- شمولیت
- ستمبر 15، 2026
- پیغامات
- 4
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 2
جدائی بھی اللہ کا بہترین فیصلہ ہوتی ہے
تحریر: الامام محدث جبیر بن محمد حسین الحصاروی
26 جون 2026 ٹائم 10:42 Am
تمہید
انسان کی زندگی میں کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان کبھی قبول نہیں کرنا چاہتا۔
وہ چاہتا ہے کہ یہ تعلق قائم رہے، یہ جگہ نہ چھوٹے، یہ لوگ جدا نہ ہوں، یہ ماحول تبدیل نہ ہو، یہ راستہ ختم نہ ہو۔ انسان اپنے موجودہ تعلقات اور موجودہ حالات کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اگر یہ چیز مجھ سے جدا ہوگئی تو شاید میری زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوجائے گا۔
لیکن زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔
کبھی انسان کسی ادارے سے جدا ہوجاتا ہے، کبھی کسی استاد سے، کبھی دوستوں سے، کبھی اپنے ساتھیوں سے، کبھی کسی شہر سے اور کبھی کسی ایسے ماحول سے جسے وہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھ چکا ہوتا ہے۔
پھر انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اور سوچتا ہے:
کاش یہ جدائی نہ ہوتی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ جدائی غلط فیصلہ تھا؟
نہیں۔
کیونکہ انسان موجودہ لمحہ دیکھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ انجام کو بھی جانتا ہے۔
اسی لیے قرآن مجید ہمیں یہ بنیادی حقیقت سمجھاتا ہے:
«وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
’’اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘
(البقرۃ: 216)»
یہ آیت انسانی زندگی کے ایک بہت بڑے اصول کو بیان کرتی ہے:
انسان کا پسند کرنا کسی چیز کے واقعی بہتر ہونے کی ضمانت نہیں اور انسان کا ناپسند کرنا کسی چیز کے واقعی بدتر ہونے کی دلیل نہیں۔
---
جدائی کیوں تکلیف دیتی ہے؟
جدائی صرف جسمانی فاصلے کا نام نہیں۔
جدائی دراصل یادوں، عادتوں، تعلقات اور جذبات سے وابستہ ہوتی ہے۔
انسان جس ماحول میں طویل عرصہ رہتا ہے وہاں اس کی یادیں بن جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اس کے لیے صرف لوگ نہیں رہتے بلکہ اس کی زندگی کے ایک حصے کی علامت بن جاتے ہیں۔
اسی لیے جب انسان وہاں سے جدا ہوتا ہے تو اسے صرف جگہ نہیں چھوٹتی بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی زندگی کا ایک حصہ اس سے چھین لیا گیا ہو۔
وہ پرانے دن یاد کرتا ہے۔
پرانے راستے یاد کرتا ہے۔
پرانے ساتھی یاد کرتا ہے۔
پرانے اساتذہ یاد کرتا ہے۔
وہ مجلسیں یاد کرتا ہے جن میں بیٹھ کر وقت گزرا تھا۔
اور پھر دل کہتا ہے:
ہم یہاں سے کیوں گئے؟
لیکن زندگی کا ہر سوال فوراً جواب نہیں دیتا۔
کچھ سوالوں کا جواب وقت دیتا ہے۔
---
قرآن مجید ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
قرآن مجید انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ ہر تکلیف کو پسند کرو۔
بلکہ قرآن یہ سکھاتا ہے کہ انسان اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ
’’ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔‘‘
(البقرۃ: 216)»
یہاں اصل مسئلہ انسانی علم کی محدودیت ہے۔
انسان صرف آج دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کل، آج اور آنے والے تمام نتائج کو جانتا ہے۔
انسان سبب دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سبب کے نتیجے کو بھی جانتا ہے۔
انسان ایک دروازہ بند ہوتا دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ شاید اسی بند دروازے کے بعد کوئی دوسرا دروازہ کھلنے والا ہو۔
---
ہر جدائی کو فوراً ’’بہتری‘‘ کہنا درست نہیں
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا کے ہر نقصان، ہر ظلم اور ہر تکلیف کو دیکھ کر فوراً یہ اعلان کردے کہ:
یہ میرے لیے بہترین چیز تھی۔
ایسا کہنا درست نہیں۔
اگر کسی انسان پر ظلم ہوا ہے تو ظلم ظلم ہی ہے۔
اگر کسی کا حق مارا گیا ہے تو اس کا حق مارنا درست نہیں ہوجاتا۔
اگر کسی نے زیادتی کی ہے تو صرف یہ کہہ دینا کہ ’’یہ اللہ کا فیصلہ تھا‘‘ ظالم کو بری نہیں کردیتا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار بھی دیا ہے اور ذمہ داری بھی۔
اس لیے تقدیر پر ایمان کا مطلب ظلم کو جائز سمجھنا نہیں۔
بلکہ صحیح رویہ یہ ہے کہ انسان واقعہ پیش آنے کے بعد اللہ کی تقدیر پر ایمان رکھے، لیکن جہاں انسانی ذمہ داری موجود ہو وہاں ظلم کے خلاف آواز بھی اٹھائے۔
---
رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی
نبی کریم ﷺ نے انسان کو اسباب اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے دونوں کی تعلیم دی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«احْرِصْ عَلَىٰ مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَلَا تَعْجَزْ»
’’جو چیز تمہیں نفع دے اس کے حصول کے لیے کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔‘‘
پھر فرمایا:
«وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ»
’’اور اگر تمہیں کوئی چیز پہنچ جائے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوجاتا، بلکہ کہو: یہ اللہ کی تقدیر ہے اور اس نے جو چاہا کیا۔‘‘
(صحیح مسلم: 2664)
یہ حدیث انسان کو ماضی کے قید خانے سے نکالتی ہے۔
انسان کو سوچنا چاہیے کہ:
میں نے جو صحیح سمجھا تھا، کیا میں نے اس کے مطابق کوشش کی؟
اگر کی تھی تو اب اللہ کی تقدیر پر راضی رہوں۔
بار بار ’’اگر ایسا ہوتا‘‘ اور ’’اگر میں ایسا نہ کرتا‘‘ میں زندگی گزارنا انسان کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔
---
موت سب سے بڑی جدائی ہے
انسان دنیا میں تعلقات بناتا ہے لیکن اسے ایک دن ان تمام تعلقات سے جدا ہونا ہے۔
والدین سے جدائی ہوگی۔
اولاد سے جدائی ہوگی۔
دوستوں سے جدائی ہوگی۔
اساتذہ سے جدائی ہوگی۔
شاگردوں سے جدائی ہوگی۔
اور آخرکار انسان اس دنیا ہی سے جدا ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
’’اور ہر امت کے لیے ایک مقرر وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘
(الأعراف: 34)»
موت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیا کا کوئی تعلق ہمیشہ کے لیے نہیں۔
لہٰذا جدائی زندگی کا غیر فطری واقعہ نہیں۔
جدائی زندگی کا حصہ ہے۔
---
بیٹی کی رخصتی بھی ایک جدائی ہے
ایک باپ اپنی بیٹی کو سالہا سال اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے۔
وہ اس کے بچپن کو دیکھتا ہے۔
اس کے پہلے قدم دیکھتا ہے۔
اس کی پہلی باتیں سنتا ہے۔
اس کی تعلیم، تربیت اور جوانی دیکھتا ہے۔
پھر ایک دن وہی بیٹی اپنے گھر سے رخصت ہوتی ہے۔
باپ کے لیے یہ لمحہ آسان نہیں ہوتا۔
آنکھیں نم ہوتی ہیں۔
دل بھاری ہوتا ہے۔
لیکن کیا ہر رخصتی نقصان ہوتی ہے؟
نہیں۔
یہ ایک ایسی جدائی ہے جو زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز بھی ہوسکتی ہے۔
اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ:
ہر جدائی اختتام نہیں ہوتی۔ بعض جدائیاں ایک نئے آغاز کا نام ہوتی ہیں۔
---
مدارس اور اداروں سے جدائی
یہی معاملہ تعلیمی اداروں، مدارس، جامعات اور دیگر تنظیموں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
ایک طالب علم کسی مدرسے میں داخل ہوتا ہے۔
وہاں سالہا سال پڑھتا ہے۔
اساتذہ سے تعلق بنتا ہے۔
ساتھیوں سے محبت ہوجاتی ہے۔
کمرے، مسجد، صحن، کتابیں اور راستے سب یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
پھر ایک دن تعلیم مکمل ہوجاتی ہے۔
طالب علم کو وہاں سے نکلنا پڑتا ہے۔
اس کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے:
کاش میں ہمیشہ یہاں رہتا۔
لیکن اگر وہ ہمیشہ وہیں رہتا تو شاید اپنی زندگی کا اگلا مرحلہ کبھی شروع نہ کرپاتا۔
اسی طرح کبھی اداروں کے نظم و نسق میں تبدیلی آتی ہے۔
انتظامیہ تبدیل ہوتی ہے۔
ذمہ داریاں تبدیل ہوتی ہیں۔
اساتذہ تبدیل ہوتے ہیں۔
نظام تبدیل ہوتا ہے۔
اور بعض اوقات انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے والے ماحول میں اب پہلے جیسا نہیں رہ سکتا۔
یہ بھی زندگی کی حقیقت ہے۔
---
کبھی انسان خود جدائی کا فیصلہ کرتا ہے
ہر جدائی انسان پر مسلط نہیں ہوتی۔
بعض اوقات انسان کو خود فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ موجودہ ماحول اس کے لیے مناسب نہیں۔
اس کی ذمہ داریاں تبدیل ہوچکی ہیں۔
اس کے مقاصد بدل چکے ہیں۔
یا اس کے لیے کسی دوسرے راستے پر جانا ضروری ہوگیا ہے۔
ایسے وقت میں انسان کے لیے مشکل ترین کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ماضی سے جذباتی وابستگی کے باوجود مستقبل کی ضرورت کو سمجھ سکے۔
یہاں عقل جذبات کو متوازن کرتی ہے۔
---
عقل و منطق کی روشنی میں
عقل کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ:
کسی چیز کے موجودہ اثر سے اس کے مکمل مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
مثلاً ایک طالب علم ایک امتحان میں ناکام ہوجاتا ہے۔
اس وقت ناکامی اسے انتہائی بری چیز محسوس ہوتی ہے۔
