• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حوادث عالم کا تسلسل اور اہل سنت کا مسلک

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
864
ری ایکشن اسکور
228
پوائنٹ
111
حوادث عالم کا تسلسل اور اہل سنت کا مسلک

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين، نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال الٰہیہ سے متعلق مسائل میں اہل سنت والجماعت کا منہج ہمیشہ کتاب و سنت اور فہم سلف پر قائم رہا ہے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرتے ہیں، نہ ان کی کیفیت بیان کرتے ہیں، نہ خالق کو مخلوق کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں، اور نہ اپنی ناقص عقل کو وحی الٰہی پر حاکم بناتے ہیں۔

انہی دقیق مسائل میں سے ایک مسئلہ تسلسل حوادث، قدم حوادث اور حوادث کے اول نہ ہونے کا ہے۔ اس باب میں بعض اہل کلام نے اہل سنت کے قول کو فلاسفہ کے قول قدم عالم کے ساتھ خلط کردیا اور یہ دعویٰ کیا کہ جو شخص حوادث کے تسلسل کا قائل ہو، وہ لازما عالم کو قدیم ماننے والا ہے۔ حالانکہ یہ دعویٰ حقیقت مسئلہ سے ناواقفیت اور اصطلاحات کے خلط کا نتیجہ ہے۔

شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ نے اس مسئلے کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔


شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں: «هناك كلام لشيخ الإسلام، وهو أن أهل السنة يرون أنه لا مانع في وجود حوادث لا أول لها، كما يوجد حوادث لا آخر لها» شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک کلام ہے کہ اہل سنت کے نزدیک ایسے حوادث کے وجود میں کوئی مانع نہیں جن کی کوئی پہلی ابتداء نہ ہو، جیسا کہ ایسے حوادث کا وجود بھی ممکن ہے جن کی کوئی آخری انتہا نہ ہو۔

یہاں سب سے پہلے حادث اور حوادث کی جنس کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر معین حادث اپنی ذات کے اعتبار سے حادث ہوتا ہے؛ یعنی وہ پہلے موجود نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ کے فعل سے وجود میں آیا۔ لیکن یہ کہنا کہ حوادث کی پوری جنس کے لیے بھی لازما ایک متعین پہلا حادث ہونا چاہیے، یہ الگ دعویٰ ہے۔

اہلِ سنت کے نزدیک یہ لازم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر فعل سے پہلے ایک ایسا نقطہ آغاز عقلا مقرر کیا جائے جس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کوئی فعل نہ کیا ہو۔ لہٰذا ہر معین مخلوق حادث ہے، لیکن حوادث کی جنس کے لیے کسی متعین اولین حادث کا اثبات ایک الگ مسئلہ ہے۔ اسی کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام میں تسلسل حوادث کے مسئلے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں:

«الزمان مخلوق، والله جل وعلا هو الأول والآخر، وهو سبحانه وتعالى حي قيوم فعال لما يريد، ولا بد من ظهور أثر صفاته وأثر أسمائه الحسنى في بريته، لا بد إذًا أن توجد برية، فحين ينتهي الزمان ويكون هو جل وعلا أول بصفاته، وهو آخر أيضًا، هو الأول والآخر والظاهر والباطن»

زمانہ مخلوق ہے، اور اللہ جل وعلا ہی اول اور آخر ہے۔ وہ سبحانہ وتعالیٰ حی و قیوم ہے، جو چاہتا ہے اسے کرنے والا ہے۔ اور ضروری ہے کہ اس کی صفات کے آثار اور اس کے اسمائے حسنیٰ کے آثار اس کی مخلوق میں ظاہر ہوں، لہٰذا مخلوق کا وجود بھی ضروری ہے۔ پھر جب زمانہ ختم ہوجائے گا تو وہ جل وعلا اپنی صفات کے اعتبار سے اول بھی ہوگا اور آخر بھی؛ وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے۔

اللہ تعالیٰ کا الأول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور اس کا الآخر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «﴿هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ﴾»

لہٰذا مخلوق کے وجود کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ اس طرح ملانا کہ خالق و مخلوق کے درمیان ازلیت میں کوئی اشتراک ثابت ہوجائے، باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ ازلی ہے، جبکہ تمام معین مخلوقات حادث ہیں۔ اسی طرح «حي قيوم فعال لما يريد» میں اللہ تعالیٰ کی صفات کمال کا اثبات ہے۔ وہ حی ہے، قیوم ہے اور جو چاہتا ہے اسے کرنے والا ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں:

«ومذهب أهل الحديث والسنة فيها أن الله جل وعلا له الأسماء الحسنى والصفات العلى، وأن أسمائه وصفاته لابد أن يظهر أثرها في خليقته، لا يكون متصفًا بأسماء بصفات، وله أسماء متضمنة للصفات، ثم يكون معطلًا جل وعلا عن الفعل حتى يخلق الزمان ويخلق المكان، وهذا فيه دخول في قول الجهمية والمعتزلة»

اس مسئلے میں اہل حدیث و اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ جل وعلا کے لیے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا ہیں، اور اس کے اسماء و صفات کے آثار اس کی مخلوق میں ضرور ظاہر ہوں گے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اسماء و صفات سے متصف ہو، اس کے ایسے اسماء ہوں جو صفات کو متضمن ہوں، پھر وہ جل وعلا فعل سے معطل ہو یہاں تک کہ زمانہ اور مکان پیدا کرے۔ اور یہ جہمیہ و معتزلہ کے قول میں داخل ہونا ہے۔

اہل سنت کا منہج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ تمام اسماء و صفات ثابت کیے جائیں جو کتاب و سنت میں وارد ہیں۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے؛ رازق ہے؛ محیی ہے؛ ممیت ہے؛ غفور ہے؛ حکیم ہے؛ اور فعال لما يريد ہے۔ لہٰذا ان صفات کے آثار بھی مخلوق میں ظاہر ہوں گے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کا محتاج ہے۔ حاشا! اللہ تعالیٰ غنی ہے، تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاریہ حقیقی ہیں، اور اس کے اسماء و صفات محض بے معنی الفاظ نہیں۔

اسی لیے شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں : «ثم يكون معطلًا جل وعلا عن الفعل» یعنی یہ تصور کہ اللہ تعالیٰ فعل سے معطل ہو، اہل سنت کے منہج کے خلاف ہے۔ اور اسی لیے شیخ نے سخت تنبیہ فرمائی: «وهذا فيه دخول في قول الجهمية والمعتزلة» یعنی اس میں جہمیہ و معتزلہ کے قول کی طرف داخل ہونا ہے۔ پس اہل سنت نہ تعطیل کے قائل ہیں نہ تمثیل کے؛ بلکہ اثبات بلا تشبیہ اور تنزیہ بلا تعطیل ان کا طریقہ ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں:

«فأهل الحديث يقولون: هو جل وعلا لم يزل حيًّا سبحانه وتعالى، وهو فعال لما يريد، ولا بد أن يكون له إرادة سبحانه وتعالى، إرادته أن يفعل، معنى ذلك أن يحدث فعل، وصفاته جل وعلا لابد أن يكون لها أثر في الخليقة، فصارت حوادث أول هذه الحوادث»

پس اہل حدیث کہتے ہیں: وہ جل وعلا ہمیشہ سے حی ہے، سبحانہ وتعالیٰ، اور وہ جو چاہتا ہے اسے کرنے والا ہے۔ اور ضروری ہے کہ اس کے لیے ارادہ ہو، سبحانہ وتعالیٰ۔ اس کے ارادے کا تعلق فعل کرنے سے ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ فعل واقع ہو۔ اور اس کی صفات جل وعلا کا مخلوق میں اثر ہونا ضروری ہے، پس حوادث وجود میں آئے؛ یہی ان حوادث کی ابتداء ہوئی۔

شیخ نے اہل حدیث کے منہج کو چند الفاظ میں بیان کردیا: «لم يزل حيًّا» وہ ہمیشہ سے حی ہے۔ اور «وهو فعال لما يريد» وہ جو چاہتا ہے اسے کرنے والا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفت فعل کا واضح اثبات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ حقیقی ہے اور اس کے ارادے سے افعال واقع ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ شیخ فرماتے ہیں: «وصفاته جل وعلا لابد أن يكون لها أثر في الخليقة» یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے آثار مخلوق میں ظاہر ہونا ضروری ہے۔ پس مخلوقات کا وجود اور اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاریہ ایک دوسرے سے متعلق ہیں، اور یہی حوادث کے مسئلے کی بنیاد ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں: «متى نقول الزمان وجد بعد ذلك؟ والله جل وعلا أعلم بهذا الأمر، يتقاصر العقل والفهم عن هذه الأشياء» ہم یہ کب کہیں گے کہ اس کے بعد زمانہ وجود میں آیا؟ اللہ جل وعلا ہی اس امر کو زیادہ جانتا ہے۔ عقل اور فہم ان چیزوں کے ادراک سے قاصر ہیں۔

یہ اہل سنت کے منہج کا ایک نہایت عظیم اصول ہے۔ جہاں نصوص نے تفصیل بیان کی ہے وہاں تفصیل بیان کی جائے گی، اور جہاں وحی نے خاموشی اختیار کی ہے وہاں انسان کو اپنی عقل سے غیب کی تفصیلات گھڑنے کا حق نہیں۔

