• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موبائل اور ہماری برباد ہوتی زندگیاں

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
80
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
56
بسم اللہ الرحمن الرحیم

موبائل اور ہماری برباد ہوتی زندگیاں​

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

محترم سامعین وسامعات:

ابھی کچھ ہی دن پہلے آپ نے سوشل میڈیا پر صوبہ مہاراشٹر کی یہ خبر ضرور دیکھی ہوگی کہ ایک موبائل فون کی ضد نے پورے خاندان بیٹا ،باپ اور ماں کو موت کی نیند سلادیا،یہ کیسی لَت اور کیسا نشہ ہے کہ ایک پلاسٹک اور اسٹیل وغیرہ سے بنی چیز کے لئےایک نوجوان نے اپنے ساتھ،اپنے ماں باپ کوبھی موت کے گھاٹ اتار دیا اور یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے،ہرآئے دن ہم اس طرح کے واقعات کو سوشل میڈیا کے اوپر دیکھتے ہی رہتے ہیں تو اسی مناسبت سے آج کے خطبۂ جمعہ کے لئے جس عنوان کا میں نے انتخاب کیا ہے وہ ہے ’’موبائل اور ہماری برباد ہوتی زندگیاں ‘‘

میرے دوستو!موبائل فون بذات خود یہ کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے،اس کے ذریعے ہم دین کا علم حاصل کرسکتے ہیں،قرآن پڑھ سکتے ہیں اور سن سکتے ہیں،قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں ،علماءکرام کے بیانات کو سن سکتے ہیں ،مصیبت کی گھڑی میں ہم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،دور ونزدیک اپنے رشتے داروں سے رابطےکرسکتے ہیں غرضیکہ ہم اس موبائل سے دنیا بھر کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور ڈھیرسارا فائدہ اٹھا سکتے ہیں،مگر افسوس صد افسوس سائنس کی اس ایجاد نےجہاں انسان کو بے شمار آسانیاں اور سہولیتیں دیں ،آج یہی ایجاد انسان کے لئے جان لیوا ثابت ہورہاہے،اس موبائل فون کے بے جا استعمال نے نہ جانے کتنے نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا،اس موبائل فون کے بے جا استعمال نے نہ جانے کتنوں کو اپنوں سے بیگانہ کردیا،اس موبائل فون کے بے جااستعمال نے نہ جانے کتنے مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو دین سے مرتد کردیا، اس موبائل فون کے بے جااستعمال نے نہ جانےکتنوں کی عزتیں خاک میں ملا دی، اس موبائل فون کے بے جااستعمال نے نہ جانےکتنے طلاق وخلع کرادئے،الغرض اس کمبخت موبائل فون کے بے جا وبے دریغ استعمال نے ہماری پوری زندگی تہس نہس کرکے رکھ دی ہے،اور نوبت بایں جارسید کہ اب ہم موبائل کے مالک نہیں رہے بلکہ موبائل ہمارا مالک بن چکا ہےاور ہم سب اس کمبخت موبائل کے غلام واسیر بن چکے ہیں ،جہاں دیکھئے اور جب دیکھئے ہرکوئی اسی موبائل میں مگن ہے،لوگوں کو اس موبائل کے بغیر نہ تو نیندآتی ہے او رنہ ہی کھانا پینا اچھا لگتا ہےبلکہ اگر ریچارج ختم ہوجائے تو انسان ٹینشن میں آجاتاہے،لوگ کھائے پئے بغیر رہ سکتے ہیں مگر اس موبائل فون کے بغیرایک سکنڈ بھی نہیں رہ سکتے ہیں ، سونے سے پہلے موبائل، آنکھ کھلتے ہی موبائل،کھانے کے وقت موبائل،پینے کے وقت موبائل ،مجلس میں موبائل،تنہائی میں موبائل ،بیت الخلاء میں موبائل،گھرمیں موبائل،سفر میں موبائل، بازار میں موبائل حتی کہ مسجد میں بھی موبائل ،اور تو اور ہے مسلمانوں کی کم ظرفی دیکھئے کہ ادھر جمعہ کا بیان ہورہاہے ،تراویح کی نماز ہورہی ہےاور لوگ موبائل دیکھتے اور اسکرولنگ کرتےرہتے ہیں ،آج لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جیسے ہی نماز سے سلام پھیرا فوراً موبائل کو ایسے ٹچ کرتے ہیں گویا کہ ان کو اللہ کی طرف سے نوٹیفیکشن آیا ہو کہ تمہاری نماز اور تمہاری عبادتیں قبول ہوگئی ہے،اللہ کی پناہ!لوگوں کے اس رویے کو دیکھ کر مجھے علامہ اقبالؒ کا ایک شعر یاد آرہا ہے جسے میں تھوڑے الفاظ بدل کر آپ کو سنا دیتاہے:

جو میں سربسجدہ ہوا کبھی،تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے ’’ موبائل‘‘ آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں​

اس لئے سوچئے میرے بھائیو اور بہنو!کہ ہم موبائل کو استعمال کررہے ہیں یا پھر یہ موبائل ہمیں استعمال کررہاہے۔

محترم سامعین وسامعات:

اب آئیے ذرا اس موبائل کے دنیوی اور اخروی نقصانات پر بھی کچھ باتیں کرلیتے ہیں ،یقیناً سائنس کی اس ایجاد نے انسان کو بے شمار آسانیاں اور سہولیتیں دی ہیں اور دے رہی ہیں ،جوکام پہلے مہینوں اور گھنٹوں میں ہوا کرتے تھے اب یہ موبائل وہی کا م صرف چند سکنڈ میں کرکے دے رہاہےاور نہ معلوم آگے چل کر یہ ایجاد انسان کو کیسی کیسی سہولیتیں اور آسانیاں دے گا، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس آلے کو انسان کی سہولت اور وقت بچانے کے لئے بنایا گیا تھا آج وہی آلہ انسان کے وقت،صحت وزندگی،اخلاق وکردار اور دین وایمان کا سب سے بڑا زیاں بن چکا ہےاور اس بات میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے کہ اس موبائل کے بے جا اور بے دریغ استعمال نے ہماری زندگی کے ہرپہلو کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے:

1۔موبائل اورصحت پر برے اثرات:

میرے دوستو!میں آپ کو کیا بتاؤں کہ اس موبائل کے بے جا وبے دریغ استعمال نے ہمیں کیسے کیسے جسمانی اور دماغی نقصان پہنچائے ہیں ،کیاآپ جانتے ہیں کہ اس موبائل نے ہم سب کو ایک بیماری میں مبتلا کردیا ہے اور وہ بیماری ہے موبائل فوبیا کی بیماری ،جسے انگریزی زبان میں نوموفوبیا یعنی (No Mobile phobia)کہا جاتا ہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ موبائل فوبیا کون سی بیماری ہے تو سنئے،موبائل فوبیا اس وقت کی بے چینی و بے قراری کو کہتے ہیں جب انسان کو اپنا موبائل فون پاس نہ ہونے،بیٹری ختم ہونے،ریچارج ختم ہونے،سگنل نہ آنے یاپھر انٹرنیٹ کی سہولت نہ ملنے پر محسوس ہوتی ہے،ذرا سوچئے اور اپنی عادتوں کو یادکیجئے کہ اس وقت ہم کتنے بے چین وبے قرار ہوجاتے ہیں جب ہمارے پاس ایک دومنٹ کے لئے موبائل نہ ہویاپھر بیٹری ختم ہوگئی ہو،یاپھر ہمارا نیٹ نہیں چل رہاہو،تواسی کو موبائل فوبیا کی بیماری کہتے ہیں ،جس کے شکار سماج ومعاشرے کا ہرفرد ہوچکا ہے۔

میرے دوستو!یہ بیماری تو ایک معمولی بیماری ہے اب جس بیماری کا میں تذکرہ کرنے جارہاہوں یہ تو بہت بڑی بیماری ہےاس لئے ذرا اس بات کو کان کھول کرسنئے اور موبائل کے بے جا استعمال سے خود کو اور اپنےبچوں کو بچایئے ورنہ آپ بھی اس بیماری کے شکار ہوسکتے ہیں،اب آپ کے ذہن ودماغ میں یہ بات آ رہی ہوگی کہ ایسی کون سی بیماری ہے تو وہ بیماری ہے کینسر اور ٹیومر کی بیماری ،اور یہ بیماری موبائل اور موبائل نیٹ ورک سے نکلنے والی ریڈیشن سے ہوتی ہے،یہ ریڈیشن اتنا خطرناک ہوتاہے کہ اس سے دماغ کی نسیں بھی بسااوقات پھٹ سکتی ہیں ،یہ ریڈیشن کتنا خطرناک ہے اگر آپ کو اس کی جھلک دیکھنی ہو تو پھر ذرا یاد کیجئے کہ اس موبائل اور موبائل نیٹ ورک کے ایجاد سے پہلے فضاؤں میں کتنے قسم کی چڑیاں چہچہاتی تھیں ،مگر اب وہ ناپید ہوچکی ہیں ،کیوں ؟اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ریڈیشن ہے،اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو!اس موبائل کے ریڈیشن کے خطرناکی کو سمجھو اور جہاں تک ہوسکے اس موبائل کو اپنے سرکے پاس رکھ کر نہ سویا کروکیونکہ یہ ریڈیشن سب سے زیادہ دماغ کے لئے ہی خطرناک ہے۔

میرے دوستو! اس موبائل فون کے بے جا وبے دریغ استعمال سے سب سے زیادہ جو نقصان ہورہاہے وہ ہے لوگوں کی گرتی ہوئی صحت کہ ہروقت جیب میں موبائل فون رکھنے کی وجہ سے ہڈیوں کی کمزوری اور گھنٹوں اسکرین کے سامنے جھکے رہنے سے نظر کی کمزوری ،آنکھوں سے پانی آنا،سردرد،گردن اور کمر کے امراض عام ہوچکے ہیں ،رات دیر تک موبائل استعمال کرنے سے نیند کی کمی،بے چینی ، ذہنی تناؤ اورچڑچڑاپن نوجوان طبقے میں تیزی سے بڑھ رہاہے،اس لئے اے لوگوں!اپنی عادتوں کو بدلو،اور جہاں تک ہوسکے اس موبائل فون کے بے جا استعمال سے بچو کیونکہ یہ موبائل تو یقیناً بہت کام کی چیز ہےمگر اس کانقصان بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔

2۔موبائل اور بگڑتی اولاد:

میرے دوستو! اس موبائل کے بے جا وبے دریغ استعمال نے سب سے زیادہ جس طبقے کو نقصان پہنچایا ہے وہ ہے ہمارے بچے اور ہماری نئی نسل،آج سماج ومعاشرے کے اندر ہروالدین اپنی اولاد کا بے جااور بے دریغ موبائل استعمال کرنے سے پریشان ہے،ہروالدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ میرابچہ موبائل بہت دیکھتاہے ،یقینا ًسماج ومعاشرے کا یہ بہت بڑاالمیہ ہے کہ معصوم بچے سے لے کر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ سب کے سب اس موبائل کے غلام بن چکے ہیں ،اور اس کے ذمے دارہم خود والدین ہیں کہ جب ہمارا بچہ روتاہے تو ہم کہتے ہیں کہ موبائل دے دو،بچہ ضدکررہاہے تو ہم کہتے ہیں کہ موبائل دے دو،بچہ کھانا نہیں کھاتاہے تو ہم کہتے ہیں کہ موبائل دے دو،بچہ گھرمیں زیادہ اچھل کودکررہاہوتاہے یا پھر اپنی ماں کو کام کرنے میں تنگ اور ڈسٹرب کررہاہوتاہے تو ہم کہتے ہیں کہ موبائل دے دو وہ خاموشی کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ جائے گا،اور اس طرح سے ہم خود ہی آہستہ آہستہ اپنے بچوں کو موبائل کا عادی بنادیتے ہیں اور جب ہمارا بچہ حد سے زیادہ موبائل کا عاشق ہوجاتاہے توہم کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہماری بات نہیں سنتاہےاور ہروقت موبائل میں گُھسا رہتاہے،ایسے موقع پر مجھے شیخ ثناء اللہ مدنی /حفظہ اللہ کے بیان کا ایک نکتہ یادآرہاہے کہ موبائل چھوٹے بچوں کو دے دو تو رونا بند،اور اگر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو دے دو تو سونا بند۔

میرے دوستو! آپ یقین جانئے کہ آج ہماری اولادجو ہم سے بغاوت کررہی ہے اس کا ایک سب سے بڑا سبب یہی موبائل ہے،کیا آپ نے ابھی کل پرسوں کی خبردیکھی نہیں کہ اسی موبائل کی وجہ سے ہی تو پورا خاندان تباہ وبرباد ہوگیا،اور اس طرح کی خبریں ہمیشہ وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر آتی رہتی ہیں کہ موبائل نہ دینے کی وجہ سے ایک بچے نے اپنی ماں اور اپنے باپ کو قتل کردیا،گیم کھیلنے کی وجہ سے ایک بچے نے خود کشی کرلی،زیادہ موبائل استعمال کرنے کی وجہ سے ایک بچہ پاگل ہوگیا،یا پھر زیادہ موبائل استعمال کرنے کی وجہ سے کسی بچے کی دونوں آنکھیں خراب ہوگئیں،کیاسماج ومعاشرے کے اندر آپ یہ دیکھتے اور سنتے نہیں ہیں کہ اسی موبائل کی وجہ سے ہی آج مسلم لڑکیاں غیروں کے ساتھ بھاگ کرشادی کررہی ہے اوراپنے دین وایمان سے مرتد ہو رہی ہیں ،صرف یہی نہیں بلکہ اسی موبائل کی وجہ سے ہی ٹین ایج یعنی کم عمری میں ہی ہماری اولاد عشق ومعاشقے کے لت میں گرفتار ہورہی ہیں ،اوربھاگ کر شادی کررہی ہیں ،الغرض اس طرح کی خبریں ہم ہمیشہ دیکھتے اور سنتے ہیں مگر ہم عقل کے ناخن نہیں لیتے ہیں ،یاد رکھ لیجئے کہ یہ اولاد اللہ کی ایک ایسی نعمت اور امانت ہے جس کے بارے میں کل بروز قیامت ہم سے اس بارے میں ضرور باز پرس ہوگی جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ‘‘ کہ تم میں سے ہرکوئی ذمہ دار ہے اور اس سے کل بروزقیامت اپنے ماتحت لوگوں کے بارے میں ضرور پوچھ تاچھ کی جائے گی،’’ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ‘‘مرد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اور اس سے کل بروزقیامت اپنے گھروالوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا،اسی طرح سے ’’ وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ‘‘ اورعورت یعنی بیوی بھی اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے کل بروز قیامت اس بارے میں سوال کیا جائے گا۔(بخاری:893،مسلم:1829)اس لیے میرے بھائیو اور بہنو!اپنی اولاد کو موبائل دے کر آنکھیں مت بند کرلو،اور اللہ کے واسطےیہ نہ کہاکرو کہ مجھے اپنی اولاد پر بہت بھروسہ ہے ،ہماری اولاد ایسا ویسا کچھ نہیں کرے گی،دیکھا یہ گیا ہے کہ جن جن لوگوں نے اپنی اولاد سے آنکھیں بند کرکے انہیں ہرطرح کی آزادی دے دی انہیں لوگوں کی اولاد نے ان کی عزت خاک میں ملادی اور ان کی ناک کٹوادی،اس لئےسماج ومعاشرے کی حالتوں کو دیکھتے ہوئے آج کے خطبۂ جمعہ کے ذریعے میں آپ سب کو ایک پیغام دینا چاہتاہوں کہ اگرآپ اپنی اولاد چاہے لڑکا ہو یا پھر لڑکی کو موبائل دی ہیں تو پھراس کے موبائل کو ضرور بالضرور گاہے بگاہےچیک بھی کرتے رہاکریں ،اور میں ایسا اس لیے کہہ رہاہوں کیونکہ کسی بھی والدین کو اس بات کی خبر ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ انہیں اس بات کی بھنک تک نہیں ہوتی ہے کہ ان کی اولاد راتوں کی تنہائیوں میں موبائل میں کیا دیکھ رہی ہے،اس لئے میں تمام والدین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ اپنی اولاد کو محبت میں جوموبائل،انٹرنیٹ اور وائی فائی دے رہے ہیں نا اس سے آپ خود اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی اولاد کے مستقبل کا گلا گھونٹ رہے ہیں ،اس لئے یاد رکھ لیں کہ اپنی اولاد کو موبائل سے زیادہ اپنی محبت دیں ،موبائل سے زیادہ قرآن دیں ،موبائل سے زیادہ اچھی تعلیم وتربیت دیں ،کیونکہ اچھی تعلیم وتربیت ہی آپ کے اولاد کے مستقبل کوروشن کرسکتی ہے۔

