ساجد کمبوہ
رکن
- شمولیت
- اگست 13، 2011
- پیغامات
- 132
- ری ایکشن اسکور
- 172
- پوائنٹ
- 82
بابُ الآنية
برتنوں کے احکام: تمہید
پانی کی طہارت، مقدار اور استعمال سے متعلق بنیادی مباحث کے بعد اب ان برتنوں کے احکام آتے ہیں جن میں پانی، غذا اور دیگر استعمال کی چیزیں رکھی جاتی ہیں۔ شریعت کا اصل منہج یہ ہے کہ برتن فی نفسہٖ پاک اور قابلِ استعمال ہیں، الا یہ کہ کسی معتبر دلیل سے ان کی نجاست، حرمتِ استعمال یا کسی خاص صورت میں تطہیر کا حکم ثابت ہو۔ اسی باب میں کتے کے جھوٹے، غیر مسلموں کے برتن، سونے چاندی کے ظروف اور بعض دوسرے متعلقہ مسائل زیرِ بحث آتے ہیں۔
حدیث: کتے کے جھوٹے برتن کی تطہیر
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «طَهُورُ إناءِ أحدِكم إذا وَلَغَ فيه الكلبُ أن يغسِلَه سبعَ مراتٍ، أُولاهنَّ بالتراب». أخرجه مسلم. وفي روايةٍ له: «فَلْيُرِقْهُ». وللترمذي: «أُولاهنَّ أو أُخراهُنَّ بالتراب».
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی، جب کتا اس میں منہ ڈال دے، یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے؛ ان میں پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ ہو۔” اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے: “تو اس میں موجود چیز کو بہا دے۔” اور ترمذی کی روایت میں ہے: “مٹی کے ساتھ پہلا یا آخری دھونا ہو۔”
تخریج اور درجۂ حدیث
یہ حدیث صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور اس کا اصل مفہوم صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح اور قابلِ حجت ہے۔ محدثین نے اس کے مختلف الفاظ کو جمع کر کے واضح کیا ہے کہ برتن کو سات مرتبہ دھونا اصل حکم ہے، جبکہ مٹی کے استعمال کی تعیین صحیح مسلم کے الفاظ سے ثابت ہے۔
امام مسلم کی روایت میں موجود «فليُرِقْه» کا تعلق اس مائع سے ہے جس میں کتے نے منہ ڈالا ہو۔ جمہور اہلِ علم کے نزدیک اگر وہ مائع پانی یا کوئی ایسی چیز ہو جس کی تطہیر ممکن نہ ہو تو اسے بہا دیا جائے؛ کیونکہ برتن دھل سکتا ہے مگر اس مائع کو سات مرتبہ دھونا ممکن نہیں۔
لغوی تحقیق
ولوغ کے معنی ہیں کتے کا زبان سے پانی یا کسی مائع کو پینا، یا اس میں زبان ڈالنا۔ فقہی حکم صرف پینے تک محدود نہیں؛ کتے کا منہ، زبان یا لعاب برتن میں پہنچ جانے کی صورت بھی اسی کے حکم میں شامل ہے۔
طَهور یہاں اس عمل یا ذریعۂ تطہیر کے معنی میں ہے، یعنی برتن کی شرعی پاکی کا طریقہ۔
إناء ہر اس برتن کو کہتے ہیں جس میں پانی، کھانا یا کوئی مائع رکھا جائے۔
التراب سے مراد حقیقی مٹی ہے؛ اس لیے اصل سنت یہی ہے کہ سات دھلائیوں میں ایک مرتبہ مٹی استعمال کی جائے۔
فقہ الحدیث
حدیث سے دو بنیادی احکام ثابت ہوتے ہیں:
مذاہبِ فقہیہ اور اقوالِ اہلِ علم
جمہور شافعیہ، حنابلہ اور اہلِ حدیث کے نزدیک کتے کا لعاب نجس ہے، اور جس برتن میں وہ منہ ڈال دے اسے سات بار دھونا واجب ہے، جن میں ایک بار مٹی کے ساتھ ہو۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے مذہب میں یہ حکم حدیث کے ظاہر کے مطابق ہے۔
