• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عہد رسالت میں کتابت حدیث

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,610
پوائنٹ
109
کتابنزہۃ القاری شرح صحیح البخاری



(1) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیکڑوں احادیث لکھیں ان کے مجموعے کا نام صادقہ تھا )بخاری۔ اصابہ۔ طبقات ابن سعد(



(2) احادیث کا ایک مجموعہ حضرت انس نے لکھا تھا۔) بخاری۔ تدریب الراوی(



قتادہ روایت کرتے ہیں۔



کان یملی الحدیث حتی اذاکثر علیہ الناس جاء محمال من کتب القاھا ثم قال ھذہ احادیث سمعتھا و کتبتھا عن رسول اللّٰہ و عرصتھا علیہ ۔ تفسیر العلم ص 96,95۔



حضرت انس حدیث لکھوایا کرتے تھے جب لوگوں کی کثرت ہوگئی تو وہ کتابوں کا صحیفہ لے کر آئے اور لوگوں کے سامنے رکھ کر فرمایا یہ وہ احادیث ہیں جنھیں میں نے رسول اللہ سے سنکر لکھی ہیں اور آپ کو پڑھ کر سنا بھی دی ہے۔



(3) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی احادیث لکھوائی تھیں۔ یہ ذخیرہ انکے صاحبزادے کے پاس تھا (جامع بیان العلم)۔



(4) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب میں احادیث کو جمع فرمایا تھا جس کا نام ہی کتاب سعد بن عبادہ تھا۔ یہ کئی پستوں تک ان کے خاندان میں رہا۔ (مسند امام احمد(



(5) سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے بھی ایک مجموعہ مرتب فرمایا تھا۔



(6) حضرت ابو ہریرہ نے بھی دفتر کے دفتر احادیث لکھی یا لکھوائی تھیں۔ (فتح الباری(



ہمام ابن منبہ کا صحیفہ جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ کے انھیں دفتروں سے نقل ہوا تھا اب چھپ بھی گیا ہے۔ جس کی اکثر احادیث بخاری مسلم مسند امام احمد میں بعینہ بلفظ موجود ہیں۔



(7) سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بھی ایک مجموعہ تیار کیا تھا۔ تہذیب۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے۔



بینما نحن حول رسول اللہ نکتب۔ (دارمی) ص 68



اس وقت کم ہی لوگ حضور کے ارد گرد بیٹھے لکھ رہے تھے۔



اس سے ظاہر ہوا کہ عام طور پر کچھ صحابہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد لکھا کرتے تھے ابن عباس اور ابن عمر کے صحائف کا ذکر ملتا ہے۔



الجامع الاخلاق الراوی و آداب السامع ص 100 پر ہے۔



یروی عن عبداللّٰہ بن عمر کان اذا خرج الی السوق نظر فی کتبہ و قد اکد الراوی ان کتبہ کانت فی الحدیث ۔



عبداللہ بن عمر کے بارے میں یہ روایت ہے کہ وہ جب بازار جاتے تو اپنی کتابوں پر ایک نظر ڈال لیا کرتے۔ راوی نے بتاکید یہ بات کہی ہے کہ یہ کتابیں حدیث کی تھیں۔



حضرت ابن عباس کے چند صحیفے تھے طائف کے کچھ لوگ حضرت ابن عباس کی خدمت میں ان کے چند صحیفے لے کر حاضر ہوئے تاکہوہ ان لوگوں کو ان میں تحریر کردہ احادیث سنا دیں اس وقت حضرت ابن عباس کی بینائی کمزور ہوچکی تھی وہ پڑھ نہ سکے فرمایا تم لوگ مجھے پڑھ کر سناؤ تمھارا سنانا اور میرا پڑھنا برابر ہے۔ طحاوی ج 2 384ترمذی ج 2 248