محترم والدین!اگرآپ کی اولاد بے جا اور بے دریغ موبائل استعمال کرتی ہے توپھرآئیے اس بارے میں بھی ،میں آپ کی رہنمائی کرہی دیتاہوں ،سب سے پہلے تو آپ یہ جان لیں کہ ٹیکنالوجی بچے کے ہاتھ میں ہو لیکن بچے کی زندگی ٹیکنالوجی کے ہاتھ میں نہ ہو۔آپ اپنی اولاد کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیں مگر کچھ شرائط کے ساتھ کہ کھانے کے وقت موبائل نہیں ،نماز کے وقت موبائل نہیں ،سوتے وقت موبائل نہیں ،آپ بچوں کو یہ کہیں کہ ہمارے سامنے میں موبائل استعمال کرو،جو دیکھنا ہے ہمارے سامنے میں دیکھو،آپ کے بچوں کےموبائل کا پاسورڈ خطرناک نہ ہو،پاسورڈایسا ہوکہ گھر کے سب افراد کو پتہ ہو،اوراگر آپ کی اولاد اپنے موبائل میں خطرناک پاسورڈ لگارہی ہے تو سمجھ لیجئے کہ دال میں کچھ کالا ہے ،نہیں !نہیں سمجھ لیجئے کہ پوری دال ہی کالی ہے۔

3۔ موبائل اور نمازوں سے غفلت:

میرے دوستو!موبائل کے بے جا اور بے دریغ استعمال کرنےکاایک سب سے بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ انسان اس کے اندر اتنا مگن ہوجاتاہے کہ اسے نمازوں کی بھی فکر نہیں ہوتی ہے،اذانیں ہورہی ہیں مگر انسان موبائل میں ویڈیوز دیکھنے ،سوشل میڈیا کا استعمال کرنے اور کرکٹ دیکھنےمیں مصروف رہتاہے،آج سماج ومعاشرے کے اندر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جیسے ہی موبائل میں کوئی نوٹیفکیشن آتا ہے تو اسے فوراً کھول کر دیکھ لیتاہے لیکن جب اذان ہوتی ہے تو انسان کہتا ہے کہ بس بس یہ ویڈیوختم ہوجانے دو،ابھی تو اذان ہوئی ہے،بس لاسٹ اَووَر بچا ہے جیسے ہی ختم ہوتاہے نماز کو جاؤں گا ،ہائے افسوس نماز وں کے لئے انسان کتنے بہانے پیش کرتاہے مگر موبائل کی نوٹیفکیشن کے لئے کوئی بہانہ نہیں ہوتاہے اگر انسان بیت الخلاء میں بھی ہوتاہے تو اس کو اوپن کر کے دیکھ لیتاہے،دیکھنے اور سننے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رات دیر تک ویڈیوز اور سوشل میڈیا میں مصروف رہتے ہیں بلکہ یہ بھی سناگیا ہے کہ لوگ فجر کی اذان تک موبائل میں اسکرولنگ ہی کرتے رہتے ہیں اور جب فجر کی اذان ہوتی ہے تو اپنا موبائل بند کرکے سوتے ہیں ۔اعاذنا اللہ۔

میرے بھائیو اور بہنو!جس چیز کی وجہ سے ہماری نماز کمزور ہوجائے اس کے استعمال پر ہمیں ضرور غور فکرکرنا چاہئے کیونکہ رب نے یہ اعلان کردیا ہے کہ جولوگ اپنی نمازوں کو ضائع وبرباد کردیں گے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں ،فرمایا ’’ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ‘‘ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیداہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے،سوا ن کا نقصان ان کے آگے آئے گا ۔یعنی کہ ایسے لوگ قیامت کے دن جہنم کی ایک وادی غی میں ڈالے جائیں گے۔(مریم:59)اس آیت میں الغی مذکور ہے ،اس بارے میں ابن مسعودؓ نے کہا کہ ’’ هُوَ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ ‘‘غی جہنم میں ایک وادی کا نام ہے،اور حضرت کعبؒ نے کہا کہ ’’ غَيٌّ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ أَبْعَدُهَا قَعْرًا وَأَشَدُّهَا حَرًّا فِيهِ بِئْرٌ يُسَمَّى الْبَهِيمَ كُلَّمَا خَبَتْ جَهَنَّمُ فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى تِلْكَ الْبِئْرَ فَتُسَعَّرُ بِهَا جَهَنَّمُ ‘‘یہ غی جہنم کی ایک ایسی وادی ہے جو بہت ہی زیادہ گہری اور انتہائی گرم ہے،اس میں ایک کنواں ہے جسے ’’ البہیم ‘‘ کہاجاتاہے،جب جہنم کی آگ کی شدت میں کچھ کمی ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس کنویں کو کھول دیتاہے جس سے جہنم کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے۔(تفسیر قرطبی:11/125)اللہ کی پناہ! اللہ ہم سب کو جہنم کی آگ سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔آمین۔ اے میرے نوجوانو! سن لو! اگر موبائل ہمیں نماز فجراور دیگر عبادتوں سے دور کردے تو یقینا ًہم دنیا وآخرت کی ہلاکت وبربادی کے عمیق گڑھے میں گرچکے ہیں ۔

4۔موبائل اور فحاشی اورعریانیت کا سیلاب:

