ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 890
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
کیا شوہر کے لیے سفر کی غرض سے بیوی سے دور ہوتے وقت اس سے اجازت لینا ضروری ہے؟ شیخ صالح الفوزان کی وضاحت
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
شیخ صالح بن فوزان الفوزان سے ایک اہم سوال کیا گیا کہ اگر شوہر سفر کی وجہ سے اپنی بیوی سے طویل عرصہ دور رہے تو کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، یا اسے اپنی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے؟ سوال یہ تھا:
«السؤال: هل يجوز للزوج البعد عن زوجته بالسفر، أم يجب عليه استئذانها؟» یعنی کیا شوہر کے لیے سفر کی وجہ سے اپنی بیوی سے دور رہنا جائز ہے، یا اس کے لیے اپنی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے؟
شیخ صالح الفوزان نے جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت فرمایا: «﴿لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ﴾ [البقرة: 226]»جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں، ان کے لیے چار ماہ انتظار کی مہلت ہے۔
پھر شیخ نے نہایت مختصر مگر واضح الفاظ میں فرمایا:
«له أن يغيب عنها أربعة أشهر، فإن أذنت له بالزيادة وإلا يرجع إليها، يرجع إليها.» یعنی شوہر کو اپنی بیوی سے چار ماہ تک غائب رہنے کی گنجائش ہے، پھر اگر بیوی مزید مدت کے لیے اجازت دے دے تو زیادہ عرصہ بھی رہ سکتا ہے، ورنہ اسے اپنی بیوی کے پاس واپس آنا ہوگا۔
[أسئلة وأجوبة من شرح الطحاوية - الشيخ صالح بن فوزان الفوزان]
شیخ صالح الفوزان کے اس مختصر جواب میں اصل توجہ بیوی کے شرعی حق کی طرف ہے۔ شوہر کا سفر کرنا فی نفسہ ممنوع نہیں، لیکن اس سفر کی وجہ سے بیوی کے حقوق کو مسلسل معطل رکھنا بھی شریعت کا مطلوب نہیں۔
شیخ نے سب سے پہلے قرآن مجید کی آیت پیش فرمائی: «﴿لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ﴾» یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ازدواجی تعلق کے معاملے میں شریعت نے ایک مدت کا اعتبار کیا ہے۔
اسی بنا پر شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں «له أن يغيب عنها أربعة أشهر» یعنی اسے چار ماہ تک اس سے غائب رہنے کی گنجائش ہے۔ شیخ نے شوہر کی غیر حاضری کو مطلق اور بے حد نہیں رکھا بلکہ چار ماہ کی مدت ذکر فرمائی ہے۔
اس کے بعد شیخ صالح الفوزان نے فرمایا «فإن أذنت له بالزيادة» اگر بیوی نے اسے مزید مدت کی اجازت دے دی۔۔۔ یہاں شیخ نے بیوی کی رضامندی کو واضح طور پر معتبر قرار دیا ہے۔ یعنی اگر شوہر کی غیر حاضری چار ماہ سے زیادہ ہو رہی ہو اور بیوی اپنی رضامندی سے مزید مدت کے لیے اجازت دے دے تو اس صورت میں زیادہ عرصہ رہنے کی گنجائش ہے۔
لیکن اگر بیوی اجازت نہ دے تو شیخ صالح الفوزان کا فیصلہ بالکل صاف ہے «وإلا يرجع إليها، يرجع إليها» اسے اپنی بیوی کے پاس واپس آنا ہوگا۔ شیخ کا لفظ ’’يرجع إليها‘‘ دو مرتبہ فرمانا اس امر کی تاکید کو ظاہر کرتا ہے کہ جب بیوی مزید جدائی پر راضی نہ ہو تو شوہر کو اس کے حق کا خیال کرتے ہوئے واپس آنا چاہیے۔