ظاہر یہ ہے کہ یہ وہی صحیفے تھے جو انھوں نے عہد نبوی میں لکھے۔ اور اگر مان لیا جائے کہ وصال اقدس کے بعد کے لکھے ہوئے ہیں تو یہ اس کی دلیل ہوگی کہ عہد صحابہ میں احادیث لکھی گئیں اور منکرین تو مطلقاً عہد صحابہ میں بھی کتابت حدیث کے منکر ہیں۔



نحن نکتب سے اشارہ ملتا ہے کہ اس خدمت کو ایک جماعت انجام دیتی تھی۔ اور اس کی تائید دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے۔



کان عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ناس من اصحابہ و انا معھم و انا اصغر القوم نقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار ۔ فلما خرج القوم قلت کیف تحدثون عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و قد سمعتم ماقال وانتم تنھکون فی الحدیث عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فضحکو او قالوا یا ابن اخینا ان کل ما سمعنا منہ عند نافی کتاب ۔ مجمع الزوائد ج 1 ص 1510



خدمت اقدس میں کچھ صحابہ حاضر تھے، میں بھی تھا، میں سب سے کم عمر تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر قصداً جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے پھر جب لوگ باہر آئے تو میں نے ان سے کہا۔ حضور نے جو فرمایا وہ آپ لوگوں نے سنا اس کے باوجود اتنی کثرت سے آپ لوگ کیسے حدیثیں بیان کرتے ہیں وہ لوگ ہنسے اور کہا اے بھیجتے جو کچھ ہم نے حضور سے سنا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھا ہوا ہے۔



اس کے علاوہ جستہ جستہ بہت سے احکام و مسائل کے بارے میں یہ ثبوت موجود ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائے۔



(1) 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق اور مکہ کی حرمت کے مسائل بیان فرمائے اس پر ایک یمن کے باشندے نے خواہش ظاہر کی یہ احکام لکھوا کر عنایت فرمائیں آپ نے فرمایا۔ اکتبوہ لا بی شاہ یہ احکام ابوشاہ کے لئے لکھ دو۔ بخاری ابوداؤد۔



(2) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت (خون بہا) کے مسائل لکھوا کر بھجوائے۔ مسلم شریف ص495۔



(3) حضور اقدس صلے اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کے پاس مردہ جانوروں کے احکام لکھوا کر بھجوائے۔ مشکوٰۃ ابوداؤد۔



(4) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے متعلق مسائل کو ایک جگہ لکھوایا تھا۔ جس کا نام کتاب الصدقہ تھا مگر عمال و حکام تک اسے روانہ نہ فرما سکے اور وصال ہوگیا۔ حضرت ابوبکرصدیق نے اپنے عہد میں اسی کے مطابق زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم جاری کیا اور اسی کے مطابق وصول ہوتی تھی۔ ابو داؤد۔



(5) اسی کتاب الصدقہ کا مضمون وہ ہے۔ جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس کو دیا تھا۔ جس وقت انھیں بحرین کا عامل بنا کر بھیجا تھا۔ اس میں اونٹوں، بکریوں، اور سونے چاندی کی زکوٰۃ کے نصاب کی تفصیل تھی۔ بخاری ج 1 ص 194



(6) حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حیات مبارکہ کے اخیر ایام میں کثیر احادیث کا ایک صحیفہ لکھوا کر عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدست یمن بھجوایا تھا۔ موطا امام مالک ص 231 میں ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل یمن کے پاس ایک مکتوب عمرو بن حزم کے ہاتھ بھیجا تھا۔ جس میں فرائض سنن اور دیات لکھے تھے۔



(7) زکوٰۃ کے احکام پر مشتمل ایک صحیفہ ابوبکر بن حزم والیء بحرین کو لکھوایا تھا۔ یہ صحیفہ دیگر امراء کو بھی بھیجا گیا تھا۔ یہ مکتوب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ابن حزم سے لے لیا تھا۔) دارقطنی، مسند امام احمد(



(8) زکوٰۃ وصول کرنے والے عاملین کے پاس کتاب الصدقہ کے علاوہ اور بھی تحریریں تھیں۔ )دارقطنی(



