• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آہ ! علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ

شمولیت
مئی 21، 2012
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
331
پوائنٹ
0
آہ !علامہ احسان الٰہی ظہیررحمة اللہ علیہ

کبھی کبھار ایسا بھی کہ کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کے لئے کوئی عظیم المرتبت اور قد آور شخصیت جنم لیتی ہے۔ جن کے زریں کارناموں کی بدولت اقوام کو حیات جاوداں ملتی ہے۔ ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات میں امام العصر علامہ احسان الٰہی ظہیر رح شہید کا اسم گرامی شامل ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علامہ شہید رح علم و عمل کا ایک عظیم پہاڑ اور زہد و ورع کا حسین پیکر تھے۔ آپ اپنی پوری زندگی وعظ و تبلیغ درس و تدریس اور لوح و قلم کے ذریعے اسلام کی آبیاری کرتے رہے اور شرک و بدعت کے ایوانوں میں لرزہ طاری کرتے رہے۔
آپ نے 31 مئی 1940ءکو سیالکوٹ میں شیخ ظہور الٰہی کے ایک متمول گھرانہ میں جنم لیا۔ ابھی آپ نے ایام طفولیت کی بہاریں گزار کر ساتویں سال میں قدم رکھا ہی تھا کہ والد مرحوم نے سکول کی کتب چھڑوا کر قرآن حکیم ہاتھ میں تھما دیا اور کہا بیٹا! میں نے آپ کو اسلام کے لئے وقف کر دیا۔ اب تیرا جینا مرنا صرف کتاب حمید کے لئے ہے۔
آپ نے انتہائی قلیل مدت میں قرآن مجید کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا اور نو سال کی عمر میں مصلیٰ امامت پر براجمان ہوئے اور رمضان المبارک میں نماز تراویح میں مکمل قرآن مجید سنا کر سامعین سے خوب داد وصول کی۔ والد گرامی نے حضرت العلام ابراہیم میر سیالکوٹی (نور اللہ مرقدہ) کی صحبت میں رب کریم سے وعدہ کیا تھا کہ میرا بیٹا دین کا عالم بنے گا۔ ایفاءعہد کے لئے علامہ شہید رح کو مختلف مدارس کی علمی سیر کروائی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد 1960ءمیں بی اے آنرز، ایم۔اے فارسی نیز عربی، اردو، اسلامیات، سیاسیات اور قانون کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ لیکن اتنی ڈگریاں ان کی علمی شدت پیاس کے لئے شبنم کا ایک قطرہ ثابت ہوئیں۔ چنانچہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے سرور رسولاں سید العرب والعجم کے شہر مدینہ منورہ میں قائم الجامعہ الاسلامیہ کارخ کیا۔ وہاں اللہ کے فضل و کرم اور اس کی بے پایاں رحمت سے یونیورسٹی کے تمام اعزازات اپنے نام کئے اور انمٹ نقوش چھوڑے۔ مدینہ یونیورسٹی میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دئیے جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہیں گے۔
یونیورسٹی سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ کو یونیورسٹی میں درس و تدریس کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے اپنے ملک میں رہ کر اسلام کی آبیاری اور کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کو ترجیح دی۔ اس طرح انہوں نے عالمی اعزاز کے ساتھ یونیورسٹی کو خیرباد کہا۔ جب وطن واپس تشریف لائے تو ملک میں جبر و استبداد کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ ظلم و بربریت کی تند و تیز ہوائیں اور آمریت کے سیاہ بادلوں نے مملکت خداداد کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ حق بات کہنا گویا ”آ بیل مجھے مار“ کے مترادف تھا۔ ملک میں حق و صداقت کا پرچم بلند کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ایسے حالات میں علامہ شہید رح نے لاہور کی تاریخی مسجد جو کبھی خاندان غزنویہ کی مسند تھی سے اپنے خطابات کے جوہر دکھاتے ہوئے ظلم کی کالی سیاہ گھٹاؤں میں حق کا پرچم بلند کیا۔ اس دوران آپ نے مینار پاکستان کے سائے تلے اقبال پارک میں عیدالفطر کے موقع پر ایسا تاریخ ساز خطبہ عید ارشاد فرمایا کہ اجتماع میں موجود بطل حریت، بے باک صحافی چیف ایڈیٹر چٹان جناب آغا عبدالکریم المعروف شورش کاشمیری نے بے ساختہ کہا:
”احسان الٰہی تم آج کے بعد تقریر کرو یا نہ کرو تمہاری یہ تقریر تمہیں برصغیر کے چند چوٹی کے خطباءمیں شمار کرنے کے لئے کافی ہے۔“
یہ آپ کی کسی کھلے میدان میں غالباً پہلی سیاسی تقریر تھی جو باطل کے لئے پیغام اجل اور آپ کے لئے کامیابی کا زینہ ثابت ہوئی۔ جس کسی نے بھی یہ خطاب سنا آپ کا نہ صرف گرویدہ بن گیا بلکہ آپ کا جانثار ساتھی بن گیا۔ اسی طرح آپ نے مسند غزنویہ پر براجمان ہو کر ان کے جانشین ہونے کا نہ صرف حق ادا کر دیا بلکہ اسے چار چاند لگا دئیے۔
