• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنت کی خوشخبری سنا دو

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنت کی خوشخبری سنا دو

سعید بن ابی مریم، محمد بن جعفر، شریک بن عبد اللہ ، سعید بن مسیب، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبیﷺ مدینہ کے کسی باغ کی طرف رفع حاجت کے لئے نکلے اور میں بھی آپﷺ کے پیچھے پیچھے نکلا جس باغ میں آپﷺ داخل ہوئے تو میں دروازے پر بیٹھ گیا میں نے اپنی جی میں کہا کہ آج نبیﷺ کا دربان ہوں گا، حالانکہ آپﷺ نے حکم نہیں دیا تھا۔ نبیﷺ تشریف لے گئے اور حاجت رفع سے فارغ ہوئے اور کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول کر کنویں میں لٹکا دیں، حضرت ابوبکرؓ آئے اور داخل ہونے کی اجازت مانگی، میں نے کہا کہ یہیں ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ میں آپؓ کے لئے اجازت طلب کروں، میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا نبی اللہﷺ حضرت ابوبکرؓ اندر آنے کی اجازت طلب کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا کہ اندر آنے دو ان کو جنت کی خوشخبری سنادو، وہ نبیﷺ کے دائیں طرف آئے اور اپنی پنڈلیاں کھول کر کنویں میں لٹکا دیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے میں نے کہا یہاں ٹھہریں میں آپؓ کے لئے اجازت طلب کرتا ہوں، میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ اندرآنے کی اجازت ہے اور ان کو جنت کی خوشخبری سنادو، وہ نبیﷺ کے دائیں طرف اپنی پنڈلیاں کھول کر کنویں میں لٹکا دیں، وہ منڈیر بھر گئی اور بیٹھنے کی جگہ نہ رہی، پھر حضرت عثمانؓ آئے میں نے کہا کہ یہاں ٹھہریں میں آپؓ کیلئے اجازت لے لوں، نبیﷺ نے فرمایا کہ ان کو اندر آنے دو اور جنت کی خوشخبری سنادو، اور ان کے ساتھ بلائیں ہوں گی جو ان کو پہنچیں گیں، وہ اندر آئے ان لوگوں کے پاس بیٹھنے کی جگہ نہ پائی تو وہاں سے پھر کر آپﷺ کے سامنے کنویں کے کنارے پر بیٹھ گئے اور اپنی پنڈلیاں کھول کر کنویں میں لٹکا دیں، ابوموسیٰ کا بیان ہے کہ میں تمنا کرنے لگا کہ میرا بھائی بھی اس وقت آجاتا تاکہ اس کو بھی جنت کی خوشخبری مل جائے، ابن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے اس کی یہ تاویل کی کہ ان کی قبریں ایک ساتھ ہیں اور حضرت عثمان کی قبر ان سے الگ ہے۔
( صحیح بخاری۔۔۔جلد نمبر 3 / انتیسواں پارہ / حدیث نمبر 1973 / حدیث مرفوع)​
 
Top