ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 883
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
ربیع مدخلی کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن: سیاست میں ناکامی اور فتنے میں مبتلا ہونے کا الزام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ، والصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔ اما بعد!
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، ان کا مقام و مرتبہ اور ان کے ساتھ اہل سنت کا ادب کوئی ایسا معمولی مسئلہ نہیں جس میں آدمی اپنی زبان کو بے لگام چھوڑ دے اور پھر اپنے کلام کو تنقید، تحلیل یا سیاسی بصیرت کے نام سے درست ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ صحابہ وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا، اور جن کے ذریعے دین ہم تک پہنچا۔
افسوس کہ ربیع مدخلی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق ایسا طعن آمیز اسلوب اختیار کیا ہے جو اہل سنت کے ادب صحابہ کے اعتبار سے سخت قابل گرفت ہے۔
ربیع مدخلی کہتا ہے : «وَاللَّهِ كَانَ الصَّحَابَةُ فُقَهَاءَ، فِي أُمُورِ السِّيَاسَةِ مَا يَنْجَحُونَ» یعنی صحابہ فقہ و سمجھ رکھنے والے تھے، لیکن سیاست کے معاملات میں وہ کامیاب نہیں تھے۔
پھر مزید کہتا ہے: «مَا يَسْتَطِيعُونَ فِي الْإِذَاعَةِ، وَالْإِشَاعَةِ، يَقَعُونَ فِي فِتْنَةٍ» وہ افواہیں پھیلانے اور باتوں کو عام کرنے کے معاملے میں اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھ پاتے تھے، چنانچہ وہ فتنے میں مبتلا تھے۔
اور آخر میں واقعہ افک کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: «قَضِيَّةُ الْإِفْكِ: طَاحَ فِيهَا كَثِيرٌ مِنَ الصَّحَابَةِ» یعنی واقعہ افک ہی کا معاملہ ہے، اس میں بہت سے صحابہ گر پڑے تھے۔
[السيف المسلول على ربيع بن هادي المدخلي؛ لتنقصه صحابة الرسول، ص : ٨]
ذرا مدخلی کے اس اسلوب پر غور کیجیے۔ کیا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ سیاست کے معاملات میں کامیاب نہیں تھے، پھر انہیں افواہوں اور فتنہ میں مبتلا ہونے کے ساتھ جوڑنا، اہل سنت کے شایان شان کلام ہے؟
مدخلیوں کو قطب و مودودی سے پہلے اپنے ہی منہج کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ قطب اور مودودی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں جو طعن و تنقیص کی، اس پر تو فورا منہج، سنت اور ادب صحابہ کے نعرے بلند کر کے ان سے تحذیر کی جاتی ہے اور انہیں گمراہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جب ربیع مدخلی خود صحابہ کے بارے میں ویسا ہی اسلوب اور ویسی ہی زبان استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے بالکل دوسرا میزان تیار کر لیا جاتا ہے۔
یہ دوہرا معیار، یہ مناہج کی منافقت اور یہ منتخب انصاف صاف ظاہر کرتا ہے کہ مدخلیوں کا اصل مقصد صحابہ کا دفاع نہیں، بلکہ اپنے بابے ربیع مدخلی کی ضلالت پر پردہ ڈالنا اور مخالفین کو نشانہ بنانا ہے۔ جو میزان قطب و مودودی پر چلایا جاتا ہے، وہی میزان اگر ربیع مدخلی پر بھی یکساں طور پر لگایا جائے تو مدخلی منہج کی حقیقت خود بخود عیاں ہو جائے گی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «إِذَا رَأَيْتَ أَحَدًا يَذْكُرُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُوءٍ فاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ» یعنی جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا برے انداز میں ذکر کرتا ہے تو اس کے اسلام کے بارے میں بدگمان ہوجاؤ۔
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، ص : ١٢٥٢]
یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کلام ہے۔ اب ذرا ربیع مدخلی کے الفاظ دوبارہ پڑھیے «فِي أُمُورِ السِّيَاسَةِ مَا يَنْجَحُونَ» سیاست کے معاملات میں وہ کامیاب نہیں تھے۔ اور «يَقَعُونَ فِي فِتْنَةٍ» وہ فتنے میں مبتلا تھے۔ اور واقعہ افک کے متعلق «طَاحَ فِيهَا كَثِيرٌ مِنَ الصَّحَابَةِ» اس میں بہت سے صحابہ گر پڑے تھے۔
