• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بابری مسجد کے انہدام سے مساجد کی مسلسل مسماری تک ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ اور نام نہاد مذہبی قیادت کا کردار

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
885
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
بابری مسجد کے انہدام سے مساجد کی مسلسل مسماری تک ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ اور نام نہاد مذہبی قیادت کا کردار

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔ اما بعد!

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی و سیاسی جارحیت کو اگر صرف چند سیاسی واقعات کا مجموعہ سمجھا جائے تو یہ حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔ جس ذہنی شکست، فکری مرعوبیت اور دینی بے حسی کا مظاہرہ آج دکھائی دیتا ہے، اس کے پیچھے برسوں کی وہ نام نہاد مذہبی سیاست بھی کارفرما ہے جس نے مسلمانوں کو ان کے حقیقی دینی تشخص سے کاٹ کر محض وطن پرستی، سیکولرزم اور گنگا جمنی تہذیب کے خوش نما نعروں میں الجھائے رکھا۔

ہندوستان میں موجودہ بھاجپا حکومت کی مساجد کو ہدف بنا کر مسمار کرنے کی مہم کوئی نئی بات نہیں، بلکہ بابری مسجد کی انہدام سے شروع ہونے والی ایک گھناؤنی اور منظم سازش کا تسلسل ہے۔ جب بابری مسجد کو گرا کر اس کی جگہ حرام مندر کھڑا کیا گیا تو امت مسلمہ نے اس ظلم کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی انجام نہیں دی، بلکہ خاموش تماشائی بن کر بیٹھی رہی۔ اس ذلت آمیز خاموشی کو مسلط کرنے اور مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد سے بیگانہ کرنے میں بھاجپا اور آر ایس ایس کے دست راست مولویوں کا کردار نہایت سنگین، قابل لعنت اور تاریخ کے صفحات پر سیاہ داغ کی مانند ہے۔

اصغر علی امام مہدی، معراج ربانی، محمد رحمانی اور ان جیسے دین بیچنے والے افراد نے امت کو گمراہ کرنے میں نہایت گھناؤنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی سپریم کورٹ کو ایسا تقدس دے دیا کہ اس کے فیصلے کو رب تعالیٰ کے فیصلے کی مانند پیش کیا گیا۔ عرصہ دراز سے مسلمانوں کو "وطن پرست" اور "سیکولر" بنا کر ان کی دینی شناخت مٹانے کی جو سازش جاری ہے، ان مولویوں نے اس میں کھلے عام اور بے شرمی سے تعاون کیا۔

جب طاغوتی عدالت نے بابری مسجد کو گرا کر اس کی جگہ حرام مندر بنانے کا فیصلہ سنایا، تو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر اور بی جے پی کے کھلے دلال اصغر علی نے اس فیصلے کو ہندو و مسلم کی نہیں بلکہ پورے بھارتیوں کی جیت قرار دیا۔ اس نے اسے سب کے حق میں بتایا، ہندوؤں کو مبارکباد دی اور یہاں تک کہہ دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کر دیا کہ ہندوستان پوری دنیا کا باپ ہے۔


آج مسلمانوں کی جو ذلت، رسوائی اور زبوں حالی نظر آ رہی ہے، وہ انہی سنگھی مولویوں کی بدولت ہے جنہوں نے امت کو اس کے بنیادی عقائد ولاء و براء سے کاٹ دیا، جہاد کو دہشت گردی قرار دے کر حرام ٹھہرایا، اور گنگا جمنی تہذیب کی دعوت دے کر مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کر کے کفار کے سامنے ذلیل کر دیا۔

یہ لوگ دراصل دین اور امت کے سب سے بڑے دشمن، منافقین اور شریعت کے سوداگر ہیں۔ انہوں نے شریعت کے احکامات کو سیاسی مفادات اور دنیاوی لالچ کے آگے قربان کر دیا اور امت کو ذلت کے اندھیرے میں دھکیل دیا۔

جب تک امت مسلمہ ان منافقین، دین بیچنے والوں اور بی جے پی کے دلال مولویوں کی حقیقت کو نہ پہچانے، ان کی خیانتوں کو بے نقاب نہ کرے، اور اپنے اصل دین، عقیدہ ولاء و براء اور جہاد کی طرف پلٹ نہ آئے، اس وقت تک ذلت و رسوائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور مساجد کی مسماری کا سلسلہ بھی نہیں رکے گا۔

