- شمولیت
- ستمبر 15، 2026
- پیغامات
- 4
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 2
## مشاجراتِ صحابہ و تاریخِ اسلام: چند سالہ تحقیق کا خلاصہ
قلم کار: امام محدث جبیر بن محمد حسین الحصاروی
لمحاتِ نگارش: 28 جولائی 2026ء، منگل | دوپہر 2:35 بجے
1۔ آئینۂ تاریخ: ماضی اور حال کا عکس
زمانے بدل گئے، نسلیں بیت گئیں، لیکن انسانی رویوں کی داستان نہیں بدلی۔ میں نے اپنی چند سالہ تحقیق کے دریچے سے جب ماضی کی فتنہ زار سیاست اور آج کے سماج کا موازنہ کیا، تو ایک دردناک حقیقت سامنے آئی۔ ماضی میں سیاسی اور اجتہادی بنیادوں پر مسلم امہ کے اندر جو خلیج پیدا ہوئی تھی، ہم آج بھی اسی اندھے کنویں میں قید ہیں۔ تاریخ کے صفحات پر جو صف بندیاں کل تھیں، نفرت اور تعصب کی وہی لکیریں آج بھی ہمارے دلوں کے بیچ کھینچی ہوئی ہیں۔
2۔ عقیدتوں اور نفرتوں کے بازار (دو متضاد روئیے)
اس خارزار تاریخ کو دیکھنے والے آج بنیادی طور پر دو جذباتی کیمپوں میں بٹ چکے ہیں:
پہلا گروہ (خاموشی کا مسافر): یہ وہ لوگ ہیں جو عافیت، سلامتی اور حسنِ ظن کے راستے پر گامزن ہیں۔ یہ دلِ سوزاں کے ساتھ ان تمام ہستیوں اور کرداروں کے آگے لب کشائی سے گریز کرتے ہیں جن کا نام تاریخ کے شور میں گونجتا ہے۔
صحابہ کرام کا کاروان: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، معاویہ، مغیرہ بن شعبہ، عمرو بن العاص، حسن، حسین اور عبداللہ بن زبیر، مروان بن الحکم (رضی اللہ عنہم)۔
* تابعین اور وقت کا دھارا: یزید، حجاج، ابن مطیع، مالک اشتر، عبدالرحمن بن ملجم اور محمد بن ابی بکر۔
* ان کا شیوہ: یہ ان تمام ناموں کے لیے صرف خیر اور تعریف کے کلمات زبان پر لاتے ہیں۔ جہاں مخالفت، طعن اور الزام تراشی کا طوفان اٹھے، یہ وہاں اپنے لبوں کو سی لیتے ہیں اور مکمل خاموشی کو ایمان کی حفاظت سمجھتے ہیں۔
دوسرا گروہ (تعصب کا اسیر): یہ وہ دردناک رویہ ہے جہاں ہر شخص نے اپنی پسند کے مطابق چند ہستیوں کو تقدس کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز کیا، اور پھر انہی کے نام کا سہارا لے کر دوسری محترم شخصیات پر لعن طعن اور دشنام طرازی کا بازار گرم کر دیا۔ جب ایک فریق وار کرتا ہے، تو مخالفین بھی اپنے پسندیدہ رہنماؤں کی اوٹ سے ان کی معتبر شخصیات کی پگڑیاں اچھالنے لگتے ہیں۔
️ 3۔ تاریخ کے دو راستے: امرت یا زہر؟
جب آپ کتبِ تاریخ کے بن میں قدم رکھتے ہیں، تو آپ کے سامنے دو بالکل الگ پگڈنڈیاں نکلتی ہیں:
1. خیر کا اجالا: ایک راستہ وہ ہے جہاں ان تمام شخصیات کے اخلاص، قربانیوں، فتوحات اور اچھے مثبت کارناموں کا ایک طویل اور درخشاں سلسلہ نظر آتا ہے، جسے دیکھ کر دل ایمان کے نور سے بھر جاتا ہے۔
2. شر کا اندھیرا: اسی کے متوازی ایک دوسرا راستہ بھی چلتا ہے، جہاں اگر آپ منفی روایات اور خامیوں کو کریدنے بیٹھیں، تو انہی سبھی شخصیات کے خلاف مبینہ لغزشوں اور منفی کاموں کی بھی ایک لامتناہی اور تاریک فہرست مل جاتی ہے۔
4۔ فیصلہ کن کلام: سیاست کا کھیل اور عقیدے کی حفاظت
سیاسی گرد و غبار: یہ جتنی بھی معلومات ہیں، خواہ وہ تاریخ کی ضخیم جلدوں میں ہوں یا حدیث کی معتبر کتابوں میں، یہ اس دور کے تلخ سیاسی حالات کی پیداوار ہیں۔ سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے روایات کے لبادے میں بہت کچھ ایسا کہا اور پھیلایا، بالکل ویسے ہی جیسے آج کی گندی سیاست میں اپنے مخالف کو گرانے کے لیے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔
فضائل اور توہین کی جنگ: اس پر آشوب دور میں ہر دھڑے نے اپنی پسندیدہ شخصیات کے فضائل میں مبالغہ آرائی کی انتہا کر دی، اور مخالف خیمے کی معتبر ترین ہستیوں کی توہین کر کے ان کی طرف برائیاں اور جرائم منسوب کیے۔
ایمان کا تقاضا: اگر ہم صرف روایات اور بیانیہ تاریخ کے پیچھے چلیں، تو وہ کسی کو نہیں بخشتی۔ تاریخ کا یہ بے رحم رخ تو سبھی کے خلاف فردِ جرم عائد کرتا ہے، بالخصوص مولا علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان، ہماری روح اور ہمارا وجدان گواہی دیتا ہے کہ یہ دونوں پاکیزہ، معتبر اور لائقِ صد احترام شخصیات ہیں۔
تاریخ کا بائیکاٹ: لہذا، جو تاریخ ہمارے اسلاف کی عظمت کو داغدار کرے، ہمیں ایسی تاریخ پر کوئی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ ہم ان اختلافات کو مٹا کر ان سب کو اپنا سچا رہنما اور مقتدا سمجھتے ہیں، اسی لیے ہمارا منشور ہے کہ سب کا دل سے احترام کریں اور کسی پر بھی طعن کا ایک تیر بھی نہ چلائیں۔
5۔ الٰہی ہدایت: دلوں کو کینے سے پاک رکھنے کا نسخہ
خداوندِ قدوس نے ہمیں ماضی کے ان جھگڑوں سے نکالنے اور اپنے ایمان کو بچانے کے لیے قرآنِ پاک میں دو ایسے نسخے عطا فرمائے ہیں جو روح کو تڑپا دیتے ہیں:
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ Sَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ (الحشر: 10)
ترجمہ: "اور ان کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔"
اور دلوں کو مطمئن کرنے کے لیے ربِ کائنات نے فیصلہ فرما دیا:
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْۚ-وَ لَا تُسْــٴَـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ (البقرہ: 141)
ترجمہ: "وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا، ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی، اور ان کے کاموں کی تم سے پوچھ گچھ نہ ہوگی۔"
6۔ پکار اور منشورِ حیات
آئیے! تاریخ کے قبرستانوں سے مردے اکھاڑنے کے بجائے، رب کی اس کتاب کے سائے میں پناہ لیں۔
اپنے اسلاف اور گزرے ہوئے اہل ایمان کے بارے میں ہمیشہ پاکیزہ اور اچھا گمان (حسنِ ظن) رکھیں۔
ماضی کی بحثوں اور لاحاصل مناظروں میں اپنی عاقبت برباد کرنے کے بجائے، اٹھیں اور اپنی اور اپنے دور کی اصلاح کریں۔