زمانے کی حقیقت، اولین حوادث کی تعیین اور جنس مخلوقات کے تعلقات ایسی چیزیں ہیں جن میں انسانی عقل محدود ہے۔ لہٰذا «والله أعلم» کہنا جہالت نہیں، بلکہ علم کی علامت ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں:

«لكن من الظلم ما قالوه من أن شيخ الإسلام وأهل الحديث قالوا بقول الفلاسفة، حيث يقول الفلاسفة بقدم هذا العالم، وأن هذا القول الذي ذكرناه من مذهب أهل الحديث هو قول الفلاسفة، هذا باطل، وإنما أتوا من جهة عدم الفهم»

لیکن یہ کہنا ظلم ہے کہ شیخ الاسلام اور اہل حدیث نے فلاسفہ کا قول اختیار کیا ہے۔ فلاسفہ اس عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں، اور یہ کہنا کہ اہل حدیث کا مذکورہ مذہب بھی فلاسفہ ہی کا قول ہے، باطل ہے۔ وہ صرف عدم فہم کی وجہ سے اس نتیجے تک پہنچے ہیں۔

یہاں شیخ نے ایک بہت بڑے مغالطے کا رد فرمایا ہے۔ تسلسل حوادث کو قدم عالم قرار دینا سراسر غلط ہے۔ فلاسفہ کا قول ہے: «قدم هذا العالم» یعنی موجودہ عالم قدیم ہے۔ اہل سنت کا قول یہ نہیں۔ اہل سنت تو موجودہ عالم کو حادث اور مخلوق مانتے ہیں۔ لہٰذا جو شخص دونوں کو ایک سمجھتا ہے وہ یا تو مسئلہ کو نہیں سمجھا یا دانستہ خلط کررہا ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں:

«الفلاسفة والضلال في هذا الباب قالوا بقدم هذا العالم، فيها الإشارة هذا العالم المنظور، هذا العالم الذي تراه، السماوات والأفلاك والأرض، قالوا هي قديمة»

فلاسفہ اور اس باب میں گمراہ لوگوں نے اس عالم کے قدیم ہونے کی بات کہی۔ اس سے مراد یہی مشاہد عالم ہے، یہی وہ عالم ہے جسے تم دیکھتے ہو، آسمان، افلاک اور زمین؛ انہوں نے کہا کہ یہ قدیم ہیں۔

یہاں معاملہ صاف ہے۔ فلاسفہ موجودہ مشاہد عالم کو قدیم قرار دیتے ہیں۔ آسمان قدیم، زمین قدیم، افلاک قدیم۔ یہی قدم عالم ہے اور یہی اہلِ سنت کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معین موجود مخلوق ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں:

«وأما أهل السنة فقالوا: خلق الله جل وعلا قديم، ليس هذا العالم، هناك جنس مخلوقات، أما هذا العالم فهو محدث مبتدئ، ابتداء نعلمه مما جاءت النصوص»

اور اہل سنت نے کہا کہ اللہ جل وعلا کی مخلوق کی جنس قدیم ہے، یہ موجودہ عالم قدیم نہیں؛ مخلوقات کی ایک جنس ہے۔ لیکن یہ موجودہ عالم حادث اور مبتدأ ہے، اور اس کی ابتداء ہم ان نصوص سے جانتے ہیں جو وارد ہوئی ہیں۔

یہ اہل سنت اور فلاسفہ کے درمیان فیصلہ کن فرق ہے۔ شیخ نے صاف فرمایا «ليس هذا العالم» یہ موجودہ عالم قدیم نہیں۔ اور «أما هذا العالم فهو محدث مبتدئ» یہ عالم حادث اور مبتدأ ہے۔ پس اہل سنت کا قول قدم عالم نہیں بلکہ مخلوقات کی جنس اور اللہ تعالیٰ کے افعال کے تسلسل کے متعلق ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں: «أما فعل الله جل وعلا وجنس مخلوقاته فهذا علمه إلى الله جل وعلا» رہا اللہ جل وعلا کا فعل اور اس کی مخلوقات کی جنس، تو اس کا علم اللہ جل وعلا ہی کے پاس ہے۔

یہاں اہل سنت کا ادب علم ظاہر ہوتا ہے۔ جو چیز وحی سے معلوم ہو اسے تسلیم کیا جائے، اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں رکھی ہو، اس میں بے دلیل دعویٰ نہ کیا جائے۔ انسان کی عقل محدود ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم غیر محدود۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں: «ولا يجوز لأحد أن يدخل في ذلك بتعطيل الله جل وعلا عن فعله بما يريد» اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسئلے میں داخل ہوکر اللہ جل وعلا کے جس فرل۔کی چاہے تعطیل کرے۔