آج اگر مساجد کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں تو ہمیں صرف اینٹوں اور پتھروں کی سطحی حفاظت کا مسئلہ نہیں دیکھنا چاہیے؛ ہمیں مسلمانوں کے ذہنوں، ایمان اور غیرت کی حفاظت کا انتہائی سنگین اور بنیادی مسئلہ دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ جب ذہن غلام ہو جائے تو ہاتھ مزاحمت سے پہلے ہی رک جاتے ہیں، بلکہ مزاحمت کا تصور ہی دماغ سے مٹ جاتا ہے۔ جب ایمان کمزور پڑ جائے تو باطل کا رعب حق کی آواز کو دبا دیتا ہے اور حق گوئی کو جرم بنا دیتا ہے۔

جب علماء مصلحت کے اسیر، دنیاوی لالچ کے غلام اور طاغوتی نظام کے دلال بن جائیں تو عوام حق و باطل کے بجائے سیاسی بیانیوں، سیکولر فریب اور دشمن کے پروپیگنڈے کے پیچھے چلنے لگتے ہیں۔ اور جب مسلمان اپنی دینی شناخت کو بوجھ، بوجھل اور شرمندگی سمجھنے لگیں تو پھر دشمن کو ان کی مساجد، ان کے دین، ان کی عزتوں اور ان کے وجود کے ساتھ جو چاہے کرنے کا کھلا، بے باک اور بے خوف حوصلہ مل جاتا ہے۔

پس اے اہل اسلام! اپنے اندر بھی جھانکو! دیکھو کہیں تمہارے منبروں نے تمہیں اسلامی شریعت کی غیرت سے مکمل طور پر محروم تو نہیں کر دیا؟ دیکھو کہیں تمہیں اپنے عقیدے کے بنیادی اصول الولاء والبراء سے کاٹ کر محض سیاسی مصلحتوں، سیکولر بیانیوں اور طاغوتی نظام کے اندھے تابع تو نہیں بنا دیا گیا؟ دیکھو کہیں تمہیں اس قدر جھوٹا، کمزور اور ذلیل اعتدال نہیں سکھایا گیا کہ جہاد فی سبیل اللہ کی بات بھی انتہا پسندی، دہشت گردی اور جرم محسوس ہونے لگی؟

یاد رکھو! مسلمان کی عزت کسی سیاسی جماعت، کسی پارٹی، کسی طاغوتی عدالت یا کسی ظالم نظام کے رحم و کرم پر نہیں، بلکہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے وابستگی میں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان مصلحت پسند، خاموش، ذلیل اور غلام نہیں بلکہ عملی بیداری، شرعی شعور اور جہاد و قتال کے ذریعے سے اپنے دین، ایمان، مساجد اور عزتوں کے تحفظ کی طرف واپس آئیں۔

اور جو مولوی مسلمانوں کو ان کے دین سے کاٹتا ہے، ان کے عقیدے کو کمزور کرتا ہے، ولاء و براء کو مٹا دیتا ہے اور ہر ظلم و تعدی، ہر مسجد کے انہدام اور ہر دینی ذلت کے سامنے محض خاموشی کو اعتدال اور حکمت عملی کا نام دیتا ہے، اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ ایسے مولوی دراصل دین کے نام پر دین کے سب سے بڑے دشمن، شریعت کے سوداگر، بی جے پی کے کھلے دلال، منافقین اور امت کے سب سے خطرناک دھوکے باز ہیں۔ یہ لوگ منبر پر بیٹھ کر امت کو غلام بناتے ہیں اور طاغوتوں کے سامنے سر جھکانے کو دین بنا دیتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے جب علماء حق گوئی چھوڑ دیں، جب منبر مصلحت کے غلام ہو جائیں، جب دین کے نام پر دین بیچا جانے لگے اور جب جہاد کو دہشت گردی قرار دے کر حرام ٹھہرا دیا جائے، تو ظالموں کو صرف اقتدار نہیں ملتا، بلکہ عوام کے ذہنوں، ان کے ایمان، ان کی غیرت اور ان کی پوری نسل پر بھی قبضہ حاصل ہو جاتا ہے۔

علماء حق پر فرض ہے کہ وہ ان منافقین اور دجالی کرداروں کے خلاف کھل کر بولیں، ان کی حقیقت کو بے نقاب کریں اور امت کو ان کے فریب سے خبردار کریں۔ ورنہ تاریخ ان خاموش اور منافق مولویوں کو بھی انہی ظالموں کے ساتھ لعنت کے ساتھ یاد کرے گی جنہوں نے اللہ کے گھروں کو گرا کر مندر کھڑے کیے۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتنوں کی حقیقت سمجھنے، حق و باطل میں امتیاز کرنے، اپنے دین پر ثابت قدم رہنے اور ظالم طاغوتوں کے مقابلے میں جہاد و قتال کے لیے اٹھ کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top