد رسول الله»
کے الفاظ موجود ہیں۔
4۔ المعجم الأوسط للطبراني — حدیث 1272
سند:
إسماعيل بن أبي أويس → أخوه → سليمان بن بلال → يحيى بن سعيد → ابن شهاب → سعيد بن المسيب → أبو هريرةؓ
اور اس طریق میں:
«وهي لا إله إلا الله»
ہے؛ «محمد رسول الله» کا اضافہ موجود نہیں۔
5۔ الأسماء والصفات للبيهقي — حدیث 196
اسی یحییٰ بن سعید والے طریق میں متن کے آخر میں:
«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
آیا ہے۔
6۔ تفسير الطبري — 22/252
اس میں بھی:
إسماعيل بن أبي أويس → أخوه → سليمان بن بلال → يحيى بن سعيد → ابن شهاب → سعيد بن المسيب → أبو هريرةؓ
کا طریق ہے، اور متن میں «محمد رسول الله» کا اضافہ موجود ہے۔
7۔ الإيمان لابن منده — ص 102، روایت 199–200
ابن مندهؒ نے ایک طریق میں شعیب بن ابی حمزہ → زہری کا طریق ذکر کیا اور دوسرے میں سلیمان بن بلال → یحییٰ بن سعید → زہری کا طریق ذکر کرکے آخر میں واضح کیا:
«رواه يحيى بن سعيد عن الزهري بهذه الزيادة، وأرى هذه الزيادة من قول الزهري»
یعنی:
"اسے یحییٰ بن سعید نے زہریؒ سے اس اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے، اور میرے نزدیک یہ اضافہ زہریؒ کا قول ہے۔"
8۔ شعیب الأرناؤوطؒ کی تحقیق
شعیب الأرناؤوطؒ نے مجموعۂ طرق کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ دیا:
«إسناده صحيح لكن زيادة التفسير فيه يظهر أنها مدرجة من كلام الزهري»
یعنی:
"اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں موجود تفسیری اضافہ بظاہر زہریؒ کے کلام سے مدرج ہے۔"
مزید تحقیق و اصل مصادر
اس موضوع کی مزید تفصیلی تحقیق، اصل روایات، اسانید، مختلف طرق اور محدثین کے احکام کے لیے درج ذیل مصادر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں:
1۔ مکمل حدیثی تحقیق — الدرر السنیہ
اصل روایت، امام ابن مندهؒ کا حکم، تخریج اور مختلف طرق
اصل روایت، ابن مندهؒ کا حکم اور مکمل تخریج
2۔ طبرانی — المعجم الأوسط (حدیث 1272)
اصل متنِ روایت اور وہ طریق جس میں «وهي لا إله إلا الله» کے الفاظ آئے ہیں
طبرانی کی روایت اور مکمل متن
3۔ تحقیقِ شعیب الأرناؤوطؒ
سند کی صحت اور «محمد رسول الله» والے تفسیری اضافے کے مدرج ہونے کی تحقیق
شعیب الأرناؤوطؒ کی تحقیق اور حکمِ حدیث
4۔ الأسماء والصفات للبیہقی
وہ روایت جس میں «وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله» کے الفاظ موجود ہیں
بیہقی کی روایت اور اصل متن
5۔ صحیح ابن حبان — حدیث 218
وہ طریق جس میں «وهي لا إله إلا الله ومحمد رسول الله» کا اضافہ موجود ہے
صحیح ابن حبان کی روایت اور سند
6۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی اصل روایت
اصل حدیث: «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله»
صحیح بخاری: 2946
صحیح مسلم: 21
صحیح بخاری و مسلم کی اصل روایت اور تخریج
7۔ تفسیر الطبری — جامع البیان (22/252)
وہ طریق جس میں روایت کے ساتھ آیت «وألزمهم كلمة التقوى» کی تشریح نقل ہوئی ہے
تفسیر طبری میں روایت کا اصل متن
اہم مراجع
- صحیح البخاری: 8، 2157، 2946، 6265
- صحیح مسلم: 16، 17، 21، 402
- صحیح ابن حبان: 218
- الإيمان لابن منده: 102، 199–200
- المعجم الأوسط للطبراني: 1272
- الأسماء والصفات للبيهقي: 196
- تفسير الطبري: 22/252
- تفسير ابن أبي حاتم: متعلقہ روایت
- تخريج مسند الإمام أحمد — شعیب الأرناؤوط: 35/177
Last edited: