• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

والد کی اجازت کے بغیر بہن کا نکاح کرنے کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
909
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
والد کی اجازت کے بغیر بہن کا نکاح کرنے کا حکم


فتاوى عبر الأثير (( 18 ))
​

السؤال: والدي وكلني بتزويج أختي وبعدها تخاصمت معه، وأختي عندي الآن، فهل يجوز لي تزويجها من دون علمه؟

میرے والد نے مجھے اپنی بہن کے نکاح کے لیے اپنا وکیل مقرر کیا تھا، لیکن اس کے بعد میرے اور میرے والد کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ اب میری بہن میرے پاس ہے۔ کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اپنے والد کے علم میں لائے بغیر اس کا نکاح کر دوں؟

الجواب: أولاً: على المسلم أن يبر والديه، ويحسن صحبتهما، ويتأدب في خطابه معهما، والتخاصم مع الوالد أمر نهى عنه الشرع، بل حرم قول أف لهما، فعلى هذا الأخ أن يراجع نفسه، ويخفض جناحه لوالديه، ويتأدب معهما، ويتحمل أذاهما، أو قسوتهما.

اولا: مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھے اور ان سے گفتگو کرتے وقت ادب و احترام کو ملحوظ رکھے۔ والد کے ساتھ جھگڑا کرنا ایسا معاملہ ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے، بلکہ والدین کو اُف تک کہنا حرام قرار دیا ہے۔


لہٰذا اس بھائی کو چاہیے کہ اپنے طرز عمل کا جائزہ لے، اپنے والدین کے سامنے تواضع اختیار کرے، ان کے ساتھ ادب سے پیش آئے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف یا سختی کو برداشت کرے۔

ثانياً: إن كان الوالد قد وكل الابن في تزويج أخته، صحت هذه الوكالة، وصار الأخ وكيلاً عن الأب، والوكيل له حكم الأصل.

ثانیا: اگر والد نے اپنے بیٹے کو اپنی بیٹی کے نکاح کے لیے وکیل مقرر کیا تھا تو یہ وکالت صحیح ہے، اور اس طرح بیٹا اپنے والد کی طرف سے وکیل بن گیا۔ وکیل کا حکم اس شخص کے حکم کے تابع ہوتا ہے جس نے اسے وکیل مقرر کیا ہو۔

أما إن كان الوالد قد تراجع عن توكيله بعد الخصومة، فإن الولاية ترجع إليه، ولا يجوز للأخ أن يزوج أخته لأن الولي الأصلي موجود، وهو أحق بتزويجها.

لیکن اگر والد نے جھگڑے کے بعد اپنے بیٹے کو دی گئی وکالت واپس لے لی تھی تو نکاح کی ولایت دوبارہ والد کی طرف لوٹ جائے گی۔ ایسی صورت میں بھائی کے لیے اپنی بہن کا نکاح کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس کا اصل ولی، یعنی والد، موجود ہے اور وہی اس کے نکاح کا زیادہ حق دار ہے۔

أما إن كان الوالد لم يتراجع عن التوكيل جاز لابنه أن يزوج أخته، لبقاء حكم التوكيل، والله تعالى أعلم.

لیکن اگر والد نے اپنی وکالت واپس نہیں لی تھی تو بیٹے کے لیے اپنی بہن کا نکاح کرنا جائز ہے، کیونکہ وکالت کا حکم بدستور برقرار ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔
 
Top