میرے مسلمان بھائیو اور بہنو! اس موبائل کے بے جااور بے دریغ استعمال کا سب سے بڑا نقصان تو سنئے کہ اس موبائل سے زیادہ تر لوگ فحاشی وعریانیت اور بے حیائی پھیلارہے ہیں ،غیروں کو توچھوڑئے !جس دین میں عورتوں کے لئے پردہ کرنا فرض اور واجب ہے آج اسی دین کو ماننے والی مسلم قوم کی بہو بیٹیاں اب موبائل کے اسکرین پر لائک اور کمنٹس اور کمائی حاصل کرنے کے لئےاپنے حسن وجمال کی نمائش کرتے ہوئے مجرا اور ڈانس کرتی نظر آتی ہیں ،ایک دور تھا کہ لوگوں کو مجرا اور ڈانس دیکھنے کے لئےمنہ چھپاتے ہوئے کوٹھوں اورطوائف خانوں کا چکر لگانی پڑتی تھی اور آج یہ ایک دور ہے کہ لوگ خود اپنی بہوبیٹیوں کو مجرا کرا خوش ہورہے ہیں اور دوسروں کو بھی دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ کو میری بہو بیٹی کا ناچنا ،گانا اور ٹھمکے لگانا پسندآئے تو لائک ،کمنٹس اور شیئر ضرور کیجئے،استغفر اللہ!لوگوں کی بے غیرتی کی انتہا ہے،تو جولوگ بھی اس موبائل کے ذریعے یہ کام کررہے ہیں ایسے لوگ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا یہ اعلان سن لیں! ’’إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ‘‘کہ جولوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کےآرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اورآخرت میں دردناک عذاب ہیں ۔(النور:19)اللہ کی پناہ! سوشل میڈیاپر ناچ گانے،ڈانس اور ٹھمکے لگاکربے حیائی شیئر کر کے لائک ،کمنٹس کے ذریعے دادتحسین حاصل کرنے والوں سن لو! یہ تمہارا ایک ایسا گناہ ہے کہ تم اس دنیا سے فنا ہوجاؤگے مگرتاقیامت تمہارے نامۂ اعمال میں یہ گناہ جمع ہوتےرہیں گے،اورتاقیامت جتنے لوگ اس گناہ کو شیئر کرتے رہیں گےان سب کا گناہ تمہارے حصے میں جمع ہوتارہے گا،اگر تم کو میری باتوں پر یقین نہ ہورہاہوں تو پھر اپنے نبیﷺ کا یہ فرمان سن لو!’’ وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ ‘‘کہ جس نے کسی کو گمراہی کی طرف بلایا،’’فَعَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ ‘‘تو اسے پیروی کرنے والوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا،’’ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا ‘‘ اور کسی کے بھی گناہوں میں کمی نہیں آئے گی۔ (ابن ماجہ:206، مسلم:1017)دیکھا اور سنا آپ نے کہ جو کسی کو گناہ کی دعوت دے گا تو اس کوبھی کرنے والے کے گناہ کے برابر سزا ملے گی،اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو! یہ بات یادرکھ لیں کہ موبائل پر کوئی فحش چیز دیکھنا یہ تو گناہ ہے ہی لیکن اس گناہ کو دوسروں تک پہنچانا یہ جرم عظیم ہے،جس پر اللہ رب العالمین نے دنیا وآخرت میں سخت سزادینے کی وارننگ دی ہے،لہذا ہمیں صرف خود اپنے آپ کو فحش چیزوں سے بچانا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسے دوسروں تک پہنچانے سے بھی ہمیشہ بچنا ہے۔اللہ ہم سب کو اس برائی سے محفوظ رکھے۔آمین۔اس لئے میرے دوستو!اس موبائل کو خیر وبھلائی کے کاموں کےلئے استعمال کرو،اس موبائل سے نیکی کماؤ،قرآن سنو،قرآن پڑھو،لوگوں تک اس موبائل کے ذریعے اللہ کاپیغام پہنچاؤ،علماء کرام کے بیانات کو سنو اور شیئر کرو اور خیروبھلائی کی باتوں پر مشتمل آڈیواور ویڈیوز ہی اسٹیٹس لگاؤ کیونکہ اس کے اندر تمہارے لئے اجروثواب ہے جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا: ’’ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ ‘‘کہ جوبھی شخص کسی کو ہدایت کی طرف بلائے گا تو اس کے لئے اپنا اجروثواب تو ہے ہی ،ساتھ میں ان لوگوں کے نیک اعمال کا بھی اجروثواب ملے گا جو اس کی باتوں پر عمل کریں گے اورہاں کسی کے بھی اجروثواب میں کچھ کمی نہ آئے گی۔(ابن ماجہ:206،مسلم:1017) اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس موبائل سے نیکی کماتے ہیں یاپھر گناہ۔

میرے دوستو! اب آپ مجھ سے یہ پوچھیں گے کہ ہم اس موبائل سے خیروبھلائی کیسے حاصل کرسکتے ہیں توآئیے میں آپ کو یہ بھی بتادیتاہوں کہ ہم اس موبائل کا بہترین استعمال کرکے ڈھیر سارا خیروبھلائی کیسے حاصل سکتے ہیں :

1۔موبائل میں قرآن وحدیث رکھیں اور پڑھاکریں۔

2۔ موبائل سے صرف مستند علماء کرام کے بیانات ہی سنا کریں۔

3۔موبائل میں دعائیں اور دینی کتابیں پڑھاکریں۔

4۔ اپنے اکاؤنٹس سے صرف خیروبھلائی والی باتوں پر ہی لائک وکمنٹس اور شئیر کیاکریں۔

5۔ آج ہی اپنے موبائل سے غلط اور فحش اکاؤنٹس کو اَن فالو کردیں۔

6۔ موبائل کے چکر میں اپنے نمازوں کو ضائع وبرباد نہ کیاکریں۔

7۔اپنے موبائل کو غیبت ،جھوٹ اور چغل خوری اور دل توڑنے کے لئے استعمال نہ کیا کریں بلکہ اسے سچ اور ہرطرح کی خیروبھلائی حاصل کرنے اور رشتے وناطےجوڑنے کےلئے استعمال کیا کریں ۔