مالکیہ کے ہاں کتا فی نفسہٖ پاک سمجھا جاتا ہے، تاہم ولوغ والے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم تعبّدی اور سنتِ مؤکدہ کے طور پر معتبر ہے۔ ان کے نزدیک اس حکم کو لازماً نجاستِ عین پر محمول کرنا ضروری نہیں۔
فقہِ حنفی میں کتے کا لعاب نجس ہے، لیکن برتن کی تطہیر کے لیے سات مرتبہ دھونے کو واجب قرار دینے کے بجائے نجاست کے زوال کو اصل قرار دیا گیا ہے؛ البتہ احتیاط اور سنت کی تکمیل کے لیے سات مرتبہ دھونا بہتر ہے۔ احناف نے بعض دیگر روایات اور نجاست دور ہونے کے عمومی اصول کو اس موقف کی بنیاد بنایا ہے۔
دلائل کا محاکمہ اور راجح موقف
صحیح مسلم کی صریح روایت میں «أن يغسله سبع مرات أولاهن بالتراب» آیا ہے۔ یہ ایک خاص واقعے میں وارد، واضح اور عدد کے ساتھ مقید حکم ہے؛ اس لیے اسے محض عمومی قاعدۂ ازالۂ نجاست پر محمول کر کے عدد کو ساقط کرنا محلِ نظر ہے۔ صحیح تر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ کتے کے ولوغ والے برتن کو سات مرتبہ دھونا لازم ہے اور ان میں ایک بار مٹی استعمال کی جائے۔
مٹی پہلی، آخری یا درمیان کی کسی دھلائی میں استعمال ہو سکتی ہے، اگرچہ صحیح مسلم کے ظاہر کی رعایت کرتے ہوئے پہلی دھلائی میں مٹی کا استعمال افضل اور زیادہ موافقِ سنت ہے۔ صابن یا جدید جراثیم کش مادّے مٹی کے اضافی معاون ہو سکتے ہیں، مگر بلا ضرورت مٹی کے قائم مقام قرار دینا محتاط موقف نہیں؛ کیونکہ حدیث میں مٹی کی صراحت موجود ہے۔
اصولی اور فقہی فوائد
اس حدیث سے یہ اصول سامنے آتے ہیں کہ نص میں وارد مخصوص عدد اور کیفیت کی رعایت کی جائے؛ خاص حکم عام اصول پر مقدم ہوتا ہے؛ اور عبادات و تطہیر کے بعض احکام میں تعبد کا پہلو مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ نیز شریعت طہارت کو صرف ظاہری گندگی دور کرنے تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ بندے کو اطاعت، احتیاط اور پاکیزہ معاشرت کی تربیت بھی دیتی ہے۔
مقاصد و حکمت
کتے کے ولوغ سے متعلق یہ خاص حکم انسانی خوراک، پانی اور برتنوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ شریعت نے یہاں صحت، صفائی اور عمومی احتیاط کو ایک عملی ضابطے میں جمع کر دیا ہے۔ جدید طبی معلومات لعاب کے ذریعے بعض جراثیم کی منتقلی کے امکان کو واضح کرتی ہیں، لیکن حکم کی اصل بنیاد رسول اللہ ﷺ کی ثابت سنت ہے؛ طبی حکمت اس کی تائید اور فہم میں مددگار ہو سکتی ہے، علتِ مستقلہ نہیں۔
خلاصۂ تحقیق اور راجح موقف
کتے کے منہ ڈالے ہوئے برتن کو سات مرتبہ دھونا لازم ہے اور ان میں ایک مرتبہ مٹی استعمال کی جائے۔ مٹی کو پہلی دھلائی میں شامل کرنا سنت کے زیادہ قریب ہے۔ برتن میں موجود پانی یا مائع کو، اگر وہ کتے کے لعاب سے متاثر ہو گیا ہو، بہا دیا جائے۔ یہ حکم کتے کے ولوغ کے ساتھ مخصوص ہے؛ اسے بلا دلیل دیگر جانوروں پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔
برتنوں کے احکام: تمہید
