• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موسوعه فتاویٰ الطلاق ۔ جلد چہارم، باب دوم، ایک مجلس میں تین طلاقیں: تصویرِ مسئلہ، محلِ اتفاق اور محلِ اختلاف

شمولیت
اگست 13، 2011
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
172
پوائنٹ
82
تمہید
ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقیں فقہِ طلاق کے سب سے معروف، حساس اور عملی طور پر کثیر الوقوع اختلافی مسائل میں سے ہیں۔ اس مسئلے کے نتائج محض نظری نہیں، بلکہ اس کے ایک قول کے مطابق عورت اپنے شوہر پر بینونتِ کبریٰ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے، جب کہ دوسرے قول کے مطابق صرف ایک رجعی طلاق واقع ہوتی ہے اور عدت کے اندر رجعت کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ اسی بنا پر اس مسئلے میں نصوص کی صحت، روایت کے الفاظ، آثارِ صحابہ، عہدِ فاروقی کی انتظامی تطبیق، فقہی مذاہب کے مناہج اور فتویٰ و قضاء کے فرق کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

اس مسئلے میں علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ نہ جمہور فقہاء کے موقف کو غیر علمی یا محض تقلیدی قرار دیا جائے اور نہ ایک طلاق کے قول کو جدید سہولت پسندی یا بے بنیاد رخصت کہا جائے۔ دونوں طرف جلیل القدر فقہاء اور محققین موجود ہیں اور دونوں نے اپنے اپنے اصولی منہج کے مطابق نصوص و آثار سے استدلال کیا ہے۔ صحیح تحقیقی طریقہ یہ ہے کہ پہلے مسئلے کی تمام صورتیں الگ کی جائیں، پھر محلِ اتفاق اور محلِ اختلاف متعین کیا جائے، اس کے بعد ہر قول کے دلائل اور ان کے جوابات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔

حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما، روایتِ ابو الصہباء، حدیثِ رکانہ اور ان کے طرق، الفاظ اور علل کی تفصیلی تحقیق باب چہارم میں آئے گی۔ موجودہ باب میں بنیادی روایات کا اجمالی ذکر کرتے ہوئے فقہی نزاع کی مکمل تصویر قائم کی جائے گی۔

1۔ ایک مجلس کی تعریف
ایک مجلس سے مراد صرف یہ نہیں کہ شوہر اور بیوی ایک کمرے یا ایک جگہ موجود ہوں۔ فقہی اعتبار سے مجلس ایک مسلسل کلامی یا عملی سیاق کو کہتے ہیں جس میں گفتگو کا بنیادی سلسلہ منقطع نہ ہوا ہو اور متعدد الفاظ ایک ہی طلاقی اقدام کا حصہ سمجھے جائیں۔

شوہر ایک ہی نشست میں کہے: ’’میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں‘‘، تو یہ ایک لفظی ترکیب کے ذریعے تین طلاقوں کا اظہار ہے۔ اگر کہے: ’’تم طالق ہو، تم طالق ہو، تم طالق ہو‘‘، تو یہ ایک مجلس میں لفظ کی تکرار ہے۔ اگر پہلے کہے: ’’تمہیں طلاق ہے‘‘، کچھ دیر بعد اسی جھگڑے میں دوبارہ کہے، اور پھر تیسری مرتبہ یہی لفظ استعمال کرے تو یہ مسلسل یا متعدد انشاؤں کی صورت ہوسکتی ہے۔

اس کے برعکس شوہر آج ایک طلاق دے، پھر رجعت کے بعد یا عدت میں کسی دوسرے مستقل واقعے پر دوسری طلاق دے، اور بعد میں تیسری دے تو یہ تین الگ مواقع کی طلاقیں ہیں۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے والے اہلِ علم بھی اصولاً تین الگ مواقع کی معتبر طلاقوں کو تین ہی شمار کرتے ہیں۔

2۔ مسئلے کی بنیادی صورتیں
ایک مجلس میں تین طلاقوں کی تمام صورتوں کو ایک حکم میں رکھنا درست نہیں۔ ان کی کم از کم درج ذیل اقسام ہیں۔

ایک ہی لفظ میں عددِ تین
شوہر کہے:

’’میں نے تمہیں تین طلاقیں دیں۔‘‘
’’تمہیں طلاقِ ثلاثہ ہے۔‘‘
’’تم تین طلاقوں کے ساتھ مطلقہ ہو۔‘‘
’’أنتِ طالق ثلاثًا۔‘‘

یہ صورت فقہی اختلاف کا سب سے واضح محل ہے۔ جمہور اسے تین اور ابن تیمیہ، ابن القیم اور متعدد سلفی محققین اسے ایک طلاق شمار کرتے ہیں۔

لفظِ طلاق کی مسلسل تکرار
شوہر کہے:

’’تم طالق ہو، تم طالق ہو، تم طالق ہو۔‘‘

اس میں عدد کے عمومی اختلاف کے ساتھ نیتِ تاکید اور نیتِ تاسیس کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ ممکن ہے دوسرا اور تیسرا لفظ مستقل طلاق کے لیے کہا گیا ہو، اور ممکن ہے پہلی طلاق کو مؤکد کرنے کے لیے دہرایا گیا ہو۔

ایک مجلس میں وقفوں کے ساتھ تکرار
شوہر ایک ہی جھگڑے میں پہلے ایک طلاق دے، پھر کچھ گفتگو کے بعد دوسری اور مزید بحث کے بعد تیسری طلاق دے۔ یہ صورت ایک لفظ میں ’’تین طلاقیں‘‘ کہنے کے مقابلے میں مستقل انشاء کے زیادہ قریب ہوسکتی ہے، لیکن یہ دیکھا جائے گا کہ مجلس اور ارادہ ایک ہی تھا یا ہر مرتبہ نئی طلاق کا مستقل فیصلہ کیا گیا۔