8۔کھانےبیٹھتے وقت یاپھر جب آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہوں تو اپنے موبائل کو ایک طرف رکھ دیں۔

9۔موبائل کو چھوڑ کر اپنےبیوی ، بچوں اور اپنے والدین کو وقت دیاکریں۔

10۔اورآج سے ہی اپنے آپ سے یہ فیصلہ کرلیں کہ میں اپنے گھرمیں آن لائن نہیں بلکہ آف لائن رہوں گا۔

5۔ اپنوں سے دوریاں اور غیروں سے نزدیکیاں:

میرے دوستو! اس موبائل کا ایک سب سے بڑا یہ نقصان ہوا ہے کہ لوگ اپنوں سے دور اور غیروں سے نزدیک ہوتے جارہے ہیں ،ایک ہی گھر میں ،ایک ہی چھت کے نیچے والد بیٹھے ہیں ،والدہ بیٹھی ہیں ،بچے بیٹھے ہیں ،بیوی بیٹھی ہوئی ہے،بہن بیٹھی ہوئی ہے،لیکن ہرشخص اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہے،یعنی گھرمیں سب لوگ ساتھ تو ہیں مگر دل ایک دوسرے سے دور ہیں ،والدین اپنے بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں مگر بچہ موبائل میں مصروف ہے،بچہ اپنے والدین سے بات کرنا چاہتاہے مگر والدین موبائل میں مصروف ہیں ،ابھی کچھ دن پہلے ایک تحریرمیں نے سوشل میڈیا پرپڑھی تھی کہ ایک بچے نے اپنے اسکول میں یہ نوٹ لکھ کر اپنے ٹیچر کو دیا کہ کاش! میں موبائل ہوتا! جب ٹیچر نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس معصوم بچے نے کہا کہ کیونکہ میرے والدین ہروقت اپنے موبائل کے ساتھ چپکے رہتے ہیں،میرے سے زیادہ وہ اپنے موبائل کو اپنے پاس رکھتے ہیں اسی لئے میں یہ سوچتارہتاہوں کہ کاش میں بھی موبائل ہوتا،اور یہی حالت توآج ہم سب کی ہے کہ ہمیں اپنے والدین اوراولاد سے زیادہ اپنا موبائل پیارا ہے ،آج انسان ہزاروں لوگوں سے آن لائن جڑاہواہے لیکن اپنے ہی گھروالوں سے اسے بات کرنے کی فرصت نہیں ہے،فالوورز تو بہت ہیں مگر اپنوں کے لئے وقت کم ہے۔اس لئے میرے بھائیواوربہنو!وقت رہتے عقل کے ناخن لو اور یہ یاد رکھ لو کہ یہ موبائل ہمارے والدین کی خدمت کرنے اور اپنے گھروپریوار کے لئے وقت دینے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔

میرے دوستو! موبائل کو برا کہنا مقصد نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی بری چیز ہے بلکہ یہ تو ایک ایسی چیز اور ایک ایسا آلہ ہے جس سے نیکی بھی کمائی جاسکتی ہے اور گناہ بھی کیا جاسکتاہے،موبائل سے علم بھی حاصل کیا جاسکتاہے اور جہالت بھی پھیلائی جاسکتی ہے، موبائل سے قرآن بھی پڑھا جاسکتا ہےاو رحدیث بھی پڑھی جاسکتی ہے،موبائل سے کسی کی مدد بھی کی جاسکتی ہے اور کسی کی عزت بھی خراب کی جاسکتی ہے،لہذا اصل مسئلہ موبائل نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے،اگر یہ موبائل ہمارے لئے نیکی وثواب کمانے کا ذریعہ بن رہاہے توپھر ہمارے لئے اس میں خیر ہی خیر ہے ،اور اگر یہ موبائل ہمارے لئے گناہ کمانے کا ذریعہ بن رہاہے تو پھر یاد رکھ لیں کہ اس موبائل میں ہمارے لئے شر ہی شر ہے،اس لئے آئیے آج اور ابھی ہم سب یہ عہد کرتے ہیں کہ :

1۔موبائل کی وجہ سے نماز ضائع وبرباد نہیں کریں گے۔

2۔موبائل پر حرام اور فحش چیزیں نہیں دیکھیں گے۔

3۔اپنے بچوں کے موبائل کے استعمال پر نظر رکھیں گے۔

4۔ تنہائیوں میں موبائل کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔

5۔موبائل سے نیکی کمائیں گے اور گناہوں سے دور رہیں گے۔

6۔کسی بھی فحش ویڈیوز،گانے اور میوزک پر نہ تو لائک کریں گے اور نہ ہی شیئر کریں گے۔

7۔والدین اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھتے وقت موبائل کو ایک طرف رکھ دیں گے۔

8۔سونے سے پہلے موبائل کا استعمال کم کریں گے۔

9۔سوشل میڈیا کی کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے آگے کبھی شیئر نہیں کریں گے۔

10۔اپنے موبائل کو قرآن،علم ،دین کو پھیلانے اور خیرکے لئے زیادہ استعمال کریں گے۔

میرے پیارے پیارے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اوربہنو!

