• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وصیت: معاویہ رضی اللہ عنہ کو مضبوطی سے تھامے رکھو

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
879
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وصیت: معاویہ رضی اللہ عنہ کو مضبوطی سے تھامے رکھو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

اہل سنت والجماعت کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل اور مناقب کا باب نہایت عظیم اور قابل احترام ہے۔ خصوصا وہ آثار جن میں کسی جلیل القدر صحابی کا کسی دوسرے صحابی کے بارے میں حسن ظن، اعتماد، محبت یا اس کی فضیلت کا اظہار منقول ہو، ان کو انصاف اور دیانت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ انہی آثار میں سے ایک نہایت قابل غور اثر وہ ہے جو امام ابو زرعہ دمشقی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔

امام ابو زرعہ دمشقی رحمہ اللہ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

«حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: تَشَبَّثُوا بِصِدْغِي مُعَاوِيَةَ، اللَّهُمَّ لَا تُدْرِكْنِي سَنَةَ سِتِّينَ.»

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی کنپٹی کو مضبوطی سے تھامے رکھو (یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ سے وابستہ ہو جاؤ)، اے اللہ! مجھے سنہ ساٹھ نہ دکھانا۔

[تاريخ أبي زرعة الدمشقي، ص : ٢٣١]

10999.jpg

10997.jpg

اس روایت کے الفاظ پر ذرا غور کیجیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا «تَشَبَّثُوا بِصِدْغِي مُعَاوِيَةَ» یعنی معاویہ کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہو، ان کا دامن پکڑو، ان کی امامت کو لازم پکڑو۔

عربی محاورے میں کسی کے ساتھ اس طرح مضبوطی سے چمٹنے کا ذکر محض بے معنی الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ اس میں اعتماد، وابستگی اور سہارا لینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ الفاظ اس امر کی واضح شہادت ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک ایسا استحکام اور خیر دیکھتے تھے جسے وہ آنے والے فتنہ کے مقابلے میں ترجیح دیتے تھے۔

اس اثر سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حسن ظن، ان کی امامت پر اعتماد اور ان کے زمانہ حکومت کو بعد کے ایک خطرناک دور کے مقابلے میں بہتر سمجھنا ثابت ہوتا ہے۔ یہ صحابی رسول رضی اللہ عنہ کی گواہی ہے، اور صحابہ کے باہمی معاملات کو سمجھنے میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ ان کی صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے سب سے بڑا شرف ہے۔ وہ کاتبین وحی میں سے تھے اور مسلمانوں کے ایک عظیم دور میں امیر المؤمنین رہے۔

اہل سنت کا طریقہ یہ نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی کے واقعات کو چھوڑ کر بعد کے لوگوں کی عینک سے ان کا فیصلہ کیا جائے، بلکہ قرآن و سنت، صحابہ کے اقوال اور اہل علم کی شہادتوں کو سامنے رکھ کر انصاف کیا جائے۔

اور جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی، کثرت سے حدیثیں روایت کیں اور جن کے فضل و علم پر امت گواہ ہے، وہ اپنی زبان سے یہ فرماتے ہیں: «تَشَبَّثُوا بِصِدْغِي مُعَاوِيَةَ» تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس قول کو تعصب کی نذر نہ کیا جائے۔

یہ وہی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں زندگی گزاری اور ان کے حالات کو قریب سے دیکھا۔ لہٰذا ان کا یہ کلام محض کسی دور کے مؤرخ کا تبصرہ نہیں، بلکہ ایک صحابی کا اپنے زمانے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مضبوط وابستگی کی تلقین ہے۔

یہ اثر اس بات کی قوی تائید کرتا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ وابستگی کو پسند کرتے تھے، ان کی خلافت کو ایک محفوظ اور بہتر حالت سمجھتے تھے، اور سنہ ساٹھ کے بعد آنے والے حالات سے خوف محسوس کرتے تھے۔ اس معنی میں یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں ایک نہایت اہم صحابیانہ شہادت ہے۔

پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اہل سنت کا طریقہ عدل و انصاف کا طریقہ ہے۔ نہ ان کے فضائل کا انکار کیا جائے، نہ ان کی صحابیت کو معمولی سمجھا جائے، نہ صحابہ کے باہمی اجتہادی واقعات کو بغض و عداوت کا ذریعہ بنایا جائے۔

لہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنی زبانوں کو پاک رکھیں، ان کے فضائل کو تسلیم کریں، ان کے لیے رضی اللہ عنہم کہیں، اور ان لوگوں کے طریقے سے بچیں جو صحابہ کے ذکر کو طعن و تشنیع کا میدان بنا لیتے ہیں۔

اللهم ارض عن أصحاب نبيك أجمعين، وعن أبي هريرة ومعاوية، وسائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، واحشرنا في زمرتهم، ولا تجعل في قلوبنا غلًّا للذين آمنوا، ربنا إنك رؤوف رحيم۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
۔
 
Top