تحریری طلاقِ ثلاثہ
شوہر ایک ہی طلاق نامے میں لکھے کہ وہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہے۔ یہاں تحریر کی نسبت، منظوری، قصدِ انشاء اور تعداد کے ساتھ ایک مجلس کی تین طلاقوں کا اختلاف بھی پیدا ہوگا۔

ایک ہی طلاق نامے کی تین نقول تیار کرنا تین طلاقیں نہیں۔ تعداد کا تعلق متن میں کیے گئے انشاء سے ہے، نقول یا وصول کنندگان کی تعداد سے نہیں۔

برقی ذرائع سے تین طلاقیں
شوہر ایک ہی پیغام میں لکھے: ’’طلاق، طلاق، طلاق‘‘؛ یا ایک ہی وقت میں تین الگ پیغامات بھیجے؛ یا ایک ہی پیغام واٹس ایپ، ای میل اور ایس ایم ایس سے ارسال کرے۔ پہلی دو صورتوں میں تکرار اور مستقل انشاء کی تحقیق ہوگی، جب کہ تیسری صورت عموماً ایک ہی اظہار کی متعدد ترسیلات ہے۔

معلق تین طلاقیں
شوہر کہے: ’’اگر تم فلاں گھر گئیں تو تمہیں تین طلاقیں ہیں۔‘‘ شرط پوری ہونے پر پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ تعلیق حقیقی طلاق کے لیے تھی یا قسم و منع کے معنی میں۔ اگر حقیقی طلاقی تعلیق ثابت ہو تو پھر تین کو تین یا ایک شمار کرنے کا اختلاف سامنے آئے گا۔

دخول سے پہلے تین طلاقیں
غیر مدخول بہا عورت کے بارے میں ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں کہنا اور الگ الگ جملوں میں تین مرتبہ طلاق کہنا فقہی طور پر یکساں نہیں۔ پہلی طلاق کے بعد فوری بینونت اور محلِ طلاق کے باقی رہنے یا نہ رہنے کی بحث پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے عمومی نزاع کو دخول سے پہلے کی تمام فروع پر بلا تفصیل منطبق نہیں کیا جاسکتا۔

3۔ محلِ اتفاق
اختلاف کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے پہلے ان امور کی تعیین ضروری ہے جن پر اہلِ علم متفق یا تقریباً متفق ہیں۔

تین الگ مواقع کی طلاقیں
اگر شوہر نے پہلی معتبر طلاق دی، پھر صحیح رجعت یا نکاحِ جدید کے بعد دوسری طلاق دی، اور دوبارہ ازدواجی تعلق بحال ہونے کے بعد تیسری طلاق دی تو تین طلاقیں مکمل ہوجائیں گی۔ اسے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے اختلاف کے تحت ایک قرار نہیں دیا جاسکتا۔

تیسری طلاق کے بعد بینونتِ کبریٰ
جب تین معتبر طلاقیں شرعاً مکمل ہوجائیں تو عورت پہلے شوہر پر حرام ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ وہ دوسرے مرد سے صحیح اور حقیقی نکاح کرے اور وہ نکاح طبعی طریقے سے ختم ہوجائے۔

ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا مشروع طریقہ نہیں
جمہور، جو تینوں کے وقوع کے قائل ہیں، بھی ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کو سنت اور پسندیدہ طریقہ قرار نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ طلاقِ بدعت، حرام یا کم از کم خلافِ سنت ہے، مگر حرمت کے باوجود واقع ہوجاتی ہے۔

ایک طلاق کے قائل اہلِ علم بھی اسے جائز اور درست طرزِ عمل نہیں کہتے۔ ان کے نزدیک ایسا کرنے والا سنت کی مخالفت، جلد بازی اور طلاق کے شرعی طریقے سے تجاوز کرتا ہے، اگرچہ عدد کے اعتبار سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔ شیخ عبدالعزیز بن باز نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کے باوجود اسے ’’طلاقًا منكرًا‘‘ قرار دے کر توبہ کی ہدایت کی ہے۔

حلالہ کی منصوبہ بندی ممنوع ہے
جو شخص تین طلاقوں کے نفاذ کا قول اختیار کرے، اس کے نزدیک بھی منصوبہ بند حلالہ جائز نہیں۔ اسی طرح ایک طلاق کا فتویٰ حاصل نہ ہونے کی صورت میں محض پہلے شوہر کے لیے عورت کو حلال کرنے کی غرض سے عارضی نکاح کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

نامکمل معلومات پر فیصلہ درست نہیں
اس بات پر بھی اصولی اتفاق ہے کہ اصل الفاظ، سابقہ طلاقوں، مجلس، نیتِ تاکید، حالتِ نکاح اور معتبر ثبوت کے بغیر کسی شخصی مقدمے میں قطعی حکم نہیں دیا جاسکتا۔

4۔ محلِ اختلاف
اصل اختلاف اس صورت میں ہے جب شوہر صحیح نکاح کی حالت میں ایک ہی مجلس یا ایک ہی مربوط انشاء میں تین طلاقوں کا اظہار کرے۔ کیا تینوں نافذ ہوکر بینونتِ کبریٰ واقع ہوگی، یا پورا اظہار ایک رجعی طلاق شمار ہوگا؟

اس مسئلے میں دو معروف اقوال ہیں:

پہلا قول یہ ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہوں گی۔ یہ مذاہبِ اربعہ کے معروف اور معتمد موقف، جمہور فقہاء اور عہدِ فاروقی کے بعد امت کے غالب فقہی عمل کی نمائندگی کرتا ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ایک مجلس یا ایک لفظ میں دی گئی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق شمار ہوں گی۔ یہ بعض صحابہ و تابعین سے منقول، بعض متقدمین کا اختیار، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ ابن القیم اور متعدد معاصر سلفی اہلِ علم کا راجح موقف ہے۔