یاد رکھ لیں کہ یہ موبائل آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہوناچاہئے ،پوری زندگی نہیں !موبائل آپ کے ہاتھ میں رہے تو بہتر ہے لیکن اگر یہ موبائل آپ کے دل ودماغ پر قابض ہوجائے تو یہ خطر ہ ہے،ذرا اپنے آپ کاجائزہ لیجئے کہ آپ موبائل استعمال کرتے ہیں یاپھر یہ موبائل آپ کو استعمال کررہاہے،یادرکھ لیں کہ ہم اس موبائل کااستعمال اس طرح سے کریں کہ یہ ہمیں نہ تو اللہ سےدورکردےاور نہ ہی ہمیں اپنی آخرت سے غافل کردے،ہمارے موبائل کے استعمال کرنے کاطریقہ ایسا ہو جو نہ تو ہماری نماز چھینے اور نہ ہی ہمیں قرآن سے دور کرے،ہمارے موبائل کے استعمال کرنے کا طریقہ ایسا ہو جو نہ تو ہمیں اپنے والدین سے دور کرے اور نہ ہی اپنی آل و اولاد سے غافل کرے۔

میرے دوستو!موبائل کےنقصانات کےبارے میں آپ نے اب تک بہت کچھ سنا اور جانا ،اب آئیے اخیر میں ،میں آپ کو اس موبائل شریف سے تین بڑے پیغام بھی بتا دیتاہوں:

1۔نمبرایک یہ کہ ہم اور آپ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس موبائل کی ایجاد کیوں ہوئی تھی اور اس کا مقصد کیا تھا؟اس کی ایجاد اس لئے ہوئی کہ انسان ایک دوسرے سے نزدیک ہوسکے، ایک دوسرے سے بات کرسکے،پھر زمانہ ترقی کرتاگیا،سائنس ترقی کرتی گئی،اور اب 2جی سے 5 جی موبائل ہمارے ہاتھو ں میں موجود ہے اور طرح طرح کی جدید ٹکنالوجی ہمارے ہاتھوں میں آگئی،مگر کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ موبائل آج بھی اپنا مقصد نہیں بھولا ہے ،اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے ؟تو دیکھئے اس ترقی یافتہ اور 5 جی کے دور میں ہم اپنا موبائل استعمال کررہے ہوتے ہیں ،کوئی ویڈیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں ،یا پھر کوئی گیم کھیل رہے ہوتے ہیں ،مگر جیسے ہی کسی کا کال آجاتاہے تو یہ موبائل اپنے آپ ہی سب کام روک دیتا ہے اور اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ آتاہے اوربزبان حال سےہمیں یہ کہہ رہاہوتاہے کہ بھائی کسی کا کال آرہاہے،میں مجبور ہوں ،میں کال کے وقت ہرکام کو روک دیتاہوں اور یہی میرا مقصد ہے،دیکھا اور سنا آپ نے کہ ایک انسانی ایجاد نے اپنا مقصد آج تک نہیں بھولا ہےاور ایک ہم اور آپ ہیں جو اپنا مقصد بھول چکے ہیں ،اللہ نے ہمیں اپنی عبادت وبندگی کے لئے پیدا کیاتھا،اللہ نے خود ہمیں یہ سنا دیا تھا کہ اے لوگو!تمہارا پیداکئے جانے کا مقصد صرف میری عبادت ہے ’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ‘‘میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔(الذاریات:56) مگر افسوس!ہم اللہ کی عبادتوں سے دور بہت دور جاچکے ہیں ،اذانیں ہوتی رہتی ہیں مگر ہم اپنے موبائل میں گھسے رہتے ہیں ،نہ تو ہمیں اللہ کا ڈر وخوف ہوتاہے اور نہ ہی ہمیں اپنی آخرت کی فکرہوتی ہے،اس لئے میرے بھائیواوربہنو! اس موبائل کی طرح تو کم سے کم ہوجاؤ کہ اپنے مقصد کو کبھی نہ بھولو اور تادم حیات اللہ کی عبادت وبندگی کرتے رہاکرو۔

2۔میرے دوستو!اس موبائل کاایک دوسرا سب سے بڑا پیغام تو سنئے ،ہم موبائل استعمال کررہے ہوتے ہیں مگر جیسے ہی ہمارے موبائل کی بیٹری ختم ہوجاتی ہے تو ہم فوراً دیوانوں کی طرح چارجر تلاش کرتے ہیں اور جب تک ہم اپنے موبائل کو چارج میں نہ لگالیں تب تک ہم چین وسکون سے بیٹھتے نہیں ہیں ،لیکن ہم کبھی یہ نہیں سوچتے ہیں کہ میرے ایمان کی بیٹری کتنی باقی ہے،ہم روزانہ ایک سے دوبار اپنا موبائل چارج کرتے ہیں مگر اپنے ایمان کو قرآن ،ذکر،نماز اور نیک اعمال سے چارج کرنا بھول جاتے ہیں ،یہ ہماری ہلاکت وبربادی کی علامت نہیں تو پھر اور کیا ہے؟اس لئےمیرے دوستو!میری ایک بات یادرکھنا کہ جس طرح سے چارج کے بغیر موبائل نہیں چلے گا،ٹھیک اسی طرح سے نیکیوں کے بغیر ہمارا ایمان بھی زندہ نہیں رہے گا،اوراگراسی طرح سےہم نیکیوں سے دوررہیں تو پھر ہمارا ایمان مردہ ہوجائے گا پھر تو ہمیں دین اور اللہ اور اس کے رسول کی باتیں بھی بوجھ لگے گی ،نماز وروزوں میں بھی ہمارا من نہیں لگے گا،تواگر ہم اورآپ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے ایمان کو زندہ رکھیں توپھر جس طرح سے ہم اپنے موبائل کو باربار چارج کرتے رہتے ہیں ٹھیک اسی طرح سے ہم ہمیشہ نیکیوں کو انجام دیتے رہاکریں اور برائیوں سے دوررہاکریں کیونکہ یہ ایک امرمسلم ہے کہ نیکیوں سے ایمان میں اضافہ ہوتاہے اوربرائیوں سے ایمان میں کمی آتی ہے۔اورہاں!اپنے ایمان کو تروتازہ رکھنے کے لئے ایک دعاضروربالضرور کیا کریں کہ اے اللہ تومیرے ایمان کو ہمیشہ تروتازہ رکھنا،ذرا ایک پیاری سی حدیث سنئے اور اندازہ لگائیے کہ آپﷺ نے اس ایمان کے بارے میں کیا فرمایا ہے ،سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ ‘‘یقیناً تم میں سے کسی کا ایمان ٹھیک ویسے ہی بوسیدہ ،خراب اور پرانا ہوجاتاہے جس طرح سے کپڑے استعمال کرنے کی وجہ سے پرانے،بوسیدہ اور خراب ہوجاتے ہیں ،’’ فَاسْأَلُوا اللهَ أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ ‘‘اس لئے تم ہمیشہ اللہ سے یہ دعاکرتے رہنا کہ اے اللہ تو میرے ایمان کو ہمیشہ میرے دل میں تروتازہ رکھنا۔(الصحیحۃ:1585)اللہ اکبرکبیراً! سنا آپ نے کہ ہمارے نبیﷺ نے اس ایمان کے بارے میں کتنی بڑی بات کہی ہے ،اس لئے میرے بھائیواوربہنو! اپنے موبائل کے چارج سے کہیں زیادہ اپنے دین وایمان کی فکر کرنا ورنہ بہت پچھتاؤگے۔

