ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 899
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر روافض کے جاہلانہ الزام اور ایک ضعیف روایت کا تحقیقی رد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على أشرف الأنبیاء والمرسلین، نبینا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد!
بعض روافض کی طرف سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ایک مردود روایت پیش کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی کو آراستہ کرکے اس لیے سجایا تھا کہ اس کے ذریعے قریش کے نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کیا جائے۔ حالانکہ یہ دعویٰ نہ سند کے اعتبار سے ثابت ہے اور نہ اس کے متن سے وہ مفہوم نکلتا ہے جو روافض اس سے اخذ کرنا چاہتے ہیں۔
امام ابن ابی شیبہ نے اپنی معروف کتاب المصنف میں روایت کیا ہے:
«حَدَّثَنا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، عَن الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْيَامِيِّ، عَن عَمَّارِ بْنِ عِمْرَان، رَجُلٍ مِن زَيْدِ اللهِ، عَن امْرَأَةٍ مِنهُمْ، عَن عَائِشَةَ أَنهَا شَوَّفَتْ جَارِيَةً، وَطَافَتْ بِهَا، وَقَالَتْ: لَعَلَّنا نصْطَادُ بِهَا شَبَابَ قُرَيْشٍ»
ترجمہ: ابو بکر نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، علاء بن عبدالکریم الیامی سے، وہ عمار بن عمران سے، جو زید اللہ کے لوگوں میں سے ایک شخص تھے، وہ ان میں سے ایک عورت سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک لونڈی کو آراستہ کیا، اسے لے کر گھومیں، اور فرمایا: ’’شاید ہم اس کے ذریعے قریش کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔‘‘
[مصنف ابن ابی شیبہ، 4/49]
یہی روایت سامنے رکھ کر روافض اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روایت میں یہ ہے کہ عائشہ نے مکہ میں ایک لونڈی کو اس لیے آراستہ کیا کہ اس کے ذریعے نوجوانوں کو شکار کیا جائے! یہ اعتراض درحقیقت ایک ضعیف روایت کو بنیاد بنا کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی ذات گرامی پر طعن کرنے کی کوشش ہے۔ اس لیے اس شبہے کا تفصیلی جواب ضروری ہے۔
اولاً: یہ روایت ثابت نہیں
سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں، کیونکہ اس کی سند میں عمار بن عمران موجود ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے عمار بن عمران کے متعلق لکھا ہے:
«عمار بن عمران الجعفي، عن سويد بن غفلة: كان بلال يسوي مناكبنا في الصلاة، وعنه الأعمش، وبعضهم يرويه عن الأعمش، فقال عن عمران بن مسلم: لا يصح حديثه، ذكره البخاري في الضعفاء»
ترجمہ: ’’عمار بن عمران الجعفی نے سوید بن غفلہ سے روایت کی کہ بلال رضی اللہ عنہ نماز میں ہماری صفوں میں کندھے برابر کیا کرتے تھے، اور ان سے اعمش نے روایت کی ہے۔ بعض لوگوں نے اسے اعمش سے روایت کیا ہے، لیکن ایک قول میں عمران بن مسلم کا نام آیا ہے۔ اس کی حدیث صحیح نہیں، اور امام بخاری نے اسے اپنی کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے۔‘‘
[میزان الاعتدال، 3/166]