5۔ جمہور فقہاء کا موقف
حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے معروف قول کے مطابق اگر شوہر اپنی بیوی کو ایک مجلس میں صراحت کے ساتھ تین طلاقیں دے تو تینوں واقع ہوجاتی ہیں۔ عورت بینونتِ کبریٰ کے ساتھ جدا ہوجاتی ہے اور سابق شوہر عدت میں رجوع یا عدت کے بعد نیا نکاح نہیں کرسکتا۔

جمہور ایک مجلس میں تین طلاقوں کو مشروع طریقہ نہیں سمجھتے۔ ان کے موقف میں حکمِ تکلیفی اور حکمِ وضعی الگ ہیں: ایسا کرنا حرام یا بدعت ہوسکتا ہے، لیکن طلاق کا قانونی و شرعی اثر واقع ہوگا۔

جمہور کے اہم دلائل
جمہور قرآنِ مجید کے عمومی الفاظ، شوہر کے صریح عددی اظہار، عہدِ فاروقی کے فیصلے، متعدد صحابہ کے فتاویٰ اور امت کے طویل فقہی عمل سے استدلال کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک شوہر نے اپنے اختیار کو غلط طریقے سے استعمال کیا، لیکن صریح طور پر تین طلاقیں صادر کردیں۔ جس طرح بعض دوسرے ممنوع شرعی تصرفات اپنے گناہ کے باوجود قانونی اثر پیدا کرسکتے ہیں، اسی طرح بدعی طلاق بھی واقع ہوسکتی ہے۔

وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو بھی دلیل بناتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں پر تین طلاقیں نافذ کردیں۔ جمہور کے نزدیک یہ محض تعزیری یا وقتی انتظام نہیں، بلکہ ایسے حکم کا نفاذ تھا جس کی شرعی گنجائش موجود تھی۔ اگر تین کو تین شمار کرنا شریعت کے قطعی حکم کے خلاف ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر خاموش نہ رہتے۔

بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما میں ’’تین طلاقیں ایک تھیں‘‘ سے ایسی صورت مراد ہوسکتی ہے جس میں لفظ کی تکرار تاکید کے لیے ہوتی تھی، یا لوگ ایک طلاق دیتے اور عدت کے مختلف ادوار میں مزید طلاقیں شامل نہیں کرتے تھے۔ بعض نے روایت کو مخصوص صورت، منسوخ عمل یا تعزیری سیاست کے تناظر میں سمجھا ہے۔

6۔ ایک طلاق کے قائلین کا موقف
دوسرے قول کے مطابق شوہر کا ایک ہی مجلس یا ایک ہی مربوط اظہار میں تین طلاقیں دینا صرف ایک طلاق شمار ہوگا۔ اگر یہ پہلی یا دوسری طلاق ہو تو عدت کے اندر رجعت ممکن ہوگی۔

اس قول کے نمایاں دلائل میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح مسلم میں مروی روایت بنیادی حیثیت رکھتی ہے:

«كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ»

’’رسول اللہ ﷺ کے عہد، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں نے ایسے معاملے میں جلد بازی شروع کردی ہے جس میں ان کے لیے مہلت تھی؛ اگر ہم اسے ان پر نافذ کردیں! چنانچہ انہوں نے اسے ان پر نافذ کردیا۔‘‘ روایت اور توضیح

روایتِ ابو الصہباء میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس امر کی تصدیق کی کہ عہدِ نبوی ﷺ، عہدِ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانے میں تین کو ایک قرار دیا جاتا تھا۔ روایتِ ابو الصہباء

اس قول کی اصولی بنیاد
اس موقف کے حاملین کہتے ہیں کہ عہدِ نبوی ﷺ میں ثابت شدہ شرعی حکم کو بعد کے انتظامی اقدام سے منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شریعت کا اصل حکم تبدیل نہیں کیا، بلکہ لوگوں کی کثرتِ بدعملی اور طلاق کے ساتھ کھیلنے پر تعزیری و سیاسی اقدام کے طور پر ان کے ظاہر کردہ عدد کو ان پر نافذ کردیا۔

ان کے نزدیک قرآن کا طریقہ ’’الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ‘‘ ہے، یعنی طلاق مرحلہ وار اور الگ مواقع پر دی جائے۔ ایک ہی وقت میں تین کا مجموعہ تین شرعی مرتبے نہیں بن سکتا، کیونکہ ’’مرتان‘‘ میں تکرارِ وقت اور الگ فعل کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

وہ اس امر سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینے سے قرآن کے مقرر کردہ رجعت اور اصلاح کے دو مواقع بیک وقت ختم ہوجاتے ہیں، جب کہ شارع نے طلاق کو تدریجی نظام میں رکھا ہے۔

7۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کی نوعیت
اس مسئلے کا بنیادی اصولی سوال یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اقدام اصل شرعی حکم کی تشریح تھا یا ایک وقتی انتظامی و تعزیری نفاذ۔

جمہور کے نزدیک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک جائز اور شرعاً معتبر حکم نافذ کیا، اور صحابہ کی موجودگی میں اس کا تسلسل اس موقف کی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک طلاق کے قائلین کے نزدیک روایت کے الفاظ خود واضح کرتے ہیں کہ پہلے تین کو ایک شمار کیا جاتا تھا، پھر لوگوں کی جلد بازی کے باعث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کے اختیار کردہ سخت نتیجے کا پابند کردیا۔ «فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ» کے الفاظ ان کے نزدیک تعزیری و انتظامی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، نہ کہ نبوی حکم کی دائمی تبدیلی کی طرف۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس فیصلے میں شریعت کے مخالف قرار دینا دونوں طرف سے غلط ہوگا۔ اختلاف صرف ان کے اجتہاد کی فقہی نوعیت سمجھنے میں ہے۔ وہ خلیفۂ راشد، عظیم فقیہ اور مصالحِ عامہ کے نگران تھے؛ انہوں نے لوگوں کی طلاق کے ساتھ بڑھتی ہوئی بے احتیاطی کو روکنے کے لیے ایسا اقدام کیا جسے اپنے زمانے کے لیے مناسب سمجھا۔