پانی کی طہارت، مقدار اور استعمال سے متعلق بنیادی مباحث کے بعد اب ان برتنوں کے احکام آتے ہیں جن میں پانی، غذا اور دیگر استعمال کی چیزیں رکھی جاتی ہیں۔ شریعت کا اصل منہج یہ ہے کہ برتن فی نفسہٖ پاک اور قابلِ استعمال ہیں، الا یہ کہ کسی معتبر دلیل سے ان کی نجاست، حرمتِ استعمال یا کسی خاص صورت میں تطہیر کا حکم ثابت ہو۔ اسی باب میں کتے کے جھوٹے، غیر مسلموں کے برتن، سونے چاندی کے ظروف اور بعض دوسرے متعلقہ مسائل زیرِ بحث آتے ہیں۔
حدیث: کتے کے جھوٹے برتن کی تطہیر
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «طَهُورُ إناءِ أحدِكم إذا وَلَغَ فيه الكلبُ أن يغسِلَه سبعَ مراتٍ، أُولاهنَّ بالتراب». أخرجه مسلم. وفي روايةٍ له: «فَلْيُرِقْهُ». وللترمذي: «أُولاهنَّ أو أُخراهُنَّ بالتراب».
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی، جب کتا اس میں منہ ڈال دے، یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے؛ ان میں پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ ہو۔” اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے: “تو اس میں موجود چیز کو بہا دے۔” اور ترمذی کی روایت میں ہے: “مٹی کے ساتھ پہلا یا آخری دھونا ہو۔”
تخریج اور درجۂ حدیث
یہ حدیث صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور اس کا اصل مفہوم صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح اور قابلِ حجت ہے۔ محدثین نے اس کے مختلف الفاظ کو جمع کر کے واضح کیا ہے کہ برتن کو سات مرتبہ دھونا اصل حکم ہے، جبکہ مٹی کے استعمال کی تعیین صحیح مسلم کے الفاظ سے ثابت ہے۔
امام مسلم کی روایت میں موجود «فليُرِقْه» کا تعلق اس مائع سے ہے جس میں کتے نے منہ ڈالا ہو۔ جمہور اہلِ علم کے نزدیک اگر وہ مائع پانی یا کوئی ایسی چیز ہو جس کی تطہیر ممکن نہ ہو تو اسے بہا دیا جائے؛ کیونکہ برتن دھل سکتا ہے مگر اس مائع کو سات مرتبہ دھونا ممکن نہیں۔
لغوی تحقیق
ولوغ کے معنی ہیں کتے کا زبان سے پانی یا کسی مائع کو پینا، یا اس میں زبان ڈالنا۔ فقہی حکم صرف پینے تک محدود نہیں؛ کتے کا منہ، زبان یا لعاب برتن میں پہنچ جانے کی صورت بھی اسی کے حکم میں شامل ہے۔
طَهور یہاں اس عمل یا ذریعۂ تطہیر کے معنی میں ہے، یعنی برتن کی شرعی پاکی کا طریقہ۔
إناء ہر اس برتن کو کہتے ہیں جس میں پانی، کھانا یا کوئی مائع رکھا جائے۔
التراب سے مراد حقیقی مٹی ہے؛ اس لیے اصل سنت یہی ہے کہ سات دھلائیوں میں ایک مرتبہ مٹی استعمال کی جائے۔
فقہ الحدیث
حدیث سے دو بنیادی احکام ثابت ہوتے ہیں:
- کتے کے لعاب سے آلودہ برتن کی خاص تطہیر ضروری ہے۔
- اس تطہیر کے لیے سات مرتبہ دھونا اور ایک مرتبہ مٹی استعمال کرنا سنتِ ثابتہ ہے۔
مذاہبِ فقہیہ اور اقوالِ اہلِ علم
جمہور شافعیہ، حنابلہ اور اہلِ حدیث کے نزدیک کتے کا لعاب نجس ہے، اور جس برتن میں وہ منہ ڈال دے اسے سات بار دھونا واجب ہے، جن میں ایک بار مٹی کے ساتھ ہو۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے مذہب میں یہ حکم حدیث کے ظاہر کے مطابق ہے۔
