ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 916
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
حکمرانوں پر انکار منکر کے باب میں سلیمان رحیلی کی مداہنت پسندی اور منہج سلف سے انحراف
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!
آج امت مسلمہ بدترین آزمائشوں سے دوچار ہے۔ دین فروش مدخلی مولویوں کی جانب سے منہجیت کے نام پر حکمرانوں کے سامنے زبان بند رکھنے، ہاتھ باندھ لینے اور نہی عن المنکر کو مطلقا ترک کرنے کو اصل منہج سلف باور کرایا جا رہا ہے۔ اس فتنے کا سب سے بدترین، اور سب سے ذلیل نمائندہ سلیمان رحیلی ہے۔
رحیلی حقیقت میں منہج سلف کا کھلا دشمن، مداہنت پسند منحرف اور حکمرانوں کی خدمت میں لگے ہوئے درباری علمائے سوء کی صف کا سرخیل ہے۔ اس نے دین کی حفاظت کی مصلحت کو حقیر بنا کر حکمرانوں کی ہیبت کو دین سے بڑا کر دیا، اور انکار منکر کے تمام درجات کو «مفاسد لازمة» کے بہانے معطل کر دیا۔
امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا درج ذیل فرمان آج اس شخص پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے:
«وَهَلْ أَفْسَدَ الدِّينَ إِلَّا الْمُلُوكُ وَأَحْبَارُ سُوءٍ وَرُهْبَانُهَا» دین کو بادشاہوں اور علمائے سوء کے سوا کس نے بگاڑا ہے؟
[الداء والدواء لابن القيم، ص : ١٤٧]
سلیمان رحیلی انہی علمائے سوء میں سے ہے جو دین کو بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ رحیلی نے اپنے مغربی آقاؤں کے وفادار حکمرانوں کی خاطر تین اصول گھڑے ہیں:
1. «ترک الإنكار على ولي الأمر وعلى المنكرات العامة باليد فما فوقها مطلقاً فإن في هذا الإنكار مفاسد لازمة أكبر من مفاسد تلك المنكرات.» یعنی ولی الامر اور عام منکرات پر ہاتھ سے یا اس سے اوپر کے درجے کے انکار منکر کو مطلقا ترک کر دو، کیونکہ اس انکار میں لازمی مفاسد ہیں جو ان منکرات کے مفاسد سے بڑے ہیں۔
2. «ترك الإنكار باللسان والانتقال إلى الإنكار بالقلب إذا كان يترتب على الإنكار باللسان فساد أعظم من فساد المنكر.» یعنی زبان سے انکار ترک کر کے دل سے انکار پر منتقل ہو جاؤ، جبکہ زبان سے انکار پر منکر کے فساد سے بڑا فساد مرتب ہوتا ہے۔
3. «ترك الإنكار العلني على ولي الأمر لأن المفاسد المترتبة على ذلك كبيرة لازمة.» یعنی ولی الامر پر علانیہ انکار منکر ترک کر دو، کیونکہ اس پر مرتب ہونے والے مفاسد بڑے اور لازمی ہیں۔
رحیلی کہتا ہے کہ ولی الامر اور عام منکرات پر ہاتھ سے انکار مطلقا ترک کر دو کیونکہ اس میں «مفاسد لازمة» ہیں جو منکرات کے مفاسد سے بڑے ہیں۔ رحیلی کا یہ منہج تمییع درحقیقت منہج سلف سے انحراف بلکہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ» یعنی تم میں سے جو شخص منکر دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ (یعنی زور و قوت) سے بدل دے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے اسے برا سمجھے اور اس کے بدلنے کی تدبیر سوچے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔
[صحيح مسلم، كتاب الإيمان، حدیث: ١٧٧]