ربیع مدخلی کے ان الفاظ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبے کے خلاف ایک نہایت نامناسب اور تحقیر آمیز اسلوب پایا جاتا ہے، جس سے اہل ایمان کو اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ صحابہ کے متعلق ایسے کلام کرنے والے کے اسلام کے بارے میں کوئی حسن ظن نہیں رکھنا چاہیے؛ کیونکہ امام احمد رحمہ اللہ کا قول اس بات کی شدید قباحت اور سنگینی بیان کرتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سوء کے ساتھ کیا جائے۔
ہم اہل سنت ہیں۔ ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو انبیاء کی طرح معصوم نہیں کہتے۔ اگر کسی صحابی سے کسی موقع پر اجتہادی خطا ہوئی تو نصوص کی روشنی میں اس کا ذکر کیا جائے گا؛ لیکن صحابی کی لغزش کو ان کی جماعت کی تحقیر کا عنوان بنانا اہل سنت کا طریقہ نہیں۔ صحابہ انسان تھے، مگر عام انسان نہیں تھے؛ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے۔ ان کی خطا بیان کرنے کا بھی ادب ہے، ان کے اختلاف کا بھی ادب ہے، ان کے اجتہاد کا بھی ادب ہے، اور ان کے ذکر کا بھی ادب ہے۔
یہ وہ جماعت ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وحی کا زمانہ دیکھا، قرآن نازل ہوتے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست دین سیکھا، جہاد کیا، ہجرت کی، دین کو دنیا کے اطراف و اکناف تک پہنچایا اور اپنی جان و مال اس دین پر قربان کیے۔ پھر اسی جماعت کے بارے میں ربیع مدخلی کا یہ کہنا کہ سیاست کے معاملات میں وہ کامیاب نہیں تھے اور پھر انہیں فتنوں میں مبتلا ہونے سے جوڑ دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تحقیر و تنقیص ہے۔
پس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ربیع مدخلی کی اس قسم کی زبان درازی اور طعن و تشنیع پر اہل حدیثوں کو ہرگز خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ جس شخص کی زبان سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں یہ الفاظ نکلیں کہ وہ سیاست میں کامیاب نہیں تھے، افواہوں کے معاملے میں کمزور پڑتے تھے اور فتنے میں مبتلا تھے، اس کے کلام کو نظر انداز کرنا نہ دین کی غیرت ہے اور نہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کا تقاضا۔
اہل حدیث علماء پر لازم ہیں کہ ربیع مدخلی کی حقیقت کو اپنی عوام کے سامنے واضح کریں، اس کے باطل اور فاسد نظریات کی نشان دہی کریں، اور لوگوں کو اس کے باطل منہج کی حقیقت سے آگاہ کریں؛ تاکہ عوام الناس مدخلیوں کے محض ’’سلفیت‘‘ اور ’’منہج‘‘ کے نعروں سے مرعوب ہوکر ربیع مدخلی کے باطل نظریات کو قبول نہ کرلیں جس میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف گستاخانہ پیرایہ بیان پایا جاتا ہو۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ مدخلیوں کی شخصیت پرستی اور مدخلیت کے تعصب کا سلفیوں سے کوئی تعلق نہیں کہ آدمی اپنے محبوب شیخ کے لیے وہ معیار بدل دے جو دوسروں کے لیے قائم کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باب میں میزان ایک ہی ہے: قرآن، سنت اور سلف صالحین کا ادب و منہج۔ جو شخص اس میزان سے تجاوز کرے، خواہ وہ کتنا ہی بڑا شیخ یا منہجی خطیب کیوں نہ سمجھا جاتا ہو، اس کا علمی محاسبہ ضروری ہے۔
لہٰذا اہل حدیثوں کو چاہیے کہ ان مدنی کا ٹائٹل لگانے والے مدخلی مولویوں کی تلبيسات سے مرعوب ہوکر ربیع مدخلی کی ضلالت و گمراہوں کو چھپانے، تاویلیں گھڑنے اور اس کے دفاع میں حقائق پر پردہ ڈالنے کے بجائے، صاف اور بے لاگ انداز میں اس کی تردید کریں، تاکہ حق واضح ہو اور باطل باطل ہی رہے۔
پس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و عظمت کا دفاع محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ دینی امانت ہے؛ اور جو شخص صحابہ کے بارے میں زبان درازی کرے، اس کے کلام کو علمی میزان پر پرکھنا، اس کی ضلالت و گمراہوں کو واضح کرنا اور لوگوں کو اس کے فریب سے خبردار کرنا اہل حق کی ذمہ داری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے سچی محبت، ان کے مقام کی معرفت، حق بات کہنے کی جرأت اور باطل کے مقابلے میں استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