مالکیہ کے ہاں کتا فی نفسہٖ پاک سمجھا جاتا ہے، تاہم ولوغ والے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم تعبّدی اور سنتِ مؤکدہ کے طور پر معتبر ہے۔ ان کے نزدیک اس حکم کو لازماً نجاستِ عین پر محمول کرنا ضروری نہیں۔
فقہِ حنفی میں کتے کا لعاب نجس ہے، لیکن برتن کی تطہیر کے لیے سات مرتبہ دھونے کو واجب قرار دینے کے بجائے نجاست کے زوال کو اصل قرار دیا گیا ہے؛ البتہ احتیاط اور سنت کی تکمیل کے لیے سات مرتبہ دھونا بہتر ہے۔ احناف نے بعض دیگر روایات اور نجاست دور ہونے کے عمومی اصول کو اس موقف کی بنیاد بنایا ہے۔
دلائل کا محاکمہ اور راجح موقف
صحیح مسلم کی صریح روایت میں «أن يغسله سبع مرات أولاهن بالتراب» آیا ہے۔ یہ ایک خاص واقعے میں وارد، واضح اور عدد کے ساتھ مقید حکم ہے؛ اس لیے اسے محض عمومی قاعدۂ ازالۂ نجاست پر محمول کر کے عدد کو ساقط کرنا محلِ نظر ہے۔ صحیح تر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ کتے کے ولوغ والے برتن کو سات مرتبہ دھونا لازم ہے اور ان میں ایک بار مٹی استعمال کی جائے۔
مٹی پہلی، آخری یا درمیان کی کسی دھلائی میں استعمال ہو سکتی ہے، اگرچہ صحیح مسلم کے ظاہر کی رعایت کرتے ہوئے پہلی دھلائی میں مٹی کا استعمال افضل اور زیادہ موافقِ سنت ہے۔ صابن یا جدید جراثیم کش مادّے مٹی کے اضافی معاون ہو سکتے ہیں، مگر بلا ضرورت مٹی کے قائم مقام قرار دینا محتاط موقف نہیں؛ کیونکہ حدیث میں مٹی کی صراحت موجود ہے۔
اصولی اور فقہی فوائد
اس حدیث سے یہ اصول سامنے آتے ہیں کہ نص میں وارد مخصوص عدد اور کیفیت کی رعایت کی جائے؛ خاص حکم عام اصول پر مقدم ہوتا ہے؛ اور عبادات و تطہیر کے بعض احکام میں تعبد کا پہلو مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ نیز شریعت طہارت کو صرف ظاہری گندگی دور کرنے تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ بندے کو اطاعت، احتیاط اور پاکیزہ معاشرت کی تربیت بھی دیتی ہے۔
مقاصد و حکمت
کتے کے ولوغ سے متعلق یہ خاص حکم انسانی خوراک، پانی اور برتنوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ شریعت نے یہاں صحت، صفائی اور عمومی احتیاط کو ایک عملی ضابطے میں جمع کر دیا ہے۔ جدید طبی معلومات لعاب کے ذریعے بعض جراثیم کی منتقلی کے امکان کو واضح کرتی ہیں، لیکن حکم کی اصل بنیاد رسول اللہ ﷺ کی ثابت سنت ہے؛ طبی حکمت اس کی تائید اور فہم میں مددگار ہو سکتی ہے، علتِ مستقلہ نہیں۔
خلاصۂ تحقیق اور راجح موقف
کتے کے منہ ڈالے ہوئے برتن کو سات مرتبہ دھونا لازم ہے اور ان میں ایک مرتبہ مٹی استعمال کی جائے۔ مٹی کو پہلی دھلائی میں شامل کرنا سنت کے زیادہ قریب ہے۔ برتن میں موجود پانی یا مائع کو، اگر وہ کتے کے لعاب سے متاثر ہو گیا ہو، بہا دیا جائے۔ یہ حکم کتے کے ولوغ کے ساتھ مخصوص ہے؛ اسے بلا دلیل دیگر جانوروں پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