لیکن ممکن ہے یہی ناکامی اسے زیادہ محنت پر مجبور کردے۔
وہ دوبارہ تیاری کرے۔
اپنی غلطیوں کو سمجھے۔
اور بعد میں زیادہ کامیاب ہوجائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ناکامی لازماً مستقبل میں کامیابی بنے گی۔
بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کسی ایک لمحے کی تکلیف دیکھ کر پوری زندگی کے نتیجے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔
یہی اصول جدائی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
---
نفسیاتی پہلو
جدائی کے بعد انسان کے اندر مختلف جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔
اداسی، غم، غصہ، بے بسی، تنہائی اور ماضی کی یادیں اس تجربے کا حصہ بن سکتی ہیں۔
لیکن غم کا کوئی ایک لازمی اور یکساں راستہ نہیں ہوتا۔
ہر انسان اپنے تجربے، تعلق اور حالات کے مطابق جدائی کو مختلف انداز سے محسوس کرسکتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص جدائی کے بعد غمگین ہے تو اسے یہ نہیں کہنا چاہیے:
تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ اللہ نے تمہیں اس سے جدا کیا ہے۔
بلکہ اسے وقت دینا چاہیے۔
اس کے جذبات کو سمجھنا چاہیے۔
اور اسے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صبر اور مستقبل کی طرف بڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
---
ماضی کے ساتھ انسان کا تعلق
جدائی کے بعد انسان اکثر ماضی کو خوبصورت بنا کر دیکھتا ہے۔
جو وقت گزر چکا ہوتا ہے وہ اسے پہلے سے زیادہ اچھا محسوس ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یادداشت صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی بلکہ ان کے ساتھ جذبات بھی جوڑ دیتی ہے۔
اس لیے انسان کبھی کبھی ماضی کے اچھے لمحات کو یاد کرکے موجودہ وقت سے موازنہ کرتا ہے اور کہتا ہے:
وہ وقت کتنا اچھا تھا۔
یہ احساس اپنی جگہ فطری ہے۔
لیکن ماضی کا اچھا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ مستقبل بھی وہیں واپس جاکر ہی اچھا ہوگا۔
---
’’کاش‘‘ سے بچنے کی نبوی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تکلیف دہ معاملہ پیش آجائے تو انسان یہ نہ کہے:
اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوجاتا۔
کیونکہ ’’اگر‘‘ کا یہ دروازہ انسان کو ماضی میں قید کردیتا ہے۔
اسلام انسان کو ماضی سے سبق لینے کی اجازت دیتا ہے لیکن ماضی میں پھنس جانے کی اجازت نہیں دیتا۔
غلطی ہوئی تو اصلاح کرو۔
کوتاہی ہوئی تو آئندہ احتیاط کرو۔
کسی سے جدائی ہوئی تو اس سے سبق لو۔
لیکن اپنی پوری زندگی کو ’’کاش‘‘ کے لفظ کے حوالے نہ کرو۔
---
تقدیر اور انسانی ذمہ داری
یہاں تقدیر اور انسانی اختیار کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔
مسلمان کا عقیدہ ہے کہ کائنات اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت سے باہر نہیں۔
لیکن اس کے باوجود انسان کو ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے۔
اسی اختیار کی وجہ سے انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
لہٰذا کسی غلط کام کے بعد یہ کہنا کہ:
یہ تو تقدیر میں تھا، اس لیے میں ذمہ دار نہیں۔
درست طرز فکر نہیں۔
اسی طرح کسی مظلوم کے ساتھ ظلم کرنے کے بعد تقدیر کو بہانہ بنانا بھی درست نہیں۔
ہمیں تقدیر پر ایمان بھی رکھنا ہے اور شریعت کے احکام کے مطابق اپنے اعمال کی ذمہ داری بھی قبول کرنی ہے۔
---
اللہ جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے
سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کا سب سے اہم جملہ شاید یہی ہے:
«وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ»
’’اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘
انسان کی پوری زندگی اسی حقیقت کے گرد گھومتی ہے۔
ہم بہت کچھ چاہتے ہیں۔
ہم بہت کچھ ناپسند کرتے ہیں۔
ہم کچھ چیزوں کو کامیابی سمجھتے ہیں۔
کچھ چیزوں کو ناکامی سمجھتے ہیں۔
کسی شخص کو اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
کسی جگہ کو اپنی زندگی کے لیے لازمی سمجھتے ہیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے حال سے بھی واقف ہے اور ہمارے مستقبل سے بھی۔
اس لیے بندے کو کوشش کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
---
جدائی کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
جدائی ہوجائے تو انسان کو چند باتیں اپنے سامنے رکھنی چاہئیں:
پہلی بات: ماضی کو تسلیم کرے۔
دوسری بات: اپنی غلطیوں سے سبق لے۔