8۔ صحابہ کرام کے آثار
جمہور متعدد صحابہ سے تین طلاقوں کے نفاذ کے آثار نقل کرتے ہیں، جن میں سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب فتاویٰ شامل ہیں۔ ان آثار کی اسناد، الفاظ اور حالات یکساں نہیں۔ بعض صحیح، بعض مختلف فیہ اور بعض مخصوص واقعات سے متعلق ہیں۔

دوسری طرف ایک طلاق کے قائلین سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح مسلم والی روایت، ان سے منقول بعض فتاویٰ اور بعض دوسرے صحابہ کے آثار پیش کرتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بظاہر دونوں طرح کے اقوال منقول ہیں، اس لیے ان کے فتاویٰ میں تاریخ، سوال کی نوعیت، سائل کی حالت اور تعزیری پہلو کی تحقیق ضروری ہے۔

کسی صحابی سے دو مختلف احکام منقول ہوں تو فوراً اضطراب یا تناقض کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ ممکن ہے ایک روایت اصل شرعی حکم اور دوسری کسی خاص شخص پر تعزیری نفاذ سے متعلق ہو؛ ممکن ہے راویوں کے الفاظ مختلف ہوں؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ صحابی نے اجتہاد تبدیل کیا ہو۔ ان احتمالات کا فیصلہ سندی و تاریخی تحقیق سے ہوگا۔

9۔ حدیثِ رکانہ رضی اللہ عنہ
سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے متعلق مختلف روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں یا طلاقِ بتہ دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے نیت یا طریقۂ طلاق دریافت کرکے رجعت کی اجازت دی۔

روایت کے بعض طرق میں تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کے صریح الفاظ ہیں، جب کہ دوسرے طرق میں ’’البتة‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ محدثین نے ان طرق کی صحت، راویوں کے اختلاف اور محفوظ لفظ کے بارے میں بحث کی ہے۔ اس لیے حدیثِ رکانہ کو تنہا قطعی دلیل بنانے کے بجائے اس کے تمام طرق کا مجموعی جائزہ ضروری ہے۔

اس روایت کی تفصیلی تخریج باب چہارم میں ہوگی۔ فی الحال یہ بات کافی ہے کہ ایک طلاق کے قائلین اسے اپنے موقف کی مؤید دلیل سمجھتے ہیں، جب کہ جمہور کے محققین اس کے بعض طرق کو ضعیف، مضطرب یا لفظِ ’’البتة‘‘ کے مقابلے میں غیر محفوظ قرار دیتے ہیں۔

10۔ «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ» سے استدلال
ایک طلاق کے قائلین کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، اور عربی میں ’’مرتان‘‘ کا مفہوم دو الگ مرتبے ہیں، نہ کہ ایک ہی وقت میں عدد دو کا اظہار۔ جیسے کسی شخص سے کہا جائے کہ دروازہ دو مرتبہ کھٹکھٹاؤ تو ایک ہی ضرب کو ’’دو‘‘ کہنے سے دو مرتبے حاصل نہیں ہوتے۔

جمہور جواب دیتے ہیں کہ آیت طلاق کے مشروع طریقے اور رجعت کے مواقع بیان کرتی ہے، لیکن اگر شوہر حکم کی مخالفت کرتے ہوئے تین طلاقیں جمع کردے تو اس کے صریح الفاظ اپنا اثر پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک آیت مشروع سنت بتاتی ہے، نہ کہ ہر غیر مشروع طلاق کے عدمِ وقوع کا اعلان۔

یہاں اصل اختلاف دوبارہ حکمِ تکلیفی اور حکمِ وضعی کے تعلق پر آجاتا ہے: کیا شرعی طریقے کے خلاف دی گئی طلاق باطل ہوگی یا گناہ کے باوجود نافذ؟

11۔ طلاقِ بدعت اور وقوع کا تعلق
ایک ساتھ تین طلاقیں دینا بدعی اور ممنوع ہونے پر دونوں فریقوں میں بنیادی اتفاق ہے، لیکن ممنوع فعل کے اثر میں اختلاف ہے۔

جمہور کہتے ہیں کہ ہر ممنوع تصرف باطل نہیں ہوتا۔ حالتِ حیض میں دی گئی طلاق، ان کے معروف موقف کے مطابق، گناہ کے باوجود واقع ہوتی ہے۔ اسی اصول پر تین طلاقیں جمع کرنا ممنوع مگر نافذ ہے۔

دوسرے اہلِ علم کہتے ہیں کہ عبادات و معاملات میں شارع کے مقرر کردہ طریقے کے خلاف ایسا تصرف جس کے نتائج نص کے مقصد کو منہدم کردیں، لازماً معتبر نہیں۔ ایک مجلس کی تین کو ایک قرار دینا اصل طلاق کے وقوع کو تسلیم کرتا ہے، مگر غیر مشروع اضافی عدد کو نافذ نہیں کرتا۔

اس بحث کو ’’حرام ہے، اس لیے بالکل واقع نہیں‘‘ کے سادہ اصول تک محدود کرنا درست نہیں؛ دونوں طرف حکمِ وضعی کے مفصل اصول موجود ہیں۔

12۔ تکرار اور تاکید
اگر شوہر نے ’’تم طالق ہو‘‘ تین مرتبہ کہا تو جمہور کے داخلی فقہی مباحث میں بھی نیتِ تاکید کی گنجائش موجود ہے۔ اگر دوسرا اور تیسرا لفظ پہلی عبارت کی محض تاکید تھے تو بعض صورتوں میں ایک طلاق شمار ہوگی۔

