ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 895
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
تحاکم إلى الطاغوت کی حقیقت اور اس کے شرعی احکام شیخ صالح الفوزان کے کلام کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ الذی جعل الحکم له وحده، والصلاة والسلام علی من أرسله بالحکم بما أنزل اللہ، وعلی آله وصحبه أجمعین۔ أما بعد!
آج کے دور میں سب سے بڑا فتنہ اور سب سے سخت ظلم وہ ہے جو ان طاغوتی حکمرانوں نے کیا ہے جنہوں نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کو مکمل طور پر معطل کر کے انسانی وضعی قوانین کو اس کی جگہ نافذ کر دیا، اللہ کے حق تشریع میں شرکت کی، اور اس کی شریعت کو پس پشت ڈال کر طاغوتی نظام قائم کر دیا۔
جو حکمران اللہ کی نازل کردہ شریعت کو معطل کر کے وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں وہ طاغوت ہیں، ان کا نظام طاغوتی ہے، ان کی عدالتیں طاغوتی ہیں، اور جو ان کی طرف رضا و رغبت سے فیصلہ لے جاتا ہے وہ تحاکم إلی الطاغوت کا مرتکب ہے جو شرک اکبر اور کفر بواح ہے۔
شیخ صالح الفوزان نے اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا: «لَا يَجْتَمِعُ الإِيمَانُ مَعَ التَّحَاكُمِ إِلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ» ایمان اس کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ کسی اور کی جانب فیصلہ لے جایا جائے۔
یعنی ایمان اور غیر اللہ کے قوانین کی طرف رجوع ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ جو شخص دعویٰ ایمان کرتا ہے پھر وضعی قوانین کی طرف جاتا ہے، اس کا دعویٰ محض زعم اور جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی، مگر وہ چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ طاغوت کے پاس لے جائیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کا انکار کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بہت دور کی گمراہی میں ڈال دے۔
اللہ نے ان کے ایمان کو «زعم» قرار دیا اور بتایا کہ وہ طاغوت کی طرف جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں طاغوت کا کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ آج کے حکمران جو شریعت کو منسوخ کر کے وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں وہ طاغوت ہیں، اور جو ان کی طرف رجوع کرتا ہے وہ کفر بالطاغوت کے فرض کو ترک کر تحاکم الی الطاغوت کا ارتکاب کر رہا ہے۔
شیخ صالح الفوزان نے اسی مقام پر مزید قرآن کی آیت پیش کی:
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ پس نہیں! آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلے کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح تسلیم نہ کر لیں۔
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے اپنے رب ہونے کی قسم اٹھا کر ایمان کی نفی کر دی اس سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو تسلیم نہ کرے اور اس پر کامل رضا نہ رکھے۔ آج کے وہ لوگ جو وضعی قوانین پر مطمئن ہیں اور شریعت سے تنگ ہیں، وہ اس آیت کی زد میں ہیں۔
شیخ صالح الفوزان نے صراحت کرتے ہوئے فرمایا:
«فَنَفَى سُبْحَانَهُ - نَفْيًا مُؤَكَّدًا بِالقَسَمِ - الإِيمَانَ عَمَّنْ لَمْ يَتَحَاكَمْ إِلَى الرَّسُولِ وَيَرْضَ بِحُكْمِهِ وَيُسَلِّمْ لَهُ» یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قسم کے ساتھ مؤکد انداز میں اس شخص سے ایمان کی نفی فرمائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تحاکم نہ کرے اور ان کے حکم پر راضی نہ ہو۔
پھر شیخ صالح الفوزان نے حکمرانوں کے بارے میں فرمایا:
«كَمَا أَنَّهُ حَكَمَ بِكُفْرِ الوُلَاةِ؛ الَّذِينَ لَا يَحْكُمُونَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ، وَبِظُلْمِهِمْ وَفِسْقِهِمْ» یعنی اللہ تعالیٰ نے ان ولاۃ و حکمرانوں کے کفر کا حکم لگایا جو اللہ تعالٰی کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، اور ساتھ ہی ان کے ظلم اور فسق کا بھی ذکر فرمایا۔
اس کے بعد شیخ آگے سورة المائدة کی تین آیات نقل فرماتے ہیں:
﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ اور جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں۔ ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ اور جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔ ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ اور جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی فاسق ہیں۔
[عقيدة التوحيد وبيان ما يضادها أو ينقصها من الشرك الأكبر أو الأصغر والتعطيل والبدع وغير ذلك، ص : ١٢٠-١٢١]
ان نصوص سے واضح ہے کہ جو حکمران شریعت کو چھوڑ کر وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں۔ آج کے بیشتر حکمران شریعت کو کلی طور پر معطل کر کے انسانی قوانین کو دستور بنائے ہوئے ہیں۔ یہ تمام حکمران طاغوت ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے حق تشریع میں شرکت کی، ان کا حکم طاغوتی ہے، اور جو ان کی طرف فیصلہ لے جاتا ہے وہ تحاکم الی الطاغوت کا مرتکب ہے جو کہ شرک اکبر ہے۔
پس شیخ صالح الفوزان کے اس بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ایمان اور تحاکم الی الطاغوت ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو حکمران اللہ کی نازل کردہ شریعت کو معطل کر کے وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں ان پر کفر کا حکم لگایا جائے گا اور ان طاغوتی حکمرانوں کے وضعی قوانین کو ماننا، ان کی عدالتوں میں جانا، اور ان کے فیصلوں کو قبول کرنا، سب تحاکم الی الطاغوت ہے۔ جو شخص ان قوانین کو جائز سمجھے، یا ان کی طرف جائے، یا ان پر مطمئن ہو وہ کافر ہے۔
اے مسلمانوں! ان طاغوتی نظاموں سے بیزاری اختیار کرو، ان کی عدالتوں سے دور رہو، اور اللہ کے حکم کی طرف لوٹو۔ جو شخص ان وضعی قوانین کو شریعت کے برابر یا بہتر سمجھے، یا ان کے نفاذ پر راضی ہو، اس کا ایمان محض زعم ہے، حقیقت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے، طاغوت سے کفر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور شریعت کے نفاذ کی راہ ہموار کرے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمين، وصلى اللہ وسلم وبارک على نبينا محمد، وعلى آلہ وصحبہ أجمعين۔