(9) عمرو بن حزم کو یمن کا حاکم بناتے وقت فرائض۔ صدقات، دیات، طلاق، عتاق، نماز، مصحف شریف چھونے سے متعلق احکام پر مشتمل ایک تحریر لکھائی تھی۔ )مسند امام احمد، مستدرک، کنز العمال(



(10) مختلف فرامین و احکام جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبائل کو بھیجے۔



(11) معاہدات کی تحریریں مثلاً صلح حدیبیہ وغیرہ۔ ابن ماجہ طبقات ابن سعد۔



(12) معاہدہ کی تحریریں مثلاً صلح حدیبیہ وغیرہ۔ ابن ماجہ، طبقات ابن سعد،



(13) وہ والا نامے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سلاطین و مراء کے پاس بھیجے۔



(14) عبداللہ بن حُکم صحابی کے پاس حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک تحریر تھی جس میں مردہ جانوروں کے احکام مذکور تھے۔ معجم صغیر، طبرانی،



(15) نمازَ روزہ، سود، شراب، وغیرہ کے مسائل وائل بن حُجر کو آنحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لکھوائے تھے۔



(16) اُشیم نامی مقتول کی بیوی کو اپنے مقتول شوہر کی دیت دلانے کا فرمان آنحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا۔ یہ فرمان ضحاک بن سفیان صحابی کے پاس تھا۔ ابو داؤد، دارقطنی۔



(17) رافع بن خدیج صحابی کے پاس ایک مکتوب گرامی تھا۔ جس میں مندرجہ تھا مدینہ بھی مثل مکہ حرم ہے۔ )مسند امام احمد(



(18) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ احکام لکھوا کر دیئے تھے جو ان کے پاس تھا۔ بخاری ج 1 ص21۔



(19) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ کو لکھا تم نے جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا ہے وہ لکھ کر بھیج دو۔ چنانچہ انھوں نے کچھ احادیث لکھوا کر بھیجیں۔ بخاری ج 2 ص 1083۔





ایک شبہے کا ازالہ:



کچھ لوگوں کو حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث سے شبہہ ہوتا ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا لا تکتبوا عنی من کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ۔ مسلم جلد ثانی۔ ص 414 قرآن کے علاوہ میری کوئی حدیث نہ لکھو۔ اگر لکھا ہو تو اسے مٹا دو۔



اولاً:



علماء کو اس حدیث کی صحت میں کلام ہے۔ امام بخاری وغیرہ نے فرمایا یہ درحقیقت حضرت ابو سعید پر موقوف ہے۔ یعنی ارشاد رسول نہیں۔ اونھیں کا قول ہے۔



ثانیاً:



بر تقدیر صحت علامہ ابن حجر وغیرہ نے اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں۔



(1) یہ ممانعت نزول قرآن کے وقت کے ساتھ خاص ہے۔ یعنی جب قرآن نازل ہورہا ہو، یا جب میں قرآن لکھوا رہا ہوں تو اس وقت صرف قرآن ہی لکھو۔



(2) حدیث و قرآن کو ایک ہی چیز پر مت لکھو۔ ان دونوں صورتوں میں قرآن کا حدیث کے ساتھ اختلاط کا اندیشہ قومی تھا۔



(3) ممانعت کا حکم مقدم ہے۔ یعنی بالکل ابتدائی دور میں تھا۔ بعد میں جب قرآن کے ساتھ احادیث کے التباس کا خطرہ نہ رہا احادیث لکھنے کی اجازت دیدی۔



(4) جس کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ اگر یہ لکھ لیں گے تو زبانی یاد نہ رکھیں گے۔ صرف کتاب کے بھروسہ پر رہ جائیں گے انھیں احادیث لکھنے سے منع فرمایا۔ اور جن کے بارے میں یہ اندیشہ نہ تھا۔ بلکہ اطمنان تھا کہ وہ لکھیں گے تو بھی زبانی یاد رکھیں گے انھیں لکھنے کی اجازت دیدی۔ فتح الباری ج 1 ص 183۔
 
Top