رحیلی نے اس حدیث کے پہلے درجے کو ہی مطلقا ختم کر دیا۔ اس نے مصلحت کا نام لے کر ہاتھ سے انکار کو ہمیشہ کے لیے معطل کر دیا۔ یہ سلفی منہج نہیں، بلکہ مدخلی مداہنت ہے جو حق کو ضائع کرنے پر مبنی ہے۔ صحابہ نے منکر پر ہاتھ سے بھی انکار کیا، زبان سے بھی، اور کبھی کبھی جان بھی قربان کر دی۔ رحیلی ان صحابہ کے منہج کو «مفاسد لازمة» کہہ کر رد کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ رحیلی کہتا ہے کہ زبان سے انکار ترک کر دو، زبان بھی بند کر لو اور صرف دل سے انکار کرو۔ یہ درحقیقت انکار منکر کو ختم کرنے کا بہانہ ہے۔ سلفی علماء نے کبھی یہ نہیں کہا کہ زبان سے انکار کو اس قدر آسان طریقے سے معطل کر دیا جائے۔
شیخ ابن عثیمین نے واضح طور فرمایا ہے کہ «فَيَكُونُ الْإِنْكَارُ مُعْلَنًا مَتَى؟ عِنْدَ الْمَصْلَحَةِ، وَالْمَصْلَحَةُ هِيَ أَنْ يَزُولَ الشَّرُّ وَيَحِلَّ الْخَيْرُ» علانیہ انکار میں مصلحت ہو اس سے شر زائل ہو اور خیر قائم ہو تو علانیہ انکار کیا جائے۔ [لقاء الباب المفتوح] لیکن رحیلی نے زبان سے انکار کو «فساد أعظم» کا بہانہ بنا کر ختم کر دیا۔ یہ مدخلی مداہنت کی انتہا ہے۔
اسی طرح رحیلی اپنے ولی الاخمر کے منکرات پر علانیہ انکار کو مطلقا ترک کرنے کا کہتا ہے کہ «ترك الإنكار العلني على ولي الأمر لأن المفاسد المترتبة على ذلك كبيرة لازمة» یعنی ولی الامر پر علانیہ انکار ترک کر دو کیونکہ اس پر مرتب ہونے والے مفاسد بڑے اور لازمی ہیں۔
یہ رحیلی کا اعتراف ہے کہ بلاد حرمین میں منکرات پائے جاتے ہیں، جن کے نتیجے میں مفاسد پیدا ہوئے ہیں؛ لیکن رحیلی کے نزدیک ان منکرات پر زبان کھولنا حرام ہے۔ رحیلی کا یہ نظریہ نصوص کا مذاق، سلف کا استہزا، اور دین کی حفاظت کو حکمران کی چاپلوسی کی خاطر قربان کرنے کی سازش ہے۔
شیخ ابن باز سے سوال کیا گیا کہ حاکم اور عام محکوم افراد پر انکار منکر کرنے میں پوشیدگی اور علانیت کے اعتبار سے کیا ضابطہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا:
«الْأَصْلُ أَنَّ الْمُنْكِرَ يَتَحَرَّى مَا هُوَ الْأَصْلَحُ وَالْأَقْرَبُ إِلَى النَّجَاحِ... وَإِذَا كَانَ يَرَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ أَنَّهُ إِذَا جَهَرَ قَالَ: فُلَانٌ فَعَلَ كَذَا، وَلَمْ تَنْفَعْ فِيهِ النَّصِيحَةُ السِّرِّيَّةُ، وَرَأَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ أَنَّهُ يَنْفَعُ فِيهِ هَذَا الشَّيْءُ فَيَفْعَلُ الْأَصْلَحَ»
اصل اصول یہ ہے کہ انکار منکر کرنے والا اس طریقے کو اختیار کرنے کی کوشش کرے جو زیادہ مصلحت والا اور کامیابی کے زیادہ قریب ہو۔ اگر وہ مصلحت یہ سمجھے کہ علانیہ بات کرنے سے، مثلا یہ کہنے سے کہ فلاں شخص نے ایسا کیا ہے، فائدہ ہوگا، جبکہ خفیہ نصیحت اس کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوئی ہو، اور اسے یہ مصلحت نظر آئے کہ علانیہ بات کرنے سے فائدہ پہنچے گا، تو وہ زیادہ مصلحت والے طریقے کو اختیار کرے۔
[دروس للشيخ عبد العزيز بن باز]
اسی طرح دیگر سلفی علماء کا بھی یہی منہج ہے کہ جب منکر کا ارتکاب علانیہ ہو رہا ہوں تو علانیہ انکار کرنا جائز بلکہ مطلوب ہے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ علانیہ انکار مطلقا ترک کر دیا جائے۔ لیکن رحیلی نے سلفی منہج سے انحراف کر کے صرف «مفاسد لازمة» کا راگ الاپا۔
