• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دو سوال

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
١۔ با جماعت نماز کے دوران آخری صف میں اگر کوئی اکیلا موجود ہواور اس کی چند رکعتیں یا پوری نماز ہی اکیلے ادا ہوجائیں تو کیا اس کی نماز ادا ہوجائے گی؟

٢۔ شوہر نے اپنی زوجہ کو خاندان کے سامنے کہا کہ اگر اس نے اپنے میکے سے کوئی بھی شے لی تو اسے طلاق ہو جائیگی اب میکہ کی جائیداد کی تقسیم کا معاملہ درپیش ہے تو بیوی کیا کرے۔ جبکہ شوہر شرمندہ ہے۔ بیوی نے ابھی تک میکے سے کوئی چیز نہیں لی ہے ۔ کیا وہ اپنا حصہ لے گی تو اسے طلاق ہوجائے گی؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔ با جماعت نماز کے دوران آخری صف میں اگر کوئی اکیلا موجود ہواور اس کی چند رکعتیں یا پوری نماز ہی اکیلے ادا ہوجائیں تو کیا اس کی نماز ادا ہوجائے گی؟
جماعت میں اکیلے کھڑے ہونے کا حکم
س: نماز کی جماعت ہو رہی ہو اور کوئی آدمی بعد میں آئے او ر وہ پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی یا اسے لوٹانے پڑے گی ؟ کیا اگلی صف سے کسی آدمی کو کھینچ کر پیچھے لانا حدیث سے ثابت ہے ۔

ج: اگلی صف میں اگر جگہ ہو تو پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز ادا نہیں کرنی چاہئے اگر کوئی آدمی اس صورت میں نماز ادا کرے تو اسے نماز دہرانی چاہئے۔
حدیث میں آتا ہے کہ :
مصنف بن ابی شیبہ ۲٢/۹۲، ابو داؤد ۶۸۳٨٣، تر مذی ۳۳۱١،ابن ماجہ ۱۰۰۴٤)
'' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کو نماز لوٹانے کا حکم دیا ''
صف میں کسی کو پیچھے کھینچ لانے کے متعلق حدیث صحیح ثابت نہیں ۔

ابنِ عباس سے طبرانی اوسط میں جو روایت پیچھے کھینچ کر لانے کے متعلق ہے اس کی سند میں بشر بن ابراہیم روای نہایت ضعیف ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر نے تلخیص الجبیر ٢۲/۳۷٣میں اور امام ہیثمی نے مجمع الزوائد ۲٢/۹۶ میں ذکر کیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں عام طور پر جو یہ بات معروف ہو رہی ہے کہ جماعت ہو رہ ہو اور صف میں جگہ نہ ہو تو اگلی صف میں سے ایک آدمی نماز کیلئے پیچھے کھینچ کر ساتھ ملا لیں۔ اس کا ثبوت صحیح حدیث میں نہیں اور صف کا منقطع کرنا درست نہیں کیونکہ حدیث صحیح میں ہے کہ :
'' جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو ملائے گا اور جس نے اسے منقطع کیا اللہ اسے توڑ دےگا'' ۔ ( ابو داؤد )

اور اعادہ صلوۃ والی حدیث اس معنی پر ہی محمول ہے کہ اگلی صف میں جگہ نہ ملے تو پیچھے انفرادی نماز ادا کرے ان شاء اللہ نماز صحیح ہو گی اور اگر اگلی صف میں جگہ موجود ہو اور پیچھے کھڑا ہو جائے تو نماز کا اعادہ کرے۔ شیخ ابن با زاور علامہ البانی حفطھما اللہ نے یہی موقف اپنا یا ہے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف نقل کیا ہے۔ ملا حظہ ہو فتح الباری ٢۲/۲۱۳ ، سلسلۃ الا حدیث الضعیفہ و الموضوعہ ۲٢/۳۲۲ ، امام مالک ، احمد، اوزاعی، اسحاق، ابو حنیفہ اور داؤد ظہایری کا یہی یمذہب کہ صف سے آدمی نہ کھینچا جائے۔ المجموع ۴٤/۲۹۹ )
مصدر جواب : آپ کے مسائل اور ان کا حل
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
٢۔ شوہر نے اپنی زوجہ کو خاندان کے سامنے کہا کہ اگر اس نے اپنے میکے سے کوئی بھی شے لی تو اسے طلاق ہو جائیگی اب میکہ کی جائیداد کی تقسیم کا معاملہ درپیش ہے تو بیوی کیا کرے۔ جبکہ شوہر شرمندہ ہے۔ بیوی نے ابھی تک میکے سے کوئی چیز نہیں لی ہے ۔ کیا وہ اپنا حصہ لے گی تو اسے طلاق ہوجائے گی؟
دوسرے سوال کے لیے علیحدہ نئے عنوان سے پوسٹ کی جائے تا کہ متعلقہ سوال سرچ میں آ سکے اور فورم کے ضوابط کی پابندی ہو سکے۔
جزاکم اللہ خیرا
 
Top