اسلام نے شوہر کو خاندان کا ذمہ دار بنایا ہے، لیکن اس ذمہ داری کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شوہر اپنی خواہش یا اپنی مصروفیات کی وجہ سے بیوی کے حقوق کو نظر انداز کرتا رہے۔ اسی لیے علماء نے ازدواجی زندگی میں معاشرت، صحبت، نفقہ، سکون اور باہمی حقوق کا اعتبار کیا ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ شیخ صالح الفوزان نے یہ نہیں فرمایا کہ شوہر کے لیے ہر سفر سے پہلے لازما بیوی سے اجازت لینا ہی شرط ہے؛ بلکہ سوال کے جواب میں انہوں نے طویل غیر حاضری کی مدت اور بیوی کی رضامندی کو اصل مسئلہ قرار دیا ہے۔
لہٰذا اس فتویٰ کو اس معنی میں لینا درست نہیں کہ شوہر ہر مرتبہ چند دن کے سفر کے لیے بھی شرعی طور پر بیوی کی اجازت کا پابند ہے۔ بلکہ شیخ کے کلام کا محل طویل مدت تک بیوی سے جدا رہنا ہے۔
یہاں شوہر کو خصوصا غور کرنا چاہیے کہ اگر ملازمت، تجارت یا کسی دوسرے دنیاوی مقصد کے لیے اسے طویل عرصہ گھر سے باہر رہنا پڑے تو صرف اپنی ضرورت کو سامنے نہ رکھیں، بلکہ اپنی بیوی کی ضرورت اور اس کے شرعی حق کو بھی ملحوظ رکھیں۔
شیخ صالح الفوزان نے اصل اصول یہی بتایا ہے کہ «له أن يغيب عنها أربعة أشهر» چار ماہ تک غیر حاضری کی گنجائش ہے؛ اور اس کے بعد «فإن أذنت له بالزيادة» اگر بیوی رضامند ہو تو مزید مدت کی گنجائش ہے؛ ورنہ «وإلا يرجع إليها» اس کے پاس واپس آنا ہوگا۔ پس شریعت نے شوہر کے جائز مصالح اور بیوی کے حقوق، دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ شیخ صالح الفوزان کا یہ جواب ہر ممکن صورت حال کی تفصیلی فقہی بحث نہیں ہے۔ اگر شوہر کسی شرعی ضرورت، مجبوری یا ایسے عذر کی بنا پر طویل عرصہ باہر ہو جس میں معمول کا حکم نافذ نہ ہو سکے تو اس کی تفصیلات علماء سے الگ دریافت کی جائیں گی۔
اسی طرح اگر بیوی خود شوہر کی طویل غیر حاضری پر رضامند ہو تو شیخ نے واضح فرمایا ہے کہ اگر بیوی مزید مدت کے لیے اجازت دے دے تو شوہر زیادہ عرصہ بھی رہ سکتا ہے لہٰذا اس مسئلے میں بیوی کی رضامندی ایک اہم امر ہے۔
حاصل یہ کہ شیخ صالح الفوزان کے اس مختصر مگر جامع جواب سے معلوم ہوا کہ شوہر کو بیوی کے حقوق سے بے نیاز ہو کر غیر معینہ مدت تک اس سے جدا رہنا درست نہیں۔ یہی شریعت اسلامیہ کا عدل ہے کہ نہ شوہر کے جائز سفر کو مطلقا ممنوع قرار دیا گیا اور نہ بیوی کے ازدواجی حق کو نظر انداز کیا گیا، بلکہ دونوں کے حقوق و مصالح کا لحاظ رکھا گیا۔
پس جو شخص بیوی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ شرعی حق سے محروم رکھ کر اپنی غیر حاضری کو محض اپنی سہولت یا خواہش کے مطابق طول دیتا ہے، اسے چاہیے کہ کتاب و سنت کے ان احکام پر غور کرے اور اپنی ازدواجی ذمہ داری کو معمولی نہ سمجھے۔
نکاح صرف مالی ذمہ داریوں کا نام نہیں بلکہ زوجین کے باہمی حقوق بھی ہیں۔ شوہر پر جس طرح بیوی کا نفقہ، رہائش اور دیگر ضروریات پوری کرنا لازم ہے، اسی طرح بیوی کی ازدواجی ضرورت اور اس کے حق صحبت کا بھی اعتبار ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں میں شریعت کے احکام قائم کرنے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے اور حسن معاشرت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