3۔میرے دوستو! اس موبائل سے تیسرا اور آخری سب سے بڑا ایک اور پیغام سنئے اور سبق سیکھ کرجائیے ،بسااوقات ہمارے ساتھ ایسا کئی بار ہوتاہے کہ ہمارے موبائل میں نیٹ ورک نہیں آتارہتاہے،یاپھر ہمارے موبائل میں فیس بک ،واٹس ایپ وغیرہ کام نہیں کررہاہوتاہے،یا پھر ہمارا موبائل کسی وجہ سے شٹ ڈاؤن ہوجاتاہے تو ہم فوراً ٹینشن میں آجاتے ہیں ،ایک سے چاربار اپنے موبائل کو ری اسٹارٹ کرتے ہیں ،کبھی موبائل کو ٹھوکتے ہیں تو کبھی اپنے موبائل کی بیٹری نکال کردیکھتے ہیں اوراگر ہمارے ہاتھ سے نہیں ہوتاہے توپھرہم فوراً میکانک کے پاس اپنے موبائل کو لے کر جاتے ہیں ،ذرا سوچئے کہ ایک موبائل کے لئے ہم کتنے پریشان ہوتے ہیں ؟کیا اسی طرح سے اس وقت ہم پریشان ہوتے ہیں جب ہم نماز نہیں پڑھتے ہیں؟ہم مہینوں تک مسجد کا رخ نہیں کرتے ہیں مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے ،افسوس صد افسوس نماز پڑھنی تو دورکی بات ہے ،اذانیں ہوتی رہتی ہیں اور ہم اپنے موبائل میں گیم کھیلنے،کرکٹ دیکھنے اوربے حیائی پر مشتمل ویڈیو ز دیکھنے میں مست ومگن رہتے ہیں ،اس لئے میرے دوستو!میری یہ نصیحت یاد رکھنا کہ موبائل کی یہ بے چینی آپ کے کسی کام کی نہیں اوراگر آپ کی یہی بے چینی نیکی اورنماز وقرآن کے لئے ہوگی تو اس سے آپ کی دنیا وآخرت سنور جائے گی،اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کس چیز کے لئے بے چین وبے قرار ہوتے ہیں ،آیا اپنے موبائل کے لئے یاپھر نماز وقرآن کے لئے،اس لئےہم میں سے ہرشخص اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھے کہ وہ جس طرح سےباربار اپنے موبائل کی بیٹری چارج کرتے رہتا ہے کیا اسی طرح سے وہ اپنے ایمان کو نماز وقرآن اور ذکرالہی وغیرہ سے تروتازہ رکھنے کی کوشش کرتے رہتاہے ؟

خلاصۂ تقریر: میرے دوستو! میری پوری تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ موبائل ایک بہترین خادم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک بہت ہی خطرناک آقا بھی ہے،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے اپنا غلام بناتے ہیں یاپھر ہم خود اس کے غلام بن جاتے ہیں ،آج کا بیان سن کر گھرجاتے ہی اپنے موبائل کو نہ پھینکیں بلکہ موبائل کے استعمال کا طریقہ بدل دیں ،موبائل ہاتھ میں رکھیں مگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ ،نماز وقرآن کو دل سے نہ نکالیں،اسلام ہمیں ٹکنالوجی کو چھوڑنے کا حکم نہیں دیتا ہے ہاں مگر اسلام ہمیں ٹکنالوجی کے غلط استعمال سے ضرور روکتااور ٹوکتا ہے،اس لئے آپ یہ بات یاد رکھ لیں کہ موبائل ہمارے ہاتھ میں ہو،اور ہماری زندگی ہمارے رب کے ہاتھ میں ہو۔



اب آخر میں اللہ رب العزت سے دعاگوہوں کہ اے بار الہ تو ہم سب کو عقل سلیم یعنی اچھی سمجھ عطافرما،موبائل اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچنے اور اپنی زندگی کو قرآن وسنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرما۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 
Top