نفرتوں کے تیر سینوں سے نکال پھینکیں، کسی پر طعن نہ کریں اور سب کا احترام اپنے دلوں میں قائم رکھیں۔
------------------------------
قلم کار: امام محدث جبیر بن محمد حسین الحصاروی
لمحاتِ نگارش: 28 جولائی 2026ء، منگل | دوپہر 2:35 بجے
1۔ آئینۂ تاریخ: ماضی اور حال کا عکس
زمانے بدل گئے، نسلیں بیت گئیں، لیکن انسانی رویوں کی داستان نہیں بدلی۔ میں نے اپنی چند سالہ تحقیق کے دریچے سے جب ماضی کی فتنہ زار سیاست اور آج کے سماج کا موازنہ کیا، تو ایک دردناک حقیقت سامنے آئی۔ ماضی میں سیاسی اور اجتہادی بنیادوں پر مسلم امہ کے اندر جو خلیج پیدا ہوئی تھی، ہم آج بھی اسی اندھے کنویں میں قید ہیں۔ تاریخ کے صفحات پر جو صف بندیاں کل تھیں، نفرت اور تعصب کی وہی لکیریں آج بھی ہمارے دلوں کے بیچ کھینچی ہوئی ہیں۔
2۔ عقیدتوں اور نفرتوں کے بازار (دو متضاد روئیے)
اس خارزار تاریخ کو دیکھنے والے آج بنیادی طور پر دو جذباتی کیمپوں میں بٹ چکے ہیں:
پہلا گروہ (خاموشی کا مسافر): یہ وہ لوگ ہیں جو عافیت، سلامتی اور حسنِ ظن کے راستے پر گامزن ہیں۔ یہ دلِ سوزاں کے ساتھ ان تمام ہستیوں اور کرداروں کے آگے لب کشائی سے گریز کرتے ہیں جن کا نام تاریخ کے شور میں گونجتا ہے۔
صحابہ کرام کا کاروان: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، معاویہ، مغیرہ بن شعبہ، عمرو بن العاص، حسن، حسین اور عبداللہ بن زبیر، مروان بن الحکم (رضی اللہ عنہم)۔
* تابعین اور وقت کا دھارا: یزید، حجاج، ابن مطیع، مالک اشتر، عبدالرحمن بن ملجم اور محمد بن ابی بکر۔
* ان کا شیوہ: یہ ان تمام ناموں کے لیے صرف خیر اور تعریف کے کلمات زبان پر لاتے ہیں۔ جہاں مخالفت، طعن اور الزام تراشی کا طوفان اٹھے، یہ وہاں اپنے لبوں کو سی لیتے ہیں اور مکمل خاموشی کو ایمان کی حفاظت سمجھتے ہیں۔
دوسرا گروہ (تعصب کا اسیر): یہ وہ دردناک رویہ ہے جہاں ہر شخص نے اپنی پسند کے مطابق چند ہستیوں کو تقدس کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز کیا، اور پھر انہی کے نام کا سہارا لے کر دوسری محترم شخصیات پر لعن طعن اور دشنام طرازی کا بازار گرم کر دیا۔ جب ایک فریق وار کرتا ہے، تو مخالفین بھی اپنے پسندیدہ رہنماؤں کی اوٹ سے ان کی معتبر شخصیات کی پگڑیاں اچھالنے لگتے ہیں۔
️ 3۔ تاریخ کے دو راستے: امرت یا زہر؟
جب آپ کتبِ تاریخ کے بن میں قدم رکھتے ہیں، تو آپ کے سامنے دو بالکل الگ پگڈنڈیاں نکلتی ہیں:
1. خیر کا اجالا: ایک راستہ وہ ہے جہاں ان تمام شخصیات کے اخلاص، قربانیوں، فتوحات اور اچھے مثبت کارناموں کا ایک طویل اور درخشاں سلسلہ نظر آتا ہے، جسے دیکھ کر دل ایمان کے نور سے بھر جاتا ہے۔
2. شر کا اندھیرا: اسی کے متوازی ایک دوسرا راستہ بھی چلتا ہے، جہاں اگر آپ منفی روایات اور خامیوں کو کریدنے بیٹھیں، تو انہی سبھی شخصیات کے خلاف مبینہ لغزشوں اور منفی کاموں کی بھی ایک لامتناہی اور تاریک فہرست مل جاتی ہے۔
