ملک سکندر نسوآنہ
رکن
- شمولیت
- اپریل 05، 2020
- پیغامات
- 120
- ری ایکشن اسکور
- 5
- پوائنٹ
- 68
جنت میں فقراء کی اور جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہو گی
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت غریبوں کی تھی، مالدار (جنت کے دروازے پر حساب کے لیے) روک لیے گئے تھے، البتہ جہنم والوں کو جہنم میں جانے کا حکم دے دیا گیا تھا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والی زیادہ عورتیں تھیں۔“
[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1743]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 17 باب ما يتقي من شؤم المرأة= 5196،5096» + «صحیح مسلم= 2736،6937»
+ «مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21782، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22125»
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے قریب سے گزرے تو فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔“ عورتوں نے عرض کی: اور ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے، یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟“ عورتوں نے کہا: ایسا ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔“
[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: كتاب الحيض: 6 باب ترك الحائض الصوم= 304» + «صحیح مسلم= 80 ، 241» + «ابن ماجہ= 1288»
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ اتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جا سکتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع بھی لمبا کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے، سجدہ سے اٹھ کر پھر لمبا قیام کیا لیکن پہلے قیام کے مقابلے میں کم لمبا تھا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، یہ رکوع بھی پہلے رکوع کے مقابلے میں کم تھا، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام بھی پہلے سے مختصر تھا، پھر (چوتھا) رکوع کیا، یہ بھی بہت لمبا تھا لیکن پہلے سے کچھ کم، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا: ”سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، اس لیے جب تم کو معلوم ہو کہ گرہن لگ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) اپنی جگہ سے کچھ آگے بڑھے اور پھر اس کے بعد پیچھے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی اور اس کا ایک خوشہ توڑنا چاہا تھا، اگر میں اسے توڑ سکتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے، اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی، میں نے اس سے زیادہ بھیانک منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے دیکھا اس میں عورتیں زیادہ ہیں۔“ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے۔“ پوچھا گیا: کیا اللہ تعالیٰ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر کا اور احسان کا انکار کرتی ہیں، زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آ گئی تو فوراً یہی کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔“
[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 9 باب صلاة الكسوف في جماعة=29،1052» + «صحیح مسلم= 907، 2109» + «دارمی= 1528»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت کے اندر جھانک کر دیکھا تو میں نے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دیکھی اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو میں نے دوزخ میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔“
تخریج الحدیث: [صحيح مسلم/كتاب الرقاق/حدیث: 6938، ترقیم فوادعبدالباقی: 2737 ]
+ «الصحيحةالألباني: 3991،2586» + «وعلقه البخاري: 6449» + «مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2086، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2086» + «ترمذی: 2605»
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا، پس وہاں کے اکثر لوگوں کو فقیر دیکھا، پھر جب میں نے جہنم میں جھانکا تو وہاں کے اکثر لوگوں کو مالدار اور عورتیں پایا۔
[الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9323]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله الاغنيائ، أخرجه ابن حبان: 7489» + «مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6611، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6611»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جھانکا اور دیکھا کہ اس کی اکثریت عورتوں پر مشتمل تھی اور پھر میں نے جنت میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں فقیر لوگوں کی اکثریت تھی۔
[الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10047]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5198، 6546» + «مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19852، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20092»
ابو تیاح بیان کرتے ہیں کہ مطرف کی دو بیویاں تھیں، جب وہ ایک بیوی کے پاس گئے اور اس نے ان کی پگڑی اتاری تو اس نے کہا: آپ تو اپنی بیوی کے پاس سے آئے ہیں، انھوں نے کہا: میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے باسیوں میں عورتیں کم تعداد ہوں گی۔
[الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10048]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2738» + «مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19837، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20076»
سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاسق لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
[الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10044]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 604» + «مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15666/1، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15753» + «الصحيحةالألباني:3992،3058»
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفرِ حج میں تھے، جب ہم مر ظہران مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے کجاوے میں تھی، ایک روایت میں ہے: ایک خاتون کے ہاتھ مزین تھے اور اس نے انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اس نے اپنے ہاتھوں کو کجاوے پر رکھا ہوا تھا، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ایک طرف مڑے اور گھاٹی میں داخل ہو گئے، پس ہم بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ داخل ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: ہم اس مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے اچانک بہت زیادہ کوے دیکھے، ان میں ایک کوا سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی، مگر سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والے کوے کی طرح بہت کم۔
[الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10046]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة: 3990،1850» + «مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17826، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17980» + «مسند ابویعلي: 1/349» +« ابن عساکر: 1/245/13»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں)، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی (اونٹ کی ایک قسم ہے) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی۔“
تخریج الحدیث: [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5582، ترقیم فوادعبدالباقی= 2128]
«صحیح ابن حبان= 7461» + « مسنداحمد= 8673»
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنے سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے۔“
[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1744]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 17 باب ما يتقى من شؤم المرأة= 5096» + «صحيح مسلم= 2740» + «جامع ترمذی= 2780»