تیسری بات: اگر کسی پر ظلم ہوا ہے تو اسے ظلم ہی سمجھے، تقدیر کے نام پر اسے درست نہ قرار دے۔
چوتھی بات: اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے۔
پانچویں بات: ’’کاش‘‘ کے اندر اپنی زندگی ضائع نہ کرے۔
چھٹی بات: مستقبل کے لیے نئے راستے تلاش کرے۔
ساتویں بات: اپنے دل کو یہ سمجھائے کہ ہر بند دروازہ زندگی کا اختتام نہیں ہوتا۔
---
اصل مسئلہ جدائی نہیں بلکہ ہمارا تصور ہے
کبھی مسئلہ جدائی نہیں ہوتی۔
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں:
میری خوشی اسی جگہ تھی۔
میرا مستقبل انہی لوگوں کے ساتھ تھا۔
میری کامیابی اسی ادارے میں تھی۔
میری زندگی اسی تعلق کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔
یہ تصورات انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا مستقبل کسی ایک جگہ، ایک شخص یا ایک تعلق کے ہاتھ میں نہیں۔
رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
مواقع اللہ پیدا کرتا ہے۔
راستے اللہ کھولتا ہے۔
اور انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جائز اسباب اختیار کرتا رہے۔
---
کیا ہر بند دروازے کے بعد دروازہ کھلتا ہے؟
ضروری نہیں کہ ہر بند دروازہ اسی دنیا میں کسی فوری نئے دروازے کی شکل میں کھل جائے۔
بعض اوقات انسان کو طویل عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کبھی دنیاوی اعتبار سے نقصان بھی رہتا ہے۔
لیکن مسلمان کا ایمان صرف دنیا کے نتائج پر قائم نہیں۔
وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی چیز بے معنی نہیں۔
صبر، توکل، دعا اور اللہ کی طرف رجوع بھی انسان کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس لیے مومن کا اطمینان صرف اس بات پر نہیں کہ:
مجھے فوراً کیا ملا؟
بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ:
میرا رب میرے حال سے واقف ہے۔
---
ایک ضروری توازن
ہمیں نہ تو ہر جدائی پر ٹوٹ جانا چاہیے اور نہ ہر جدائی کو خوشی سے قبول کرنے کا مصنوعی مظاہرہ کرنا چاہیے۔
غم محسوس ہونا انسانی فطرت ہے۔
رو دینا انسانی فطرت ہے۔
کسی کو یاد کرنا انسانی فطرت ہے۔
لیکن غم میں اللہ سے بدگمان ہوجانا درست نہیں۔
اور اسی طرح تقدیر کا نام لے کر انسانی ظلم اور ناانصافی کو چھپانا بھی درست نہیں۔
اسلام انسان کو دونوں انتہاؤں سے بچاتا ہے۔
صبر بھی سکھاتا ہے اور اصلاح بھی۔
توکل بھی سکھاتا ہے اور کوشش بھی۔
تقدیر پر ایمان بھی سکھاتا ہے اور انسانی ذمہ داری بھی۔
---
نتیجہ
زندگی میں آنے والی ہر جدائی کو ہم اسی لمحے نہیں سمجھ سکتے۔
کچھ جدائیاں برسوں بعد سمجھ آتی ہیں۔
کچھ کا راز کبھی دنیا میں نہیں کھلتا۔
اور کچھ کا جواب انسان کو آخرت میں ملے گا۔
اس لیے جب کوئی چیز ہماری خواہش کے خلاف ہوجائے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے:
کیا میں واقعی جانتا ہوں کہ میرے لیے کیا بہتر تھا؟
اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو یاد کرنا چاہیے:
«وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ»
اللہ جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے۔
ہمیں کوشش کرنی ہے۔
صحیح راستہ اختیار کرنا ہے۔
ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
اپنی غلطیوں سے سبق لینا ہے۔
اور جب کوئی معاملہ ہمارے اختیار سے نکل جائے تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔
شاید جس جدائی کو ہم آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے ہیں، وہ ہمارے لیے کسی ایسے راستے کا آغاز ہو جس کا ہمیں ابھی علم ہی نہیں۔
اور شاید بعض اوقات ہمیں صرف اتنا ہی سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے:
ہم نے ایک دروازہ بند ہوتے دیکھا ہے، لیکن اللہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے آگے کیا لکھا ہے۔
---
اہم قرآنی حوالہ جات
* القرآن، سورۃ البقرۃ، آیت 216۔
* القرآن، سورۃ الأعراف، آیت 34۔
* القرآن، سورۃ الحدید، آیت 22۔
* القرآن، سورۃ التغابن، آیت 11۔
حدیث کا حوالہ
* مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، کتاب القدر، حدیث: 2664۔
اختتامی کلمات
انسان کا کام ہر واقعے کی مکمل حکمت جان لینا نہیں۔
انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، جائز اسباب اختیار کرے، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور جب معاملہ اس کے اختیار سے باہر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔
کیونکہ انسان محدود علم رکھتا ہے۔
اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
واللہ اعلم بالصواب
تحریر: الامام محدث جبیر بن محمد حسین الحصاروی
26 جون 2026 ٹائم 10:42 Am
تمہید
انسان کی زندگی میں کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان کبھی قبول نہیں کرنا چاہتا۔
وہ چاہتا ہے کہ یہ تعلق قائم رہے، یہ جگہ نہ چھوٹے، یہ لوگ جدا نہ ہوں، یہ ماحول تبدیل نہ ہو، یہ راستہ ختم نہ ہو۔ انسان اپنے موجودہ تعلقات اور موجودہ حالات کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اگر یہ چیز مجھ سے جدا ہوگئی تو شاید میری زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوجائے گا۔
لیکن زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔
کبھی انسان کسی ادارے سے جدا ہوجاتا ہے، کبھی کسی استاد سے، کبھی دوستوں سے، کبھی اپنے ساتھیوں سے، کبھی کسی شہر سے اور کبھی کسی ایسے ماحول سے جسے وہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھ چکا ہوتا ہے۔
پھر انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اور سوچتا ہے:
کاش یہ جدائی نہ ہوتی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ جدائی غلط فیصلہ تھا؟
نہیں۔
کیونکہ انسان موجودہ لمحہ دیکھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ انجام کو بھی جانتا ہے۔
اسی لیے قرآن مجید ہمیں یہ بنیادی حقیقت سمجھاتا ہے:
«وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
’’اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘
(البقرۃ: 216)»
یہ آیت انسانی زندگی کے ایک بہت بڑے اصول کو بیان کرتی ہے:
انسان کا پسند کرنا کسی چیز کے واقعی بہتر ہونے کی ضمانت نہیں اور انسان کا ناپسند کرنا کسی چیز کے واقعی بدتر ہونے کی دلیل نہیں۔
---
جدائی کیوں تکلیف دیتی ہے؟
جدائی صرف جسمانی فاصلے کا نام نہیں۔
جدائی دراصل یادوں، عادتوں، تعلقات اور جذبات سے وابستہ ہوتی ہے۔
انسان جس ماحول میں طویل عرصہ رہتا ہے وہاں اس کی یادیں بن جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اس کے لیے صرف لوگ نہیں رہتے بلکہ اس کی زندگی کے ایک حصے کی علامت بن جاتے ہیں۔
اسی لیے جب انسان وہاں سے جدا ہوتا ہے تو اسے صرف جگہ نہیں چھوٹتی بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی زندگی کا ایک حصہ اس سے چھین لیا گیا ہو۔
وہ پرانے دن یاد کرتا ہے۔
پرانے راستے یاد کرتا ہے۔
پرانے ساتھی یاد کرتا ہے۔
پرانے اساتذہ یاد کرتا ہے۔
وہ مجلسیں یاد کرتا ہے جن میں بیٹھ کر وقت گزرا تھا۔
اور پھر دل کہتا ہے:
ہم یہاں سے کیوں گئے؟
لیکن زندگی کا ہر سوال فوراً جواب نہیں دیتا۔
کچھ سوالوں کا جواب وقت دیتا ہے۔
---
قرآن مجید ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
قرآن مجید انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ ہر تکلیف کو پسند کرو۔
بلکہ قرآن یہ سکھاتا ہے کہ انسان اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ
’’ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔‘‘
(البقرۃ: 216)»
یہاں اصل مسئلہ انسانی علم کی محدودیت ہے۔
انسان صرف آج دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کل، آج اور آنے والے تمام نتائج کو جانتا ہے۔
انسان سبب دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سبب کے نتیجے کو بھی جانتا ہے۔
انسان ایک دروازہ بند ہوتا دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ شاید اسی بند دروازے کے بعد کوئی دوسرا دروازہ کھلنے والا ہو۔
---
ہر جدائی کو فوراً ’’بہتری‘‘ کہنا درست نہیں
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا کے ہر نقصان، ہر ظلم اور ہر تکلیف کو دیکھ کر فوراً یہ اعلان کردے کہ:
یہ میرے لیے بہترین چیز تھی۔
ایسا کہنا درست نہیں۔
اگر کسی انسان پر ظلم ہوا ہے تو ظلم ظلم ہی ہے۔
اگر کسی کا حق مارا گیا ہے تو اس کا حق مارنا درست نہیں ہوجاتا۔
اگر کسی نے زیادتی کی ہے تو صرف یہ کہہ دینا کہ ’’یہ اللہ کا فیصلہ تھا‘‘ ظالم کو بری نہیں کردیتا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار بھی دیا ہے اور ذمہ داری بھی۔
اس لیے تقدیر پر ایمان کا مطلب ظلم کو جائز سمجھنا نہیں۔
بلکہ صحیح رویہ یہ ہے کہ انسان واقعہ پیش آنے کے بعد اللہ کی تقدیر پر ایمان رکھے، لیکن جہاں انسانی ذمہ داری موجود ہو وہاں ظلم کے خلاف آواز بھی اٹھائے۔
---
رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی
نبی کریم ﷺ نے انسان کو اسباب اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے دونوں کی تعلیم دی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«احْرِصْ عَلَىٰ مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَلَا تَعْجَزْ»
’’جو چیز تمہیں نفع دے اس کے حصول کے لیے کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔‘‘
پھر فرمایا:
«وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ»
’’اور اگر تمہیں کوئی چیز پہنچ جائے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوجاتا، بلکہ کہو: یہ اللہ کی تقدیر ہے اور اس نے جو چاہا کیا۔‘‘
(صحیح مسلم: 2664)
یہ حدیث انسان کو ماضی کے قید خانے سے نکالتی ہے۔
انسان کو سوچنا چاہیے کہ:
میں نے جو صحیح سمجھا تھا، کیا میں نے اس کے مطابق کوشش کی؟
اگر کی تھی تو اب اللہ کی تقدیر پر راضی رہوں۔
بار بار ’’اگر ایسا ہوتا‘‘ اور ’’اگر میں ایسا نہ کرتا‘‘ میں زندگی گزارنا انسان کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔
---
موت سب سے بڑی جدائی ہے
انسان دنیا میں تعلقات بناتا ہے لیکن اسے ایک دن ان تمام تعلقات سے جدا ہونا ہے۔
والدین سے جدائی ہوگی۔
اولاد سے جدائی ہوگی۔
دوستوں سے جدائی ہوگی۔
اساتذہ سے جدائی ہوگی۔
شاگردوں سے جدائی ہوگی۔
اور آخرکار انسان اس دنیا ہی سے جدا ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
’’اور ہر امت کے لیے ایک مقرر وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘
(الأعراف: 34)»
موت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیا کا کوئی تعلق ہمیشہ کے لیے نہیں۔
لہٰذا جدائی زندگی کا غیر فطری واقعہ نہیں۔
جدائی زندگی کا حصہ ہے۔
---
بیٹی کی رخصتی بھی ایک جدائی ہے
ایک باپ اپنی بیٹی کو سالہا سال اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے۔
وہ اس کے بچپن کو دیکھتا ہے۔
اس کے پہلے قدم دیکھتا ہے۔
اس کی پہلی باتیں سنتا ہے۔
اس کی تعلیم، تربیت اور جوانی دیکھتا ہے۔
پھر ایک دن وہی بیٹی اپنے گھر سے رخصت ہوتی ہے۔
باپ کے لیے یہ لمحہ آسان نہیں ہوتا۔
آنکھیں نم ہوتی ہیں۔
دل بھاری ہوتا ہے۔
لیکن کیا ہر رخصتی نقصان ہوتی ہے؟
نہیں۔
یہ ایک ایسی جدائی ہے جو زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز بھی ہوسکتی ہے۔
اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ:
ہر جدائی اختتام نہیں ہوتی۔ بعض جدائیاں ایک نئے آغاز کا نام ہوتی ہیں۔
---
مدارس اور اداروں سے جدائی
یہی معاملہ تعلیمی اداروں، مدارس، جامعات اور دیگر تنظیموں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
ایک طالب علم کسی مدرسے میں داخل ہوتا ہے۔
وہاں سالہا سال پڑھتا ہے۔
اساتذہ سے تعلق بنتا ہے۔
ساتھیوں سے محبت ہوجاتی ہے۔
کمرے، مسجد، صحن، کتابیں اور راستے سب یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
پھر ایک دن تعلیم مکمل ہوجاتی ہے۔
طالب علم کو وہاں سے نکلنا پڑتا ہے۔
اس کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے:
کاش میں ہمیشہ یہاں رہتا۔
لیکن اگر وہ ہمیشہ وہیں رہتا تو شاید اپنی زندگی کا اگلا مرحلہ کبھی شروع نہ کرپاتا۔
اسی طرح کبھی اداروں کے نظم و نسق میں تبدیلی آتی ہے۔
انتظامیہ تبدیل ہوتی ہے۔
ذمہ داریاں تبدیل ہوتی ہیں۔
اساتذہ تبدیل ہوتے ہیں۔
نظام تبدیل ہوتا ہے۔
اور بعض اوقات انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے والے ماحول میں اب پہلے جیسا نہیں رہ سکتا۔
یہ بھی زندگی کی حقیقت ہے۔
---
کبھی انسان خود جدائی کا فیصلہ کرتا ہے
ہر جدائی انسان پر مسلط نہیں ہوتی۔
بعض اوقات انسان کو خود فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ موجودہ ماحول اس کے لیے مناسب نہیں۔
اس کی ذمہ داریاں تبدیل ہوچکی ہیں۔
اس کے مقاصد بدل چکے ہیں۔
یا اس کے لیے کسی دوسرے راستے پر جانا ضروری ہوگیا ہے۔
ایسے وقت میں انسان کے لیے مشکل ترین کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ماضی سے جذباتی وابستگی کے باوجود مستقبل کی ضرورت کو سمجھ سکے۔
یہاں عقل جذبات کو متوازن کرتی ہے۔
---
عقل و منطق کی روشنی میں
عقل کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ:
کسی چیز کے موجودہ اثر سے اس کے مکمل مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
مثلاً ایک طالب علم ایک امتحان میں ناکام ہوجاتا ہے۔
اس وقت ناکامی اسے انتہائی بری چیز محسوس ہوتی ہے۔
لیکن ممکن ہے یہی ناکامی اسے زیادہ محنت پر مجبور کردے۔
وہ دوبارہ تیاری کرے۔
