ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 927
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ کے بیان کی روشنی میں اس شخص کی حدیث سے استدلال کا رد جس نے مرنے کے بعد اپنی لاش جلانے کی وصیت کی تھی
ہمارے محترم شیخ ڈاکٹر ایمن بن سعود العنقري حفظہ اللہ جامعۃ الإمام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض، سعودی عرب میں شعبہ عقیدہ و معاصر مذاہب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ عقیدہ اور معاصر مذاہب کے تخصصی میدان سے وابستہ علماء میں سے ہیں۔ زیر نظر تحریر شیخ أيمن العنقری حفظہ اللہ کے ایک علمی بیان سے ماخوذ ہے، جس میں شیخ نے شرک اکبر کے مرتکبین کو جہالت کا عذر دینے والوں کے شبہے کا رد کیا ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.
یہ وہ شبہ ہے جس سے بعض لوگ جہالت کی بنا پر شرک اکبر کے مرتکب شخص کو معذور قرار دینے اور اسے مسلمان کہنے کے لیے استدلال کرتے ہیں۔ یہ اس شخص کا واقعہ ہے جس نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا:
«حَرِّقُونِي إِذَا مِتُّ، وَذَرُونِي فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ».
’’جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری راکھ سمندر میں بکھیر دینا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دے گا۔‘‘
چنانچہ اس کے بارے میں پہلی بات یہ کہی جائے گی کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی اصل کا انکار نہیں کیا تھا، بلکہ اس کا کلام اس بات سے متعلق تھا کہ آیا اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے یا نہیں۔ پس اس نے قدرت الٰہی کی اصل کا انکار نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے کمال اور اس کے اپنے معاملے میں اس کے اطلاق سے متعلق ایک بات اس پر مخفی رہ گئی تھی۔ لہٰذا یہ مسائل خفیہ میں سے تھا۔
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے «کشف الشبهات» کی شرح میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا مشرکین کو جہالت کی بنا پر معذور قرار دینے کا مسئلہ اختلافی کہا جائے گا؟
تو آپ نے جواب دیا:
«لَا، مَا هِيَ خِلَافِيَّةٌ إِلَّا فِي الدَّقَائِقِ الَّتِي قَدْ تَخْفَى، مِثْلَ قِصَّةِ الَّذِي قَالَ لِأَهْلِهِ: احْرِقُونِي».
’’نہیں، یہ اختلافی مسئلہ نہیں ہے، البتہ ان باریک اور مخفی مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے جو بعض اوقات کسی پر پوشیدہ رہ جاتے ہیں، مثلا اس شخص کا واقعہ جس نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا: مجھے جلا دینا۔‘‘
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے واضح کیا کہ مشرک کی تکفیر کا مسئلہ اجماعی اور متفق علیہ ہے، یہ کوئی اختلافی مسئلہ نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اختلاف صرف دقیق اور مخفی مسائل میں ہے، اور اس کی مثال اس شخص کا واقعہ ہے جس نے اپنے گھر والوں کو اسے جلانے کا حکم دیا تھا۔
اس بات کی مزید دلیل یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس شخص کا معاملہ ان مسائل میں سے تھا جو بعض لوگوں پر مخفی رہ سکتے ہیں۔ اس شخص کی راکھ بکھیر دی گئی تھی، لیکن اس نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مکمل انکار نہیں کیا تھا، جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ بلکہ وہ اللہ کی قدرت کا اقرار کرتا تھا، تاہم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض پہلوؤں سے ناواقف تھا۔
یعنی اس کا گمان یہ تھا کہ اگر اسے جلا کر اس کی راکھ بکھیر دی جائے تو اس حالت میں اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوگا۔
اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ جانتا تھا کہ جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرتا ہے، جیسا کہ دوسرے مردوں کو دفن کیا جاتا ہے۔ ورنہ وہ اپنی راکھ بکھیرنے کی وصیت کیوں کرتا؟
یہاں اصل اور ظاہر مسئلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار ہے۔ پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کلی طور پر انکار کیا، اس نے ایک ظاہر مسئلے کا انکار کیا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «الاستقامة»، جلد اول، صفحات 164–165 میں بھی اسی مفہوم کی صراحت کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
«فَهَذَا الرَّجُلُ اعْتَقَدَ أَنَّ اللَّهَ لَا يَقْدِرُ عَلَى جَمْعِهِ هُوَ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ، أَوْ شَكَّ، وَأَنَّهُ لَا يَبْعَثُهُ، وَكُلُّ هَذَيْنِ الِاعْتِقَادَيْنِ كُفْرٌ، يُكَفَّرُ مَنْ قَامَتْ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ، لَكِنَّهُ كَانَ يَجْهَلُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَبْلُغْهُ الْعِلْمُ بِمَا يَرُدُّهُ عَنْ جَهْلِهِ، وَكَانَ عِنْدَهُ إِيمَانٌ بِاللَّهِ، بِأَمْرِهِ وَنَهْيِهِ وَوَعْدِهِ وَوَعِيدِهِ، فَخَافَ مِنْ عِقَابِهِ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِخَشْيَتِهِ».