حکمرانوں کی جانب سے ہونے والے منکرات کوئی ایسی نئی چیز نہیں ہیں جو آج ہی پیدا ہوئی ہو۔ جو شخص حکمرانوں کے ساتھ سلف صالحین کے طرز عمل کا مطالعہ کرے، اس پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سلیمان رحیلی منہج سلف سے منحرف ہے۔
سلف صالحین، خصوصا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، مسلم حکمرانوں پر علانیہ انکار منکر کیا کرتے تھے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے حکمرانوں کے خلاف صحابہ کے بعض انکار کے واقعات ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
«وَهَذَا كَثِيرٌ جِدًّا مِنْ إِنْكَارِهِمْ عَلَى الْأُمَرَاءِ وَالْوُلَاةِ إِذَا خَرَجُوا عَنِ الْعَدْلِ، لَمْ يَخَافُوا سَوْطَهُمْ وَلَا عُقُوبَتَهُمْ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ هَذِهِ الْمَنْزِلَةُ، بَلْ كَانُوا يَتْرُكُونَ كَثِيرًا مِنَ الْحَقِّ خَوْفًا مِنْ وُلَاةِ الظُّلْمِ وَأُمَرَاءِ الْجَوْرِ، فَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يُوَفَّقَ هَؤُلَاءِ لِلصَّوَابِ وَيُحْرَمَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
حکمرانوں اور والیوں کے خلاف انکار منکر کے ایسے واقعات بہت کثرت سے ملتے ہیں، جب وہ عدل سے تجاوز کرتے تھے۔ صحابہ ان کے کوڑوں اور سزاؤں سے نہیں ڈرتے تھے۔ لیکن ان کے بعد آنے والوں کو یہ مقام حاصل نہ رہا، بلکہ وہ ظالم حکمرانوں اور جابر امیروں کے خوف سے بہت سے حق کو چھوڑ دیتے ہیں۔ پس یہ محال ہے کہ بعد میں آنے والے ایسے لوگ تو درست بات کی توفیق پا جائیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس سے محروم رہ جائیں۔
[إعلام الموقعين عن رب العالمين، ج : ٦، ص : ١٥]
اب سوال یہ ہے کہ اتباع کے زیادہ لائق کون سا منہج ہے؟ سلیمان رحیلی جیسے زنادقہ کا مدخلی منہج یا سلف صالحین کا منہج؟ اور جو شخص حق کو چھوڑ دے اور باطل کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرے، کیا اسے درست منہج اختیار کرنے کی توفیق مل سکتی ہے؟
یہ ناممکن ہے کہ مداہنت اختیار کرنے والے اور حکمرانوں کی مطلق اطاعت اور وفاداری کے قائل مداخلہ حق بات کی توفیق پا جائیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس سے محروم رہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے صاف کہا کہ یہ محال ہے کہ بعد والے تو درست بات کی توفیق پا جائیں اور صحابہ اس سے محروم رہ جائیں۔
رحیلی نے صحابہ کے منہج کو «مفاسد لازمة» کہہ کر رد کر دیا۔ یہ منہج سلف سے کھلی بغاوت ہے۔ رحیلی نے دین کی حفاظت کی مصلحت کو کمزور کر کے حکمرانوں کی ہیبت کو اس پر مقدم کر دیا۔ اس کے بہت سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جو بالآخر پورے دین کے ضائع ہونے کا سبب بن سکتے ہیں حالانکہ دین کی حفاظت کلیات خمسہ میں سب سے عظیم مصلحت ہے۔
اسی لیے حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «فَإِنْ لَمْ يُمْكِنِ الْوَعْظُ سِرًّا ـ لِلْأُمَرَاءِ ـ وَالْإِنْكَارُ فَلْيَفْعَلْهُ عَلَانِيَةً؛ لِئَلَّا يَضِيعَ أَصْلُ الْحَقِّ» اگر امراء کو خفیہ طور پر نصیحت کرنا اور ان پر انکار منکر کرنا ممکن نہ ہو، تو علانیہ ایسا کرنا چاہیے، تاکہ حق کی اصل ہی ضائع نہ ہو جائے۔