اگر ہر لفظ سے مستقل طلاق مقصود تھی تو جمہور کے نزدیک تین واقع ہوں گی۔ ایک طلاق کے قول پر بھی، ایک ہی مربوط مجلس میں ہونے کی صورت میں مجموعہ ایک شمار ہوگا۔

یہاں دو اختلافات کو الگ رکھنا ضروری ہے:

پہلا اختلاف یہ ہے کہ تکرار مستقل انشاء تھی یا تاکید؛ دوسرا یہ کہ اگر تین مستقل انشاء مقصود ہوں تب ایک مجلس میں ان کا شرعی عدد کیا ہوگا۔

13۔ ایک لفظ اور تین الگ جملوں میں فرق
’’تمہیں تین طلاقیں ہیں‘‘ ایک مرکب عددی انشاء ہے۔ ’’تم طالق ہو، تم طالق ہو، تم طالق ہو‘‘ تین لفظی جملے ہیں۔ بعض فقہاء نے ان صورتوں کے درمیان تفصیل کی ہے، بالخصوص تاکید، دخول سے پہلے طلاق اور محلِ نکاح کے باقی رہنے کے مباحث میں۔

ایک طلاق کے قول کو اختیار کرنے والے اکثر محققین ایک لفظ میں تین اور ایک مجلس میں مسلسل تین انشاؤں، دونوں کو ایک شمار کرتے ہیں، کیونکہ صحیح مسلم کی روایت میں «طلاق الثلاث» کا عمومی لفظ آیا ہے۔ تاہم ہر عبارت کی نحوی ساخت اور عملی سیاق محفوظ کرنا ضروری ہے۔

14۔ ایک مجلس کا انقطاع
شوہر نے ایک طلاق دی، مجلس ختم ہوگئی، پھر نئی مجلس میں دوسری طلاق دی تو اسے ایک مجلس کی تین کے حکم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ مجلس کے انقطاع کی علامات میں طویل زمانی وقفہ، جگہ کی تبدیلی، فریقین کا منتشر ہوجانا، گفتگو کا مکمل اختتام، نئی مشاورت اور مستقل نیا فیصلہ شامل ہوسکتے ہیں۔

صرف فون کال کا منقطع ہونا لازماً مجلس ختم نہیں کرتا، اگر فوراً دوبارہ رابطہ اسی مسلسل جھگڑے کے تسلسل میں ہوا۔ اسی طرح ایک ہی گھر میں کئی گھنٹوں کے فرق سے کیے گئے مستقل اعلانات ایک مجلس نہیں سمجھے جائیں گے۔

یہ معاملہ عرف، سیاق اور مستقل ارادے سے متعین ہوگا؛ منٹوں کی کوئی ایسی جامد تعداد مقرر نہیں جس سے ہر واقعے میں مجلس ختم سمجھی جائے۔

15۔ غصے میں تین طلاقیں
ایک مجلس کی تین طلاقیں اکثر شدید غصے میں دی جاتی ہیں، لیکن غصہ اور تعداد دو الگ مسائل ہیں۔ پہلے یہ طے کیا جائے گا کہ غصے کے باوجود شوہر کو اپنے الفاظ، مخاطب اور عمل کا شعور تھا یا نہیں۔ اگر ادراک بالکل زائل تھا تو اصل طلاق ہی واقع نہ ہونے کی بحث ہوگی۔

اگر شوہر باخبر تھا اور قصداً الفاظ ادا کیے تو طلاق واقع ہوگی؛ اس کے بعد یہ سوال آئے گا کہ تین ایک شمار ہوں گی یا تین۔ محض یہ کہنا کہ ’’میں بہت غصے میں تھا‘‘ نہ اصل وقوع کو خودکار طور پر ختم کرتا ہے اور نہ تعدد کے اختلاف کا فیصلہ کرتا ہے۔

16۔ مذاق، دھمکی اور خوف دلانا
شوہر بیوی کو ڈرانے کے لیے کہے: ’’میں نے تمہیں تین طلاقیں دیں‘‘ تو صریح منجز انشاء کو محض خوف دلانے کی نیت سے غیر مؤثر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صریح طلاق میں نکاح ختم کرنے کے حتمی نتیجے کو پسند نہ کرنا اور الفاظ کو قصداً ادا نہ کرنا دو الگ امور ہیں۔

اگر عبارت مستقبل کی دھمکی ہو، مثلاً ’’میں تمہیں تین طلاقیں دے دوں گا‘‘، تو یہ فوری طلاق نہیں۔ اگر کہا: ’’اگر تم نے ایسا کیا تو تین طلاق‘‘، تو یہ معلق طلاق ہے اور پہلے تعلیق و قسم کے احکام دیکھے جائیں گے۔

17۔ سابقہ طلاقوں کا اثر
ایک مجلس کی تین کو ایک شمار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ شوہر کے پاس ہمیشہ رجعت کا حق ہوگا۔ اگر وہ پہلے دو معتبر طلاقیں دے چکا تھا اور اب ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں تو ترجیحی قول کے مطابق موجودہ اظہار کم از کم ایک طلاق ہوگا، جس سے مجموعی تعداد تین مکمل ہوجائے گی اور بینونتِ کبریٰ واقع ہوگی۔

اسی طرح اگر ایک سابقہ طلاق موجود ہو تو موجودہ تین کو ایک شمار کرنے پر مجموعی تعداد دو ہوگی، نہ کہ پہلی۔

شخصی فتوے میں سابقہ طلاقوں کی تحقیق کیے بغیر یہ کہنا کہ ’’تین طلاقیں ایک ہیں، اس لیے رجوع کرلیں‘‘ سنگین غلطی ہوسکتی ہے۔