’’اس شخص کا عقیدہ یہ تھا کہ جب وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ جمع کرنے پر قادر نہیں ہوگا، یا اسے اس میں شک تھا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک عقیدہ کفر ہے، اور جس شخص پر حجت قائم ہو جائے، اس کی تکفیر کی جائے گی۔ لیکن یہ شخص اس معاملے سے ناواقف تھا، اور اسے ایسا علم نہیں پہنچا تھا جو اس کی جہالت کو دور کر دیتا۔ اس کے اندر اللہ تعالیٰ، اس کے احکام و نواہی، اس کے وعدے اور وعید کے متعلق ایمان موجود تھا۔ چنانچہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے اس کے خوف کی وجہ سے اسے بخش دیا۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب «بغية المرتاد السبعينية»، صفحہ 342 میں بھی اس بات کی وضاحت کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
«كَالَّذِي قَالَ: إِذَا مِتُّ فَاسْحَقُونِي، ثُمَّ ذَرُونِي فِي الْيَمِّ، لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَإِنَّ الْإِيمَانَ بِقُدْرَةِ اللَّهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَمَعَادِ الْأَبْدَانِ مِنْ أُصُولِ الْإِيمَانِ، وَمَعَ هَذَا لَمَّا كَانَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَأَمْرِهِ وَنَهْيِهِ، وَكَانَ إِيمَانُهُ بِالْقُدْرَةِ وَالْمَعَادِ مُجْمَلًا، فَظَنَّ أَنَّ تَحْرِيقَهُ يَمْنَعُ ذَلِكَ، فَعَلَ ذَلِكَ، وَمَعْلُومٌ أَنَّهُ لَوْ كَانَ قَدْ بَلَغَهُ مِنَ الْعِلْمِ أَنَّ اللَّهَ يُعِيدُهُ إِنْ حُرِّقَ، كَمَا بَلَغَهُ أَنَّهُ يُعِيدُ الْأَبْدَانَ، لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ».
’’اس شخص کی طرح جس نے کہا تھا: جب میں مر جاؤں تو مجھے پیس دینا، پھر میری راکھ سمندر میں بکھیر دینا؛ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دے گا۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہر چیز پر قادر ہونے اور جسموں کے دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان رکھنا، ایمان کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ اس کے باوجود، چونکہ وہ اللہ تعالیٰ، اس کے احکام اور اس کی ممانعتوں پر ایمان رکھتا تھا، لیکن قدرت الٰہی اور دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں اس کا ایمان اجمالی تھا، اس لیے اس نے گمان کیا کہ اسے جلا دینے سے یہ چیز ممکن نہیں رہے گی، چنانچہ اس نے ایسا کر دیا۔
یہ بات معلوم ہے کہ اگر اسے یہ علم پہنچ گیا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اسے جلائے جانے کے باوجود دوبارہ زندہ کرے گا، جس طرح اسے یہ معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ جسموں کو دوبارہ زندہ کرے گا، تو وہ ایسا نہ کرتا۔‘‘
اب میں کہتا ہوں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ کلام واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس شخص نے جسموں کے دوبارہ زندہ کیے جانے کا عمومی انکار نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے ایک خاص صورت کا انکار کیا تھا، یعنی یہ کہ اگر اسے جلا دیا جائے تو کیا اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرے گا؟
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی علت یہ بیان کی کہ اسے اس معاملے کا علم نہیں پہنچا تھا۔ لہٰذا یہ ایک مخفی مسئلہ تھا، حالانکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے کی اصل کا اقرار کرتا تھا۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «مجموع الفتاوى»، جلد 12، صفحہ 491 میں بھی اسی بات کی صراحت کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
«وَمَعَ هَذَا فَلَمَّا كَانَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ فِي الْجُمْلَةِ، وَمُؤْمِنًا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ فِي الْجُمْلَةِ، وَهُوَ أَنَّ اللَّهَ يُثِيبُ وَيُعَاقِبُ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَقَدْ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا، وَهُوَ خَوْفُهُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يُعَاقِبَهُ عَلَى ذُنُوبِهِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِمَا كَانَ مِنَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ».
