محمد زاہد بن فیض
سینئر رکن
- شمولیت
- جون 01، 2011
- پیغامات
- 1,961
- ری ایکشن اسکور
- 5,788
- پوائنٹ
- 354
ومن صحب النبي صلى الله عليه وسلم أو رآه من المسلمين فهو من أصحابه.
(امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) جس مسلمان نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار اسے نصیب ہوا ہو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔
حدیث نمبر: 3649
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهما ـ يقول حدثنا أبو سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقولون فيكم من صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم. ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقال هل فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقال هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ آئے گا کہ اہل اسلام کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہیں۔ تب ان کی فتح ہو گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس موقع پر یہ پوچھا جائے گا کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی صحبت اٹھانے والے (تابعی) بھی موجود ہیں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں اور ان کے ذریعہ فتح کی دعامانگی جائے گی، اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس وقت سوال اٹھے گا کہ کیا یہاں کوئی بزرگ ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں میں سے کسی بزرگ کی صحبت میں رہے ہوں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں، تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی پھر ان کی فتح ہو گی۔
حدیث نمبر: 3650
حدثني إسحاق، حدثنا النضر، أخبرنا شعبة، عن أبي جمرة، سمعت زهدم بن مضرب، سمعت عمران بن حصين ـ رضى الله عنهما ـ يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير أمتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ". قال عمران فلا أدري أذكر بعد قرنه قرنين أو ثلاثا " ثم إن بعدكم قوما يشهدون ولا يستشهدون، ويخونون ولا يؤتمنون، وينذرون ولا يفون، ويظهر فيهم السمن ".
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوجمرہ نے، کہا میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، کہا کہ میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی اور ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی کہ ان پر کسی قسم کا بھروسہ باقی نہیں رہے گا۔ اور نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے (حرام مال کھا کھا کر) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 3651
حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يجيء قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته ". قال إبراهيم وكانوا يضربونا على الشهادة والعهد ونحن صغار.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ بن قیس سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آجایا کرے گی اور قسم کھانے سے پہلے گواہی ان کی زبان پر آجایا کرے گی۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو گواہی اور عہد (کے الفاظ زبان پر لانے) کی وجہ سے ہمارے بڑے بزرگ ہم کو مارا کرتے تھے۔
کتاب فضائل اصحاب النبی صحیح بخاری
(امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) جس مسلمان نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار اسے نصیب ہوا ہو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔
حدیث نمبر: 3649
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهما ـ يقول حدثنا أبو سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقولون فيكم من صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم. ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقال هل فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقال هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ آئے گا کہ اہل اسلام کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہیں۔ تب ان کی فتح ہو گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس موقع پر یہ پوچھا جائے گا کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی صحبت اٹھانے والے (تابعی) بھی موجود ہیں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں اور ان کے ذریعہ فتح کی دعامانگی جائے گی، اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس وقت سوال اٹھے گا کہ کیا یہاں کوئی بزرگ ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں میں سے کسی بزرگ کی صحبت میں رہے ہوں؟ جواب ہو گا کہ ہاں ہیں، تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی پھر ان کی فتح ہو گی۔
حدیث نمبر: 3650
حدثني إسحاق، حدثنا النضر، أخبرنا شعبة، عن أبي جمرة، سمعت زهدم بن مضرب، سمعت عمران بن حصين ـ رضى الله عنهما ـ يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير أمتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ". قال عمران فلا أدري أذكر بعد قرنه قرنين أو ثلاثا " ثم إن بعدكم قوما يشهدون ولا يستشهدون، ويخونون ولا يؤتمنون، وينذرون ولا يفون، ويظهر فيهم السمن ".
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوجمرہ نے، کہا میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، کہا کہ میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی اور ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی کہ ان پر کسی قسم کا بھروسہ باقی نہیں رہے گا۔ اور نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے (حرام مال کھا کھا کر) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 3651
حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يجيء قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته ". قال إبراهيم وكانوا يضربونا على الشهادة والعهد ونحن صغار.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ بن قیس سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آجایا کرے گی اور قسم کھانے سے پہلے گواہی ان کی زبان پر آجایا کرے گی۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو گواہی اور عہد (کے الفاظ زبان پر لانے) کی وجہ سے ہمارے بڑے بزرگ ہم کو مارا کرتے تھے۔
کتاب فضائل اصحاب النبی صحیح بخاری