18۔ رجعت کی حیثیت
اگر ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جائے اور وہ شوہر کی پہلی یا دوسری طلاق ہو تو مدخول بہا بیوی کی عدت کے اندر رجعت ممکن ہوگی، بشرطیکہ طلاق کسی ایسی صورت کی نہ ہو جو بائن ہو۔

عدت گزر چکی ہو تو نیا نکاح، عورت کی رضامندی، ولی، گواہوں اور نئے مہر کے ساتھ کیا جائے گا۔ محض دوبارہ ساتھ رہنا نکاح کی تجدید نہیں۔

اگر جمہور کے قول کے مطابق تین طلاقیں نافذ ہوں تو رجعت یا نیا نکاح ممکن نہیں۔ اسی لیے شخصی مقدمے میں اختیار کردہ فقہی موقف اور مجاز قانونی فیصلے کی غیر معمولی اہمیت ہے۔

19۔ جمہور کے موقف کی علمی قوت
جمہور کا موقف صدیوں کے فقہی عمل، مذاہبِ اربعہ کے معتمد فتاویٰ، عہدِ فاروقی کے نفاذ اور متعدد صحابہ و تابعین کے آثار پر قائم ہے۔ اسے محض سختی، تقلید یا حدیث سے اعراض کہنا علمی انصاف کے خلاف ہے۔

جمہور نے حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو رد نہیں کیا، بلکہ اس کی مختلف تاویلات پیش کیں، اس کے دائرے کو مخصوص سمجھا یا بعد کے صحابہ کے عمل کی روشنی میں اس کی دلالت متعین کی۔ ان کے نزدیک خاندان اور شرعی الفاظ کے استقرار کے لیے شوہر کو اس کے صریح عددی اظہار کا پابند کرنا ضروری ہے۔

20۔ ایک طلاق کے موقف کی علمی قوت
ایک طلاق کا موقف صحیح مسلم کی صریح مرفوع زمانی نسبت، قرآنی تدریج اور عہدِ نبوی ﷺ کے ثابت شدہ عمل پر قائم ہے۔ اسے محض آسانی، جدید اصلاح یا خاندان بچانے کی خواہش کا نتیجہ کہنا بھی درست نہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور علامہ ابن القیم نے اسے نصوص، آثار، اصولِ شریعت اور طلاق کے قرآنی طریقے کی بنیاد پر اختیار کیا۔ متعدد معاصر سلفی اہلِ علم، جن میں شیخ عبدالعزیز بن باز بھی شامل ہیں، نے اسی کو راجح قرار دیا۔ شیخ ابن باز نے جمہور کے موقف کو باقاعدہ ذکر کرنے کے بعد حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بنا پر ایک طلاق کے قول پر فتویٰ دیا۔

21۔ مخالف موقف کی ناقص نمائندگی سے اجتناب
جمہور کے موقف کو یوں پیش کرنا کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کو رسول اللہ ﷺ کی سنت پر مقدم کرتے ہیں، درست نمائندگی نہیں۔ وہ نبوی سنت کی اپنی اصولی تعبیر، صحابہ کے تعامل اور الفاظ کے وضعی اثر کی بنیاد پر تین کے وقوع کے قائل ہیں۔

اسی طرح ایک طلاق کے موقف کو یہ کہہ کر رد کرنا کہ اس سے لوگ طلاق کے ساتھ کھیلیں گے، کافی علمی جواب نہیں۔ اس موقف کے قائل ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کو حرام، بدعت اور موجبِ توبہ قرار دیتے ہیں؛ وہ صرف زائد عدد کے قانونی اثر میں اختلاف کرتے ہیں۔

22۔ فتویٰ اور تعزیری پالیسی
ممکن ہے اصل دیانتی فتویٰ میں ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار ہوں، مگر ریاست یا قاضی طلاق کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف تعزیری سزا، مالی جرمانہ، لازمی مشاورت یا دوسرے انتظامی اقدامات مقرر کرے۔ اسے نکاح ختم کرنے کے شرعی حکم کے ساتھ خلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو تعزیری سیاست سمجھنے والے اہلِ علم اسی امکان سے استدلال کرتے ہیں کہ حاکم لوگوں کی اجتماعی مصلحت کے لیے مباح دائرے میں سخت انتظام نافذ کرسکتا ہے۔ تاہم عصرِ حاضر میں کسی فرد یا غیر مجاز مفتی کو ریاستی تعزیر کے نام پر ازخود نکاح ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

23۔ قضاء اور باطنی نیت
تین مرتبہ صریح طلاق کا اقرار کرنے والا شخص بعد میں کہے کہ اس کی نیت صرف ایک کی تاکید تھی، تو قاضی ظاہری الفاظ اور ثبوت کی بنا پر اس دعوے کو قبول یا رد کرسکتا ہے۔ دیانۃً وہ اپنی حقیقی نیت کا ذمہ دار ہے، لیکن قضائی نظم صرف غیر ثابت باطنی دعوے پر قائم نہیں ہوسکتا۔

اگر ایک مجلس کی تین کو اصولاً ایک شمار کرنے والا قانونی یا قضائی نظام ہو تو مستقل تین کی نیت بھی اس نظام کے مطابق ایک کے حکم میں آسکتی ہے۔ اس لیے فتویٰ، قضاء اور ملکی قانون کے دائرے الگ واضح کیے جائیں۔

24۔ برصغیر کا عملی تناظر
برصغیر میں حنفی فقہ کے غالب قانونی و افتائی اثر کی وجہ سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو عموماً تین شمار کیا جاتا رہا ہے۔ اہلِ حدیث علماء کی ایک نمایاں جماعت نے حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما، ابن تیمیہ اور ابن القیم کی تحقیق کی بنا پر ایک طلاق کا موقف اختیار کیا۔

