• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلام کو زیادہ رواج دینا

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
حدیث نمبر: 6235
حدثنا قتيبة،‏‏‏‏ حدثنا جرير،‏‏‏‏ عن الشيباني،‏‏‏‏ عن أشعث بن أبي الشعثاء،‏‏‏‏ عن معاوية بن سويد بن مقرن،‏‏‏‏ عن البراء بن عازب ـ رضى الله عنهما ـ قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع بعيادة المريض،‏‏‏‏ واتباع الجنائز،‏‏‏‏ وتشميت العاطس،‏‏‏‏ ونصر الضعيف،‏‏‏‏ وعون المظلوم،‏‏‏‏ وإفشاء السلام،‏‏‏‏ وإبرار المقسم،‏‏‏‏ ونهى عن الشرب في الفضة،‏‏‏‏ ونهانا عن تختم الذهب،‏‏‏‏ وعن ركوب المياثر،‏‏‏‏ وعن لبس الحرير،‏‏‏‏ والديباج،‏‏‏‏ والقسي،‏‏‏‏ والإستبرق‏.‏

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کاحکم دیا تھا۔ بیمار کی مزاج پرسی کرنے کا، جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کے جواب دینے کا۔ کمزور کی مدد کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، افشاء سلام (سلام کا جواب دینے اور بکثرت سلام کرنے) کا قسم (حق) کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا تھا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ہمیں منع فرمایا تھا۔ میثر (ریشم کی زین) پر سوار ہونے سے، ریشم اور دیباج پہننے، قسی (ریشمی کپڑا) اور استبرق پہننے سے (منع فرمایا تھا)۔


کتاب الاستئذان صحیح بخاری
 
Top