آپ کی خطابت اور بے باکی کے چرچے ہر سو ہونے لگے۔ جھکنے اور دبنے کا لفظ آپ کی ڈکشنری میں کہیں نہ تھا۔ آپ نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور عزت و وقار اور تمکنت سے جینے کا سلیقہ اور طریقہ سکھایا اور ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی۔
تحریک نظام مصطفی ہو یا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک، آمریت ہو یا ظلم غرضیکہ آپ نے ہر میدان میں اپنی خطابت کی گرج سے صف اول میں اہم کردار ادا کیا جس کی اپنے تو اپنے رہے اغیار نے بھی گواہی دی۔
جب تحریک نظام مصطفی اپنے عروج پر تھی حکومتی پابندیوں کے باوجود علامہ شہید نے حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کو جوتے کی نوک سے ٹھکرا دیا۔ لاہور شہر کے دل مال روڈ پر جلوس کی قیادت بطل حریت علامہ شہید فرما رہے تھے۔ آرمی کے جوانوں نے ایک سرخ لکیر لگا کر حکومتی فرمان جاری کر دیا کہ جو کوئی اس سے آگے بڑھے گا گولی اس کا استقبال کرے گی۔ آپ تمام تر خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور آمروں کو للکارتے ہوئے گرج سے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں حکمرانو! تمہاری سرخ لکیر کو میں نے پاﺅں تلے روند دیا ہے آپ کے اندر اگر ہمت ہے تو گولیوں سے میرا سینہ چھلنی کر دو، آپ مردانہ وار بڑھتے گئے اور عوام سے مخاطب ہو کر فرماتے گئے: ”ہم محمد عربی کے غلام ہیں، ہم نے جھپٹنا سیکھا ہے پلٹنا نہیں، ہمیں آگے بڑھنا آتا ہے پیچھے ہٹنا نہیں۔“ عوام میں بے پناہ جوش و خروش تھا۔ علامہ شہید رح کی جراءت و بسالت دیکھ کر پورے لاہور سے کرفیو اٹھا لیا گیا۔
حق گوئی و بیباکی کی پاداش میں آپ کو پابند سلاسل بھی ہونا پڑا۔ قتل کے جھوٹے مقدمات بنا کر آپ کو جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں بھی بند کیا گیا۔ مگر حکومتی ہتھکنڈے اور ظلم و تشدد آپ کے پاﺅں میں جنبش پیدا نہ کر سکا۔
اقبال نے ایسی ہی شخصیتوں کے بارے میں کہا تھا:
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میرا کاررواں کےلئے
حقیقی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلام کے لئے ڈھڑکنے والا دل اور کلمہ حق بلند کرنے والی زبان عطا فرمائی تھی، آپ اپنے دور میں کارروان حق و صداقت کے حدی خواں اور حق گوئی کی پہچان تھے۔ آپ خطیب ملت کے نام سے مشہور و معروف تھے۔ تول تول کر بولتے تھے، ہر بول لفظ کا شاہکار اور علم و فضل کی مہکار ہوتا تھا۔ آپ دیار حرم اور مسجد نبوی میں خطابت کے جوہر دکھاتے رہے۔ مسجد نبوی میں تقریر کرتے ہوئے عالم عرب کے نامور سپوت دمشق یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفی سباعی علامہ صاحب کے پاس آئے اور سینے سے بھینچتے ہوئے گویا ہوئے ”لوگ مجھے عالم عرب کا سب سے بڑا خطیب کہتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم مجھ سے بھی بڑے خطیب ہو۔“
یقینا فرزند اہل حدیث کے لئے یہ اعزاز پوری جماعت کے لئے باعث افتخار و اعتزاز ہے۔ راقم جب یہ سطور تحریر کر رہا تھا تو مولانا محمود الحسن غضنفر رئیس جامعہ محمدیہ چکوال جن کا شمار علامہ احسان الٰہی ظہیر رح اور علامہ حبیب الرحمن یزدانی رح کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے، علامہ شہید رح کا تذکرہ سن کر آبدیدہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ میں نے برصغیر میں امام الہند ابوالکلام آزاد رح کے بعد علامہ شہید جیسا بے باک اور جراءت مند لیڈر کوئی نہیں دیکھا۔
آپ کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی، آپ نے تنظیمی اور سیاسی طور پر جماعت کو تھوڑے عرصہ میں جس قدر فعال اور محرک بنایا اس کو دیکھتے ہوئے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اہل حدیث زمین سے نکلے ہیں یا آسمان سے اترے ہیں۔
اب بھی امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میرکی ولولہ انگیز قیادت میں جماعت کا شمار انتہائی منظم اور مضبوط تنظیموں میں ہوتا ہے۔ امیر محترم نے جس جراءت و بے باکی کے ساتھ جماعت کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچائی ہے اور حق بات کہنے میں کسی مصلحت یا مداہنت کو آڑ نہیں بنایا ہے، وہ یقینا داد و تحسین سے بالاتر ہے۔ بقول شاعر