’’اس کے باوجود، چونکہ وہ اجمالی طور پر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا تھا اور اجمالی طور پر یوم آخرت پر بھی ایمان رکھتا تھا، یعنی اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد ثواب اور عذاب دے گا، اور اس نے ایک نیک عمل بھی کیا تھا، یعنی اسے یہ خوف تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں پر اسے عذاب دے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے اللہ، یوم آخرت اور نیک عمل پر ایمان کی وجہ سے اسے بخش دیا۔‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض پہلوؤں سے ناواقف تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عمومیت اور اس بات کا علم حاصل نہ ہو سکا تھا کہ بعث و نشور ہر شخص کے لیے عام ہے۔ چنانچہ اس نے ایک ایسے مسئلے کا انکار کیا جو اس پر مخفی رہ گیا تھا۔
یہاں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب «الصفدية»، صفحہ 237 میں ایک اہم اور صریح عبارت بھی موجود ہے۔ آپ فرماتے ہیں: «فَإِنَّ هَذَا جَهِلَ قُدْرَةَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى إِعَادَتِهِ». ’’اس شخص نے اس بات سے جہالت برتی کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔‘‘
غور کیجیے! یہاں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہر چیز پر قدرت کا منکر تھا، بلکہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اسے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت سے ناواقف تھا۔
آپ مزید فرماتے ہیں: «فَإِنَّ هَذَا جَهِلَ قُدْرَةَ اللَّهِ عَلَى إِعَادَتِهِ، وَرَجَا أَنَّهُ لَا يُعِيدُهُ بِجَهْلِ مَا أَخْبَرَ بِهِ مِنَ الْإِعَادَةِ، وَمَعَ هَذَا لَمَّا كَانَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَأَمْرِهِ وَنَهْيِهِ وَوَعْدِهِ وَوَعِيدِهِ، خَائِفًا مِنْ عَذَابِهِ، وَكَانَ جَهْلُهُ بِهَذَا جَهْلًا لَمْ تَقُمْ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ الَّتِي تُوجِبُ كُفْرَ مِثْلِهِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ».
’’اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی اس پر دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا علم نہیں تھا، اور وہ اپنی جہالت کی بنا پر یہ امید رکھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا، کیونکہ اسے اس دوبارہ زندہ کیے جانے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کا علم نہیں تھا۔
اس کے باوجود، چونکہ وہ اللہ تعالیٰ، اس کے احکام و نواہی، اس کے وعدے اور وعید پر ایمان رکھتا تھا اور اس کے عذاب سے ڈرتا تھا، نیز اس معاملے میں اس کی جہالت ایسی تھی کہ اس پر وہ حجت قائم نہیں ہوئی تھی جو اس جیسے شخص کے کفر کو لازم کرتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔‘‘
پس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اصل قدرت کا انکار نہیں کیا تھا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے ناواقف تھا کہ وہ اسے جلا کر راکھ بنا دیے جانے کے بعد بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس مسئلے کو مخفی مسائل میں شمار کیا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس واقعے سے متعلق بعض روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے توحید پر قائم ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی «مسند» میں حماد، ثابت، ابو رافع اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: «لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ». ’’اس نے توحید کے سوا کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔‘‘
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کے مذکورہ قول کے باوجود اس کی توحید منہدم نہیں ہوئی تھی۔ اگر یہ مسئلہ ایسا واضح اور ظاہر ہوتا، جیسا کہ بعث و نشور کا کلی اور تفصیلی انکار، تو اس شخص کے پاس توحید باقی نہ رہتی۔
پس امام احمد رحمہ اللہ کی مسند میں مذکور یہ روایت واضح کرتی ہے کہ اس شخص نے بعث و نشور کی اصل کا انکار نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ساتھ توحید باقی رہی۔ لہٰذا اس کے مذکورہ قول سے اس کی توحید منہدم نہیں ہوئی۔
اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس شخص کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے شرک اکبر کے مرتکب شخص کو شرک اکبر میں عذر دینا درست نہیں۔ شرک اکبر ایک ظاہر اور واضح مسئلہ ہے، بلکہ یہی دین کی اصل کے منافی ہے۔ تمام رسول اسی کی تردید اور اس کے خلاف دعوت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ ’’اور یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔‘‘
پس جو شخص شرک اکبر کا ارتکاب کرتے ہوئے مسائل ظاہرہ میں واقع ہو جائے، جو اسلام کے نواقض میں سے ہے، اور اس شرک کے سبب اس کا اسلام منہدم ہو جائے، اسے اس شخص کے ساتھ کیسے ملایا جا سکتا ہے جس نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ مجھے جلا دینا؟
یہ دونوں صورتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ اس شخص نے بعث و نشور کی اصل کا انکار نہیں کیا تھا، بلکہ اسے یہ بات مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے جلا کر راکھ کر دیے جانے کے بعد بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔
لہٰذا ان دونوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف وہ شخص ہے جس پر ایک مخفی مسئلہ پوشیدہ رہ گیا، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جو شرک اکبر کا ارتکاب کرتا ہے، جو دین کی اصل کے منافی ہے۔ ان دونوں کو ایک ہی حکم میں داخل کرنا درست نہیں۔ وبالله التوفيق۔
یہ تھی ہمارے محترم شیخ أيمن بن سعود العنقری حفظہ اللہ تعالیٰ کے بیان کی اردو ترجمانی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کی دعوت کو نفع بخش بنائے، حق کی نصرت اور باطل کے رد میں ان کی کوششوں کو قبول فرمائے، اور انہیں اخلاص و استقامت کے ساتھ کتاب و سنت کی خدمت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حق کو حق سمجھنے، اس کی پیروی کرنے، باطل کو باطل پہچاننے اور اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