اپنی غلطیوں کو سمجھے۔
اور بعد میں زیادہ کامیاب ہوجائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ناکامی لازماً مستقبل میں کامیابی بنے گی۔
بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کسی ایک لمحے کی تکلیف دیکھ کر پوری زندگی کے نتیجے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔
یہی اصول جدائی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
---
نفسیاتی پہلو
جدائی کے بعد انسان کے اندر مختلف جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔
اداسی، غم، غصہ، بے بسی، تنہائی اور ماضی کی یادیں اس تجربے کا حصہ بن سکتی ہیں۔
لیکن غم کا کوئی ایک لازمی اور یکساں راستہ نہیں ہوتا۔
ہر انسان اپنے تجربے، تعلق اور حالات کے مطابق جدائی کو مختلف انداز سے محسوس کرسکتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص جدائی کے بعد غمگین ہے تو اسے یہ نہیں کہنا چاہیے:
تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ اللہ نے تمہیں اس سے جدا کیا ہے۔
بلکہ اسے وقت دینا چاہیے۔
اس کے جذبات کو سمجھنا چاہیے۔
اور اسے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صبر اور مستقبل کی طرف بڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
---
ماضی کے ساتھ انسان کا تعلق
جدائی کے بعد انسان اکثر ماضی کو خوبصورت بنا کر دیکھتا ہے۔
جو وقت گزر چکا ہوتا ہے وہ اسے پہلے سے زیادہ اچھا محسوس ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یادداشت صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی بلکہ ان کے ساتھ جذبات بھی جوڑ دیتی ہے۔
اس لیے انسان کبھی کبھی ماضی کے اچھے لمحات کو یاد کرکے موجودہ وقت سے موازنہ کرتا ہے اور کہتا ہے:
وہ وقت کتنا اچھا تھا۔
یہ احساس اپنی جگہ فطری ہے۔
لیکن ماضی کا اچھا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ مستقبل بھی وہیں واپس جاکر ہی اچھا ہوگا۔
---
’’کاش‘‘ سے بچنے کی نبوی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تکلیف دہ معاملہ پیش آجائے تو انسان یہ نہ کہے:
اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوجاتا۔
کیونکہ ’’اگر‘‘ کا یہ دروازہ انسان کو ماضی میں قید کردیتا ہے۔
اسلام انسان کو ماضی سے سبق لینے کی اجازت دیتا ہے لیکن ماضی میں پھنس جانے کی اجازت نہیں دیتا۔
غلطی ہوئی تو اصلاح کرو۔
کوتاہی ہوئی تو آئندہ احتیاط کرو۔
کسی سے جدائی ہوئی تو اس سے سبق لو۔
لیکن اپنی پوری زندگی کو ’’کاش‘‘ کے لفظ کے حوالے نہ کرو۔
---
تقدیر اور انسانی ذمہ داری
یہاں تقدیر اور انسانی اختیار کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔
مسلمان کا عقیدہ ہے کہ کائنات اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت سے باہر نہیں۔
لیکن اس کے باوجود انسان کو ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے۔
اسی اختیار کی وجہ سے انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
لہٰذا کسی غلط کام کے بعد یہ کہنا کہ:
یہ تو تقدیر میں تھا، اس لیے میں ذمہ دار نہیں۔
درست طرز فکر نہیں۔
اسی طرح کسی مظلوم کے ساتھ ظلم کرنے کے بعد تقدیر کو بہانہ بنانا بھی درست نہیں۔
ہمیں تقدیر پر ایمان بھی رکھنا ہے اور شریعت کے احکام کے مطابق اپنے اعمال کی ذمہ داری بھی قبول کرنی ہے۔
---
اللہ جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے
سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کا سب سے اہم جملہ شاید یہی ہے:
«وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ»
’’اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘
انسان کی پوری زندگی اسی حقیقت کے گرد گھومتی ہے۔
ہم بہت کچھ چاہتے ہیں۔
ہم بہت کچھ ناپسند کرتے ہیں۔
ہم کچھ چیزوں کو کامیابی سمجھتے ہیں۔
کچھ چیزوں کو ناکامی سمجھتے ہیں۔
کسی شخص کو اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
کسی جگہ کو اپنی زندگی کے لیے لازمی سمجھتے ہیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے حال سے بھی واقف ہے اور ہمارے مستقبل سے بھی۔
اس لیے بندے کو کوشش کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
---
جدائی کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
جدائی ہوجائے تو انسان کو چند باتیں اپنے سامنے رکھنی چاہئیں:
پہلی بات: ماضی کو تسلیم کرے۔
دوسری بات: اپنی غلطیوں سے سبق لے۔
تیسری بات: اگر کسی پر ظلم ہوا ہے تو اسے ظلم ہی سمجھے، تقدیر کے نام پر اسے درست نہ قرار دے۔
