• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرکین کی تکفیر میں توقف کرنے والوں کا حکم شیخ صالح الفوزان کے فتویٰ کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
926
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
مشرکین کی تکفیر میں توقف کرنے والوں کا حکم شیخ صالح الفوزان کے فتویٰ کی روشنی میں
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

تکفیر المشركين توحید کا بنیادی تقاضا ہے جسے آج مصلحتوں، سیاسی مفاہمتوں اور حسن ظن کے نام پر کچلا جا رہا ہے؛ یہ وہ مسئلہ ہے جس پر آج کے بیشتر دعاۃ اور علماء نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ مشرکین کی تکفیر میں توقف کرنا اب اعتدال بن گیا ہے، اور جو اس توقف پر نکیر کرے اسے شدت پسند، تکفیری، خارجی قرار دیا جاتا ہے۔

شیخ صالح بن فوزان الفوزان نے اس مسئلے میں بالکل واضح، بلا تاویل اور بلا کسی رعایت کے جواب دیا ہے۔ چنانچہ شیخ صالح الفوزان سے مشرکین کی تکفیر میں توقف کرنے والے کے متعلق سوال ہوا :

«مَنْ لمْ يُكفِّرِ المشركِينَ، أوْ توقَّفَ فِي الحكمِ عليهِم، هلْ يكفُرُ حتَّى لوْ كانَ متأوِّلًا؟! ومَا الدليلُ علَى ذلكَ -حفِظَكمُ اللهُ-؟!»

یعنی جو شخص مشرکین کی تکفیر نہ کرے، یا ان کے کافر ہونے کے حکم میں توقف کرے، کیا وہ بھی کافر ہو جاتا ہے، خواہ وہ کسی تاویل کی بنا پر ایسا کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے، اس کی کیا دلیل ہے؟

شیخ صالح الفوزان نے جواب دیا:

«هذَا مَا فيهِ تأويلٌ، ولَا يصلحُ للتأويلِ، المشركُونَ يجبُ أنْ يُكفَّرُوا، الكفَّارُ يجبُ أنْ يُكفَّرُوا، ولَا فيهِ تأويلٌ، فالذِي يتوقَّفُ فِي تكفيرِهم هذَا كافرٌ مثلُهم؛ لأنَّه لمْ يعتبرِ الكفرَ كفرًا، ومَنْ لمْ يعتبرِ الكفرَ كفرًا صارَ كافرًا.»

اس میں کوئی تاویل نہیں، اور یہ تاویل کے قابل بھی نہیں۔ مشرکین کی تکفیر کرنا واجب ہے، کفار کی تکفیر کرنا واجب ہے۔ اس میں کوئی تاویل نہیں۔ پس جو شخص ان کی تکفیر میں توقف کرے، وہ انہی کی طرح کافر ہے۔ کیونکہ اس نے کفر کو کفر نہیں سمجھا، اور جو کفر کو کفر نہ سمجھے وہ خود کافر ہو گیا۔

[الفتاوى المستخرجة من دروس شرح قرة عيون الموحدين]


شیخ صالح الفوزان کا یہ فتویٰ ان تمام لوگوں کو متنبہ کرتا ہے جو آج معتدل، حکیم اور وسیع النظر بن کر مشرکین کی تکفیر سے رک جاتے ہیں۔ شیخ نے بالکل واضح کر دیا کہ اس باب میں کوئی تاویل نہیں چلتی۔ نہ اجتہاد، نہ حسن نیت، نہ سیاسی مصلحت، نہ کوئی بہانہ۔

جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے کی تکفیر میں توقف کرے، وہ حقیقت میں کفر کو کفر ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ اور جو کفر کو کفر نہ مانے، وہ خود کافر ہے۔ جیسا کہ شیخ صالح الفوزان نے فرمایا «ومَنْ لمْ يعتبرِ الكفرَ كفرًا صارَ كافرًا» یہ اصول اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی قسم کی تاویل یا عذر کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو اس سے انحراف کرے وہ دین کی اصل بنیاد سے منحرف ہے۔

جو لوگ ان توقف کرنے والوں کا دفاع کرتے ہیں، ان کے لیے عذر تراشتے ہیں، انہیں متاول کہتے ہیں، یا کہتے ہیں وہ بھی علماء ہیں، ان پر سخت مت ہو… وہ بھی انہی کی مثل کافر ہیں۔ کیونکہ وہ کفر کو کفر ماننے سے انکار کرنے والے کی پشت پناہی کر رہے ہیں، وہ شرک اکبر کو ہلکا کر رہے ہیں، وہ اس حکم شرعی (تکفیر مشرکین) کو توڑنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

مشرکین کے عاذرین کے متعلق شیخ صالح الفوزان کا فتوی بالکل واضح ہے «فالذِي يتوقَّفُ فِي تكفيرِهم هذَا كافرٌ مثلُهم» جو شخص مشرکین کی تکفیر میں توقف کرے وہ کافر ہے اور جو اس توقف کو درست یا قابل معذرت قرار دے وہ بھی انہی کی مثل ہے۔

آج کل کچھ لوگ معتدل بننے کے چکر میں مشرکین کے بارے میں توقف کرتے ہیں، یا ان کی تکفیر کو تشدد قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ دین کے اصل ستون کو مسمار کر رہے ہیں۔ شرک اکبر پر توقف کرنا خود شرک و کفر کا دروازہ کھولنا ہے۔

ان مرجئہ و مداخلہ نے دین کو سیاست اور مصلحت کا کھلونا بنا دیا ہے۔ وہ مشرکین کے بارے میں رکتے ہیں، موحدین کے لیے رکاوٹ ڈالتے ہیں ان پر خوارج کا الزام لگاتے ہیں، اور پھر اپنے آپ کو اہل سنت و سلفی منہج سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت توحید کے دشمن ہیں اور اللہ کی شریعت کو اپنے ذوق و عقل کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔

یہ لوگ چاہے کتنے ہی بڑے منبروں پر بیٹھے ہوں، کتنے ہی کتابیں لکھ چکے ہوں یا کتنے ہی خود کو عالم کہلائیں جب تک وہ مشرکین کی تکفیر میں توقف کرتے رہیں گے یا اس توقف کا دفاع کریں گے، وہ شیخ الفوزان کے فتویٰ کے مطابق کافر ہیں۔ اس میں کوئی نرمی نہیں، کوئی لچک نہیں، کوئی سیاسی مصلحت نہیں، اور کوئی حسن ظن نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توحید کو سمجھنے، شرک سے بچنے، حق کو حق جان کر اس کی پیروی کرنے اور دین کے احکام میں افراط و تفریط سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس بات کی بھی توفیق دے کہ ہم سلفی علماء کے منہج کو سمجھ کر عمل کریں، اور توحید کے معاملے میں کسی بھی طرح کی نرمی، تاویل یا مصلحت سے بچیں۔ آمین

وصلى اللہ على نبینا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعین، والحمد لله رب العالمین۔
 
Top