پس جس روایت کی سند میں ایسا راوی موجود ہو جس کی حدیث کے بارے میں محدثین نے صاف الفاظ میں «لا يصح حديثه» یعنی ’’اس کی حدیث صحیح نہیں‘‘ کہا ہو، اس کی روایت کو لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام عائد کرنا محض تعصب ہے۔
اس پر مزید یہ کہ عمار بن عمران جس عورت سے روایت کر رہا ہے، وہ عورت بھی مجہول ہے۔ اس کا نام، اس کی عدالت اور اس کا ضبط معلوم نہیں۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اصولی طور پر لکھا ہے: «إذِ المجهول غير محتج به» ترجمہ: ’’کیونکہ مجہول راوی سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔‘‘ [میزان الاعتدال، 1/3]
لہٰذا یہاں سند کی خرابی صرف ایک ضعیف راوی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایک ایسی عورت بھی موجود ہے جس کی تعیین اور توثیق معلوم نہیں۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ آخر اس روایت میں ایسی کون سی قوت باقی رہ گئی جس کی بنیاد پر ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر طعن کیا جائے؟
مزید قابل غور بات یہ ہے کہ مجہول راوی کو ناقابل احتجاج قرار دینا صرف اہل سنت کے محدثین کا اصول نہیں، بلکہ شیعہ اصول حدیث میں بھی مجہول راوی کی روایت کو قبول نہیں کیا جاتا۔
حسین عاملی لکھتے ہیں: «لا تقبل رواية مجهول العدالة عند الجماهير منا ومن العامة» ترجمہ: ’’ہم میں سے بھی اور عامہ (اہل سنت) میں سے بھی جمہور کے نزدیک ایسے شخص کی روایت قبول نہیں کی جاتی جس کی عدالت مجہول ہو۔‘‘ [وصول الأخیار إلى أصول الأخبار، حسین بن عبدالصمد العاملی، ص189]
لہٰذا اگر رافضی اصول حدیث کی رو سے بھی مجہول راوی کی روایت قابل قبول نہیں، تو پھر اس روایت کو لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض کس اصول کے تحت کیا جا رہا ہے؟
ثانیاً: روایت کا متن بھی محل نظر ہے
اگر سند کی تمام خرابیوں سے صرف نظر بھی کر لیا جائے، تب بھی روایت کا متن خود کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ الفاظ منسوب کیے گئے ہیں: «لَعَلَّنا نصْطَادُ بِهَا شَبَابَ قُرَيْشٍ» یعنی: ’’شاید ہم اس کے ذریعے قریش کے نوجوانوں کو پکڑ سکیں۔‘‘
اس کو بنیاد بنا کر روافض کی جانب سے ایسا تاثر دیا جاتا ہے گویا یہاں کوئی ناجائز یا فحش عمل مراد ہے، حالانکہ شادی کے لیے مناسب عمر کی لڑکی کو اچھا لباس پہنانا، اس کے حسن و جمال کو ظاہر کرنا اور نکاح کے خواہش مند لوگوں کے سامنے پیش کرنا بذات خود کوئی حرام فعل نہیں۔
بلکہ اگر روایت کو بالفرض صحیح بھی مان لیا جائے تو اس کا زیادہ سے زیادہ مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ ایک نوجوان لونڈی کو اس مقصد سے سنوارا گیا کہ نکاح کے خواہش مند نوجوان اسے دیکھیں اور اس میں رغبت پیدا ہو اور اس سے نکاح کرے۔
یہاں ’’جاریہ‘‘ سے مراد بھی عموما کم عمر لڑکی یا نوجوان لونڈی ہوتی ہے۔ عربی استعمال میں ’’جاریہ‘‘ کا لفظ چھوٹی لڑکی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلا کوئی شخص بیٹی کی پیدائش پر کہہ سکتا ہے: «رُزِقْتُ بِجَارِيَةٍ كَالْقَمَرِ» یعنی: ’’مجھے چاند جیسی خوب صورت بچی عطا ہوئی ہے۔‘‘
اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب قائم کیا ہے: «إِذَا حَمَلَ جَارِيَةً صَغِيرَةً عَلَى عُنقِهِ فِي الصَّلَاةِ» ترجمہ: ’’جب کوئی شخص نماز میں ایک چھوٹی بچی کو اپنے کندھے پر اٹھائے۔‘‘ [صحیح البخاری، 1/109]