[شرح النووي على مسلم، ج : ١٨، ص : ١١٨]
پس علماء نے حکمرانوں پر انکار منکر کے سلسلے میں سلف صالحین کا منہج واضح کیا ہے۔ اس کے برخلاف رحیلی نے اس سے انحراف کیا اور حق کی اصل کو ضائع کرنے کا جواز گھڑ لیا۔ مزید برآں، رحیلی نے اپنے باطل منہج کی دلیل میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دو فسادوں میں سے بڑے فساد کو دفع کرنے کے لیے چھوٹے فساد کو برداشت کرنے کی بات سے باطل استدلال کیا ہے تاکہ حکمرانوں پر علانیہ انکار منکر کی ہر صورت کی نفی کر سکے۔
حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : «سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» مستقبل میں ایسے حکمراں سامنے آئیں گے، جن کے کچھ کام تمہیں بھلے لگیں گے اور کچھ برے۔ ایسے میں جو ان کو برا جانے گا، وہ گناہ سے بری رہے گا اور جو ان کو برا کہے گا، وہ سلامت رہے گا۔ لیکن جو مطمئن رہے گا اور ان کی پیروی کرے گا وہ ہلاکت میں پڑے گا۔
[صحيح مسلم، كتاب الإمارة، حدیث: ١٨٥٤]
اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وَهَذَا يُبَيِّنُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ هُمُ الْأُمَرَاءُ وُلَاةُ الْأُمُورِ، وَأَنَّهُ يُكْرَهُ، وَيُنْكَرُ مَا يَأْتُونَهُ مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ» یہ واضح ہے کہ ائمہ سے مراد حکمران اور ارباب اقتدار ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کی جس نافرمانی کا ارتکاب کریں، اسے ناپسند کیا جائے گا اور اس پر انکار منکر کیا جائے گا۔
[منهاج السنة النبوية، ج : ١، ص : ١١٧]
پس امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ کلام واضح کرتا ہے کہ حکمرانوں کی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر انکار کیا جائے گا، «وَيُبْغِضُونَهُ، وَيَدْعُونَ عَلَيْهِ» ان سے بغض رکھا جائے گا اور ان پر بددعا بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن رحیلی جیسے مدخلی زنادقہ اس واضح کلام کو چھپا کر صرف اطاعت کا راگ الاپتے ہیں۔ حتی کہ طاغوتی حکمرانوں کی بھی مطلق اطاعت کرواتے ہیں۔
رحیلی درحقیقت مغربی منصوبے کا آلہ کار ہے۔ یہ شخص بلاد حرمین میں جاری مغربی رنگ میں ڈھالنے کے بن سلمان کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مامور اور استعمال کیا گیا ہے۔ اسی لیے وہ اہل حق کی مخالفت کرنے اور اہل اہواء و بدعت کے طریقے پر مداہنت و کمزوری پر مبنی اصول وضع کرنے سے باز نہیں آتا۔ اس نے اپنے تینوں باطل اصولوں سے ہاتھ بند کر دیے، زبان بند کر دی، اور صرف دل سے انکار کو کافی قرار دے کر امت کو گونگا اور بے بس بنا دیا۔
سلیمان رحیلی اور اس جیسے تمام مدخلی زنادقہ دین فروش ہے جو حق کو قربان کر کے حکمرانوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ امت کو ایسے مداہن، مدخلی اور زندیق علمائے سوء کے شر سے محفوظ رکھے جو دین کی حفاظت کو ترک کر کے طاغوتی حکمرانوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