چوتھی بات: اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے۔
پانچویں بات: ’’کاش‘‘ کے اندر اپنی زندگی ضائع نہ کرے۔
چھٹی بات: مستقبل کے لیے نئے راستے تلاش کرے۔
ساتویں بات: اپنے دل کو یہ سمجھائے کہ ہر بند دروازہ زندگی کا اختتام نہیں ہوتا۔
---
اصل مسئلہ جدائی نہیں بلکہ ہمارا تصور ہے
کبھی مسئلہ جدائی نہیں ہوتی۔
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں:
میری خوشی اسی جگہ تھی۔
میرا مستقبل انہی لوگوں کے ساتھ تھا۔
میری کامیابی اسی ادارے میں تھی۔
میری زندگی اسی تعلق کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔
یہ تصورات انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا مستقبل کسی ایک جگہ، ایک شخص یا ایک تعلق کے ہاتھ میں نہیں۔
رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
مواقع اللہ پیدا کرتا ہے۔
راستے اللہ کھولتا ہے۔
اور انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جائز اسباب اختیار کرتا رہے۔
---
کیا ہر بند دروازے کے بعد دروازہ کھلتا ہے؟
ضروری نہیں کہ ہر بند دروازہ اسی دنیا میں کسی فوری نئے دروازے کی شکل میں کھل جائے۔
بعض اوقات انسان کو طویل عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کبھی دنیاوی اعتبار سے نقصان بھی رہتا ہے۔
لیکن مسلمان کا ایمان صرف دنیا کے نتائج پر قائم نہیں۔
وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی چیز بے معنی نہیں۔
صبر، توکل، دعا اور اللہ کی طرف رجوع بھی انسان کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس لیے مومن کا اطمینان صرف اس بات پر نہیں کہ:
مجھے فوراً کیا ملا؟
بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ:
میرا رب میرے حال سے واقف ہے۔
---
ایک ضروری توازن
ہمیں نہ تو ہر جدائی پر ٹوٹ جانا چاہیے اور نہ ہر جدائی کو خوشی سے قبول کرنے کا مصنوعی مظاہرہ کرنا چاہیے۔
غم محسوس ہونا انسانی فطرت ہے۔
رو دینا انسانی فطرت ہے۔
کسی کو یاد کرنا انسانی فطرت ہے۔
لیکن غم میں اللہ سے بدگمان ہوجانا درست نہیں۔
اور اسی طرح تقدیر کا نام لے کر انسانی ظلم اور ناانصافی کو چھپانا بھی درست نہیں۔
اسلام انسان کو دونوں انتہاؤں سے بچاتا ہے۔
صبر بھی سکھاتا ہے اور اصلاح بھی۔
توکل بھی سکھاتا ہے اور کوشش بھی۔
تقدیر پر ایمان بھی سکھاتا ہے اور انسانی ذمہ داری بھی۔
---
نتیجہ
زندگی میں آنے والی ہر جدائی کو ہم اسی لمحے نہیں سمجھ سکتے۔
کچھ جدائیاں برسوں بعد سمجھ آتی ہیں۔
کچھ کا راز کبھی دنیا میں نہیں کھلتا۔
اور کچھ کا جواب انسان کو آخرت میں ملے گا۔
اس لیے جب کوئی چیز ہماری خواہش کے خلاف ہوجائے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے:
کیا میں واقعی جانتا ہوں کہ میرے لیے کیا بہتر تھا؟
اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو یاد کرنا چاہیے:
«وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ»
اللہ جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے۔
ہمیں کوشش کرنی ہے۔
صحیح راستہ اختیار کرنا ہے۔
ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
اپنی غلطیوں سے سبق لینا ہے۔
اور جب کوئی معاملہ ہمارے اختیار سے نکل جائے تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔
شاید جس جدائی کو ہم آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے ہیں، وہ ہمارے لیے کسی ایسے راستے کا آغاز ہو جس کا ہمیں ابھی علم ہی نہیں۔
اور شاید بعض اوقات ہمیں صرف اتنا ہی سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے:
ہم نے ایک دروازہ بند ہوتے دیکھا ہے، لیکن اللہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے آگے کیا لکھا ہے۔
---
اہم قرآنی حوالہ جات
* القرآن، سورۃ البقرۃ، آیت 216۔
* القرآن، سورۃ الأعراف، آیت 34۔
* القرآن، سورۃ الحدید، آیت 22۔
* القرآن، سورۃ التغابن، آیت 11۔
حدیث کا حوالہ
* مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، کتاب القدر، حدیث: 2664۔
اختتامی کلمات
انسان کا کام ہر واقعے کی مکمل حکمت جان لینا نہیں۔
انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، جائز اسباب اختیار کرے، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور جب معاملہ اس کے اختیار سے باہر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔
کیونکہ انسان محدود علم رکھتا ہے۔
اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
واللہ اعلم بالصواب