لہٰذا محض ’’جاریہ کو آراستہ کرنا‘‘ کوئی ایسی تعبیر نہیں جس سے لازما فحش یا ناجائز عمل لازم آئے۔ بلکہ نکاح کے معاملے میں خوب صورتی کا اظہار اور مناسب لباس پہننا فطری اور معروف امر ہے، تاکہ نکاح کا خواہش مند شخص اسے دیکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔
پس رافضیوں کا یہ طرز استدلال کہ ’’لونڈی کو سجایا گیا، لہٰذا کوئی ناجائز مقصد تھا‘‘ محض الفاظ سے ایک ایسا مفہوم کشید کرنا ہے جو خود روایت سے ثابت نہیں۔
ثالثاً: خود شیعہ روایات میں اس سے مشابہ واقعہ موجود ہے
اب ذرا رافضی مصادر کی طرف بھی نظر کیجیے۔ اگر لونڈی کو نکاح کی غرض سے آراستہ کرنا اور اس کی خوب صورتی کو ظاہر کرنا بذات خود ناجائز اور قابل اعتراض فعل ہے، تو پھر شیعہ روایات میں منقول اس واقعہ کا کیا حکم ہوگا؟
شیعہ روایات کے مطابق حسن عسکری نے ایک لونڈی نرجس کو دیکھا، جبکہ اسے اس کے مالک کی طرف سے آراستہ کیا گیا تھا۔ روایت میں ابو محمد کا قول نقل کیا گیا ہے:
«إني أدخلت عماتي في داري فرأيت جارية من جواريهن قد زينت تسمى نرجس، فنظرت إليها نظرًا أطلته، فقالت عمتي حكيمة: أراك يا سيدي تنظر إلى هذه الجارية نظرًا شديدًا»
ترجمہ: ’’میں اپنی پھوپھیوں کو اپنے گھر میں داخل کرنے کے بعد ایک ایسی لونڈی کو دیکھا جو ان کی لونڈیوں میں سے تھی، اسے آراستہ کیا گیا تھا اور اس کا نام نرجس تھا۔ میں نے اس کی طرف دیر تک نظر کی۔ میری پھوپھی حکیمہ نے کہا: اے میرے سردار! میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ اس لونڈی کی طرف بہت زیادہ غور سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘
[الہدایۃ الکبریٰ، حسین بن حمدان الخصیبی، ص354؛ بحار الأنوار، مجلسی، 51/25؛ مدینۃ المعاجز، ہاشم بحرانی، 8/21]
اب سوال یہ ہے کہ اگر لونڈی کو آراستہ کرنا، تاکہ نکاح کے خواہش مند لوگ اسے دیکھیں اور اس کی طرف راغب ہوں، بذات خود حرام ہے، تو پھر نرجس کو آراستہ کیوں کیا گیا؟ اور اگر آراستہ کی ہوئی لونڈی کو دیکھنا ہی ناجائز تھا تو پھر حسن عسکری کے اس کی طرف غور سے دیکھنے کا کیا حکم ہوگا؟ اگر لونڈی کو نکاح کی غرض سے آراستہ کرنا جائز ہے تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب اس روایت کو فحش مقصد پر محمول کرنا باطل ہے۔
لہٰذا اس روایت سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف کوئی الزام ثابت کرنا سراسر بے بنیاد ہے۔ اس روایت کی نہ سند صحیح ہے نہ متن سے وہ فحش معنی لازم آتا ہے جو روافض نکالنا چاہتا ہے۔ پس ایک ضعیف و مجہول روایت کو پکڑ کر ام المؤمنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ عنہا کی عصمت و عفت پر طعن کرنا روافض کی خباثت ہے۔
اہل سنت کا اصول یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، خصوصا ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں کوئی دعویٰ محض تاریخی حکایت یا ضعیف روایت سے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا جب دلیل ہی ناقابل اعتماد ہو تو اس سے الزام تراشی کی عمارت کھڑی کرنا ایسی عمارت ہے جس کی بنیاد ہی نہیں۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، والحمد لله رب العالمين۔