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
علامہ شہید رح نے اپنی تبلیغی و تنظیمی مصروفیات کے باوجود دنیا کی مختلف زبانوں میں متعدد کتب تصنیف فرمائیں، جن میں اردو، عربی، فارسی، اور انگریزی شامل ہیں۔
آپ کی کتب کا دنیا کی 8 آٹھ سے زائد مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور آپ کی تصنیف شدہ کتب دنیا کی چند بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہیں۔ آپ ایک عرصہ تک ”ترجمان الحدیث“ اور اہل حدیث کے ایڈیٹر بھی رہے۔
آپ نے ختم نبوت کے موضوع پر ”ترجمان الحدیث، اور ”اہل حدیث“ میں جس احسن انداز سے قادیانیت کے پول کھولے اور ان کی اسلام کے خلاف سازشوں کو طشت از بام کیا تھا اور حقائق کی نقاب کشائی کی وہ اپنی مثال آپ تھی۔
23 مارچ 1987ءکی شب مینار پاکستان کے سائے تلے ایک عظیم اجتماع میں اپنے جانثار ساتھیوں کے ساتھ حصول پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جدوجہد کا تجدید عزم کر رہے تھے اور علامہ اقبال کا یہ شعر
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑ
زبان پر پہنچا اور آخری مصرعہ مکمل نہ کر پائے تھے کہ یکے بعد دیگرے تین خوفناک بم دھماکے ہوئے جس سے پوری فضا لرز اٹھی۔ اور اسٹیج پر جلوہ افروز علمائے کرام اور خطبائے عظام میں علامہ حبیب الرحمن یزدانی رح، عبدالخالق قدوسی رح، محمد خان نجیب رح و دیگر شہادت کے منصب پر فائز ہو کر خالق حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جب کہ قافلہ حق کا سالار، کاررواں ملت کا حدی خواں، پاکستان کے محافظ کو انتہائی زخمی حالت میں میو ہسپتال لاہور لے جایا گیا۔ وہاں سے حکومت سعودیہ کے فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیزرح نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ریاض سعودی عرب بلا لیا۔ اور انتہائی نگہداشت میں ان کا خصوصی علاج معالجہ کیا گیا۔ لیکن قضاءو قدر کو کچھ اور ہی منظور تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے ڈنکے بجانے والے، سنت کے پرچم کو بلند سے بلند تر کرنے والے کو اپنے پاس بلانے کا فیصلہ کر لیا تھا اس طرح آسمان خطابت اور صحافت کا یہ درخشندہ آفتاب جو 31 مئی 1940ءکو سیالکوٹ کی فضاﺅں سے طلوع ہوا تھا وہ طیبہ کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔
خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را
شہید زندہ ہیں انہیں مردہ مت کہو (القرآن)
علامہ شہید آج روضہ رسول کے سائے تلے واقع جنت البقیع میں صحابہ کرام رض کے ساتھ اور امام مالک رض کے پہلو میں محو استراحت ہیں۔
یہ رتبہ بلند ملا جسے مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
لیکن شہید اسلام اخلاق، امانت، وفا اور خدمت کی ایسی خوشبو چھوڑ کر گئے کہ جس کی عطرریزی اور خوش کنی مہک سے یہ فضا ہمیشہ معطر رہے گی بقول شاعر
مجھ کو مٹا نہ سکیں زمانے کی گردشیں
گو میں نہ رہا میرے نقش قدم رہے
اللہ تعالیٰ علامہ شہید اور ان کے رفقاءکو دیار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین!
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے
لئے نامیوں کے نشان کیسے کیسے
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

بحوالہ ہفت روزہ اہلحدیث
 

allahkabanda

رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
174
ری ایکشن اسکور
570
پوائنٹ
69
اب بھی امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میرکی ولولہ انگیز قیادت میں جماعت کا شمار انتہائی منظم اور مضبوط تنظیموں میں ہوتا ہے۔ امیر محترم نے جس جراءت و بے باکی کے ساتھ جماعت کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچائی ہے اور حق بات کہنے میں کسی مصلحت یا مداہنت کو آڑ نہیں بنایا ہے، وہ یقینا داد و تحسین سے بالاتر ہے۔
یہ واقعہ کب ہوا ؟
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
235
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
88
اچھے عالم تھے مگر مسلک پرست تھے۔کاش ایسے نہ ہوتے ۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,356
پوائنٹ
800
اچھے عالم تھے مگر مسلک پرست تھے۔کاش ایسے نہ ہوتے ۔
قرآن وسنّت کے دلائل کے ساتھ باطل کا ردّ کرنا ہی اگر مسلک پرستی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسا مسلک پرست ہر شخص کو بنائے۔

آمین یا رب العٰلمین!
 
Top