سیاسی گرد و غبار: یہ جتنی بھی معلومات ہیں، خواہ وہ تاریخ کی ضخیم جلدوں میں ہوں یا حدیث کی معتبر کتابوں میں، یہ اس دور کے تلخ سیاسی حالات کی پیداوار ہیں۔ سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے روایات کے لبادے میں بہت کچھ ایسا کہا اور پھیلایا، بالکل ویسے ہی جیسے آج کی گندی سیاست میں اپنے مخالف کو گرانے کے لیے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔
فضائل اور توہین کی جنگ: اس پر آشوب دور میں ہر دھڑے نے اپنی پسندیدہ شخصیات کے فضائل میں مبالغہ آرائی کی انتہا کر دی، اور مخالف خیمے کی معتبر ترین ہستیوں کی توہین کر کے ان کی طرف برائیاں اور جرائم منسوب کیے۔
ایمان کا تقاضا: اگر ہم صرف روایات اور بیانیہ تاریخ کے پیچھے چلیں، تو وہ کسی کو نہیں بخشتی۔ تاریخ کا یہ بے رحم رخ تو سبھی کے خلاف فردِ جرم عائد کرتا ہے، بالخصوص مولا علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان، ہماری روح اور ہمارا وجدان گواہی دیتا ہے کہ یہ دونوں پاکیزہ، معتبر اور لائقِ صد احترام شخصیات ہیں۔
تاریخ کا بائیکاٹ: لہذا، جو تاریخ ہمارے اسلاف کی عظمت کو داغدار کرے، ہمیں ایسی تاریخ پر کوئی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ ہم ان اختلافات کو مٹا کر ان سب کو اپنا سچا رہنما اور مقتدا سمجھتے ہیں، اسی لیے ہمارا منشور ہے کہ سب کا دل سے احترام کریں اور کسی پر بھی طعن کا ایک تیر بھی نہ چلائیں۔
5۔ الٰہی ہدایت: دلوں کو کینے سے پاک رکھنے کا نسخہ
خداوندِ قدوس نے ہمیں ماضی کے ان جھگڑوں سے نکالنے اور اپنے ایمان کو بچانے کے لیے قرآنِ پاک میں دو ایسے نسخے عطا فرمائے ہیں جو روح کو تڑپا دیتے ہیں:
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ Sَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ (الحشر: 10)
ترجمہ: "اور ان کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔"
اور دلوں کو مطمئن کرنے کے لیے ربِ کائنات نے فیصلہ فرما دیا:
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْۚ-وَ لَا تُسْــٴَـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ (البقرہ: 141)
ترجمہ: "وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا، ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی، اور ان کے کاموں کی تم سے پوچھ گچھ نہ ہوگی۔"
6۔ پکار اور منشورِ حیات
آئیے! تاریخ کے قبرستانوں سے مردے اکھاڑنے کے بجائے، رب کی اس کتاب کے سائے میں پناہ لیں۔
اپنے اسلاف اور گزرے ہوئے اہل ایمان کے بارے میں ہمیشہ پاکیزہ اور اچھا گمان (حسنِ ظن) رکھیں۔
ماضی کی بحثوں اور لاحاصل مناظروں میں اپنی عاقبت برباد کرنے کے بجائے، اٹھیں اور اپنی اور اپنے دور کی اصلاح کریں۔
نفرتوں کے تیر سینوں سے نکال پھینکیں، کسی پر طعن نہ کریں اور سب کا احترام اپنے دلوں میں قائم رکھیں۔
------------------------------