اللہ تعالیٰ فعال لما يريد ہے۔ اس لیے اس کے افعال کا انکار یا اسے فعل سے معطل ماننا اہل سنت کا طریقہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے افعال کو اس کی مشیت و حکمت کے مطابق ثابت کیا جائے گا، البتہ ان کی کیفیت اور ان کی وہ تفصیلات جن کا علم اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہیں دیا، ان میں توقف کیا جائے گا۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں: «فهو سبحانه وتعالى الحي القيوم، قائم على ما خلق سبحانه وتعالى» پس وہ سبحانہ وتعالیٰ حی و قیوم ہے، اپنی پیدا کردہ مخلوق کو قائم رکھنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ خود قائم ہے اور تمام مخلوقات کو قائم رکھنے والا ہے۔ وہ کسی مخلوق کا محتاج نہیں، بلکہ ہر مخلوق اس کی محتاج ہے۔ لہٰذا اس کے افعال و صفات کو مخلوق کے افعال و صفات پر قیاس کرنا جہالت ہے۔

شیخ صالح آل الشیخ فرماتے ہیں:

«ولا بد أن يظهر أثر الصفات وأثر الأسماء في الخلق، وهذه مسألة عظيمة خاض فيها من لم يحسن، وهدى الله جل وعلا أهل السنة فيها بتعظيمه وعدم حد صفاته وأفعاله»

اور ضروری ہے کہ صفات کے آثار اور اسماء کے آثار مخلوق میں ظاہر ہوں۔ یہ ایک عظیم مسئلہ ہے جس میں ان لوگوں نے بحث کی جو اسے اچھی طرح نہ سمجھ سکے، جبکہ اللہ جل وعلا نے اہل سنت کو اس مسئلے میں اپنی تعظیم اور اپنی صفات و افعال کو محدود نہ کرنے کے ذریعے ہدایت عطا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات حق ہیں، اس کے افعال حق ہیں، اور ان کے آثار مخلوق میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اہل سنت نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو نہ تعطیل کیا اور نہ مخلوق کے ساتھ تشبیہ دی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات محض الفاظ ہیں جن کا کوئی حقیقی معنی نہیں، اور نہ یہ کہا کہ صفات کی کیفیت ہماری صفات جیسی ہے۔

بلکہ ان کا اصول ہے صفات کا اثبات، کیفیت سے سکوت، تشبیہ سے اجتناب، اور تعطیل سے براءت۔ اسی لیے شیخ نے فرمایا: «وهدى الله جل وعلا أهل السنة فيها بتعظيمه وعدم حد صفاته وأفعاله» یعنی اللہ تعالیٰ نے اہلِ سنت کو اس مسئلے میں اپنی تعظیم اور اپنی صفات و افعال کو محدود نہ کرنے کے ذریعے ہدایت دی۔


پس اہل حدیث کو فلاسفہ کا پیرو کہنا محض اس وجہ سے کہ وہ حوادث کے تسلسل کے قائل ہیں، جیسا کہ شیخ صالح آل الشیخ نے فرمایا:«هذا باطل، وإنما أتوا من جهة عدم الفهم» یہ صریح باطل اور عدم فہم کا نتیجہ ہے۔

اہل سنت کا اصل عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی الأول والآخر ہے؛ وہ حی و قیوم ہے؛ وہ فعال لما يريد ہے؛ اس کے اسماء حسنیٰ اور صفات علیا حق ہیں؛ اس کے افعال حق ہیں؛ موجودہ عالم حادث و مخلوق ہے؛ اور حوادث کے مسئلے کی وہ تفصیلات جن کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے، ان میں عقل کے گھوڑے دوڑانا اور بے دلیل حدود مقرر کرنا اہل سنت کا طریقہ نہیں۔

پس سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے اسماء و صفات کے ساتھ پہچانا جائے، اس کے افعال کو تسلیم کیا جائے، اسے تعطیل سے منزہ رکھا جائے، مخلوق کو اس کے ساتھ ازلیت میں شریک نہ کیا جائے، اور جہاں عقل و فہم کی رسائی ختم ہوجائے وہاں سر تسلیم خم کرکے کہا جائے والله أعلم، وهو سبحانه أحكم الحاكمين۔

اور یہی اہل حدیث کا وہ منہج ہے جس میں تعظیم الٰہی بھی ہے، اثبات صفات بھی، تنزیہ بھی، نصوص کی پیروی بھی، اور عقل کو اس کی جائز حد میں رکھنے کا التزام بھی۔

والله تعالى أعلم بالصواب۔
 
Top