ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 938
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
ولی کی اجازت کے بغیر بیوہ کے نکاح کا شرعی حکم
فتاوى عبر الأثير (( 30 ))
السؤال: امرأة عمرها 35 عاماً وهي أرملة وعندها أولاد فتزوجت دون علم أهلها ويوجد شهود على زواجها، فهل زواجها صحيح أم باطل؟
سوال: ایک پینتیس سالہ عورت بیوہ ہے اور اس کے بچے بھی ہیں۔ اس نے اپنے گھر والوں کے علم میں لائے بغیر نکاح کر لیا، جبکہ اس نکاح پر گواہ بھی موجود ہیں۔ کیا اس کا نکاح صحیح ہے یا باطل؟
الجواب: إن كان المقصود من السؤال أنها تزوجت دون «ولي» أو من يقوم مقامه، كالقاضي، أو الوكيل، فالزواج «باطل» وإن توفرت فيه بقية الأركان والواجبات.
جواب: اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ اس عورت نے ولی یا اس کے قائم مقام شخص، مثلا قاضی یا وکیل، کے بغیر نکاح کیا ہے تو یہ نکاح باطل ہے، اگرچہ نکاح کے دیگر ارکان اور ضروری شرائط موجود ہوں۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أيما امرأة نكحت ـ وفي ضبط: نُكحت ـ بغير إذن وليها فنكاحها باطل، فإن أصابها فلها مهرها بما أصاب من فرجها، وإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له». رواه أحمد.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ پھر اگر شوہر نے اس سے ازدواجی تعلق قائم کر لیا ہو تو اس تعلق کے عوض عورت مہر کی حق دار ہے، اور اگر ان کے درمیان اختلاف ہو جائے تو حاکم اس شخص کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔‘‘ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
وها هنا: ننصح السائلة بأن ترفع أمرها إلى المحكمة الشرعية، ليبت في أمرها، فإن أمر الفروج خطير، والله المستعان.
اس موقع پر ہم سوال کرنے والی عورت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنا معاملہ شرعی عدالت میں لے جائے، تاکہ اس کے معاملے کا فیصلہ کیا جا سکے؛ کیونکہ نکاح اور ازدواجی تعلقات کا معاملہ نہایت سنگین اور حساس ہے۔
واللہ المستعان، وعلیہ التکلان۔