• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام ہی عزت کا سرچشمہ ہے، اہل کفر اور اہل اقتدار کی خوشامد نہیں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
879
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
اسلام ہی عزت کا سرچشمہ ہے، اہل کفر اور اہل اقتدار کی خوشامد نہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

دین اسلام میں عزت و سربلندی ہے، اور اہل ایمان کی حقیقی عزت کا مدار کسی دنیوی جاہ و جلال، سلطنت و حکومت، مال و دولت یا ارباب اقتدار کی خوشنودی پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور کتاب و سنت کی پیروی پر ہے۔ جس قدر بندہ اللہ کے سامنے جھکتا ہے اسی قدر مخلوق کی غلامی سے آزاد ہوتا ہے، اور جس نے اللہ کے سوا مخلوق کے دروازوں پر عزت تلاش کی، وہ بظاہر رفعت کے مقام پر پہنچ کر بھی حقیقت میں ذلت کی پستی میں جا گرتا ہے۔

امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاكم النيسابوري رحمہ اللہ (٣٢١ - ٤٠٥ هـ) نے اپنی کتاب المستدرک على الصحيحين میں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نہایت عظیم اور بیدارکنندہ کلمات پر مشتمل اثر نقل کیا ہے۔

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں :

«لمّا قَدِمَ عمرُ الشامَ، لَقِيَه الجنودُ وعليه إزارٌ وخُفَّانِ وعِمامة، وهو آخذٌ برأس بعيره يخوضُ الماء» جب عمر رضی اللہ عنہ شام میں تشریف لائے تو لشکر کے سپاہی آپ کے استقبال کے لیے حاضر ہوئے۔ اس وقت آپ نے ایک تہبند باندھ رکھا تھا، دونوں پاؤں میں موزے تھے اور سر پر عمامہ تھا، اور آپ اپنے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے پانی میں سے گزر رہے تھے۔

تو کسی کہنے والے نے آپ سے عرض کیا:

«يا أمير المؤمنين، تَلْقاكَ الجنودُ وبَطارِقةُ الشام وأنت على حالك هذه؟!» اے امیر المؤمنین! آپ سے لشکر اور شام کے بڑے بڑے سردار اور امراء ملاقات کے لیے آ رہے ہیں، اور آپ اس حالت میں ان سے ملیں گے؟!

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

«إنا قومٌ أعزنا الله بالإسلام، فلن نبتغي العِزَّ بغيره.» ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے، لہٰذا ہم اسلام کے علاوہ کسی اور ذریعے سے عزت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

[المستدرك على الصحيحين للحاكم، ج : ١، ص : ٣٦٢، حدیث: ٢٠٩، إسناده صحيح.]

11352.jpg

11350.jpg

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان درحقیقت مسلمانوں کے لیے عزت و ذلت کا ایک عظیم اصول ہے «إنا قوم أعزنا الله بالإسلام، فلن نبتغي العز بغيره» یہ الفاظ ایسے مرد مومن کی زبان سے نکلے تھے جس کے سامنے شام کے لشکر اور وہاں کے بڑے بڑے سردار موجود تھے، مگر نہ سلطنت کا رعب ان کے دل میں تھا، نہ اہل دنیا کی نگاہ کا خوف، نہ ظاہری شان و شوکت کا تکلف؛ ان کے نزدیک عزت کا معیار لوگوں کی نگاہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا تھی۔

مسلمان کے لیے یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ حقیقی عزت نہ کسی بادشاہ کے دربار میں ہے، نہ کسی حاکم کے قرب میں، نہ کسی کافر قوم کی خوشنودی میں، نہ اہل دنیا کی مدح و ثنا میں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًاجو شخص عزت چاہتا ہے تو تمام عزت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اور فرمایا: ﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَعزت اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور اہل ایمان کے لیے ہے۔

پس جس مسلمان نے عزت کا دروازہ چھوڑ کر مخلوق کے دروازے پر پیشانی رگڑی، جس نے اللہ کی رضا چھوڑ کر ارباب اقتدار کی خوشنودی کو اپنا مقصد بنا لیا، اور جس نے حق گوئی کو ترک کرکے منصب داروں کی خوشامد اختیار کرلی، اس نے درحقیقت عزت نہیں بلکہ ذلت کا راستہ اختیار کیا۔

آج بعض لوگوں کا حال یہ ہے کہ کافروں کی ظاہری قوت، دولت، حکومت اور دنیوی ترقی دیکھ کر اس قدر مرعوب ہوتے ہیں کہ گویا ان کے سامنے اسلام کی کوئی وقعت ہی باقی نہیں رہی۔ ان کی گفتگو، لباس، تہذیب، رسم و رواج اور طرز زندگی کو عزت و ترقی کا معیار سمجھتے ہیں، اور اسلامی شعائر یا دینی شناخت کو چھپانے میں اپنی مصلحت اور کامیابی سمجھتے ہیں۔

اسلام نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ ہم باطل کے سامنے مرعوب ہو جائیں؛ بلکہ اسلام نے ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے، باطل سے براءت رکھنے اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے ذلت اختیار نہ کرنے کی تعلیم دی ہے۔ مسلمان اپنی دینی عزت چھوڑ کر کفر کی مرعوبیت اور خوشنودی کو اپنی عزت کا ذریعہ نہ بنائیں۔

اس اثر کا ایک نہایت اہم سبق ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو اہل اقتدار کے سامنے اپنی عزت و وقار تک قربان کر دیتے ہیں۔ ایک مسلمان کا مقام یہ نہیں کہ وہ ہر صاحب اقتدار کے آگے پیچھے پھرے، اس کی تعریفوں کے پل باندھے، اس کی ہر بات پر سر ہلائے، حق و باطل کا فرق بھلا دے اور محض کسی دنیاوی فائدے یا قربت کی خاطر اپنی خودداری بیچ ڈالے۔

بعض لوگوں نے تو خوشامد کو ایسا فن بنا لیا ہے کہ صاحب اقتدار جہاں تشریف لے جائیں وہاں ان کی چاپلوسی کے لیے حاضر، جہاں بیٹھیں وہاں پروٹوکول کے لیے صف بستہ، جو کہیں اس پر واہ واہ، جس کو پسند کریں اس کی تعریف، اور جسے ناپسند کریں اس کی مذمت!

