ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 886
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
شیخ البانی کے کفر عملی سے متعلق مرجئانہ نظریے کا رد امام محمد بن عبدالوہاب اور شیخ ابن باز کے اقوال کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی رسولہ الأمین، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد:
ایمان و کفر کا باب دین کے نہایت عظیم اور بنیادی ابواب میں سے ہے۔ اس میں اہل سنت والجماعت کا منہج اہل بدعت سے ممتاز ہوتا ہے۔ اہل سنت ایمان کو محض دل کی معرفت یا زبان کے اقرار کا نام نہیں سمجھتے، بلکہ قول، اعتقاد اور عمل کو ایمان کی حقیقت میں داخل قرار دیتے ہیں، اور اسی بنا پر کفر بھی محض قلبی اعتقاد تک محدود نہیں کرتے؛ بلکہ وہ کفر عملی جو کفر اکبر ہے، اسے ملت سے خارج کرنے والا کفر قرار دیتے ہیں۔
اس کے برخلاف ناصر الدین البانی نے کفر عملی کو خروج عن الملۃ سے جدا کرتے ہوئے یہ مرجئی نظریہ پیش کیا ہے کہ کفر عملی اس وقت تک ملت سے خارج کرنے والا کفر نہیں ہوسکتا جب تک دل میں الگ سے کفر کا انعقاد ثابت نہ ہو۔
شیخ ناصر الدین البانی نے فرمایا ہے کہ :
«هذا يستحيل أن يكون الكفر العملي خروج عن الملة إلا إذا كان الكفر قد انعقد في قلب هذا الكافر عملاً. فيجب التفريق بين الكفر الاعتقادي والكفر العملي، لا يوجد عندنا في الشريعة أبداً نص يصرح ويدل دلالة واضحة على أن من آمن بما أنزل الله لكنه لم يفعل بشيء مما أنزل الله فهذا هو كافر»
یہ ناممکن ہے کہ کفر عملی ملت سے خارج کرنے والا کفر بنے، جب تک کہ وہ اپنے دل میں اس کفر کا اعتقاد نہ رکھے۔ لہٰذا کفر اعتقادی اور کفر عملی کے درمیان تفریق ضروری ہے۔ شریعت میں ہمارے پاس کوئی ایسی نص قطعا موجود نہیں جو صراحت کے ساتھ واضح دلالت کرتی ہو کہ جو شخص اس پر ایمان لائے جو اللہ نے نازل کیا، مگر اس میں سے کسی چیز پر عمل نہ کرے، تو وہ کافر ہے۔
[موسوعة الامام محمد ناصر الدين الالباني في العقيدة، ج : ٤، ص : ٤٥٨]
شیخ البانی کا یہ عقیدہ سراسر باطل، گمراہ کن، مرجئی اور اہل سنت والجماعت کے اجماعی مذہب کے خلاف ہے۔ اس میں کفر عملی کو مخرج عن الملۃ ہونے سے یکسر انکار کر دیا گیا ہے۔ یہ غلاة مرجئہ کا خالص باطل عقیدہ ہے جو ایمان کو صرف قول و اعتقاد تک محدود کر دیتے ہیں اور عمل کو اس سے الگ کر دیتے ہیں۔ شیخ البانی نے یہاں واضح طور پر مرجئی روش اختیار کی ہے جو سلف صالحین کے مذہب کی صریح مخالفت ہے۔
اہل سنت والجماعت کا متفق علیہ مذہب یہ ہے کہ ایمان قول، عمل اور اعتقاد تینوں کا مجموعہ ہے۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی ضائع ہو جائے تو ایمان باقی نہیں رہتا۔ مرجئہ عمل کو ایمان سے نکالتے ہیں، جس کا لازمی اور خطرناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شخص زبانی کلمہ کا اقرار کر لے اور دل میں اپنے آپ کو مسلمان سمجھے، مگر عملا کفر و شرک کا ارتکاب کرے، تو وہ ان کے نزدیک کافر نہیں ہوتا۔ یہی غلاة مرجئہ کا باطل مذہب ہے۔
امام محمد بن عبد الوہاب التمیمی رحمہ اللہ نے مرجئہ کے اس باطل مذہب پر سخت ضرب لگاتے ہوئے فرمایا:
«لا خلاف بين الأمة، أن التوحيد لا بد أن يكون بالقلب، الذي هو العلم واللسان الذي هو القول؛ والعمل الذي هو تنفيذ الأوامر والنواهي؛ فإن أخل بشيء من هذا، لم يكن الرجل مسلما؛ فإن أقر بالتوحيد ولم يعمل به، فهو كافر، معاند، كفرعون وإبليس»