اس اختلاف کے باعث خاندان کبھی مختلف مدارسِ فکر کے مفتیان سے متعارض جوابات حاصل کرتے ہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ مکمل واقعہ، سابقہ طلاقیں، اصل الفاظ، تاریخیں اور دستاویزات ایک ذمہ دار علمی فورم کے سامنے پیش کی جائیں۔ محض مطلوب جواب حاصل کرنے کے لیے معلومات بدل کر متعدد فتاویٰ لینا جائز نہیں۔

25۔ فتویٰ شاپنگ کا مسئلہ
اگر کسی شخص کو پہلے مکمل معلومات کی بنیاد پر معتبر فتویٰ مل چکا ہو تو وہ اس حقیقت کو چھپا کر دوسرے مفتی سے نیا جواب حاصل نہ کرے۔ البتہ اگر پہلا فتویٰ نامکمل معلومات، غیر ثابت نسبت، واضح علمی غلطی یا ایسے موقف پر قائم ہو جس کے برخلاف معتبر اور قوی قول موجود ہو تو علمی نظرِ ثانی ممکن ہے۔

ایک طلاق کے قول پر عمل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص ازدواجی رشتہ بچانے کے لیے یہی قول تلاش کرے۔ اسی طرح جمہور کے قول پر اصرار کرکے ایسے نکاح کو ختم کرنا بھی احتیاط نہیں جس میں معتبر قاضی یا اہلِ علم نے صحیح تحقیق کے بعد ایک طلاق کا حکم دیا ہو۔

26۔ شخصی فتوے کے لیے ضروری معلومات
ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مقدمے میں درج ذیل امور معلوم کیے جائیں:

  1. شوہر کے بعینہٖ الفاظ کیا تھے؟
  2. کیا لفظِ ’’تین‘‘ صراحت سے استعمال ہوا؟
  3. طلاق کا لفظ کتنی مرتبہ کہا گیا؟
  4. الفاظ ایک ہی مسلسل گفتگو میں تھے یا الگ مجالس میں؟
  5. تکرار سے مستقل طلاقیں مراد تھیں یا پہلی کی تاکید؟
  6. عبارت زبانی، تحریری، صوتی یا برقی تھی؟
  7. نسبت شوہر کی طرف یقینی ہے یا متنازع؟
  8. شوہر کی ذہنی اور شعوری حالت کیا تھی؟
  9. کوئی معتبر اکراہ موجود تھا؟
  10. اس سے پہلے کتنی ثابت شدہ طلاقیں واقع ہوچکی تھیں؟
  11. سابقہ طلاقوں کے بعد رجعت یا نکاحِ جدید ہوا؟
  12. موجودہ طلاق منجز تھی یا کسی شرط سے معلق؟
  13. بیوی مدخول بہا تھی یا غیر مدخول بہا؟
  14. طلاق کے وقت نکاح قائم تھا؟
  15. قانونی اطلاع، عدالتی فیصلہ یا سابق فتویٰ موجود ہے؟
  16. فریقین کے بیانات میں اتفاق ہے یا اختلاف؟
ان سوالات کے بغیر محض ’’اس نے تین طلاقیں دیں‘‘ سن کر حتمی فتویٰ صادر نہیں کیا جاسکتا۔

27۔ دلائل کا ابتدائی تنقیدی جائزہ
صحیح مسلم کی حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک طلاق کے موقف کی نہایت قوی اور صریح دلیل ہے۔ روایت میں عہدِ نبوی ﷺ، عہدِ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی حصے کی واضح زمانی تعیین موجود ہے۔ اسے محض لغوی احتمال سے غیر مؤثر بنانا آسان نہیں۔

دوسری طرف عہدِ فاروقی سے جمہور کا مسلسل فقہی عمل، متعدد صحابہ کے فتاویٰ اور مذاہبِ اربعہ کی تعبیر بھی سنجیدہ علمی وزن رکھتی ہے۔ حدیث کی دلالت کو ان آثار سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

ابتدائی ترجیح یہ ہے کہ ایک مجلس یا ایک مربوط انشاء میں دی گئی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق شمار ہوں، کیونکہ عہدِ نبوی ﷺ سے منقول صریح صحیح روایت اصل شرعی حکم کے اثبات میں مقدم ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اقدام لوگوں کی بدعملی پر تعزیری و انتظامی نفاذ سمجھا جائے گا، نہ کہ نبوی حکم کی تنسیخ۔ تاہم یہ ترجیح جمہور کے موقف کو غیر معتبر نہیں بناتی اور نہ کسی شخص کو خود فیصلہ کرکے ازدواجی تعلق جاری رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔

28۔ ترجیح کی حدود
ایک طلاق کی ترجیح صرف اس صورت میں ہے جب تین طلاقیں واقعی ایک ہی مجلس یا ایک ہی مربوط اقدام میں دی گئی ہوں۔ درج ذیل صورتیں اس ترجیح سے لازماً مستفید نہیں ہوں گی:

تین الگ مواقع کی طلاقیں؛ پہلے سے موجود دو طلاقوں کے بعد موجودہ طلاق؛ ایک مجلس ثابت نہ ہونا؛ رجعت کے بعد مستقل نئی طلاق؛ یا ایسا قانونی و قضائی فیصلہ جس کی پابندی متعلقہ دائرے میں لازم ہو۔

اسی طرح اگر اصل واقعہ خلع، تفویض، قضائی فسخ، طلاقِ معلق یا سابقہ طلاق کے اقرار سے متعلق ہو تو پہلے اس کی فقہی نوعیت متعین کی جائے گی۔

29۔ عملی اور اصلاحی رہنمائی
شوہر کو ایک ساتھ متعدد طلاقیں دینے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر جدائی ناگزیر ہو تو سنت کے مطابق ایک طلاق دی جائے، عدت کا وقت باقی رکھا جائے اور مزید طلاقی الفاظ نہ دہرائے جائیں۔