اگر کوئی سیاست دان باطل بات کہے تو بھی اس کے گرد جمع لوگ اسے حق ثابت کرنے کے لیے دلائل تراشنے لگتے ہیں۔ یہ دنیا طلبی اور خوشامد پرستی ہے۔ مسلمان کا شرف اس میں نہیں کہ وہ ہر صاحب اقتدار کے قرب کو اعزاز سمجھے، ان کے دروازوں پر حاضری کو سعادت جانیں اور ان کی خوشنودی کے لیے حق گوئی تک سے دست بردار ہو جائیں۔

محض تعظیم دنیا، چاپلوسی، تقرب حکمران اور حصول منفعت کے لئے جب اہل اقتدار کے استقبال و احترام میں ایسا غلو کیا جائے کہ آدمی اپنی دینی غیرت بھول جائے؛ جب ان کے سامنے حق بات کہنا دشوار اور ان کی تعریف کرنا آسان ہو جائے؛ تو یہ وہ مقام ہے جہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان اپنے پورے جلال کے ساتھ یاد آتا ہے:

«فلن نبتغي العز بغيره» ہم اسلام کے علاوہ کسی اور ذریعے سے عزت تلاش نہیں کریں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ کا کردار اہل دنیا کے لیے درس ہے۔ یہ وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرزتے تھے، مگر وہ خود اسلام کے سامنے جھکے ہوئے تھے۔ شام فتح ہو گیا، مگر عمر رضی اللہ عنہ کی گردن میں تکبر نہ آیا۔ اسلامی حکومت وسیع ہوگئی، مگر دنیا ان کے دل میں داخل نہ ہوئی۔

وہ امیر المؤمنین تھے، مگر امارت نے انہیں خوشامد پسند نہیں بنایا۔ یہی حقیقی اسلامی قیادت ہے کہ حکومت ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو؛ دنیا تابع ہو مگر انسان دنیا کا تابع نہ بنے۔ اس کے برخلاف جو شخص کسی معمولی منصب دار کے سامنے اپنی زبان، قلم، ضمیر اور اصول تک گروی رکھ دے، وہ خواہ دنیا اسے کتنا ہی معزز سمجھے، اللہ کے میزان میں اس کی یہ عزت کس کام کی؟

اور اہل علم کے لیے تو یہ معاملہ اور بھی زیادہ نازک ہے۔ عالم کی شان یہ نہیں کہ وہ حکمرانوں کے دربار کی زینت بنے اور ان کے ہر قول و فعل کی توجیہ کرتا پھرے۔ عالم کی زبان اگر حق کے اظہار سے رک جائے اور منصب و عطیہ و قربت کے خوف سے خاموش ہو جائے تو یہ علم کی روح کے خلاف ہے۔

علماء ربانیین کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے کلام کریں، اللہ کے لیے خاموش ہوں، سنت کی پیروی کریں اور حق کو مخلوق کے تابع نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَجو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں، وہ اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔

پس مسلمان اپنی عزت کا معیار جان لیں۔ عزت یہ نہیں کہ کتنے بڑے آدمی تمہیں جانتے ہیں، عزت یہ نہیں کہ کتنے حکمران تمہیں اپنے قریب رکھتے ہیں، عزت یہ نہیں کہ تمہیں کتنے درباروں میں پروٹوکول ملتا ہے، عزت یہ نہیں کہ دنیا تمہارے سامنے کتنی بار سر جھکاتی ہے۔

عزت یہ ہے کہ تمہارا سر اللہ کے سامنے جھکا ہوا ہو، تمہاری زبان حق کے ساتھ ہو، تمہارا عقیدہ صحیح ہو، تمہارا عمل سنت کے مطابق ہو، اور تم دنیا کی رضا کے مقابلے میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چند الفاظ میں پوری امت کو آئینہ دکھا دیا کہ ہمیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی ہے؛ لہٰذا اسلام کے علاوہ کسی اور ذریعے سے عزت نہ چاہو۔

پس اے مسلمان! تخت نشینوں کی چوکھٹ پر اپنی عزت مت تلاش کر، اہل اقتدار کی خوشامد میں اپنا ضمیر مت بیچ، اہل کفر کی مرعوبیت میں اپنی دینی شناخت مت گنوا، اور مخلوق کی رضا کے لیے خالق کی ناراضی اختیار نہ کر۔ جس عزت کا سرچشمہ اسلام ہے، اسے کفر کے دروازے پر تلاش کرنا خود اپنے ہاتھوں اپنی عزت کو ذلت میں بدلنا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی عزت و عظمت کو پہچاننے، کتاب و سنت پر ثابت قدم رہنے، اہل اقتدار کی خوشامد سے محفوظ رہنے، حق بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو مخلوق کی رضا کے مقابلے میں خالق کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top