یعنی امت مسلمہ کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ توحید کے لیے ضروری ہے کہ وہ دل میں ہو جو علم ہے، زبان پر ہو جو قول ہے، اور عمل میں ہو جو اوامر و نواہی کا نفاذ ہے۔ اگر ان تینوں میں سے کسی ایک میں کوتاہی ہو تو آدمی مسلمان نہیں رہتا۔ جو توحید کا اقرار کرے مگر اس پر عمل نہ کرے وہ ہٹ دھرم کافر ہے جیسے فرعون اور ابلیس۔
[الدرر السنیة فی الأجوبة النجدیة، ج ٢، ص ١٢٤-١٢٥]
اسی طرح امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
«أن دين الله يكون على القلب بالاعتقاد، وبالحب والبغض، ويكون على اللسان بالنطق وترك النطق بالكفر، ويكون على الجوارح بفعل أركان الإسلام، وترك الأفعال التي تكفر؛ فإذا اختل واحدة من هذه الثلاث، كفر وارتد»
اللہ کا دین دل میں اعتقاد، محبت اور بغض کے ساتھ قائم ہوتا ہے، زبان پر نطق اور کفر کے ترک کے ساتھ، اور جوارح پر ارکان اسلام کے فعل اور مکفرہ افعال کے ترک کے ساتھ۔ اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک مختل ہو جائے تو شخص کافر اور مرتد ہو جاتا ہے۔
[الدرر السنیة فی الأجوبة النجدیة، ج ١٠، ص ٨٧]
یہ ہے اہل سنت والجماعت کا واضح اور متفق مذہب جو عمل کو ایمان کا جز قرار دیتا ہے اور کفریہ اعمال سے نہ بچنے والوں اور کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والوں کو کافر و مرتد قرار دیتا ہے۔ جبکہ ناصر الدین البانی نے کہا ہے: «يستحيل أن يكون الكفر العملي خروجاً عن الملة» یعنی عملی کفر سے کسی کا ملت سے خارج ہونا ناممکن ہے۔ یہ باطل مرجئی مذہب ہے جو شریعت کے نصوص، سلف کے اجماع اور توحید کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔
شیخ عبد العزیز بن باز نے بھی اس باطل عقیدے کی شدید تردید کرتے ہوئے فرمایا:
«الكفر العملي يخرج من الملة: مثل السجود لغير الله، والذبح لغير الله، هذا كفر عملي يخرج من الملة، الذي يذبح للأصنام أو إلى الكواكب، أو إلى الجن كفر عملي أكبر، وهكذا لو صلى لهم أو سجد لهم، يكفر كفرا عمليا أكبر، وهكذا لو سب الدين أو سب الرسول، أو استهزأ بالله أو بالرسول هذا كفر عملي أكبر، عند جميع أهل السنة والجماعة»
کفر عملی ملت سے خارج کر دیتا ہے۔ غیر اللہ کو سجدہ کرنا، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا یہ کفر عملی ہے جو ملت سے خارج کرتا ہے۔ جو بتوں، ستاروں یا جنوں کے لیے ذبح کرے وہ کفر عملی اکبر کا مرتکب ہے۔ اسی طرح ان کے لیے نماز پڑھے یا سجدہ کرے تو عملی طور پر کفر اکبر کرتا ہے۔ دین کو گالی دینا، رسول کو گالی دینا، اللہ یا رسول کا مذاق اڑانا یہ سب کفر عملی اکبر ہیں، تمام اہل سنت والجماعت کے نزدیک۔
[مجموع فتاوى ومقالات متنوعة، ج ٢٨، ص ١٤٦]
ہماری تمام سلفی بھائیوں سے گزارش ہے کہ کسی شخصیت کی علمی شہرت، حدیث کی خدمت یا تصنیفی مرتبے سے مرعوب و متاثر ہو کر اس کے مرجئانہ و باطل عقیدے کو محض تاویلات، حیلوں اور توجیہات کے ذریعے اہل سنت والجماعت کے موافق ثابت کرنے کی ناکام کوشش نہ کریں۔ بلکہ اسے نصوص اور ائمہ اہل سنت کے سامنے پیش کریں۔ پھر جو عقائد و نظریات منہج اہل سنت کے منافی، مخالف اور متصادم ہو، اس کی علمی تردید کریں، خواہ قائل کی علمی شہرت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں۔
پس میزان حق اشخاص نہیں، بلکہ کتاب و سنت اور فہم سلف صالحین ہے۔ یہی اہل حدیث کا طریق ہے، یہی علماء سلف کا منہج ہے، اور یہی انصاف و دیانت کا تقاضا ہے کہ حق کو اشخاص سے نہیں، بلکہ اشخاص کو حق سے پہچانا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے، باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے، اور مرجئہ کے باطل مذہب سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