اگر تین طلاقوں کا واقعہ پیش آچکا ہو تو فریقین فوراً اصل الفاظ تحریر کریں، سابقہ طلاقوں کی تاریخیں جمع کریں، صوتی یا تحریری ثبوت محفوظ رکھیں اور کسی معتبر دارالافتاء یا مجاز قاضی سے رجوع کریں۔

خاندان نہ فوری حلالہ کا انتظام کرے، نہ عورت کو زبردستی شوہر کے پاس بھیجے، اور نہ مختلف فتاویٰ میں سے محض خواہش کے مطابق جواب منتخب کرے۔

مفتی جمہور اور دوسرے معتبر موقف دونوں کو واضح کرے، اختیار کردہ ترجیح کی دلیل بیان کرے اور عدت، رجعت، نکاحِ جدید اور قانونی اطلاع کے عملی تقاضے بھی سمجھائے۔

منتخب فقہی قواعد
الجمع بين الطلقات مخالف للطريقة المشروعة: متعدد طلاقیں ایک ساتھ جمع کرنا مشروع طریقے کے خلاف ہے۔

الحكم التكليفي لا يساوي دائمًا الحكم الوضعي: کسی فعل کا حرام ہونا اور اس کا شرعی اثر واقع ہونا دو الگ سوال ہوسکتے ہیں۔

طلاق الثلاث في مجلس واحد غير الطلقات الثلاث في مجالس متفرقة: ایک مجلس کی تین طلاقیں، تین الگ مواقع کی طلاقوں کے برابر مسئلہ نہیں۔

العبرة بوحدة الإنشاء لا بمجرد وحدة المكان: مجلس کا اعتبار محض مقام سے نہیں بلکہ طلاقی اقدام اور کلام کے تسلسل سے ہوگا۔

تكرار اللفظ يحتمل التأسيس والتأكيد: لفظ کی تکرار نئی طلاق یا پہلی کی تاکید، دونوں کا احتمال رکھ سکتی ہے۔

حكم الحاكم الاجتهادي لا ينسخ النص الشرعي: حاکم کا انتظامی اجتہاد شرعی نص کو منسوخ نہیں کرتا، اگرچہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں تعزیری نفاذ کرسکتا ہے۔

الفتوى في الطلاق الثلاث لا تستقل عن معرفة السوابق: سابقہ طلاقیں معلوم کیے بغیر موجودہ تین طلاقوں کا مکمل حکم نہیں دیا جاسکتا۔

خلاصۂ باب
ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا سنت کے مطابق طلاق کا طریقہ نہیں۔ جمہور فقہاء کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہوکر بینونتِ کبریٰ پیدا کرتی ہیں، جب کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ ابن القیم، بعض سلف اور متعدد معاصر سلفی اہلِ علم کے نزدیک ایک ہی مجلس یا ایک مربوط انشاء کی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق شمار ہوتی ہیں۔

جمہور کا موقف عہدِ فاروقی کے نفاذ، متعدد آثارِ صحابہ اور مذاہبِ اربعہ کے مستقر فقہی عمل پر قائم ہے۔ دوسرے موقف کی بنیادی دلیل صحیح مسلم کی حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے، جس میں عہدِ نبوی ﷺ، عہدِ صدیقی اور خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانے میں تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کی تصریح ہے۔

دلائل کے ابتدائی تقابل سے ایک طلاق کا موقف زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے، جب واقعہ حقیقتاً ایک مجلس اور ایک مربوط طلاقی اقدام کا ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ لوگوں کی جلد بازی کے مقابلے میں تعزیری و انتظامی نفاذ پر محمول کیا جائے گا۔ تاہم شخصی مقدمے میں اصل الفاظ، مجالس، سابقہ طلاقوں، رجعت، نکاحِ جدید، ذہنی حالت، شرط اور ثبوت کی تحقیق کے بغیر اس ترجیح کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔

منتخب مصادر و مراجع
القرآن الكريم، سورۃ البقرۃ اور سورۃ الطلاق۔

مسلم بن الحجاج، الصحيح، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث۔

أبو داود، سليمان بن الأشعث، السنن، کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث۔

الترمذي، محمد بن عيسى، الجامع، ابواب الطلاق واللعان۔

النسائي، أحمد بن شعيب، السنن الكبرى، کتاب الطلاق۔

أحمد بن حنبل، المسند، مسند عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما۔

عبد الرزاق الصنعاني، المصنف، کتاب الطلاق۔

ابن أبي شيبة، المصنف، کتاب الطلاق۔

البيهقي، أحمد بن الحسين، السنن الكبرى، کتاب الخلع والطلاق۔

الطحاوي، أحمد بن محمد، شرح معاني الآثار، کتاب الطلاق۔

الجصاص، أحمد بن علي، أحكام القرآن، تفسیر آیاتِ طلاق۔

ابن عبد البر، يوسف بن عبد الله، الاستذكار اور التمهيد، ابواب الطلاق۔

ابن رشد، محمد بن أحمد، بداية المجتهد ونهاية المقتصد، مسئلۂ طلاقِ ثلاثہ۔

ابن قدامة، موفق الدين، المغني، مسئلۂ جمع الطلاق الثلاث۔

النووي، يحيى بن شرف، شرح صحيح مسلم، باب طلاق الثلاث۔

ابن تيمية، أحمد بن عبد الحليم، مجموع الفتاوى، الفتاوى الكبرى اور جامع المسائل۔

ابن القيم، محمد بن أبي بكر، إعلام الموقعين، زاد المعاد اور إغاثة اللهفان۔

عبد العزيز بن باز، مجموع فتاوى ومقالات متنوعة، فتاویٰ طلاقِ ثلاثہ۔
 
Top